درکار ہے


وہ شاد باد، خوشحالی، کامیابی، خلوص، اخلاق، دیانتداری، آزادی، لطف و کرم جیسے اوصاف حمیدہ سے اچھی طرح واقف تھا۔ وہ ان سے نا صرف واقف تھا بلکہ وہ ان کا قدر دان بھی تھا۔ کیونکہ یہ صفات و اخلاق اسے بہت جان فشانی سے حاصل ہوئے تھے۔ بچپن ہی سے وہ اخلاق حمیدہ سے آراستہ تھا اور اچھی عادات و صفات کا نا صرف مظاہرہ کرتا تھا بلکہ وہ اس کی شخصیت کا حصہ تھیں۔ وہ اس کا مزاج تھا۔ وہ تکلفات سے ناآشنا تھا۔ تکلفات کو وہ بیماری سے تشبیہ دیتا تھا اس لیے وہ حتی المقدور کوشش کرتا تھا کہ خود کو ان بیماریوں اور آلائشوں سے پاک صاف رکھے۔ اس کار خیر میں اسے ایک حد تک اور ایک خاص وقت تک کامیابی نصیب ہوئی مگر وہ اس کو دوام دینے سے قاصر رہا۔

وہ ایک شوخ انسان دنیا اور انسانی بیماریوں سے لڑتے لڑتے اپنی شناخت اور شخصیت دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھا اور اسے تجسیم کے لیے نئی شناختیں اور ساختیں اور اوصاف درکار تھے۔ اس غرض سے اس نے معاشرے سے مدد چاہی تو معاشرے میں بیسویں شناختیں دستیاب تھیں۔ اس نے اپنی مطلوبہ چیزوں کے لیے "درکار ہے“ کا اشتہار دیا۔ مگر اس کو مایوسی ہوئی کیونکہ اس کی مطلوبہ چیزوں کو اوصاف حمیدہ کی لسٹ سے خارج کر دیا گیا تھا۔ اور اب ان ”اوصاف“ کو بھی نئی شناختیں مل چکی تھیں۔ وہ سچ کی نایابی پر بھی حیران تو تھا مگر سچ کے مہلک اثرات نے اسے پریشان کیا۔ اور اس طرح کہ تمام ابدی ”اوصاف“ اب فرسودگی کی منازل طے کرتے ہوئے راہ عدم پر رواں دواں تھے۔ وہ جدید دنیا کا ایک قدیم آدمی تقاضا دل گیریت لیے محو سفر رہا مگر اسے صرف ”گیریت“ ہی ملی۔ وہ امید کا دامن تھامے ہوئے چلتا رہا۔ ڈھونڈھتا رہا۔ محو پرواز رہا۔ مگر سب لا حاصل۔ وہ دلدل میں دھنستا چلا گیا اور اپنی اصل سے کہیں دور نکل گیا۔ اتنا دور کہ اسے ”دور“ ہی اصل لگنے لگ گیا۔ اور یہی سب سے بڑا المیہ بن گیا۔

وہ محبت سے دور، فطرت سے دور، سماج سے دور، وہ ہر ایک شے سے دور مگر باتیں عالم گیریت کی کرنے لگ گیا۔ یہ اس کی زندگی کا ایک اور بڑا فساد تھا جس میں وہ گھر چکا تھا مگر ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ وہ ناداں تھا جو بے ثباتی میں دوام حاصل کرنے کی کوشش میں تھا۔ دوام تو نام ہے ربط کا ، رشتہ کا ، جڑنے کا ، اپنائیت کا ، احساس اور احساسات کا ، ایک اکائی کا ، جبکہ بے ثباتی، تنہائی اور انفرادیت سے مزین ہے۔ عمومی طور پر بے ثباتی کو عارضی پن سے موسوم کیا جاتا ہے مگر وہ اس سے مختلف الخیال تھا۔ وہ تو کہتا تھا کہ دوام بھی عارضی ہے اور بے ثباتی بھی۔ جگہ بھی عارضی اور وقت بھی۔ دوست بھی اور دشمن بھی۔ رشتہ بھی اور رشتے دار بھی۔ یہ ”تغیر“ دائمی ہے۔ اور وہ تغیر کو ہرگز برا نہیں کہتا تھا مگر اجنبیت کو اس نے کبھی اچھا نہیں کہا۔ اس کے لیے اجنبیت انتہائی بری چیز تھی چاہے وہ اجنبیت تغیر ہی کی وجہ سے ہی کیوں نا ہو۔

آج ملاحظہ فرمائیں کہ کیسے لوگ جنہوں نے ان کے لیے اپنی زندگیاں صرف کیں ان سے اجنبی ہیں۔ آپ ایک گھر سے دوسرے گھر چلے جائیں تو پہلے والے ہمسائے بھی اجنبی ہو جاتے ہیں۔ آپ شہر چلے جائیں یا چھوٹے شہر سے کسی بڑے شہر چلے جائیں یا کسی دوسرے ملک چلے جائیں تو آپ اپنے پیارے ترین لوگوں سے اجنبی ہو جاتے ہیں اور تکلفات میں پڑ جاتے ہیں۔ اس کے خیال میں بے ثباتی انہی کیفیات کا دوسرا نام ہے۔

درکار ہے کا اشتہار لیے وہ گلی گلی نگر نگر گھوما آواز لگائی بنجارہ بن کر اپنا نام تو ابدی کرداروں میں لکھوا لیا مگر اسے درکار ہے والی چیزیں نہ ملیں۔ وہ مسافت کی منزلیں طے کرتا گیا اور مسافت بھی ایسی جس کی کوئی منزل نہ تھی مگر سفر اس غرض سے جاری رکھا تاکہ تلاش جاری رہے۔ رکنا ویسے بھی محال تھا۔ ٹھہراؤ کو تو سب ذی شعور موت سے متصور کرتے ہیں۔

الغرض وہ اپنی تمام تمنائیں جو اس کے دل پر اور اشتہار پر زیب قرطاس تھیں ان کو واپس اپنی پٹاری میں رکھتا ہے اور تکلفات کا لبادہ اوڑھ کر دنیا کا حصہ بن جاتا ہے اور خود کو کامیاب انسان تصور کرتا ہے مگر اسے اپنے تصور پر شک ہوتا ہے۔ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق۔

Facebook Comments HS