کیا نریندر مودی اسلام آباد آئیں گے؟
بھارت کے وزیر خارجہ سبرا منیم جے شنکر نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کوئی واضح اشارہ دینے سے انکار کیا ہے تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک نجی تقریب میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت سرحد پار سے مثبت اشارے کا حوصلہ افزا جواب دے گا تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ’کسی تعطل کے بغیر مذاکرات‘ کا دور ختم ہو گیا ہے۔ یہ طرز بیان پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے نریندر مودی حکومت کی مبہم اور غیرواضح پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔
دو روز پہلے وزارت خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے بتایا تھا کہ پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو دعوت بھیجی ہے۔ یہ کانفرنس 15 اور 16 اکتوبر کو اسلام آباد میں منعقد ہو رہی ہے۔ علاقائی معاشی و سکیورٹی امور کے تعاون کے لیے اس تنظیم کا آغاز چین اور روس نے 2001 میں کیا تھا اور اس میں زیادہ تر وسطی ایشیائی ممالک شامل تھے تاہم اس کی اہمیت اور ریجنل تعاون کے فروغ کے لیے پاکستان کے علاوہ بھارت نے بھی اس میں شمولیت اختیار کر لی۔ دنیا کے موجودہ حالات میں علاقائی تعاون زیادہ اہم ہو گیا ہے اور چھوٹے بڑے ممالک یکساں طور سے اس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کا دائرہ وسیع کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ روس اور یوکرین جنگ کے تناظر میں بھی شنگھائی تعاون تنظیم کی اہمیت دوبالا ہو گئی ہے۔ یہ تنظیم تصادم روکنے اور ممالک کے درمیان گروہ بندی کی شدت کم کرنے میں کردار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
بھارت اگرچہ اس وقت امریکی بلاک میں شامل ہے اور چین کے خلاف حصار بندی میں وہ امریکی حکمت عملی میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود وہ اپنی معاشی ترقی اور علاقائی استحکام و تعاون کے لیے چین کے ساتھ تعلقات رکھنے پر مجبور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے شنگھائی تعاون تنظیم میں شریک ہونے کی درخواست کی تھی اور اب اس کا باقاعدہ رکن ہے۔ علاقائی تنظیم سارک بھارت کی ہٹ دھرمی اور منفی کردار کی وجہ سے تقریباً غیر فعال ہو چکی ہے۔ سارک میں پاکستان اور بھارت کے علاوہ افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال اور مالدیپ شامل ہیں۔ بھارت نے پاکستان کے ساتھ ضد اور دشمنی کی وجہ سے اس تنظیم کو وسیع تر علاقائی معاشی احیا کا مقصد حاصل نہیں کرنے نہیں دیا بلکہ اسے پاکستان کے ساتھ سفارتی اسکور برابر کرنے کا فورم بنا لیا جس کی وجہ علاقائی تعاون کے ایک عمدہ تصور پر استوار کیا گیا ایک فورم ناکارہ ہو کر رہ گیا ہے۔ البتہ سارک میں بھارت اور پاکستان کو اہم ترین اور بڑے ممالک کی حیثیت حاصل ہے۔ ان دونوں کی لڑائی نے تعاون کے اس ادارے کو غیر فعال کر دیا۔ اس کے برعکس شنگھائی تعاون تنظیم چین اور روس نے شروع کی تھی اور اس میں وسطی ایشیائی ممالک کے علاوہ ترکی، ایران اور بیلا روس بھی شامل ہیں۔ سارک کے برعکس بھارت براہ راست اس تنظیم کو غیر موثر کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ البتہ وہ ابھی تک اس فورم کو پاکستان جیسے اہم ترین ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے بروئے کار نہیں لا سکا۔
اسلام آباد میں ہونے والی شنگھائی تعاون کانفرنس کا سربراہی اجلاس اس حوالے سے بے حد اہم ہے۔ اسی لیے پاکستان کی طرف سے نریندر مودی کو بھیجی جانے والی دعوت کو دونوں ملکوں کے علاوہ علاقائی ممالک میں بھی اہمیت دی گئی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ کیا بھارت اس موقع سے فائدہ اٹھا کر دونوں ملکوں کے تعلقات میں جمی ہوئی گرد صاف کرنے کی کوشش کرتا ہے یا یک طرفہ ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے علاقے میں سرد مہری اور تناؤ کی صورتحال برقرار رکھنا چاہے گا۔ اسلام آباد آنے کا فیصلہ کر کے مودی علاقائی تعلقات میں امید کی کرن روشن کرنے کا اہم اقدام کر سکتے ہیں۔ البتہ ابھی تک بھارت کی طرف سے اس بارے میں دو ٹوک جواب نہیں دیا گیا۔ وزیر خارجہ جے شنکر کی گفتگو میں بھی مبہم اشارے دیے گئے ہیں اور بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے گزشتہ روز ایک پریس بریفنگ میں ایک سوال پر اس بارے میں کوئی جواب دینے سے انکار کیا۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ ان کے پاس بتانے کے لیے کوئی خبر نہیں ہے۔ اس سے یہی قیاس کیا جاسکتا ہے کہ بھارتی حکومت اس دعوت کے بعد گومگو کی کیفیت میں ہے اور کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے اسلام آباد یا ماسکو و بیجنگ سے کچھ یقین دہانیوں یا اشاروں کی منتظر ہو۔ جے شنکر جب ہمسایہ ملک سے مثبت یا منفی اشاروں کی بات کرتے ہوئے اس کے مطابق جواب دینے کی پالیسی کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہیے کسی حد تک شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس بھی ان کے ذہن میں ہو گا۔ نریندر مودی کو اس میں شرکت کی باقاعدہ دعوت دے کر اسلام آباد نے اب خیر سگالی کے جوابی مظاہرے کے لیے ذمہ داری نئی دہلی کی طرف منتقل کردی ہے۔
