کیا ڈیڈ لاک ٹوٹ سکے گا؟


ریاست، حکومت اور ادارہ جاتی نظام کو دیکھیں یا سیاست، جمہوریت، آئین و قانون کی حکمرانی سمیت عام آدمی کے مفادات کو بنیاد بنا کر دیکھیں تو بظاہر طاقتور حکمران طبقہ کی جانب سے یہ دلیل یا منطق دی جاتی ہے کہ نظام درست سمت میں چل رہا ہے۔ جو لوگ نظام کو بنیاد بنا کر ریاستی یا حکومتی نظام پر تنقید کرتے ہیں تو ان کی تنقید کو شک کی نگاہ سے یا محض تعصب کی بنیاد پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ الزامات بھی سننے کو ہی ملتے ہیں کہ اہل دانش یا رائے عامہ بنانے والے افراد یا ادارے اپنی سوچ اور فکر کی بنیاد پر معاشرے میں مایوسی کو پھیلاتے ہیں اور ان کی جو بھی تنقید ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ جبکہ مجھ سمیت ایک بڑا طبقہ جو مختلف شعبہ جات میں سرگرم ہے یا ریاستی و حکومتی معاملات پر اپنی گہری نظر رکھتا ہے اس کے بقول ریاست یا حکومت کا نظام ایک بے ترتیب اور بے ہنگم طور پر چلانے کی جو کوشش حکمران طبقات کی جانب سے کی جا رہی ہے وہ خود ایک سنجیدہ سوال ہے جو بہت کچھ سوچنے، سمجھنے اور پرکھنے پر توجہ دلاتا ہے۔

جدید ریاست کا نظام اپنے اندر موجود آئین و قانون کی حکمرانی، شفافیت پر مبنی حکمرانی، عوامی مفادات، اداروں کی خود مختاری، جوابدہی پر مبنی موثر نظام، تمام ریاستی و حکومتی اداروں کا اپنے اپنے آئینی و قانونی دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا اور ایک دوسرے کے کاموں میں مداخلت سے گریز کی پالیسی، جمہوریت کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنے سے جڑا ہوتا ہے۔ جب کہ اس کے برعکس ہماری جیسی ریاستیں جو نیم جمہوری ہیں اور جہاں غیر سیاسی قوتوں کو سیاسی قوتوں پر بالادستی ہو وہاں آئین و قانون کی حکمرانی کا تصور بہت کمزور ہوتا ہے۔ پاکستان ایک ایسی ہی ریاستی نظام کی بنیاد پر خود کو چلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت معاشرے میں سیاسی و جمہوری خلیج واضح انداز میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ اسی کشمکش کی بنیاد پر ریاست، حکومت اور سول سوسائٹی و میڈیا کے درمیان ایک ٹکراؤ کا ماحول بھی موجود ہے۔ اسی ٹکراؤ کی بنیاد پر ہم سب اچھا کی کہانی تو پیش کرتے ہیں مگر اس کہانی کے پس پردہ جو تلخ حقائق ہیں وہ ریاستی نظام کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں، لیکن شاید جن کے ہاتھ میں طاقت ہے یا ان کے پاس فیصلوں کی طاقت ہے ان کی ترجیحات میں ریاستی، قومی، عوامی، آئینی و قانونی مفادات کی کوئی اہمیت ہی غالب نظر نہیں آتی۔ ریاست و حکومت کا مجموعی نظام افراد کی خواہشات اور مفادات کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہے جو معاشرے کے مختلف طبقات میں ایک بڑی واضح خلیج کو پیدا کر رہا ہے یا لوگوں میں لاتعلقی کا احساس بڑھ رہا ہے۔

