ٹیم ورک اور قیادت: چترال کے دو کالجوں کا تقابلی جائزہ
چترال ٹاؤن کے اندر دو گورنمنٹ کالجز ہیں، گورنمنٹ کالج فار بوائز اور گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج۔ رقبہ، سالانہ مختص بجٹ اور سنہ قیام کے لحاظ سے گورنمنٹ کالج فار بوائز بڑا اور پرانا ادارہ ہے۔ نصابی یا غیر نصابی امور یا پھر انتظامی معاملات ہوں، گرلز ڈگری کالج چترال ہی کا نہیں بلکہ خیبر پختونخواہ کا ایک مثالی کالج ہے۔ کسی بھی ادارے کو کامیاب بنانے میں ٹیم ورک غیر معمولی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ٹیم اگر اچھی ہو تو ادارے کو کامیاب ہونے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی ہے۔ تاہم بعض اوقات اچھی ٹیم ہونے کے باوجود بھی اچھی قیادت کی عدم دستیابی کی وجہ سے ٹیم کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔
گورنمنٹ کالج فار بوائز اساتذہ کی صورت میں نگینوں پر مشتمل ایک ادارہ ہے۔ جہاں کیمسٹری کے شعبے میں ایک خاص مقام رکھنے والے ڈاکٹر تنزیل الرحمن ہیں، تو اس کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ صابر صاحب بھی ہیں جو کہ کیمسٹری جیسے خشک سبجیکٹ کے طلباء کو کتاب بینی کی طرف مائل کرنے میں ایک مجاہد کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ صاحب پریزینٹیشن میں طلباء کو ایک کتاب پڑھ کر اس کو پریزینٹ کرنے کا کہتے ہیں۔ اس عمل سے ایک طالب علم آٹھ سیمسٹر میں آٹھ کتابیں پڑھتا/پڑھتی ہے جبکہ ایک کلاس میں چالیس طلباء کی پریزینٹیشن سے چالیس کتابوں سے واقفیت ہوتی ہے۔ اس طرح آٹھ سیمسٹروں میں ہر طالب علم تقریباً تین سو کتابوں سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ مختصراً یہ کہ اس کالج کے اساتذہ کی قابلیت (سوائے چند ایک کے ) ، ان کا خلوص نیت سے پڑھانا اور طلباء کے ساتھ شفقت قابل تعریف بھی ہے اور قابل تقلید بھی۔
اگرچہ کتاب بینی کی طرف مائل کرنے کا یہ کام سوشل سائنسز اور ادب کے اساتذہ کے کرنے کا ہے لیکن یہ کام سوائے کیمسٹری کے صابر صاحب، اکنامکس کے ساجد صاحب اور پولیٹیکل سائنس کے آصف علی صاحب کے کوئی اور نہیں کر رہا ہے۔ بڑے گریڈ کے دوسرے صاحبان خود کتابیں پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے ہیں تو طلباء کو کیا کتاب بینی کی طرف مائل کریں گے۔ یہاں بعض بڑے عہدوں پر براجمان شخصیات نے اپنی ماسٹرز کی ڈگری کے بعد ، سوائے ایم سی کیوز کی کتابیں پڑھنے کے، کسی اور کتاب کو ہاتھ تک لگانے کی زحمت نہیں کی ہے۔ بعض حضرات تو نصابی کتابوں کو بھی پڑھے بغیر ’نقل کے ذریعے ہی اعلیٰ ڈگری کے ایک کاغذ کے ٹکڑے کے حصول‘ کی طرف رواں ہیں۔ ایک دفعہ ایک بڑے گریڈ اور کالج کے سب سے بڑے عہدے کے مالک نے ناول پڑھنے کو وقت کا ضیاع قرار دیا تھا۔