نریندر مودی کی پارٹی بی جے پی حالیہ بھارتی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ نریندر مودی کو چھوٹی علاقائی جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت قائم کرنا پڑی ہے۔ اس لیے ان کے پاس اب معاملات طے کرنے کی پہلے جیسی آزادی نہیں ہے۔ انہیں داخلہ یا خارجہ امور پر چھوٹی مگر ان کی حکومت کے لیے اہم پارٹیوں کی رائے پر غور کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ مودی بی جے پی کو ہندو توا کے نعروں کی آڑ میں ملک کی سب سے بڑی پارٹی بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ حالیہ انتخابی مہم میں بھی انہوں نے فرقہ واریت پر مبنی سیاسی تقریریں کیں اور مسلمانوں کی قیمت پر ہندو ووٹروں کو خوش کرنے کی کوشش کی تاکہ انہیں لوک سبھا میں چار سو سے زیادہ نشستیں حاصل ہوجائیں۔ ان کی یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکی بلکہ سیاسی شدت پسندی کا انہیں یہ نقصان ہوا کہ عام ووٹر نے ملکی آئین تبدیل کرنے کے اندیشے سے بچنے کے لیے بی جے پی سے فاصلہ اختیار کیا اور راہول گاندھی کی قیادت میں کانگرس ایک طاقت ور اپوزیشن پارٹی بن کر سامنے آئی ہے جو لوک سبھا میں حکومت کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتی ہے۔
اس صورت حال میں نریندر مودی یا تو مزید انتہاپسندی کی طرف راغب ہو کر ایک بار پھر ہندو دھرم و ثقافت کی بنیاد پر اپنی پارٹی کو تقویت دینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ البتہ اس حربے میں ناکامی کی وجہ سے یہ بھی ممکن ہے کہ وہ سیاسی ہوشمندی کا مظاہرہ کریں اور معتدل سیاسی رویہ اختیار کر کے بھارت میں تصادم، نفرت اور گروہی تقسیم کی سیاست ختم کرنے کے لئے پیش قدمی کریں۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری بھی ایسی ہی کوششیں ہو سکتی ہیں۔ اس طرح خوشگوار ماحول کا دائرہ بھارتی سیاست کے علاوہ علاقائی اور ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات میں خوشگوار تبدیلی تک وسیع ہو سکتا ہے۔
یوں بھی مودی اس وقت 73 سال کے ہیں۔ وزیر اعظم کے طور پر یہ ان کا آخری دورانیہ ثابت ہونے کا امکان بہت زیادہ ہے خواہ ان کی پارٹی آئندہ انتخابات میں کامیاب ہو یا ناکام۔ اس آخری مدت کے دوران وہ ایک بڑا لیڈر بننے کی کوشش کر سکتے ہیں تاکہ انہیں تاریخ میں کسی نمایاں کام کے لیے یاد رکھا جائے۔ پاک بھارت تعلقات میں پائے جانے والے زیر و بم کے باعث پاکستان کے ساتھ ایک دہائی سے جاری تعطل توڑنے اور باہمی احترام کی بنیاد پر اچھے ہمسایوں کی طرح تعلقات استوار کرنا ان کے سیاسی کیریر میں فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ اب بھی اگر انہوں نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا اور پاک بھارت تعلقات میں نمایاں تبدیلی رونما نہ ہو سکی تو نریندر مودی کو علاقے میں تصادم بڑھانے اور نفرتوں کو فروغ دینے والے لیڈر کے طور پر یاد کیا جائے گا۔
بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے زوال کے بعد بھارت علاقے میں اپنے سب سے مضبوط حامی ملک کے براہ راست تعاون سے محروم ہو چکا ہے۔ بنگلہ دیش کی نئی حکومت حسینہ واجد کے ساتھ بھارت کے غیر معمولی طور سے اچھے تعلقات کی وجہ سے اب مودی حکومت کے ساتھ تعلقات کے بارے میں محتاط ہو گی۔ اس طرح بھارت بڑا اور طاقت ور ملک ہونے کے باوجود علاقے میں سفارتی طور سے تنہا ہے۔ پاکستان، چین، نیپال اور مالدیپ کے ساتھ اس کے تعلقات مسلسل کشیدہ ہیں۔ ایسے میں ہوشمندی کا تقاضا یہی ہو گا کہ نریندر مودی پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں اور سات دہائیوں سے پیدا کی گئی مشکلوں کو کم کرنے کی کوشش کریں۔ سرحد پار دراندازی کی شکایات صرف بھارت ہی کو نہیں ہیں بلکہ پاکستان بھی بلوچستان کے حوالے سے بھارت کے بارے میں ایسے ہی شبہات رکھتا ہے۔ یہ معاملات شک و شبہ اور تناؤ کے ماحول میں بہتر نہیں ہوسکتے بلکہ اس کے لیے دونوں ممالک کو مذاکرات کے علاوہ سفارت کاری کے تمام دروازے کھولنے ہوں گے۔
نریندر مودی کے لیے اسلام آباد آنے کا فیصلہ سیاسی طور سے مشکل ہو گا۔ انہیں ذاتی حیثیت میں بھی یہ فیصلہ کرتے ہوئے مشکل ہوگی لیکن کوئی بھی بڑا لیڈر مستقبل کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے موجودہ پریشانیوں سے گھبرانے کی بجائے اپنے عوام کی بہتری اور امن و خوشحالی کے وسیع اور بڑے مقاصد کو پیش نظر رکھتا ہے۔ نریندر مودی کو اس بار اسی امتحان کا سامنا ہے۔


