سلطنت عمان میں واقع قلعہ رستاق، فن تعمیر کا حیرت کدہ


ہم ہانپتے ہوئے قلعے کی بل کھاتی سیڑھیاں چڑھتے رہے۔ سیڑھیوں کے اختتام پر لکڑی کا دروازے دکھائی دیا۔ دروازے کے اس پار قلعے کی کشادہ چھت تھی۔ چھت کے گرد مضبوط دیواروں کا حلقہ تھا۔ قلعے کی چھت سے نیچے جھانکا تو دور کھجوروں کے باغات تھے۔ کھجوروں کے درخت قطار اندر قطار کھڑے تھے۔ خاص ترتیب سے ایک جیسے قد و قامت کے حامل کھجوروں کے درخت دیکھنے والوں کو دیر تک خوشگوار حیرت میں مبتلا رکھتے ہیں۔ قلعے کی چھت پر گہرا سکوت تھا۔ اگر ہمارے اردگرد چند سیاح مٹر گشت نہ کر رہے ہوتے تو ممکن تھا کہ یہ سکوت لرزہ طاری کر دیتا اور ہم الٹے قدموں اپنی گاڑی میں آ کر بیٹھ جاتے۔ ہم قلعے رستاق کی چھت پر کھڑے تھے۔ تیز ہواؤں کے جھونکے ہم سے بغل گیر ہو رہے تھے۔ ہمارے سروں پر اجنبی دیسوں کے پرندے اڑ رہے تھے۔ یہ پرندے ہزاروں کلومیٹر کا سفر کر کے ہر سال عمان آتے ہیں۔ عمان کو پرندوں کا دیس بھی کہا جاتا ہے۔ مسقط شہر سے 170 کلومیٹر دور قلعہ رستاق واقع ہے جس کے سینے میں کئی صدیوں کی عسکری کہانیاں دفن ہیں۔ یہ قلعہ، صوبہ رستاق کے سبز پہاڑوں کی ڈھلوان پر قائم ہے۔

تیرہویں صدی میں اس قلعے کی تعمیر ہوئی بعد ازاں مختلف حکمرانوں نے اپنے اپنے ادوار میں اس کی حفاظت اور مر مت کے فرائض سر انجام دیے۔ قلعے کی تین منزلیں ہیں۔ جس میں اسلحہ خانہ، رہائشی مکانات، مسجد، جیل اور کنویں ہیں۔ قلعے کے چار مرکزی دروازے ہیں۔ جن کے مخصوص نام ہیں۔ یہ بھاری بھرکم اور دیو قامت دروازے قیمتی لکڑی سے بنے ہوئے ہیں۔ قلعے کے مرکزی دروازوں کے اوپر دفاعی ضرورت کے لیے بنائے گئے پوشیدہ خانے ہیں جہاں سے دوران یلغار دشمن پر گرم تیل انڈیلا جاتا تھا۔ تاکہ وہ قلعہ کا مرکزی دروازہ نہ کھول پائے۔ چھت کے سناٹے کو ہم اس کے حال پر چھوڑ کر ، بل کھاتی سیڑھیاں اترتے ہوئے، ایک راہداری میں آ گئے۔ راہداری کے دونوں اطراف میں، دیواروں پر قدیم بندوقیں، تلواریں اور ڈھالیں ٹنگی ہوئی تھیں۔ مختلف کمروں کے دروازے اسی راہدری میں کھلتے تھے۔ انہی راہداریوں میں کچھ عمانی گائیڈ غیر ملکی سیاحوں کو قلعے سے وابستہ تاریخی حقائق بتاتے ہوئے دکھائی دیے۔ سیاحوں کے گلے میں کیمروں کا طوق تھا۔ عمانی گائیڈ اپنے روایتی لباس میں ملبوس تھا۔

عمانی لوگ اپنے کلچر سے بے حد پیار کرتے ہیں۔ یہ رئیس ابن رئیس ہو کر بھی انگوٹھے والی چپل پہنتے ہیں۔ سر پر روایتی رومال باندھتے ہیں اور سفید دودھیا لباس زیب تن کرتے ہیں۔ سلطنت عمان میں بنگالی، بھارتی، پاکستانی، افریقی، برطانوی، امریکی، مصری، لبنانی، سمیت دیگر قوموں کے لاکھوں لوگ آباد ہیں۔ یہ سب لوگ اپنا الگ الگ تہذیبی تشخص رکھتے ہیں۔ ان سب کا عمانی لوگوں کے ساتھ بالواسطہ یہ بلا واسطہ سماجی رابطہ ہے لیکن اس کے باوجود آج بھی عمانی تہذیب دیگر تہذیبوں کے اثرات سے مکمل محفوظ ہے۔ قلعے کے اندرونی راستے خم دار تھے۔ قلعے میں چھوٹے بڑے کمرے تھے جن کی چھتوں میں قیمتی لکڑی استعمال کی گئی تھیں۔ اگر چہ روشن دان سورج کی کرنوں سے لبریز تھے مگر پھر بھی کمرے کے طاقچوں میں برقی لالٹینیں روشن تھیں۔ قلعہ رستاق فنِ تعمیر کا ایک حیرت کدہ ہے۔ صدیوں کی گرد بھی اس حیرت کدے کی رعنائی اور دلکشی کو ماند نہ کر سکی۔ ہم خم دار راستوں سے ہوتے ہوئے قلعے کے مرکزی دروازے کی طرف لوٹ رہے تھے۔ سرمئی شام نے اپنے پر پھیلا دیے تھے۔ شہر کا مرکزی ریستوران ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ قلعے کی پارکنگ میں کھڑی گاڑیاں ایک اک کر کے رخصت ہو رہی تھیں۔ سو ہم نے بھی اس ”بھیڑ چال“ کا حصہ بننے میں عافیت جانی۔

Facebook Comments HS