جہاں اس کالج کی ٹیم کی کارکردگی اتنی متاثر کن ہے وہاں اس کالج میں ہمیشہ سے قیادت کا فقدان رہا ہے۔ بہت سے قابل اور فاضل اساتذہ نے اس کالج کی باگ ڈور سنبھالی، لیکن، سوائے چند ایک کے، ان سب میں قیادت کے خصائص کی کمی رہی ہے۔ سارے سربراہان ادارہ میں قیادت کا فقدان واضح نظر آتا ہے۔ کالج کی کارکردگی اب بھی بہترین ہے لیکن اس کی وجہ اچھی قیادت نہیں بلکہ اساتذہ کی محنت اور تدریس کے شعبے کے ساتھ ان کا اخلاص ہے۔
اس کے برعکس گرلز ڈگری کالج کو دیکھا جائے تو وہاں ایک اچھی اور دور اندیش قیادت کی وجہ سے اس کالج نے مختصر عرصے میں ہی پورے صوبے میں اپنا ایک اعلیٰ مقام بنایا ہوا ہے۔ بحیثیت اکیڈمک ڈائریکٹر شہید اسامہ وڑائچ کیریئر اکیڈمی، اس کالج کے ساتھ ایک تعلق رہا ہے۔ ہر پروگرام میں ہم تعلیم سے وابستہ لوگوں کو مدعو کرتے ہیں۔ ہر پروگرام میں گرلز ڈگری کالج کی پرنسپل، محترمہ مسرت جبین صاحبہ وقت کی پابندی کرتے ہوئے پہنچ جاتی ہیں جبکہ آج تک بوائز کالج کے کسی پرنسپل صاحب، سوائے مسعود صاحب کے، نے کبھی اسامہ وڑائچ کیریئر اکیڈمی کے پروگرام میں آنے کی زحمت نہیں کی۔ مسرت جبین صاحبہ پروگرام میں شرکت کر کے اعلیٰ عہدیداروں اور سیاسی نمائندوں کی موجودگی میں اپنے کالج کے مسائل نہ صرف اجاگر کرتی ہیں بلکہ ان مسائل کو بھی حل کرواتی ہیں۔ کالج کی سولریزیشن، ڈے کیئر سنٹر کا قیام اور دوسرے ترقیاتی کام ان کی قائدانہ صلاحیتوں اور دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہیں جو انہوں نے آؤٹ آف دے باکس جا کر مکمن بنائے ہیں۔
پچھلے دنوں بوائز کالج میں ایک سی ایس ایس سیمنار منعقد ہونا تھا۔ لیکن کمٹمنٹ کے بعد بھی عین وقت پر کالج انتظامیہ نے منع کر دیا۔ یہی سیمینار گرلز ڈگری کالج والوں نے مختصر وقت میں منعقد کرایا۔ ڈپٹی کمشنر، چترال، اس میں اسپیکر تھے۔ اگر چہ یہ طلباء کے لئے ایک سیمنار تھا لیکن اس ایک سیمنار کی وجہ سے کالج کے ایک دو مسائل موقع پر ہی حل ہوئے۔ ایک دور اندیش قائد کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کام کس طرح کرائے جاتے ہیں اور کون سا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ جس ملک میں ریڈ ٹیپزم ایک بڑا مسئلہ ہو، وہاں آؤٹ آف دے باکس جا کر ہی ادارے کی بہتری کے لئے کام کرائے جا سکتے ہیں۔
میری اطلاعات کے مطابق اگر دونوں کالجوں کے اساتذہ اور ٹیم کی قابلیت کا موازنہ کیا جائے تو گرلز ڈگری کالج اس معاملے میں تھوڑا پیچھے ہے۔ وہاں پر مسائل بھی ہیں لیکن پرنسپل صاحبہ کی اعلیٰ قیادت میں وہ اساتذہ اپنی خامیوں کو بھی اپنی طاقت بنا کر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتی آ رہی ہیں۔
کالج کے مسائل کنویں کے مینڈک کی طرح کالج کے اندر ہی خود کو محبوس کر کے حل نہیں کرائے جا سکتے ہیں بلکہ اس کے لئے ایک وژن اور دور اندیشی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لئے پرنسپل مسرت جبین صاحبہ سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔


