کیا ایشین مائیں ٹاکسک ہیں
بدقسمتی سے اس سوال کا جواب ہاں یا نہیں کی بجائے ہے زیادہ تر۔ جی ہاں زیادہ تر پاکستانی، بھارتی، بنگالی مائیں اپنے اولادوں کی زندگیاں جہنم بنانے میں کمال مہارت رکھتی ہیں۔ یہ کہنے کا خیال مجھے ایک حالیہ دکھائے جانے والے ڈرامے ”کبھی میں کبھی تم“ کو دیکھ کر آیا۔ دو بھائی ان کی بیویاں، ایک بیٹی، باپ سب کی زندگی جہنم بنا رکھی ہے صرف ایک عورت نے جس کا خیال ہے کہ طاقت کا مرکز اس کی ہی ذات رہے گی چاہے بیٹے کی شادی ختم ہو جائے۔ گھر کی آمدن کا بیڑا غرق ہو اور وہ خاتون ہیں ان کی ماں جن کا کردار بشریٰ انصاری نے کیا ہے اور کیا ہی خوب کیا ہے۔
یہ جو سارے گھر کی ملکہ بننے کا کیڑا ہماری خواتین میں پیدا ہو چکا ہے وہ عمر ڈھلنے کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرتا جاتا ہے۔ شادی شدہ بیٹوں کی ماں کے ٹاکسک ہونے پہ تو اب اکثر بات ہونے لگی ہے لیکن بیٹیوں کے لیے بھی وہ ماں اتنا ہی ٹاکسک ہو سکتی ہے۔ آخری ردعمل میں ایسی ماں کو وہی بیٹی گھر ٹوٹنے کا سبب گردانتی ہے۔
یہ سلسلہ ایک دن میں انجام نہیں پاتا بالکل مرحلہ وار ترتیب پاتا ہے۔ نئی بہو گھر میں قبولیت پانے میں ناکامی پہ اپنی توقعات کا سارا بوجھ اولاد پہ منقل کرتی جاتی ہے۔ پچھلے دنوں ایک مریضہ میرے زیرِ علاج تھی۔ نام روبینہ فرض کر لیتے ہیں۔ اس کی بیٹی میری پرانی مریضہ تھی۔ وہی لے کر آئی۔ شوگر کچھ عرصہ پہلے تشخیص ہوئی۔ جو بظاہر ”کنٹرول“ نہیں ہو پا رہی تھی خیر علاج شروع کیا۔ مریضہ کے جوان بیٹے کا رویہ کافی دردِ سر تھا۔ روبینہ کو روز ہی عجیب و غریب شکایات ہو رہی تھیں جو رپورٹ سے بالکل میل نہیں کھا رہی تھیں۔ ٹیسٹ کے مطابق شوگر کا کنٹرول کافی بہتر تھا لیکن مریضہ کی حالت سنبھل کر ہی نا دے۔ اصل میں خاتون کچھ عرصے کی بیماری میں جوان اولاد کو آگے پیچھے دیکھتا رہنے کی عادی ہو چکی تھیں اور مریضانہ کردار سے نکلنا ہی نہیں چاہ رہی تھیں۔ یہ ہر دوسرے شوگر بلڈ پریشر والے مریض کے گھر کی کہانی ہے بدقسمتی سے۔
ماں کے اردگرد روحانیت کا جو ہالہ کھینچ دیا گیا ہے بذریعہِ مذہب، پاکستانی ماں کم از کم اس سے ہاتھ دھونے کو تیار نہیں ہے۔ اسی طرح ایک اور مریضہ جو تین بیٹے پیدا کر چکی ہیں۔ ان کے بچے مستقل خون کی کمی کا شکار رہتے ہیں اور ایک بچہ تو پلا بڑھا ہی oxidil ( ایک اینٹی بایوٹک) پہ ہے۔ بارہا توجہ دلانے کے باوجود بچے کو اچھی خوراک دینے کی بجائے بار بار بخار کا علاج ٹیکوں کے ذریعے کرنے پہ بضد یہ خاتون بھی غالباً بڑھاپے میں بچوں کو دودھ نا بخشنے کی دھمکیاں لگایا کریں گی۔