سوال یہ نہیں کہ ہم یہاں بیٹھ کر ریاست، حکومت، سیاست، جمہوریت سے جڑے طاقتور افراد پر تنقید کریں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ہمیں کیا اس بات کا دیانت داری سے احساس ہے کہ بطور ریاست ہم کہاں کھڑے ہیں۔ جو سوالات ہمارے ریاستی و حکومتی نظام پر داخلی سطح سے یا جو عالمی دنیا میں اٹھائے جا رہے ہیں وہ ہماری سیاسی و جمہوری ساکھ کو قبول کرتے ہیں، جواب نفی میں ہو گا۔ آئین و قانون کی حکمرانی ہو یا سیاست و جمہوریت سے جڑے سنہری اصول ہوں اگر یہ محض کتابوں یا لفاظی تک محدود ہوں گے تو معاشرے واقعی سیاسی اور جمہوری عمل سے محرومی اور اس کے نتیجے میں فسطایت کا شکار ہوں گے ۔ اس وقت بھی ریاستی نظام میں ہمیں جن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان میں سیاسی اور جمہوری بنیادوں پر ریاستی نظام کو آگے بڑھانا، حکومت، حزب اختلاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ٹکراؤ کا ماحول، عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور حکومت میں بداعتمادی کا ماحول، اداروں کی خود مختاری میں سیاسی مداخلتوں کا کھیل، معیشت کی خوفناک حد تک بگڑتی صورتحال، عام آدمی کی زندگی میں موجود شدید مشکلات، آئین و قانون کی حکمرانی سے گریز اور ملک میں بگڑتی ہوئی سیاسی تقسیم اور سیکورٹی جیسے امور اور ملک میں انسانی حقوق کے برے حالات پر مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بالخصوص عام اور کمزور طبقات کے حالات بھی برے ہیں اور جو نئی مڈل کلاس ابھری ہے اس سطح پر بھی آمدنی اور اخراجات میں عدم توازن نے ان کے نظام کو بگاڑ دیا ہے۔

ان مسائل کی بنیاد پر ہمیں نہ صرف اپنے داخلی بلکہ علاقائی اور عالمی مقدمے کو درست سمت دینی ہے۔ اس کا ایک ہی حل ہے کہ ریاستی نظام کو مکمل طور پر ہر قسم کی مہم جوئی اور سیاسی و معاشی ایڈونچرز سے دور رکھا جائے۔ ہمیں سیکھنا ہو گا کہ دنیا کی جدید ریاستوں کا نظام کیا ہے اور کیسے وہ اپنی ریاستوں میں اپنے نظام کی ساکھ کو قائم کرتے ہیں۔ آج ہم گلوبل دنیا کا حصہ ہیں جو کچھ یہاں ہو رہا ہے ہم اسے کسی بھی طور پر نہ تو چھپا سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی آنکھیں بند کر سکتے ہیں۔ کیونکہ دنیا کے بڑے ممالک، میڈیا اور رائے عامہ بنانے والے افراد یا اداروں کی کڑی نگرانی کے عمل سے بھی ہم گزر رہے ہیں جو ہمیں عالمی درجہ بندیوں میں پیچھے کھڑا کر دیتا ہے۔ قومی سطح پر جو ہمیں مفاہمت حقیقی بنیادوں پر درکار ہے جو ایک دوسرے کے سیاسی اور غیر سیاسی وجود کو قبول کرے یا برداشت کرے اور سیاسی تقسیم کو اس حد تک گہرائی میں نہ لے جائے جو ہمیں آگے بڑھنے سے روکے، یہ ہی ہماری حکمت عملی ہونی چاہیے تھی۔ لیکن یہاں سیاسی اختلافات نے جو سیاسی دشمنی کا رنگ اختیار کر لیا ہے اور مجموعی طور پر ہم ایک دوسرے کے وجود کو ختم کرنے یا اسے اپنے سامنے سرنڈر کرنے پر مجبور کر رہے ہیں اس سے اس نظام میں مزید نئی خرابیاں جنم لے رہی ہیں۔ جب ہم کسی بھی فریق کو سیاسی راستہ نہیں دیں گے یا اس کو دیوار سے لگانے کے لیے پوری ریاستی و حکومتی مشینری کو اپنی طاقت کی بنیاد پر کسی کے ساتھ دشمنی کی بنیاد پر اختیار کریں گے تو سوائے نفرت کی سیاست کے علاوہ اس نظام کو کچھ نہیں مل سکے گا۔ اس سے قطع نظر کون غلطی پر ہے لیکن ان غلطیوں کی سزا پورا ریاستی نظام اور عوام بھگت رہے ہیں۔

