کالاشی کلچر کا افسانوی نہیں حقیقی کردار بودلک
جب انسانی وجود کے آر پار کو کسی برچھی کی انی کی طرح چیرتی نورستان کے پہاڑوں سے آنے والی زمستانی ہوائیں دم توڑنے لگتیں تب بودلک کے چناؤ کے لیے سیمسن جیسے جری جوان کا انتخاب ہوتا تھا۔ اُسکے انگ انگ کی صحت مندی کی سند وادی کے وید حکیم کے جاری ہونے کے بعد پہاڑ کی چوٹی پر ایک الگ تھلگ گھر میں چھ ماہ تک بہترین کھانوں اور پھلوں کے ساتھ پرورش اور صنف مخالف سے میل ملاپ نہ کرنے کی نگرانی کرناوادی کے لوگوں کا ایک مقدس مشن تھا۔
پھر ایسے ہی دنوں میں جب پہاڑوں کی چوٹیوں پر جمی برفیں آبشاروں کی صورت وادی کو نہال کرتی تھیں جب پھولوں کے خوش رنگ چہرے اس کا حُسن بڑھاتے تھے جب انگوروں کی بیلیں رسیلے خوشوں سے لدی پھندی آنے والے دنوں میں سرور کے نئے رنگوں کا پیغام دیتی تھیں۔
وہ کسی آسمانی دیوتا کے سمان وادی میں اُترتا تھا۔ اُس بادل کی طرح جس کے ایک ایک آبی قطرے میں دھرتی کو گل رنگ کر دینے کا جادو ہوتا ہے۔ تب سولہ سنگھار کئیے حسینائیں آنکھوں میں محبت و عقیدت کے جام بھرے مرد و زن پیر و جوان بچے بوڑھے اس کے قدموں تلے پھول بچھاتے اُسے چارسو (ڈانس ہال ) لے آتے۔ جہاں جلتی مشعلیں رات کو دن بنا رہی ہوتیں۔
ڈھول کی ڈھما ڈھم پر رقص اور مے نوشی کہ ساری کائنات تو بس سمٹ کر جیسے ان لمحوں میں مقید ہو جاتی۔ بارہ کا گجر۔ حسیناؤں کے چار سو سے جانے کی گھڑی کا اعلان ہوتا۔ جیسے کوئی کانچ کا کھلونا تھامے۔ یوں ڈبلول (مذہبی رہنما ) بودلک کو پکڑے لڑکیوں کے پاس جاتا۔
تب گل چینی کا عمل شروع ہوتا۔ لڑکیاں پھول ہی تو ہوتی ہیں۔ تاروں کی طرح چمکتی پہلی لڑکی۔ پہلا تارہ ٹوٹتا ڈبلول چار سو میں طبل بجاتا۔ لوگ سرمستی اور سرشاری میں رقص کو تیز کر دیتے۔ تارے ٹوٹتے جاتے اور یوں صُبح ہو جاتی۔ تیس لڑکیوں کی گل چینی اُس شب بودلک کے لیے بے حد ضروری ہوتی تھی۔
”اس رسم یا عقیدے کی کوئی توجیہہ یا فلاسفی تو یقیناً آپ لوگوں کے ذہنوں میں ہو گی ہی۔“ میں نے پوچھا تھا۔
” بس یہ سمجھ لیجیے کہ ہمارا یقین ہے کہ بود لک کے وجود سے انسانی و حیوانی نباتاتی و جماداتی زندگی کے سوتے اُبل پڑتے ہیں۔ وہ وادی کو خوشحالی کی پھوار میں بھگو دیتا ہے۔ “
” جب ایسا اندھا یقین ہے تو پھر یہ ختم کیسے ہو گئی۔“
” کئی بدلتی قدریں۔ وقت اور نئی نسل جسے یہ سب خرافات نظر آتی ہیں۔ “
پھر میں اُنکے گھر کی بلندی سے نیچے آئی۔ انگور نہ کھا سکنے کا میرا دُکھ۔ کنویں کے پاس آ کر پیاسے آدمی کا میٹھا پانی نہ پی سکنے کا افسوس میری بار بار کی چچ چچ نے شیر بیگ کا دل یقیناً پسیج کر رکھ دیا ہو گا۔ تبھی وہ ہنستے ہوئے میری طرف دیکھتے ہوئے بولے۔
” ایک نکتہ بتا دیتا ہوں۔ اُس سے فائدہ اُٹھا سکتی ہیں تو اُٹھا لیجیے۔
بیلوں سے گچھا توڑے بغیر دانہ دانہ کر کے کھا لیں۔ آپ کے ہاتھ میں ثبوت نہیں ہونا چاہیے۔ ”
خدا حافظ کہہ کر وادی میں بقیہ لوگوں کو ڈھونڈنے لگی۔ سی این ڈبلیو ریسٹ ہاؤس کے پاس ہی ٹکراؤ ہو گیا۔ خوشی سے چہکتے ہوئے انہیں راز کی بات بتائی۔
ڈرائیور یہاں سے واپسی چاہتا تھا پر زہرہ ممتاز کا وادی کے حُسن و رعنائی پر واری صدقے ہونا اور اگلی وادیوں کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کرنا میرے لیے بہت طمانیت کا باعث تھا۔ گرو خاصی بڑی وادی ہے۔ یہاں ڈسپنسری مڈل سکول دکانیں اور ہوٹل ہیں۔
جب آگے چلے اور وادی کی مختصر سی بھیڑ بھاڑ سے نکلے۔ تو پھر انگور تھے ہم تھے۔ چشمے کے ٹھنڈے ٹھار پانیوں سے گچھے دھوئے اور کھائے۔ ڈین کی تو دھجیاں اُڑائیں۔
اگلی وادیاں بشاڑ اور بہاڑ تھیں۔ بشاڑ میں ہم نے ہوٹل کے سامنے دھری چارپائیوں پر بیٹھ کر چائے پی اور بہاڑ سے نورستان کے سرسبز و شاداب جنگل دیکھے۔
گلیشئروں سے لدے پھندے پہاڑوں نے مسحور کیا۔ افغانستان کے علاقے نورستان کے متعلق جانا۔ نورستانی چراگاہوں میں کالاشیوں کے ڈھور ڈنگروں کا رہنا چرنا اور کالاشیوں کا دودھ گھی جوڑ جوڑ کر نیچے لانا سب سُنا۔ اور جب واپسی ہوئی مسز زہرہ ممتاز نے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا۔
” میں شکر گزار ہوں آپ کی۔ بخدا میں نے فردوس بریں کی سیر کی۔“