اس میں گھر پہ رہنے والی اور باہر کام کرنے والی دونوں طرح کی مائیں شامل ہیں۔ ہر وہ ماں جو اپنی ذات سے باہر نکل کر اولاد کے نقطہِ نظر سے دنیا کو دیکھنے کو آمادہ نہیں ہے۔ ٹاکسک ہے۔ ہمارے ہاں بچوں کے حقوق پہ بات کرنا شجرِ ممنوعہ بنا دیا گیا ہے۔ کچھ ہاتھ اس میں شہابیوں کا بھی ہے جنہوں نے ماں کی اتنی مافوق الفطرت شبیہ پینٹ کر دی کہ حقیقت کا عکس ہی ڈھونڈنا کٹھن ہو گیا۔ ماں تو اولاد کی خاطر یہ کر جاتی ہے وہ کر جاتی ہے۔ نہیں جناب اتنا کوئی طوفان نہیں آیا ہوا۔ ماں بھی اسی سماج کا ہی حصہ ہے۔ اس میں اس سماج کی خوبیاں خامیاں اسی طرح موجود ہیں۔ گھریلو تشدد مائیں بھی کرتی ہیں اور زیادہ کرتی ہیں۔ اس میں ذہنی اور جسمانی دونوں طرح کا تشدد شامل ہے۔ لیکن ماں کا تقدس سب کچھ دھندلا دیتا ہے۔
ہمارے یہاں تو پنجابی حقوق آج کل لاپتہ ہوئے پھرتے ہیں باقی حقوق تو خیر عرصہِ دراز سے گمشدہ ہیں۔ لیکن بچوں کو حقوق کون دے گا۔ ہر بچے کا حق ہے اس کی بات کو سنا جائے۔ تم تو بچے ہو تمہیں کیا پتہ کہہ کر جھڑکا نا جائے۔ کسی غلطی کی سزا مار پیٹ کر نا دی جائے۔ اکثر بظاہر تعلیم یافتہ گھرانوں میں ماں باپ کو اولاد سے بات کرنے کا وقت بچوں کی شادی کے وقت مرضی پوچھنے کی خاطر ملتا ہے۔ ہے نا دلچسپ بات۔ جی ہاں۔ سکول سے کالج اور یونیورسٹی چلے جاتے ہیں لیکن ماں کی زندگی اور سوشل سائیکل اتنا مصروف ہوتا ہے کہ اولاد کے مسائل اسے نظر ہی نہیں آتے۔ کم آمدنی والے گھروں میں یہ وقت محلے اور رشتے داروں سے میل ملاپ پہ صرف کیا جاتا ہے۔ پچیس تیس سال کی اولاد سے شادی کے بعد شکوے شکایت شروع ہوتے ہیں۔ بیٹا کمرے سے نہیں نکلتا۔ کیسے نکلے۔ تیس سال کی تنہائی کے بعد تو اسے سامع نصیب ہوتا ہے۔ ایسے ماں باپ باقی توجہ بیٹی کی زندگی کا اچار ڈالنے پہ لگاتے ہیں۔
بات یہ ہے کہ شوہر کے خراب رویے کا پنچنگ بیگ اولاد نہیں ہے۔ سسرال جینا حرام کر رہا ہے، نوکری پہ جانا عذاب بن رہا ہے، پوسٹ پارٹم ڈپریشن ہے یا خون کی کمی، حل بچوں کو مارنا اور چیخنا نہیں ہے۔ اولاد کسی کو دعوت نہیں دیتی کہ ہمیں پیدا کرو۔ اولاد کو دنیا میں لانے والا اس بات کا ذمے دار ہوتا ہے کہ اس کو بہترین طریقے سے پالے۔ اپنا رزق خود لانے والوں بچوں کے والدین اکثر گھر بیٹھ کر بچے کے لائے رزق کا انتظار فرما رہے ہوتے ہیں۔ تین ورکشاپ سے دیہاڑی لگا کر آتے ہیں۔ چار باجیوں کے گھروں سے بچا کچا سالن روٹی لاتی ہیں اور یوں گھر کا دال دلیہ چلتا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے پانچواں بڑا ملک ہم ایسے ہی تو نہیں نا بن گئے۔ ایک دن تیسرے نمبر پہ بھی پہنچیں گے۔ اس قدر آبادی کے جنگل میں بچوں کے حقوق میں کس کو دلچسپی ہے لیکن گواہ رہنا صدا کر چلے۔


Boeht hi acha likha hai; very deep