سانحہ کارساز اور سسٹم کا رسپانس
کارساز واقعہ پہ بہت آواز اٹھائی گئی۔ عوام کے شعور کا امتحان تھا، پاس ہوا۔ ان دنوں ہر طرف سے احتجاج کی آوازیں بلند ہوئیں اور میں خاموش رہا۔ سوچتا رہا کہ یہ پریکٹس کیا واقعی صرف امیروں کا مشغلہ ہے؟ اچھی بات ہے کہ عوام کا شعور دوسروں کے لیے جاگا ہے، لیکن کیا ہم سب اپنے اپنے گریبان میں جھانک سکتے ہیں؟
کارساز میں بی بی کی طرف سے اپنایا گیا ایٹیٹیوڈ ہر پاکستانی کا ممکنہ ایٹیٹیوڈ ہے۔ ہمارا عمومی مزاج ایسا ہی ہے۔ اور میں یہ کوئی مفروضہ قائم نہیں کر رہا، ہمارا سسٹم ہی ایسا ہے کہ یہاں سیدھے سبھاؤ کوئی کیس نہیں چل سکتا۔ ہمارے ہاں صرف ایک چوری بھی ہو جائے تو وکلا کے مشورے سے ایک روپے کا کیس ایک لاکھ روپے کا لکھوایا جاتا ہے۔ کسی سے تُو تکار ہو جائے تو اپنے کپڑے پھاڑ دینا، اپنے آپ کو زخمی کر دینا تک دیکھا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ سسٹم کا تقاضا ہے، انصاف زیادہ تر ملتا نہیں ہے اس لیے عوام کو ایسے حربے آزمانے پڑتے ہیں۔
اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک سیدھا سیدھا سوال ہے کہ قاتل اپنے لیے وکیل کیوں کھڑا کرتا ہے؟ دراصل اُسے یقین ہوتا ہے کہ وکیل مجھے اس کیس سے نکال لائے گا۔ اور اکثر کیسز میں اگر وکیل مضبوط ہو تو وہ کیس کو آسانی سے مجرم کے حق میں مینوپولیٹ کر جاتا ہے۔ بھئی ظاہر ہے کہ جب کسی کو اپنی جان بچتی ہوئی نظر آ رہی ہو گی تو وہ بچائے گا ہی۔ پھر چاہے وہ امیر ہو یا غریب۔ ہمارا سسٹم، ہمارے وکلا، ہماری جوڈیشری، سب ڈیفنڈنٹ کے ساتھ ہیں۔ اس پر کمال تب ہوتا ہے جب ڈیفنڈنٹ امیر کبیر بھی ہو۔
ایک سمجھنے کی بات ہے۔ ڈرائیونگ کے دوران حادثے کی صورت میں، اگر ڈرائیور کے پاس لائسنس موجود ہو تو اُسے اچھی خاصی چھوٹ ہے۔ قانون بھی نرم رویہ رکھتا ہے، ضمانت بھی آسانی سے ہو جاتی ہے اور اکثر و بیشتر ڈرائیور سزا سے بھی بچ جاتا ہے، معاملہ دیت پر ختم ہو جاتا ہے۔ اب آپ کو اور ہمیں اعتراض یہ ہے کہ اُس بی بی نے نشے کی حالت میں گاڑی چلائی، جس وجہ سے حادثہ ہوا۔ لیکن سر! ہمارا سسٹم اتنا مضبوط نہیں ہے کہ بی بی کے نشے کو ثابت کر سکے، ہاں سسٹم یہ آسانی سے ثابت کر سکتا ہے کہ وہ نفسیاتی مریضہ تھی۔ اس لیے سسٹم وہی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اب قانون جہاں جہاں چھوٹ دے سکتا ہے، لوگ لیں گے۔ وہ چاہے امیر لوگ ہوں یا غریب، سب لیں گے۔
اہم ترین بات یہ ہے کہ ٹریفک حادثے میں ڈرائیور کو پھانسی پر نہیں لٹکایا جاتا۔ تو قانون یہاں صرف اس لیے ایک بی بی کو کیوں لٹکا دے گا کہ وہ امیر خاندان سے تعلق رکھتی ہے؟ دوسری بات یہ کہ اگر کوئی غریب آدمی، یا مڈل کلاسیا یہ کام کرے تو کیا ہمارا وکیل اُسے یہی طریقہ اختیار کرنے کا مشورہ نہیں دے گا، جو اس بی بی کی طرف سے اختیار کیا گیا۔
مقصد اس سب بحث کا یہ ہے کہ ہمیں اپنے رسپانس پر نظرِ ثانی کرنا ہو گی۔ قانون جذبات بالکل نہیں دیکھتا، لیکن جو بھی قانون کی زبان میں بات کرے اور سسٹم کے لُوپ ہولز کا فائدہ اٹھا جائے، وہ بچ جائے گا اور مجرم اسی طرح بچتے رہیں گے۔


