مرزا غالب کے کلام میں بادہ خواری


یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے، جو نہ بادہ خوار ہوتا
بادہ خواری:
مرزا غالب کا عرف یعنی مرزا نوشہ ان کی شراب نوشی کی وجہ سے ان کے نام کا حصہ نہیں بنا۔

یہ لفظ در اصل نو۔ شاہ ”ہے۔ ننھے اسد مرزا، اپنے چچا نصر اللہ بیگ کی شادی میں شہ بالا بن کر دلی آئے تو خاندان لوہارو کی بیگمات نے“ نوشہ (نو۔ شاہ) میاں ”کہہ کر مخاطب کیا، اور یہ ان پہ ایسا جچا کہ سب ہی انھیں اسی نام سے مخاطب کرنے لگے اور یہ ہمیشہ کے لیے ان کے نام کا حصہ بن گیا۔ حالانکہ آخر عمر میں مرزا غالب اس عرفیت کو نا پسند کرتے تھے۔

غالب شراب پیتے تھے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی انھیں فلموں، ڈراموں یا اپنے ارد گرد موجود شرابیوں جیسا شرابی سمجھ لے۔ گناہ ہی سہی۔ لیکن غالب نے اس کے بھی آداب نبھائے۔ اس معاملے میں انہوں نے کچھ اصول وضع کر رکھے تھے۔ جن کی انہوں نے تا عمر پابندی کی۔ مے نوشی کے اوقات مقرر تھے وہ نہ دن کے وقت پیتے تھے، نہ ہی ہر کسی کے سامنے یہ شغل کرتے تھے پینے کے لیے رات عشاء کے بعد کا وقت مقرر تھا۔

پینے کی ایک حد مقرر تھی۔ مزید احتیاط کے ہے بوتلوں والے بکس کی چابی ایک خدمت گار کے حوالے تھی، جسے سختی سے تاکید تھی ”کہا گر ترنگ میں مقررہ مقدار سے زیادہ پینے کا اصرار کروں بھی تو ان سنی کی جائے۔ شراب میں عرق گلاب ملا کر پیتے تھے۔ جس میں عرق گلاب کا تناسب 80 فیصد ہوتا تھا۔

خمریات میں انہوں نے لاجواب ترین اور جادو اثر اشعار لکھے
؎گو ہاتھ کو جنبش نہیں، آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
؎مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دور ِجام
ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو، شراب میں
؎قرض کی پیتے تھے مے اور سمجھے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
؎زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر
یا وہ جگہ بتا جہاں خدا نہیں
؎وہ چیز جس کے لئے ہم کو ہو بہشت عزیز
سوائے بادۂ گلفام مشک و بو کیا ہے
؎مے کشی کو نہ سمجھ بے حاصل
بادہ غالب ؔعرقِ بید نہیں
؎سلطنت دست بدست آئی ہے
جام مے، خاتم جمشید نہیں
؎صاف دُردی کشِ پیمانۂ جم ہیں ہم لوگ
وائے وہ بادہ کہ افشردۂ انگور نہیں

وہ بادہ افشردۂ انگور یعنی انگور کو نچوڑ کر بھی نہیں بنایا گیا ہے۔ تو آخر ہے کیا؟ دُرد کے معنی ہوتے ہیں تل چھٹ اور دُردی کش کے معنی ہوں گے تل چھٹ پینے وا لا۔ پیمانہ جمشید سے مراد جمشید کا پیمانہ یا جام جمشید ہے۔

غالب کہتے ہیں کہ صاف یا واضح طور پر ہم لوگ جمشید کے پیمانے کی تل چھٹ پینے والے یا اس سے استفادہ کرنے والے ہیں۔

؎جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیا
سب لکیریں ہاتھ کی، گویا رگ جاں ہو گئیں

رگ جاں : دل کو جانے والی بڑی رگ۔ غالب کہتے ہیں کہ میری زندگی اس وقت بڑھ جاتی ہے جس وقت جام کا پیالہ میرے ہاتھ میں آ جاتا ہے۔ اس وقت میرے ہاتھ کی تمام لکیریں گویا رگ جاں ہو جاتی ہیں۔ یعنی بغیر پیئے محض ہاتھ میں آنے سے ہی رگوں میں جوش و قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر میں پی لوں تو میری زندگی بڑھ جاتی ہے۔

؎میں اور بزم سے یوں تشنہ کام آؤں
گر میں نے کی تھی توبہ، ساقی کو کیا ہوا تھا

مطلب :۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ مجھے جیسا شراب کا رسیا بزم مے سے یوں بے پئے چلا آئے۔ مان لیا کہ میں نے تو بہ کہ لی تھی مگر ساتھی اپنے فرض سے کیوں غافل ہو گیا یعنی اس نے زبر دستی کیوں نہ پلا دی؟ مشرقی شاعری میں ساقی زہد شکن ہوتا ہے۔ یعنی اس کا کام ہی یہ ہے کہ لوگوں کی تو بہ توڑے اور جو انکار کرے زبر دستی پلا دے۔

حالانکہ ہے یہ سیلیِ خارا سے لالہ رنگ
غافل کو مرے شیشے پہ مے کا گمان ہے

سیلی بمعنی تھپڑ۔ خارا بمعنی ایک قسم کا پتھر جو بہت سخت ہوتا ہے۔ سیلیِ خارا سے مراد ہے ضربِ صدمات و مصائب ِ دینوی۔ شیشہ کنایہ ہے دل سے۔ لالہ رنگ سے مراد ہے گل ِلالہ کے مختلف رنگ۔ غافل یعنی غفلت میں پڑا شخص یا نا واقف۔ میرا دل صدمے اُٹھاتے اُٹھاتے لال ہو گیا ہے ۔ لیکن جو میرے حالات سے واقف نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہے کہ میرے شیشہ یعنی دل میں سرخ رنگ کی شراب بھری ہوئی ہے۔