کسی بھی ریاستی نظام میں حالات کی خرابی کا پیدا ہونا یا جو چیلنجز درپیش ہیں ان کا پیدا ہونا فطری امر ہوتا ہے۔ لیکن ریاست و حکومت سمیت معاشروں کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے تمام شعبوں میں قیادت کی موجودگی کی بنیاد پر ان مسائل کا حل تلاش کرتی ہے۔ حل بھی ایسا جو لوگوں میں ریاست کے نظام کے بارے میں اعتماد بھی پیدا کرے اور نظام سمیت ریاست کی ساکھ کو بھی یقینی بنائے۔ لیکن اگر ریاست کا نظام افراد کے مقابلے میں طاقتور طبقات کا یا حکمران طبقات اور طاقتور طبقات کے درمیان باہمی گٹھ جوڑ کی صورت اختیار کر لے تو ایسی صورت میں نظام میں بگاڑ کا پیدا ہونا فطری امر ہوتا ہے۔ آج پاکستان کے حالات کو دیکھیں تو یہ ایک ایسا طاقتور افراد یا گروہ کا باہمی گٹھ جوڑ بن گیا ہے جس کی بنیاد پر معاشرے میں موجود کمزور لوگوں کا برے طریقے سے استحصال کیا جا رہا ہے۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ ریاست و حکومت سے جڑے افراد جس انداز سے اس نظام کو چلانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ عوامی توقعات یا ریاستی مفاد کے برعکس ہے۔ یہ عمل لوگوں میں ریاست و حکومت کے بارے میں جہاں مایوسی کو پیدا کرتا ہے وہیں ان میں لاتعلقی کو بھی پیدا کرتا ہے۔

ریاست و حکومت کا مقصد عام آدمی اور اس سے جڑے مسائل کے ساتھ کھڑا ہونا ہوتا ہے۔ کیونکہ ایک مضبوط اور مربوط ریاستی نظام کی کنجی ہی عوامی مفادات سے جڑی ہوتی ہے۔ اصولی طور پر ہمیں ریاستی و حکومتی نظام میں طاقتور طبقات کی جانب سے جس بڑے منفی ایجنڈے کا سامنا ہے اس میں موجود ڈیڈ لاک کو توڑنا ہو گا۔ لیکن کیا سیاسی جماعتیں، میڈیا وکلا تنظیمیں، اہل دانش، علمی و فکری افراد یا سول سوسائٹی خود بھی اس جنگ کو لڑنے کے لیے تیار ہیں، کیونکہ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ جن لوگوں نے فرد کی سطح پر یا ادارہ جاتی عمل کی بنیاد پر اجتماعی طور پر ایک بڑے دباؤ کی سیاست کو قائم کرنا تھا وہ خود ریاستی و حکومت کے نظام میں بڑے حصہ دار بن گئے ہیں یا ان پر بھی ان حالات میں سمجھوتوں کی سیاست غالب آ چکی ہے۔ جب ریاست یا حکومت کا نظام سنہری اصولوں کو محض ایک بڑے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کریں گے تو اس کا ایک بڑا نتیجہ کمزور سیاسی و جمہوری نظام کی صورت میں سامنے آئے گا۔ ہم اپنے سیاسی و جمہوری فیصلے سیاسی حکمت عملیوں کی مدد سے طے کرنے کی بجائے سیاسی مسائل کو طاقت کی بنیاد پر حل کرنا چاہتے ہیں۔ اس حکمت عملی نے ہمیں داخلی محاذ پر بھی کمزور کر دیا ہے اور عالمی سطح پر بھی ہماری ساکھ کو بڑی تنقید کا سامنا ہے۔

Facebook Comments HS