خونی جنگیں اور جانوروں کا استحصال


انسان نے جب سے زر، زمین اور زن سے متعلق شعور حاصل کیا ہے اس دن سے انسان کی شعوری منزل کو مزید زک پہنچی۔ انسان نے کانسی اور لوہے کے زمانے سے لے کر صرف جنگیں لڑی ہیں اور اپنی کشور کشائی اور طاقت کی نمود سے خود کو دوسروں سے برتر بنانے کا کھیل جاری رکھا۔ یہ بات سب کے علم میں ہے کہ جنگ ہمیشہ وسائل کے لیے لڑی گئی ہیں چاہے وہ انسانی ہوں یا زمینی یا زر کی صورت میں ہوں۔

ان جنگوں میں لاکھوں افراد مارے گئے جن میں فوجی اور عام لوگ شامل تھے، خاص طور پر عورت بچوں کا خونی اور بہیمانہ استحصال کیا گیا۔ جنگوں نے معاشرتی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا جس سے کئی لوگ بے گھر ہوئے اور ثقافتی ورثے کو بھی جنگوں میں نقصان پہنچا، جس سے قوموں کی تاریخ اور ثقافتی ورثے کا قیمتی حصہ ضائع ہو گیا۔ ان تمام نقصانات نے انسانیت کو بہت پیچھے دھکیل دیا اور ترقی کی رفتار کو سست کر دیا۔ اس سلسلے میں ساحر کی نظم ”جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے“ شاندار ادبی نمونہ ہے۔

لیکن جنگ اور اس سے متعلق دیگر موضوعات پر بات کرتے ہوئے ہم اکثر ان جانوروں کو بھول جاتے ہیں جنہوں نے انسان کی ترقی میں اس کا ساتھ دیا بلکہ جنگوں اور فتوحات میں اپنا بھر پور حصہ ادا کیا ہے۔ جن میں ہاتھی، گھوڑے، اونٹ، بیل اور دیگر جانور شامل ہیں۔

جنگوں میں ہاتھیوں اور گھوڑوں کو نیزہ مار کر زخمی کرنا ان پر تیر برسانا انہیں موت کے گھاٹ اتار دینا جلتے ہوئے نیزے ان کے جسموں میں اتار دینا ایک ایسا قبیح عمل تھا جس کی تلافی آج تک ممکن نہیں، لیکن تاریخ انسانی جانوں کا ذکر کرتے ہوئے کبھی ان جانوروں کا ذکر نہیں کرتی جنہوں نے جنگوں میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر کے مفتوحین کے پرچم بلند کیے۔

آہ۔ مظلوم جانور جنہیں نہ مال و دولت کی حرص تھی اور نہ ہی کشور کشائی ان کا مطمح نظر تھی۔ انسان کے جانور سے انسان بننے کے عمل کے بعد ان جنگوں نے اس کی حیثیت اور بھی بدتر کر دی جو ابتدائی زمانے میں اس سے بہتر تھی، جانوروں سے انسان کی تشبیہ جانوروں کی توہین ہوگی جس سے میں گریز کروں گی۔

بھلا ہو ان تخلیق کاروں کا جنہوں نے کشتی، جہاز جیسی ایجادات کیں اور جنہیں جنگوں میں استعمال کیا جانے لگا جو اسے کم وقت میں زیاد فوائد دے سکیں، وگرنہ یہ جانور انسان کی جنگوں کا آج تک ایندھن بنے رہتے اور اس وقت تک بنے رہتے جب تک انسان اپنے مفادات کو پا نا لیتا۔

اس کے باوجود انسان ہر اوچھی حرکت پر ایک دوسرے کو طعنہ دیتے ہیں کہ جانور نہ بن انسان بن۔

Facebook Comments HS