کیا عبادت و ریاضت انسانی زندگی میں واقعی کسی انقلابی محرک کا سبب بنتی ہے؟


بچپن سے سن رکھا ہے کہ عبادت و ریاضت انسان میں حلم، بردباری، عاجزی و انکساری اور نرم مزاجی ایسے نیک اور پاکیزہ اوصاف پیدا کرتی ہے۔ عبادت و ریاضت انسان کو برائیوں سے دور کر دیتی ہے اور اس کو ایک کامل انسان بنا دیتی ہے۔جو لوگ عبادت و ریاضت میں مسلسل مشغول رہتے ہیں اور دیوانگی کی حد تک اس کی تہہ میں اتر جاتے ہیں وہ بارگاہ ایزدی کا قرب پا لیتے ہیں اور دنیا و مافیہا سے کنارہ کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق مشہور ہو جاتا ہے کہ یہ زندگی و آخرت کا حقیقی گیان پا چکے ہیں اور یہ روحانیت کے ایک ایسے درجے پر فائز ہو چکے ہیں کہ جہاں ہر ایک کی رسائی ممکن نہیں ہوتی۔

اب اس روحانی مقام یا مرتبے کو جاننے کا کوئی حقیقی یا ٹیسٹ ایبل پیمانہ یا کسوٹی کوئی نہیں ہے سوائے سینہ گزٹ یا پراسرار قسم کی پیچ دار سی گفتگو کے، جس کا سرا شعوری یا عقلی بنیادوں پر آپ زندگی بھر نہیں ڈھونڈ سکتے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عبادت و ریاضت والے لوگوں میں خدا کا خوف گھر کر جاتا ہے اور وہ کسی سے بھی زیادتی یا دھوکہ کرتے وقت خدا کے خوف سے سہم جاتے ہیں اور جو حقیقت میں بزرگی و روحانیت کے مرتبے پر پہنچ جاتے ہیں وہ تو خوف خدا کے سائے تلے ہی زندگی بسر کرنے لگتے ہیں۔

نگاہیں ڈھونڈتی رہیں ایسی مہان ہستیوں کو مگر ایسا کوئی نہ ملا کہ جسے دیکھ کر ہم یہ کہہ سکتے کہ عبادت و ریاضت واقعی ایک انسان کو ایک قیمتی انسان میں تبدیل کر دیتی ہے۔ ہم نے تو سب سے زیادہ دنیا داری اور دولت کی چمک دمک کی ہوس اہل معرفت و جبہ و دستار میں دیکھی ہے۔ ہم نے تو بڑے بڑے شعبدہ بازوں اور پارسائی کے دعویداروں کو عبادت و ریاضت اور روحانی گیٹ اپ کی اوٹ میں چھپے یا دبکے ہوئے پایا ہے۔ لبادہ پارسائی یا مذہب تو ان کے لیے ایک طرح کی ڈھال یا معاشرتی سند ہوتی ہے جس کی آڑ میں ان کے دھندے محفوظ ہو جاتے ہیں۔

ہمیں تو حلم و بردباری، برداشت، عجز و انکساری، برابری کا جذبہ و احساس اور تمام انسانی تفریقات سے اوپر اٹھ کر سماج کو دیکھنے ایسی صفات کی جھلک دنیا داروں اور پاپیوں میں دکھائی دی ہے اور عبادت گزاروں کو حد سے زیادہ خود فریبی اور اکملیت کے نشے میں مخمور پایا ہے۔ سب سے زیادہ بدتمیز، سخت دل، دولت و ہوس کے حریص و پجاری اور خوف خدا سے ماورا نیکو کاروں کو تقدیسی چولے میں ملبوس پایا ہے۔

یہ سب نیک، پاکباز، تقویٰ و طہارت والے کامل تو بن جاتے ہیں لیکن زندگی بھر ایک ایسے انسان نہیں بن پاتے جن کا سب سے بڑا دھرم انسانیت ہو اور انسانیت کی تذلیل کو سب سے بڑا گناہ سمجھیں۔ اپنے اپنے عقیدے اور فرقے کے خول میں بند یہ صالحین ایک دوسرے پر برتری جتانے کے لیے آپس میں ہی دوسروں کو کافر اور نجانے کیا کچھ ڈیکلیئر کر ڈالتے ہیں اور ساری زندگی اسی زعم میں بسر کر دیتے ہیں کہ وہی حق پر ہیں اور جنت کے بھی اکیلے ہی وارث ہوں گے۔

یہ عبادت کا کیسا اثر یا رنگ ہے جو ایک عبادت گزار میں حلم یا عجز و انکساری پیدا کرنے کی بجائے اسے پاکبازی کے ایک ایسے وہم کا اسیر بنا دیتا ہے کہ اسے اپنے مذہب، عقیدہ یا فرقے کے علاوہ دوسرے مکاتب فکر یا مختلف افکار ایک آ نکھ نہیں بھاتے اور وہ ساری زندگی انہی کی برائیاں یا کمیاں کوتاہیاں گنوانے میں بسر کر ڈالتے ہیں جنہیں وہ ناپسند کرتے ہیں۔ معاملات زندگی یا معاشرت و معیشت میں ایک طرح کا سوقیانہ پن نمایاں رہتا ہے، بنیادی وجہ خود کو حق پر جاننا اور عبادت و ریاضت کا خمار ہوتا ہے۔

کیا دنیا بھر میں پائے جانے والے باقی مذاہب کے لوگ بھی اپنے اپنے نقطہ نظر کے متعلق ایسا ہی سوچتے ہیں یا کچھ مختلف سوچتے ہیں؟ ظاہر ہے ایک جیسا ہی سوچتے ہیں، مذہب کا چناؤ شعوری نہیں ہوتا بلکہ حادثاتی ہوتا ہے، جس عقیدے، مذہب، وطن یا نسل میں آپ آ نکھ کھولتے ہیں وہی روایتی بندوبست آپ کو ایک آبائی ورثہ یا حادثہ کے طور پر آپ کے ”پالنے“ میں ہی منتقل ہو جاتا ہے اس کے لیے رتی بھر بھی کاوش نہیں کرنا پڑتی۔ اب حادثاتی ببل کو ہی حرف آ خر سمجھنا اور انسانوں کے بیچ اسی بنیاد پر تقسیم قائم کرنا کوئی دانشمندانہ اقدام نہیں ہوتا۔

Facebook Comments HS