ادھورا پن
”آپ کو آج کیا ہو گیا ہے جو اس قدر فحش باتیں کر رہے ہیں؟ پہلے تو کبھی ایسی باتیں نہیں کی۔“ عابدہ شرم سے نظریں چراتی رہی۔
”ارے یار جب سے ہم دونوں کا رشتہ پکا ہوا ہے تب سے اب تک میں مسلسل اپنی جسمانی ضرورت کی جانب تمھاری توجہ مرکوز کرانے کی کوشش کر رہا ہوں مگر تم ہو کہ سمجھتی ہی نہیں۔“ ابرار خود اعتمادی کے ساتھ اپنی ضرورت کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کرتا ہے۔
”وہ سب تو ٹھیک ہے۔ میں بھی جدید دور کی لڑکی ہوں اور پڑھی لکھی ہوں لہذا میں بھی انسان کی ضرورتوں اور خاص طور پر جسمانی ضرورت کو سمجھ سکتی ہوں۔ بلکہ جیسی آپ کی طلب ہوتی ہے ویسی میری بھی ہوتی ہے۔ مگر تشنگی ایسے نہیں مٹائی جا سکتی نا۔“ عابدہ بے بسی کا مظاہرہ کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔
عابدہ اور ابرار کا رشتہ گھر والوں اور ان دونوں کی پسند سے طے ہوا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو چاہتے بھی ہیں مگر پڑھائی مکمل نہ ہونے کی وجہ سے تین سالوں سے ایک دوسرے کی قربت کی فقط تمنا لیے بیٹھے ہیں۔ ابرار جدید ذہن کا مالک ہے اور وہ معاشرے کی پابندیوں اور غیر ضروری اقدار کو نہیں مانتا بلکہ زندگی کے ارتقا میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو وہ اضافی اور غیر ضروری سمجھتا ہے۔ یوں تو عابدہ بھی بلتستان یونیورسٹی میں پڑھتی ہے اور علم نفسیات کا بھی بڑے شوق سے مطالعہ کرتی ہے۔ علم نفسیات اصل میں ابرار کا پسندیدہ موضوع ہے کیونکہ وہ جامعہ کراچی سے علم نفسیات میں بی ایس کر رہا ہے اس نے تین سالوں میں عابدہ پر فون پر نفسیات پر اتنے سارے لیکچرز دیے کہ عابدہ غیر ارادی طور پر اس علم میں دلچسپی لینے لگی۔ اس نے ابرار سے نفسیات پر بہت ساری کتابیں بھی منگوائی ان کتابوں میں فرائیڈ کی کتابیں سب سے زیادہ تھیں۔
ابرار کا سبجیکٹ نفسیات ہونے کی وجہ سے اس میں دنیا اور معاشرے کو نفسیاتی تناظر میں دیکھنے کی عادت سی پڑ گئی ہے۔ وہ فرائیڈین نظریے کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کیا کرتا ہے۔ اپنے دوستوں میں وہ جنس کی نفسیات پر سب سے زیادہ گفتگو کرتا ہے۔
”یار عابدہ دیکھو میں نفسیات کا طالب علم ہوں اور ہمارے نفسیات دانوں کا کہنا ہے کہ تین چیزوں پر انسان کا بس نہیں چلتا۔ بھوک، خوف اور جنس۔ اب میری بھوک کی طلب کسی نہ کسی طرح پوری ہو رہی ہے اور خوف تو از خود مجھ پر طاری ہوتا رہتا ہے لہذا اس کو روکنے کا کوئی جواز بھی نہیں۔ رہی بات جنس کی سو یہ بنیادی ضرورت ابھی تک پوری نہیں ہوئی۔ میں اپنی اس خواہش کو جتنی شدت سے دبانے کی کوشش کرتا ہوں اتنی شدت سے یہ ضرورت اپنی تکمیل کے لیے مجھے بے قرار کر رہی ہے۔ یار جنس کی طلب کوئی اضافی تو ہے نہیں جسے میں خود سے رد کر دوں۔“
”آپ سے یہ کس نے کہا ہے کہ آپ اپنے اس جذبے سے دستبردار ہو جائیں؟ میں فقط آپ سے یہ کہہ رہی ہوں کہ شادی ہونے تک اپنے آپ کو قابو میں رکھیں۔ شادی سے پہلے میں آپ کی یہ تشنگی نہیں مٹا سکتی۔“ عابدہ اقدار کی پاسداری بھی کرنا چاہ رہی ہے ساتھ ہی ابرار کی بے چینی اور بے قراری دیکھ کر فکر مند ہو رہی ہے۔
”ارے یار پتا نہیں تم کس زمانے میں جی رہی ہو۔ دنیا بہت آگے نکل چکی ہے اور تم فضول کے ضابطوں کے چکر میں میرا امتحان لے رہی ہو اور ویسے بھی میرا ماننا تو یہ ہے کہ یہ شادی وادی سب اضافی چیزیں ہیں اصل چیز تو مرد و زن کی قبولیت ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کو دل سے قبول کر لیتے ہیں تو اس سے زیادہ جائز اور صحیح طریقہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ جسمانی ملن کے لیے ذہنی ملن اور ذہنی ہم آہنگی اور خود سپردگی کا جذبہ ہونا ضروری ہے۔ باقی یہ شادی، رخصتی وغیرہ سماجی ضوابط ہیں جن کی پاسداری غیر ضروری ہے۔“ ابرار ہمیشہ سے اپنے معاملات اور نظریات میں واضح نظر آتا ہے۔
”آپ ایسے سمجھتے ہیں، میں نہیں۔ مجھے آپ دل سے قبول ہیں بلکہ میں دل سے آپ کو اپنا بنانا چاہتی ہوں مگر آپ کی چاہت میں تمام معاشرتی اقداروں کو توڑنے کی ہمت مجھ میں نہیں ہے لہذا میں آپ کو تسکین دلانے کی خواہشمند ہونے کے باوجود بھی شادی سے پہلے آپ کی جنسی طلب پوری نہیں کر سکتی۔“ عابدہ ماڈرن ہونے کے باوجود سماجی دائرے کو مانتی ہے۔
”یہ کیسی قبولیت ہے جس میں تمھارا چاہنے والا تڑپ رہا ہے اور تم اس کی مدد بھی نہیں کر سکتیں۔ میں نے آج تک بڑی مشکل سے اپنی جنسی طلب پر کنٹرول کیا اب مجھ سے نہیں ہو رہا ہے لہذا مجھے اپنی اس ضرورت کو پوری کرنے کے لیے کسی بھی صورت میں جسمانی ملن میسر آنا چاہیے۔ چاہے جیسے بھی میسر آئے۔“ ابرار کے چہرے پر بے قراری واضح نظر آتی رہی۔
”اب اگر آپ اس قدر بے قرار ہیں تو شادی کیوں نہیں کر لیتے؟ شادی کے بعد تو میں مکمل طور پر آپ کی ہو جاؤں گی پھر میں آپ کو ہر قسم کی خوشی اور تسکین دے سکتی ہوں۔“
ابرار نے بڑی دیر بعد ہمت کر کے گھر والوں سے اپنی شادی کی بابت بات کی۔ گھر والوں نے اس کی سنی ان سنی کر دی۔ اس نے کوشش کی کہ بات عابدہ کے گھر والوں تک پہنچ جائے لہذا کسی کے ہاتھ پیغام بھیجا کہ ”ہم دونوں شادی کرنا چاہ رہے ہیں“ مگر جب دونوں گھر والوں نے نوکری کو بہانہ بنا کر منع کر دیا تو وہ مایوس ہو گیا۔ دونوں کے گھر والوں کا یہی کہنا تھا کہ جب تک تم دونوں کی تعلیم مکمل نہیں ہوتی اور ابرار کی نوکری نہیں لگ جاتی تب تک شادی نہیں کر سکتے۔ ابرار نے اپنے بڑے بھائی سے بھی اپنے نظریات کے تناظر میں بھوک، خوف اور جنس پر انسان کی بے بسی کو ظاہر کرنا چاہا مگر بھائی نے بھی ان کی ایک نہ سنی بلکہ الٹا اسے ڈانٹ کر چپ کرا دیا اور پڑھائی اور نوکری پر توجہ دینے کی تلقین کی۔
”یار دونوں گھر والے میری ضرورت اور طلب کو سمجھ ہی نہیں رہے۔ ان کو کیسے سمجھاؤں کہ شادی کے بعد بھی پڑھائی جاری رکھی جا سکتی ہے اور نوکری بھی شادی کے بعد مل سکتی ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ بندہ جسمانی ضرورت میں ہمیشہ تشنہ رہے اور پڑھائی مکمل ہونے اور نوکری ملنے تلک اس تشنگی کو مٹانے کی کوشش بھی نہ کرے۔ عجیب قسم کی پابندیاں ہیں جن کی وجہ سے میں ادھورے پن کا شکار ہوں۔ اور تم سوچو تو ذرا اس ادھورے پن میں میں کس طرح اپنے کیرئیر پر توجہ دے سکتا ہوں؟ میرے ادھورے پن نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا ہے اور یہی سلسلہ جاری رہا تو بہت جلد میں بھٹک جاؤں گا۔ یار تم سوچو تو ذرا! مجھ سے تشنگی کے عالم میں فکر و فہم کے افعال کیوں کر سرزد ہو سکتے ہیں؟ اگر میں ذہنی اور جسمانی طور پر انتشار کا شکار رہوں گا تو کیوں کر کسی خاص مقصد کے حصول کے لیے اپنی ساری انرجی صرف کر پاؤں گا۔“ ابرار مایوسی کے عالم میں خود کو بے سہارا پا کر اداس ہو جاتا ہے۔
”میں آپ کا ادھورا پن سمجھ سکتی ہوں اور آپ کے لیے فکر مند بھی ہوں مگر کیا کیا جائے گھر والوں کے آگے۔ گھر والوں نے کہا ہے کہ جب تک پڑھائی مکمل نہیں ہوتی اور آپ کی نوکری نہیں لگتی تب تک شادی نہیں ہو سکتی۔ لہذا ہمارے پاس انتظار کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔“ عابدہ مشرقی عورتوں کی طرح گھر والوں کے فیصلے پر سر تسلیم خم کرتی ہے۔
”یار ویسے میں تو جسمانی ملن کے لیے ایک دوسرے کی رضامندی کو ہی کافی سمجھتا ہوں مگر تم ٹھہریں اقدار کی پاسداری کرنے والی۔ لہذا تمھاری خاطر ہم ابھی نکاح بھی تو کر سکتے ہیں نا؟ ویسے اس سے ایک تو یہ فائدہ ہو گا کہ مذہبی حوالے سے جسمانی تعلق قائم کرنے میں کوئی قباحت نہیں آئے گی دوسرا میں جسمانی تسکین حاصل کر کے ذہنی انتشار سے بچا رہوں گا۔“ ابرار کے چہرے پر امید کی کرن نظر آنے لگتی ہے۔
”نکاح کے بعد تو ہم ایک دوسرے کے لیے شرعی طور پر جائز ہو جاتا ہے اور اس کے بعد دوری بنائے رکھنے کا حکم مذہب میں نہیں ہے۔ مگر معاشرہ اس کو بری نظر سے دیکھتا ہے اور میرے اور آپ کے گھر والے بھی اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ لہذا ان باتوں پر زیادہ سوچنے سے آپ کی تشنگی بڑھنے کے سوا اور کچھ نہیں ہو گا۔ میں آپ کو شادی کے بعد ہی میسر آؤں گی اور ہماری شادی آپ کی نوکری کے بعد ہی ہو گی لہذا آپ تب تک ضبط کا مظاہرہ کریں۔ میں چاہ کر بھی آپ کی تسکین کا سامان فراہم نہیں کر سکتی۔“
ابرار کئی دنوں تک کش مکش میں مبتلا رہا اور کئی طریقوں سے معاشرتی ضوابط کے مطابق اپنی جنسی تسکین حاصل کرنے کی اور ذہنی انتشار سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر جب ہر حوالے سے مایوس ہوا تو کسی دوست سے جو خود اپنی ہی منکوحہ بیوی سے فقط رخصتی نہ ہونے کی وجہ سے نہیں مل سکتا تھا اور حالات کے مارے اپنی تسکین کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور ہو گیا تھا مدد چاہی۔
وہ ابرار کو اپنے ساتھ لے گیا اور قراقرم ہوٹل کے کمرہ نمبر چودہ میں بٹھا دیا اور اس سے فقط پندرہ سو کی پیمنٹ کرنے کے لیے کہہ کر اس کا دوست چلا گیا۔ ابرار کمرہ نمبر چودہ میں اکیلے بیٹھے یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس کا دوست اس کو اکیلے کمرے میں چھوڑ کر کہاں چلا گیا۔ اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلتا ہے اور ایک حسین لڑکی کمرے کے اندر آ کر دروازے کو کنڈی لگا کر بیڈ پر اس کے سامنے بیٹھ جاتی ہے۔