؎مے نے کیا ہے حسن خود آرا کو بے حجاب
الے شوق یاں اجازت ِتسلیمِ ہوش ہے

شاعر کہتا ہے کہ مے یعنی سائنسی علوم نے حسن خود آ را یعنی فطرت کا حسن یا اپنے آپ سنورنے والی کائنات کی دلکشی کی گتھیوں کو سلجھایا یا بے حجاب کیا ہے۔ اس لیے اے شوق یاں اب تجھے عقل کو تسلیم کرنے یا اسے قبول کرنے یا اس کا احترام کرنے کی اجازت ہے۔ اب عقل سے جنگ مناسب نہیں۔

؎مے سے غرض نشاط ہے کسی روسیاہ کو
اک گونہ بیخوری مجھے دن رات چاہیے

نشاط یعنی خوشی، مزہ، روسیاہ بھی کالے منہ والا گنہ گار۔ غالب کہتے ہیں کہ الغرض یا قصہ مختصر یہ کہ مے سے کس رو سیاہ کو نشاط یعنی خوشی یا مزہ حاصل ہے؟ یعنی میں وہ رو سیاہ نہیں ہوں جیسے مے سے نشاط حاصل ہوتی ہو۔ مجھے تو دن رات اک گونہ بے خودی چاہیے جو روایتی مے سے ممکن نہیں ہے۔

؎نہ پوچھ وسعت ِمے خانۂ جنوں غالبؔ
جہاں یہ کا سۂ گردوں ہے ایک خاک انداز

اس شعر میں غالب کہتے ہیں کہ میخانہ کی وسعت نہ پوچھ اس کے سامنے آسمان بھی ایک خاک انداز معلوم ہوتا ہے۔ خاک انداز سے مراد وہ برتن جس میں کوڑا ڈالتے ہیں۔ یعنی عشق کی جولانیوں کے سامنے اس کائنات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

علاوہ عید کے ملتی ہے اور دن بھی شراب
گدائے کو چۂ مے خانہ نا مراد نہیں

غالب کہتے ہیں کہ مے خانے کی گلیوں کے گدا نا مراد نہیں ہوتے کیوں کہ یہاں عید کے علاوہ اور دوسرے دنوں میں بھی شراب ملتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہاں صرف عید کے دن ہی گدا گروں کو شراب ملتی ہے۔ عام گداگروں کو صرف تہواروں پر ہی زیادہ خیرات ملتی ہے۔

؎ ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

اس شعر میں غالب تصوف پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کائنات میں ہر چیز موجود ہے اس کا مشاہدہ بر حق ہے۔ لیکن جب تک میرے ہاتھ میں جام کا پیالہ نہیں ہو گا۔ میں تب تک اس چیز پر بات نہیں کر سکتا ہوں۔

؎یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے، جو نہ بادہ خوار ہوتا

غالب کے اشعار میں تصوف پایا جاتا ہے۔ لوگ ان کو ولی سمجھنے لگ گئے تھے۔ لیکن جیسے ہی انہوں نے بادہ خوری شروع کی تو لوگ ان کے خلاف ہو گئے۔ کیونکہ وہ حد سے زیادہ شراب نوشی کرتے تھے۔ اس لیے ان کا سر عام شراب نوشی کرنا لوگوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ اس لیے وہ خود کہتے ہیں کہ اگر میں شراب نوشی نہ کرتا تو لوگ مجھے ولی سمجھتے۔

؎ ظاہر ہے کہ گبھرا کے نا بھاگیں گے نکیرین
ہاں منہ سے مگر بادہ و دوشینہ کی جو بو آئے

غالب کہتے ہیں کہ ان کو اس بات کا علم ہے کہ جب قبر میں نکرین ان کا حساب کرنے آئیں گے تو وہ کسی صورت گھبرانے والے نہیں لیکن اگر میرے منہ سے بادہ خواری کی بو آ رہی ہو گی تو وہ اس چیز سے گھبرا کر چلے جائیں گے۔

‏ ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی
پھر آیا دہ زمانہ جب جہاں میں جام جم نکلے

اس زمانہ میں مجھ سے بڑھ کر مے نوشی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے میری ذات سے اب جام جمشید کو شہرت حاصل ہو گی۔ یعنی لوگ کہیں گے کہ غالب بھی اپنے عہد کا جمشیدی ہے۔

ہے ہوا میں شراب کی تاثیر
بادہ نوشی ہے باد ِپیمائی
غالب کہتے ہیں کہ موسم بہار کی ہوا اس قدر نشاط انگیز ہے کہ اس میں شراب کا سا نشہ پیدا ہو گیا ہے۔

غالب نے اپنے کلام میں بار بار بادہ اور اس کے پینے پلانے کا ذکر کیا ہے۔ غالب کی زندگی میں شراب کا بہت عمل دخل تھا۔ اس مضمون میں تقریباً بیس اشعار بیان کیے گئے ہیں، ان کے علاوہ بھی بہت سے اشعار موجود ہیں۔ جن میں غالب نے بادہ اور اس کی خوبیوں کو بیان کیا ہے۔

Facebook Comments HS