ماہ رنگ کی خاموشی اور ڈوبنے والے کا مذہب


کسی تحریک کو جانچنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ رنگ، نسل، مذہب، علاقائیت یا قومیت کے تعصب پر تو مبنی نہیں! اگر وہ ان تمام تعصبات سے بالاتر ہو کر انسانیت پہ ہونے والے ظلم کے خلاف ہے تو وہ تحریک برحق ہے، بصورت دیگر باطل۔

اگر کوئی تحریک محض تعصب پہ مبنی ہے تو اس کی طبعی عمر ”انسان دوستی اور ظلم دشمنی“ پہ مبنی تحریک سے کم ہو گی۔ چند ہفتے پہلے بلوچ یکجہتی کمیٹی کا احتجاج (راجی مچی) ہوا تو اسے پورے پاکستان میں قبولیت ملی، لوگوں نے اسے سپورٹ کیا، بلوچوں پہ ہونے والے مظالم کی مذمت کی، ان کے ہم آواز بنے۔ اس سے پہلے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے لا پتہ افراد کی بازیابی کے لیے اسلام آباد کی طرف مارچ کیا تو کیا سرائیکی کیا پنجابی، ہر علاقے میں ان کا گرم جوشی و زندہ دلی سے استقبال کیا گیا۔

لیکن موسیٰ خیل میں ہونے والے معصوم جانوں کے ضیاع پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی خاموشی نہ صرف کئی سوال کھڑے کر رہی ہے بلکہ بلوچ تحریک پہ دوبارہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے۔ حضرت واصف علی واصف کا قول ہے کہ:ڈوبنے والے کو بچانے سے پہلے اس کا مذہب پوچھنا زیادتی ہے ”، لہذا ماہ رنگ بلوچ کو اس واقعے کی مذمت کر کے یہ پیغام دینا چاہیے تھا کہ وہ صرف مظلوم کے ساتھ ہیں اور ایسا کرنے میں رنگ، نسل، مذہب، یا قومیت اس کا رستہ نہیں روک سکتی۔

اس سارے واقعے پہ ایک تجزیہ یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ قومیت پہ مبنی یہ فسادات ”وہ“ کروا رہے ہیں تاکہ بلوچ تحریک کے لیے دیگر صوبوں میں حمایت پیدا نہ ہو۔

اگر اس بات کو درست تسلیم کیا جائے کہ ”وہ“ یہ چاہتے ہیں کہ بلوچ تحریک کا دائرہ و حمایت صرف بلوچستان تک محدود رہے اور سرائیکی یا پنجابی اس کا ہمنوا نہ بنے، تو سوال یہ ہے کہ کیا ڈاکٹر ماہ رنگ صاحبہ اتنی عاقبت نا اندیش ہیں کہ انھیں اتنے سے واقعہ کی بھی تفہیم نہیں؟ اور اگر تفہیم ہے تو ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو موسیٰ خیل جیسے واقعات کی مذمت میں دیر نہیں لگانی چاہیے تاکہ ان کی تحریک کے خلاف یہ تاثر قائم نہ ہو کہ وہ قومیت پہ مبنی تحریک ہے، اور ان کی تحریک کو بلوچستان تک محدود رکھنے والوں کے منہ میں بھی خاک آلودہ ہوں، ان کی تحریک چونکہ ”پر امن“ ہے اور ایسی تحریکوں کی ”روحِ رواں“ عوامی حمایت ہوتی ہے، اس لیے ان کی تحریک کی قبولیت و قوت میں تبھی اضافہ ہو سکتا ہے جب وہ بین الصوبائی دائرہ پھلانگ کر پنجاب، سندھ اور پختونخوا میں عام آدمی پہ ہونے والے ظلم کی مذمت کریں، جب وہ قومیت کے حصار کو توڑ کر انسانیت یا کم از کم پاکستانیت کی چادر ہی اوڑھ لیں۔

کیونکہ عام آدمی پنجابی ہو، سرائیکی ہو، پختون ہو یا بلوچ، وہ مسائل کا شکار ہے، اس کا کوئی پرسانِ حال نہیں، وہ بد امنی، مہنگائی، لا قانونیت اور ظلم کا شکار ہے۔

Facebook Comments HS