منطق کی انتہا پسندانہ بنیادیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 فلسفہ کی طرح علم منطق کی کوئی مرتب تاریخ آج تک مدون نہیں ہو سکی‘جدید منطق ’ کی موسسین میں شمار ہونے والے برٹرینڈ رسل نے بھی مغربی فلسفے کی تاریخ کے ضمن میں ہی منطق کا ذکر کیاہے۔ کلاسیکل منطق اور انتہا پسندی کی تعلق کے دقیق بحث کی موضوع پر“ہم سب“کی پلیٹ فارم سے لکھنے کا آغاز سب سے پہلے گرامی قدر صاحب علم جناب جمشید اقبال صاحب نے“انتہا پسندی کی منطقی بنیادیں ”کے عنوان سے ایک پر وقعت مضمون لکھ کر کیا جس کے بعد معروف دانشور جناب عاصم بخشی نے اس مفید علمی سرگرمی میں داخل ہوکر اسے ایک سنجیدہ اورعلمی غذائیت سے بھرپور مکالمے کا شکل دیا محترم جمشید اقبال نے اس سلسلے میں اپنے دوسرے مضمون ’جہان علم میں ارسطو کی منطق کی حیثیت‘ میں درس نظامی میں پڑھائی جانے والی ارسطاطالیسی منطق خصوصا“اصول خارج الاوسط“اور اس سے مرتب ہونے والے ذہنی اثرات کے بارے میں اس ناچیز کا بھی تذکرہ کیا ہے۔

مجھے اپنی تحریر کے لئے جمشید اقبال صاحب کے مضمون کے عنوان“انتہا پسندی کی منطقی بنیادیں ”کو معکوس کرکے“منطق کی انتہا پسندانہ بنیادیں“سے بدلنے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ جب یہ بات تسلیم کی جارہی ہے کہ علم منطق کی ہی کوئی ورژن انتہا پسندانہ ذہنیت کی تشکیل کا سبب بنتا ہے تو پھر بنیادی طور پر انتہا پسندی کے بجائے منطق کو ہی زیر بحث لانے کی ضرورت ہے نہ کہ اس منطق کی سر چشمے سے سیراب ہونے والی مذہبی، سیاسی یا معاشرتی نظریات کو۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ارسطو کی کلاسیکل منطق آج بھی درس نظامی کا حصہ ہے مگر اس کے باوجود مدارس میں ارسطو کے فکر کو براہ راست ان کے الفاظ میں سمجھنے کا موقع بھی کبھی نہیں آتا۔ Arganon یا“ارغنون“کے نام سے ارسطو سے منسوب رسایل کے بجایے درس نظامی میں ارسطو کی فکر کی تفہیم کا آغاز“ایسا غوجی“نامی کتاب سے ہوتا ہے اور پھر دوسری کتابیں اسی کتاب کی تشریح وتوضیح کے بنیاد پر آگے بڑھتی ہیں چنانچہ ہمارے طلباء میں یہ مشہور تھا کہ بہترین استاد وہ ہے جو ایسا غوجی کو اس طرح پڑھایے کہ اس کے بعد پڑھائی جانے والی کتاب
“مرقات“بھی حل ہوجائے، مرقات کو اس طرح پڑھایے کہ“شرح التہذیب“حل ہوجایے اور شرح التہذیب کو اس طرح پڑھایے کہ ”قطبی“بھی حل ہو جایے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان تمام کتابوں کے لئے اساس ایسا غوجی ہی ہے۔ ایسا غوجی ارسطو کی تمام فکر کا احاطہ نہیں کرتی بلکہ یہ رسالہ فورفوریوس نامی ایک یونانی نے ارسطو کی صوری منطق کی فہم کو آسان بنانے کے لئے صرف ایک مدخل اور مقدمے کے طور پر لکھا تھا اور اس میں ارسطو کے مکمل رسایل کے بجایے صرف ایک رسالہ“مقولات ”( قاطیغوریاس) اور پانچ کلی مفاہیم کا ہی ذکر شامل ہے۔ یہ مقولات یا یونانی زبان میں قاطیغوریاس ان دس کیٹیگریز کا بیان ہے جس میں ارسطو نے تمام موجودات کو تقسیم کیاتھا جسے“مقولات عشرہ“بھی کہا جاتا ہے۔ ایساغوجی کی یونانی زبان سے سریانی اور پھر سریانی سے عربی میں ترجمہ اور تشریح ہوئی ہے۔ مدارس میں منطق کے حوالے سے ایک دوسرا قابل ذکر نکتہ یہ بھی ہے کہ یہاں منطق اس سوچ کے ساتھ پڑھائی جاتی ہے کہ فکر کوغلطی اور خطا سے محفوظ رکھنے کے لئے میتھڈ کا کام کرنے والی منطق بس یہی ہے جو ہمیں پڑھائی جاتی ہے کیونکہ مدارس میں منطق کے اصول کو ریاضیاتی فارمولوں کی طرح دوٹوک، ٹھوس اور اٹل قوانین کی طرز پرپیش کی جاتی ہیں جس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ نہ صرف دنیا میں عملا منطق کی کوئی دوسرا شکل نہیں پایا جاتا بلکہ عقلا اس کے وجود کو ناممکن بھی سمجھا جاتاہے کیونکہ ان اٹل ضابطوں سے مختلف کوئی چیز اگر دنیا میں موجود ہوگی بھی تو وہ اصولا منطق نہیں کوئی اور چیز ہی ہوگی۔

درس نظامی میں ارسطو کے“اصول خارج الاوسط“کا اطلاق “اجتماع نقیضین“اور“ارتفاع نقیضین“دونوں کی نفی کی صورت میں کی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی جناب جمشید اقبال کی جانب سے اسی اصول کو مذہبی فکر کی انتہا پسندی کی بنیاد سمجھنے کے لئے یہ کوئی دلیل نہیں بلکہ ایک دعوہ ہے۔ مذہبی فکر کی انتہا پسندی اور ارسطاطالیسی منطق کے درمیان علت ومعلول کا رشتہ ثابت کرنے کے لئے میری دانست میں اس سے کہیں زیادہ تلاش اورتحقیق کی ضرورت بہرحال موجود ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذہبی ذہن کی تشکیل میں منطق سے زیادہ اہم رول الہامی کلام کے اسلوب اور پھر اس کی مستند سمجھی جانے والی تفسیری اورتشریحی آراء کا ہے کیونکہ منطق کی افادیت اور ضرورت خود اہل مذہب میں بھی ایک مسلمہ حقیقت نہیں ہے۔ صوفیانہ فکر تو اس سے بالکل متنفر ہے ہی، مگر اس فکر کے دوسرے کنارے پر کھڑے علامہ ابن تیمیہ نے بھی“الرد علی المنطقیین“کے نام سے ایک رسالہ لکھا ہے جس میں انہوں نے یہ سادہ سا اصول گھڑ کر منطق کی افادیت کو ہی لغو کردیا ہے کہ“جو لوگ ذہن ہوتے ہیں انہیں اس فن کی ضرورت کوئی نہیں ہے اور جو لوگ غبی اور کند ذہن ہیں وہ اس سے کوئی فایدہ اٹھا ہی نہیں سکتے“ظاہر ہے اس قضیے میں شیخ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے منطق کے موضوع کے حوالے سے ہی مغالطہ پیدا کیاہے اور پھر اسی غلط بنیاد پر اس فن کی افادیت کی نفی کا ”معقول قضیہ“ بھی ترتیب دیا ہے۔ مگر حیرت انگیز امر یہ ہے کہ علم منطق کی مطلق نفی کرنے والے اسی علامہ ابن تیمیہ کے فکری پیروی کرنے والے سلفی مکتب میں فکری انتہا پسندی اور“ تنہائی پسندی“کا رویہ دوسرے مذہبی سکول آف تھاٹس کے بنسبت کچھ زیادہ ہی نظر آتاہے اگر ارسطاطالیسی منطق کو ہی مذہبی انتہا پسندانہ رویے کی فروغ کا سبب مان لیا جایے تو پھر تو ابن تیمیہ کو اپنا فکری امام ماننے والے حلقے میں وسعت المشربی نظر آنی چاہیے تھی پھر یہ صورتحال برعکس کیوں ہے؟

ارسطاطالیسی ثنائی منطق کو انتہاپسندی کے لئے کافی وجہ سمجھنے سے اختلاف کے باوجود اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ مذہبی فکر واقعتا ثنائیت یا ثنویت پر ہی مبنی ہے۔ جناب عاصم بخشی صاحب کے مضمون“ارسطو کے دفاع میں“ارسطاطالیسی منطق کو قوایئیت (potentiality) اور فعلیت (actuality) میں تقسیم کرنے اور پھر قوائییت میں ”اصول خارج الاوسط“کی عدم اطلاق کا جو نظریہ بیان کیا گیا ہے اس ناچیز کی دانست میں اس سے نہ تو ارسطو کے منطق کی دفاع میں کوئی مدد ملتی ہے اور نہ ہی صرف اسی بنیاد پر مذہبی فکر میں موجود ثنویت کی نفی کی جا سکتی ہے کیونکہ کسی چیز کی قوائییت وجود کا وہ مرحلہ ہوتاہے جب وہ نہ موثر ہوتاہے نہ ہی متاثر ہوتاہے یعنی کوئی عملی آثار اس پر مترتب ہو ہی نہیں سکتے تو وجود کی اس مرحلے میں اصول خارج الاوسط کی عدم اطلاق کا فایدہ کیا ہے؟ جبکہ یہی چیز جب قوائییت کی مرحلے سے گذر کر فعلیت یعنی عملی وجود کے مرحلے میں داخل ہو جاتی ہے تو اس وجود پر اصول خارج الاوسط کی اطلاق کا بخشی صاحب بھی نفی نہیں کررہے۔ اس کی مثال کچھ یوں بنتی ہے کہ مجھ سے کوئی شخص یہ کہے کہ میری رایے سے آپ کے بالقوہ اختلاف کا میں احترام کرتاہوں لیکن جیسے ہی میں عملا اس اختلاف کا اظہار کردوں تووہ میری منہ پر تھپڑ رسید کردے کیونکہ اختلاف کی احترام کا اس کا قول صرف اختلاف کی قوائییت سے مشروط تھا اس لئے اختلاف کی فعلیت کی مرحلے میں وہ جایز طور پر مجھ سے یہ حق واپس لینے کا حق رکھتاہے۔ اس ضمن میں دوسری قابل توجہ بات یہ ہے کہ کسی چیز کی قوائییت سے فعلیت میں تبدیل ہونے کے لئے اس چیز میں“حرکت“کی صفت بھی ضروری ہے۔ مذہب کے جن الہیاتی اور کلامی دعاوی اور اصولوں کے لئے مفروضہ طور پر ”اصول داخل الاوسط“کی اطلاق کو قوائییت کی مرحلے میں درست سمجھاجا تاہے تو کیا اس قوائییت کو فعلیت میں بدلنے کے لئے ان مذہبی اصولوں کے لئے بھی ”حرکت“(اور یوں تغیر پزیری ) کی گنجایش نکالی جاسکتی ہے؟

اس کے بعد بخشی صاحب مذہبی نصاب میں “ مبینہ ”ارسطاطالیسی ثنائیت پڑھانے کے باوجود فقہی روایت میں حلال وحرام کی ایک تکثیری میدان کی موجودگی کی نشاندہی فرماتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہاں مسئلہ کسی مذہب کی فقہی روایات جیسی داخلی پوزیشن کے بجایے الہیاتی اور کلامی سطح پر الجھا ہواہے جسے ہم آسان الفاظ میں یوں بیان کرتے ہیں کہ“حق وباطل“یا اس سے بھی زیادہ وضاحت کے ساتھ“اسلامی اور غیر اسلامی مکاتب ”کی تقابل میں ہماری فکری پوزیشن کیاہے؟

اصول خارج الاوسط کے تحت حقیقت اور سچائی کو صرف اپنے فرقے اور اپنے مذہبی فکر میں محصور سمجھنے کی اس مسئلے کی عقلی طور پر دو ہی ممکنہ حل ہو سکتے ہیں پہلا حل تو یہ ہے کہ سچائی اور حقیقت کے بارے میں تکثیریت پسندی (ploralism) کا رویہ اختیار کیا جایے جس کا مطلب سیاہ وسفید کے درمیان بہت سے گرے ایریاز کی وجود کو تسلیم کرنا ہے اس سے کسی کی اپنے آپ کو مبنی برحق سمجھنے پر کوئی قدغن نہیں لگتی البتہ حق پر اجارہ داری کی“حق ”سے دستبردار ہونا ضروری ہوجاتا ہے۔ اور دوسرا حل یہ ہے کہ حقیقت کو ایک ایسی“وسیع تر وحدت“ کے طور پر مان لیاجایے جس سے سے صرف ایک شاخ ہی نہیں نکلتا بلکہ اس کے برانچز متعدد ہوسکتے ہیں۔ جناب جمشید اقبال صاحب نے اس حوالے سے درست فرمایا ہے کہ ماضی میں جس کسی نے بھی صلح کل کی بات کی تو ہمارے کچھ طبقات نے شور مچاکر اسے حق وباطل کے درمیان حایل ’ فطری دیوار ’ گرانے کا مجرم قرار دیا۔ اس کی ثبوت کے لئے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ماضی قریب میں ہی امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد اس کی نزدیک ترین مثال ہے مولانا آزاد مرحوم نے اپنے تفسیر کے مقدمے میں“وحدت دین“کا تصور پیش کیا ہے اور پھر اپنی تفسیر ترجمان القرآن میں جا بجا اس نظریے کا دفاع کیا ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ وحدت ادیان کا تصور دو مختلف مفاہیم میں برتا جاتاہے ایک مفہوم یہ ہے کہ دنیا میں رایج تمام ادیان کے درمیان نظری طور پر موجود تمام عقیدوی اختلافات کو مٹا کر تمام مذاہب کی پیروکاروں کو عملا بھی ایک چھتری تلے جمع کیا جایے جلال الدین اکبر کا منصوبہ بھی اسی تصور پرمبنی تھا جس کے تحت تمام مذاہب کی تعلیمات کا ایک ملغوبہ تیار کر کے اسے ”مشترکہ مذہب“بناناتھا یہ تصور بنیادی طور پرتو اس لیے نادرست ہے کہ عقاید اجتماعی طور پر“ نافذ ”کرنے کی چیز نہیں بلکہ انفرادی طور پر“قبول ”کرنے کی چیز ہےاس کے علاوہ بھی اس تصور میں شرعی اور عملی لحاظ سے کئی قباحتیں اور پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں اوریوں یہ ایک ناممکن اور غیرضروری جستجو ہے۔ جبکہ وحدت ادیان کی تصور کا دوسرا مفہوم وہ ہے جس مفہوم میں اس اصطلاح کو مولاناآزاد مرحوم نے استعمال کیاہے اس کے لئے وہ اکثر اصطلاح بھی وحدت ادیان کے بجایے“ وحدت دین ”کا برویے کار لاتے ہیں اور اس سے ان کا مطلب یہ ہے کہ تمام مذاہب اپنے سرشت میں اس بنیاد پر وحدت کی لڑی میں پرویے ہویے ہیں کہ ان سب کا انسان سے نیک سیرتی اور کردار سازی کے باب میں مشترکہ اور متفقہ مطالبات ایک جیسی ہیں۔ مولاناآزاد مرحوم کی اس فکر کو قبولیت عامہ تو نہ مل سکی تاہم ان کی زندگی میں ان کے قدآور معاصر اہل علم کی جانب سے اس حوالے سے ان پر کسی تنقید کا بھی مجھے علم نہیں لیکن بعد میں پاکستان کے ایک نامور عالم دین مولانا محمد یوسف بنوری علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب“یتیمة البیان“میں اسی بنیاد پر مولانا آزاد مرحوم کو“زندیق من زنادقة الھند“کا خطاب عنایت فرمایا۔

لہذا یہ ناچیز محترم جمشید اقبال صاحب کی اس موقف کی تایید کرتا ہے کہ ارسطا طالیسی منطق کے“اصول خارج الاوسط ”کے مطابق اضداد اور متناقضین کی درمیان موجود تضاد کو ایک دوسرے کے وجود کی نفی کی بنیاد سمجھنے کے بجایے اسے لاؤ تزو کے منطق کی“اصول داخل الاوسط“تحت ایک دوسرے کے وجود میں معاون سمجھ لینا چاہیے اس بات پر میں مزید اضافہ یہ کرنا چاہوں گا کہ صرف علم منطق میں ہی اضداد کے درمیان گرے ایریاز کا وجود ضروری سمجھا گیا ہے بلکہ اس کے علاوہ علم فلسفہ میں بھی متخالف وجود کے متعلق مابعدالطبعیاتی فلسفے کی رایے بھی جدلیاتی فلسفے کے آنے کے بعد متروک ہوچکی ہے جیساکہ پاکستان میں فلسفیانہ موضوعات سے متعلق کالم لکھنے والے واحد کالم نگار، میرے عزیز دوست اور جدید فلسفے سے متعلق کئی کتابوں کے مصنف جناب عمران شاہد بھنڈر صاحب بھی اس حوالے سے کہتے ہیں کہ فلسفے میں لفظ متخالف (اپوزٹ ) کے دو مفاہیم ہیں۔ ایک مابعد الطبیعاتی، جس کے تحت دو تصورات میں حتمی تفریق پر زور دیا جاتا ہے۔ یہ تصور ایک سخت فوقیتی ترتیب پر قائم ہے۔ جیسے کہ نیکی، بدی اور اعلی و ادنی وغیرہ۔ دوسرے مفہوم کے تحت دو متخالف تصورات میں حتمی تفریق نام کی کوئی شے نہیں ہوتی۔ اس کی نوعیت جدلیاتی ہوتی ہے۔ اس میں ایک ہی شے، وجود، خیال اپنے متخالف میں بدل جاتا ہے۔ اور متخالف میں بدلا ہوا وجود، شے اس پہلے وجود کے متماثل ہوتا ہے۔ دونوں میں فرق موجود ہے مگر حتمی فرق نہیں۔ مابعد الطبیعاتی فکر حتمی تفریق کی بنیاد پر حسیات اور فہم اور عقل کے درمیان تفریق قائم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فہم کے مقولات کو عبور کر کے عقل تک نہیں پہنچتی۔ اگرچہ اس حتمی تفریق کے خاتمے کا آغاز خود کانٹ نے ہی کر دیا تھا۔ تاہم مابعد کانٹین فلسفے میں اس مابعد الطبیعاتی ”دوئی“ کو ختم کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ اس کے بعد حسیاتی ادراک کی اولیت کو اہم سمجھتے ہوئے اس ”دوئی“ کی جانب چلنا اٹھارویں صدی کی تجربیت کی جانب تو رجوع ہو سکتا ہے لیکن انیسویں، بیسویں صدی کی جدلیات کی جانب نہیں۔ جدلیات حسی نہیں، تعقلی و منطقی ہے۔ جدلیات اور مابعد الطبیعات کے درمیان یہی بنیادی فرق ہے جو کئی ”مفکر“ سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر دو مختلف مگر متماثل تصورات کی تفہیم سے عاری رہے ہیں اور گمراہی پھیلانے کا سبب بنے ہیں۔

اس تحریر کے آخر میں میں جناب جمشید اقبال صاحب کی خدمت میں بھی دو طالب علمانہ سوالات رکھنا چاہتاہوں۔ جمشید اقبال صاحب فرماتے ہیں کہ“قانون داخل الاوسط کی روشنی میں یہ ممکن ہے کہ آج جو تمہیں باطل لگ رہاہے اسی سے کل کوئی تمہارے جیسا پیدا ہوجائے آج جو تمہیں حق لگ رہا ہے ہوسکتاہے اسی کے کھو کھ سے وہ جنم لے جسے آج تم باطل کہہ رہے ہو“اس تناظر کومدنظررکھتے ہویے جمشید اقبال صاحب کی خدمت میں یہ سوال رکھتا ہوں کہ انہیں بھی لازما یہ علم ہوگا کہ ارسطاطالیسی منطق کی تدوین بھی محض حادثاتی طور پر نہیں ہوئی تھی بلکہ یہ اپنے دور کے ایک دوسری ”منطق“ یعنی سوفسطائیت کاردعمل اور اس کا جواب تھا جس کا واقعاتی پس منظر یہ ہے کہ 500سال قبل از مسیح میں یونان میں ایک گروہ پیدا ہوا جو اس دور کے سخنوروں اور اپنے عصر میں رایج علوم پر مہارت رکھنے والے لوگوں پر مشتمل تھا یہ لوگ خود کو ”سوفست“یعنی دانشمند کہلواتے تھے اوران کا کام یہ تھا کہ یہ لوگوں کے مختلف مقدمات میں بطور وکیل عدالتوں میں پیش ہوتے تھے اور اپنے زور بیان، مناظرانہ صلاحیت، مغالطہ اندازی، لفاظی اور سفسطہ کی زور پر پکے مجرموں کو عدالتوں سے بری کروایا کرتے تھے۔ حقیقت اور سچائی کے بارے میں اس گروہ کی یہ رایے تھی کہ دنیا میں کوئی سچائی سرے سے وجود ہی نہیں رکھتی۔ ایک مشہور سوفسطائی پروتا گوراس کہتے ہیں کہ“ تمام چیزوں کے لئے معیار انسان ہیں، انسان کسی چیز کو سمجھنے کے بارے میں جورایے قایم کرے بس وہی حق ہے اس لیے کہ حقیقت کا سوایے اس کے کہ جو کچھ انسان سمجھتاہے کوئی مستقل وجودنہیں ہے۔ اور چونکہ افراد ایک دوسرے سے مختلف ادراکات رکھتے ہیں ایک چیز کو ایک انسان سچ سمجھتاہے دوسرا انسان اسی چیز کو جھوٹ سمجھتا ہے اور تیسرا آدمی اس کی جھوٹ یاسچ ہونے کے بارے میں شک میں مبتلا ہوتا ہے، پس ایک ہی چیز سچ بھی ہے اور جھوٹ بھی ہے“سوفسطائیوں کی اس طرزتفکر نے یونان کو ایک فکری اور اجتماعی بحران سے دوچار کردیا اور اس بحران کی خاتمے کے لئے ہی یونانی حکماء بشمول سقراط اور افلاطون نے بہت کچھ لکھا لیکن ارسطو وہ پہلے شخص تھے جس نے انسانیت کو اس فتنے سے مستقل نجات دلانے اور سچ وجھوٹ اور حق وباطل کی فیصلہ کن تمیز قایم کرنے کے لئے باقاعدہ اصول وقواعد مرتب کرنے اور منطقی ضوابط مقرر کرکے علم منطق کی تدوین کا بیڑہ اٹھایا اور انہی اصولوں کے تحت ہی انہوں نے ”اصول خارج الاوسط“کا اصول بھی متعین کیا۔ اب جبکہ جدید منطق کے ذریعے ہم اس“اصول خارج الاوسط“کو منسوخ کر کے جھوٹ اور سچ کے درمیان لاتعداد گرے ایریاز کی وجود تسلیم کرنے کی ضرورت محسوس کررہے ہیں تو کیا یہ سچ اورجھوٹ اور حق وباطل کی وجود کے بارے میں انہی سوفسطائیوں کی موقف کودرست ماننے اوراسی کی طرف رجوع کرنا نہیں ہے جس کی ردعمل میں ارسطاطالیسی منطق وجود میں آنے کی ضرورت پیش آئی تھی؟ اور صحیح اور غلط کے درمیان دیوار کھڑا کرنے کی“اصول خارج الاوسط“کو ترک کرکے اس کے مقام پر ”اصول داخل الاوسط“بٹھانے سے ہم ایک ارتقائی مرحلہ طے کررہے ہوں گے یا تنزل کی طرف رجعت کررہے ہیں؟

اوردوسرا سوال یہ ہے کہ جمشید اقبال صاحب ڈاکٹر نیاز احمد صاحب کی مدارس کی نصاب سے متعلق رپورٹ کی ذکر کے بعد اس کے سفارشات کے ساتھ اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے ان کی ایک سفارش یہ بھی ذکر فرماتے ہیں“کہ روایتی استخراجی منطق کو استقرائی منطق میں بدل دیاجایے یہ تجویز پیش کرنے کی وجہ یہ تھی کہ استخراجی منطق میں نتیجہ مقدمات کے تقابل سے مرتب ہوتا ہے اور ثانی الذکر منطق یہ بھی دیکھتی ہے کہ کیا اخذ شدہ نتایج خارجی اور ساینسی حقایق سے ہم آہنگ ہے یا نہیں“ اب سوال یہ ہے کہ یہاں تو موضوع بحث مذہبی فکر کی انتہا پسندی ہے اور اس انتہا پسندی کے بنیاد میں ان تجریدی اور مابعدالطبعیاتی مسایل کے حوالے سے مذہبی ذہن کی منطق کار فرما ہے جن مسایل کو کسی خارجی اور ساینسی کسوٹی سے پرکھا ہی نہیں جاسکتا تواس صورت میں استخراجی منطق کو استقرائی میں بدلنے سے اس فکری انتہا پسندی اور تنہائی پسندی کے سد باب میں مدد کیسے اور کیونکر مل سکتی ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •