آئیے مسلمان ہونے کا چیلنج قبول کریں


حج کے ایام میں بھی طواف کی ایسی آسانی نصیب ہوئی

آج کل سوشل میڈیا پر مختلف افراد میں ایک بھیڑ چال چلی ہوئی ہے اور اس کے تحت بے شمار پوسٹیں دکھائی دے رہی ہیں کہ میں خدا اور رسولؐ کو مانتا ہوں اور ساتھ بڑے طمطراق سے ’چیلنچ ایکسپٹڈ‘ (چیلنج قبول کیا) ایسے طمطراق سے لکھا ہوتا ہے جیسے یہ پوسٹ لکھنے والا ایک برما میں رہنے والا روہنگیا ہے یا بھارتی ریاست گجرات کے مسلم کش فسادات ہو رہے ہیں اور ادھر یہ صاحبان موجود ہیں اور اپنی مسلمانی کا اعلان کرنا گویا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

آئیے مسلمان ہونے کا چیلنج حقیقت میں قبول کریں۔ 2012 میں ہمارے دل میں بھی شدید تمنا پیدا ہوئی تھی کہ یہ چیلنج قبول کریں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ مسلمان پر کیا کیا چیز فرض ہے؟ آئیے ایک مشہور حدیث پاک سے راہنمائی لیتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اسلام کیا ہے اور وہ چیلنج کیا ہے جو قبول کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خطاب نے بیان کیا کہ

ہم ایک مرتبہ رسول اللہ کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک ایک شخص سفید براق کپڑے پہنے نمودار ہوا نہایت سیاہ بالوں والا، اس پر سفر کے کچھ آثار نہیں تھے کہ معلوم ہوتا کہ دور دراز کا سفر کر کے آرہا ہے اور نہ ہی ہم اسے جانتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور اپنے گھٹنوں کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رانوں پر رکھ دیا اور کہا کہ اے محمدؐ مجھے اسلام کے بارے میں بتلائیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ (اسلام یہ ہے کہ) تو گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں اور یہ کہ محمدؐ اس کے رسول ہیں اور یہ کہ تو نماز قائم کرے، زکوٰة ادا کیا کرے، رمضان کے روزے رکھا کرے اور اگر تو طاقت رکھے تو بیت اللہ کا حج کرے۔ اس نے کہا کہ کہ آپؐ نے سچ فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ پس ہمیں بڑا تعجب ہوا کہ خود سوال کرتا ہے اور خود ہی آپ کی تصدیق کر رہا ہے۔ (سنن ابی داؤد، باب ایمان کا بیان۔ صحیح مسلم، جامع ترمزی، سنن ابی ماجہ)۔

رسول پاکؐ نے بعد ازاں حضرت عمرؓ کو بتایا کہ یہ حضرت جبرائیل تھے اور دین کی تعلیم دینے آئے تھے۔ یہ ’حدیث جبرائیل‘ کے نام سے مشہور ہے۔

ہم اور آپ شہادت تو دیتے ہیں، نماز تو پڑھتے ہیں، زکوٰۃ تو دیتے ہیں، روزے تو رکھتے ہیں، مگر ہم میں سے کتنے ہیں جو طاقت رکھنے کے باوجود حج نہیں کرتے ہیں؟ کیا کسی بشر کو یہ خبر ہے کہ کب اس کا وقت پورا ہو جائے؟ اس کے باوجود ہم حج کرنے کا حکم ماننے کی بجائے محض فیس بک پر اپنی مسلمانی کے دعوے کرنے کو ہی اپنے ایمان کی تکمیل اور مسلمانی کا چیلنج قبول کرنا کیوں سمجھ بیٹھے ہیں؟

سنہ 2012 میں تو ہم شدید کوشش کے باوجود حج پر نہ جا سکے۔ بکنگ ہو چکی تھی۔ پیسے دیے جا چکے تھے۔ مگر پھر حسب معمول ایجنٹوں کے کوٹے کا سالانہ مسئلہ اٹھا اور ہمارے ٹریول ایجنٹ نے عین آخری ہفتے میں ہمارے پیسے واپس کر دیے۔ اس کے بعد ایک جاننے والے کی عزیز ممبر اسمبلی ہمیں اپنے کوٹے سے حج ویزا دلوانے پر راضی تھیں مگر اس شرط پر کہ کچھ چائے پانی کا بندوبست کر دیا جائے۔ اب ہم دیگر امور میں تو چائے پانی دے کر اپنی زندگی میں آسانی پیدا کرتے ہیں، مگر حج کے لئے یہ کرنے پر دل آمادہ نہ ہوا۔ حج میں ریاکاری کیسی؟ ہماری سوچ تو یہ ہے کہ یہ ایسا کام ہے جس میں دل بھی پاک ہونا چاہیے اور وہ پیسہ بھی جس سے حج کیا جائے۔

منیٰ کےکیمپ میں کوئی دقت پیش نہیں آئی

سنہ 2013 آیا۔ اس وقت حرم پاک کی توسیع کا پراجیکٹ شروع ہو چکا تھا۔ سعودی حکومت نے مقامی شہریوں کے حج کرنے پر سخت پابندی لگائی اور بیرون ملک سے آنے والوں کا کوٹہ بھی ایک تہائی کے قریب کم کر دیا۔ یہ اعلان کیے گئے کہ اس برس خواتین اور کمزور افراد حج پر نہ آئیں۔ یہ بتایا جا رہا تھا کہ اس سال حج معمول سے کہیں زیادہ سخت ہو گی اور حجاج کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا۔

حج کی خواہش رکھنے والے چند افراد کو تو ویسے ہی شدید مشکلات پیش آ رہی تھی۔ جب پیسے دینے تھے تو ان دنوں پیسوں کی شارٹیج چل رہی تھی اور فیملی کے حج کا خرچ برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ کچھ سبیل پیدا نہ ہوئی تو گاڑی قربان کر دی۔ جلدی میں بیچنی تھی تو اچھے بھلے گھاٹے پر ہی گاڑی نکالنی پڑی۔ مگر پیسے پورے ہو گئے۔

حج پر پہنچے۔ پوری طرح تیار تھے کہ شدید مشکلات کا سامنا ہو گا۔ مگر ایسی آسانیاں ہوئیں کہ ہمارے گروپ لیڈر اور معلم حیرت کا اظہار ہی کرتے رہ گئے کہ ہم کئی دہائیوں سے حج کرا رہے ہیں مگر ایسا آسان حج تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ نہ منیٰ میں تکلیف ہوئی نہ میدان عرفات میں ہجوم کا سامنا کرنا پڑا۔ ان دونوں مقامات پر سب سے زیادہ مشکل بیت الخلا کی لمبی لائنوں کی بیان کی جاتی ہے۔ وہاں لائن کا وجود ہی نہیں تھا۔ صرف نماز سے پہلے وضو کے وقت پانچ منٹ کھڑا ہونا پڑتا تھا، لیکن نماز سے پندرہ منٹ پہلے جانے پر وہاں سب کچھ خالی پڑا ہوتا تھا۔

یہی حال طواف کا ہوا۔ ہمارا گروپ تیسرے دن وہاں پہنچ گیا تھا۔ حرم پاک خالی ملا۔ عمرے اور طواف کرنے میں نہایت سہولت ملی۔ جی بھر کر دونوں کام کیے۔ دو ہفتے تک رش بالکل نہیں تھا۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ بڑھتا گیا۔ حج کے دنوں میں بہت زیادہ ہو گیا تھا۔ اس وقت ہم مدینہ منورہ کی طرف عازم سفر ہوئے۔ جو افراد پہلے مدینہ منورہ گئے تھے اس وقت وہ مکہ مکرمہ واپس آ رہے تھے، انہوں نے بتایا کہ مدینہ منورہ میں بے تحاشا ہجوم ہے۔ ہم پہنچے، وہاں ہجوم ختم ہو چکا تھا۔ ہمیں مسجد نبوی میں ویسی ہی آسانی اور سکون نصیب ہوا جیسا کہ مسجد الحرام میں ہوا تھا۔ اللہ کا صد شکر کہ اس نے اس عاجز لبرل مسلمان کو اس کا فرض پورا کرنے میں ایسی آسانیاں بخشیں اور ایسا کرم کیا کہ آج بھی سوچتا ہوں تو دل کی گہرائی سے خدا کی رحمت پر شکر گزار ہوتا ہوں۔

شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد

واپس آ کر جس جس سابقہ حاجی کو بھی حال سنایا، وہ حیران ہوا اور اس نے رشک کیا اور اپنی حج کی مشکلات کو یاد کیا۔ حج سے واپسی پر کاروبار میں پھنسے ہوئے پیسے بھی نکل آئے تھے اور پہلے سے کہیں بہتر گاڑی بھی خرید لی۔ بلکہ ایک کیا دو اچھی گاڑیاں خرید لیں۔

بہرحال حاصل کلام یہ ہے کہ فیس بک پر اپنے ایمان کا چیلنج قبول کرنے کی بجائے وہ چیلنج پورا کریں جو فرض ہے، جس کا حکم دیا گیا ہے۔ ہم ساٹھ ہزار کے موبائل کی بجائے بیس ہزار کا موبائل خرید سکتے ہیں، بیس لاکھ یا دس لاکھ کی گاڑی کی بجائے اس سے آدھی قیمت کی گاڑی لے سکتے ہیں، مگر نیت تو کریں کہ وہ چیلنج قبول کریں جو ہم پر فرض ہے۔ ہم اپنی عیاشیوں پر تو پیسہ خوب خرچتے ہیں، مہنگے کھانے کھاتے ہیں، مہنگے برقی گیجٹ خریدتے ہیں، گاڑی اور گھر پر خوب خرچہ کرتے ہیں، مگر وہ فرض پورا نہیں کرتے جو اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے۔

تو بھائیو، آئیے مسلمان ہونے کا چیلنج قبول کریں۔ حج کریں۔ گاڑی بنگلہ فون تو دوبارہ بھی آ سکتے ہیں، مگر موت آ گئی اور حج نہ ہوا تو کیا ہو گا؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1482 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar