یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے لیبارٹری کالج پارس میں ہفتے کے روز ”پلانٹیشن ڈے“ منایا گیا۔ یہ تقریب ماحولیات کی بہتری اور شجرکاری کے فروغ کے حوالے سے منعقد کی گئی جس میں کالج کے اساتذہ، طلباء، اور طالبات نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب کا آغاز صبح 9 بجے ہوا، لیبارٹری کالج پارس کے اساتذہ نے شجرکاری کی اہمیت اور ماحول پر اس کے مثبت اثرات کے حوالے سے گفتگو کی۔ کیونکہ موجودہ دور میں درختوں کی کمی کے باعث موسمیاتی تبدیلیاں شدت اختیار کر رہی ہیں اور اس کا حل شجرکاری میں مضمر ہے۔ پلانٹیشن ڈے میں طلباء و طالبات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مختلف قسم کے پودے لگائے۔ ہر گروپ کو مختلف علاقوں میں پودے لگانے کی ذمہ داری دی گئی، جس سے نہ صرف انہیں شجرکاری کا عملی تجربہ ملا بلکہ انہیں ماحولیات کی اہمیت کا بھی ادراک ہوا۔ اساتذہ نے بھی طلباء کے ساتھ مل کر پودے لگائے اور انہیں شجرکاری کے اصولوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کی۔ اس موقع پر اساتذہ نے طلباء کو درختوں کی دیکھ بھال اور ان کی بڑھوتری کے لیے ضروری معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح ایک چھوٹا پودا ایک دن تناور درخت بن سکتا ہے جو نہ صرف ماحول کو صاف رکھتا ہے بلکہ سایہ اور پھل بھی فراہم کرتا ہے۔ درخت، فطرت کا ایک قیمتی تحفہ ہیں جو نہ صرف زمین کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ انسانوں اور دیگر جانداروں کے لیے بے شمار فوائد بھی فراہم کرتے ہیں۔ درخت ماحول کی بہتری اور انسانی زندگی کے تحفظ کے لیے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں اور آکسیجن فراہم کرتے ہیں، جو کہ انسانی زندگی کے لیے ناگزیر ہے۔ درخت زمینی درجہ حرارت کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

پاکستان میں درختوں کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو شجرکاری مہمات کا آغاز کر نا چاہیے۔ ”کلین اینڈ گرین پاکستان“ مہم اور ”بلین ٹری سونامی“ جیسے منصوبوں نے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان مہمات کا مقصد ملک بھر میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانا اور عوام میں شجرکاری کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ہے۔

درختوں کے بہت سے فوائد ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ درخت زمین کی مٹی کو محفوظ رکھتے ہیں اور اس کے کٹاؤ کو روکتے ہیں۔ درختوں کی جڑیں بارش کے پانی کو جذب کرتی ہیں، جس سے زمین کی زرخیزی برقرار رہتی ہے۔ درخت سایہ فراہم کرتے ہیں اور گرمی کے موسم میں درجہ حرارت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

پاکستان میں درختوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور ان کی حفاظت کریں تاکہ ہمارا ماحول بہتر ہو سکے اور ہم ایک صحت مند زندگی گزار سکیں۔ حکومت، غیر سرکاری تنظیموں، اور عوام کو مل کر شجرکاری مہمات کو فروغ دینا چاہیے تاکہ مستقبل کی نسلوں کو ایک بہتر اور سرسبز و شاداب پاکستان مل سکے۔

تقریب کے اختتام پر کالج کی کوارڈینیٹر ڈاکٹر ثوبیہ صفدر نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اس طرح کی تقریبات مستقبل میں بھی منعقد کی جائیں گی تاکہ طلباء کو ماحولیات کی بہتری کے حوالے سے شعور دیا جا سکے۔

یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد میں اس طرح کی تقریبات کا انعقاد ایک خوش آئند قدم ہے جو نہ صرف ماحولیات کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ طلباء کی ذہنی و جسمانی نشوونما میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