میں سکون چاہتا ہوں


اس وقت دنیا میں رہنے والا ہر شخص حقیقی خوشی اور دلی سکون کا متلاشی ہے۔ ہر وقت ہر جگہ اسے یہی فکر کھائے جا رہی ہے کہ اسے دل کا اطمینان حاصل ہو جائے۔ بعض لوگ مال و دولت میں سکون تلاش کرتے ہیں بعض اچھی نوکری میں سکون تلاش کرتے ہیں بعض اچھی شادی میں خوشی کو تلاش کرتے ہیں اور بعض خوبصورت بنگلوں، کھانوں، کپڑوں اور گاڑیوں میں دل کا سکون اور اطمینان کو تلاش کرتے ہیں۔ لیکن جب یہ مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں تو انہیں اس سے جو خوشی ملتی ہے وہ بالعموم عارضی قسم کی ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں جسے ان چیزوں سے حقیقی اطمینان یا سکون نصیب ہوا ہو۔ بالفرض اگر کوئی ایسا شخص مل بھی جائے جو یہ دعویٰ رکھتا ہو کہ اس نے ان چیزوں سے مکمل سکون قلب حاصل کر لیا ہے تو اسے پریشانی میں مبتلا کرنے والی اور بہت سی چیزیں بھی نکل آتی ہے۔ مختصر یہ کہ ان تمام دنیاوی چیزوں سے حقیقی دلی سکون ایک خواب کے سوا کچھ نہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کس طرح اس کا مداوا کیا جائے۔ آج انسان سکون کی تلاش میں سرگرداں ہے اور ان کی نیند اڑ چکی ہے۔ اب ایسے لوگوں کی بہتات ہے جو نیند کی گولیاں کھا کر سوتے ہیں۔ پرسکون نیند اب کم لوگوں کو ہی نصیب ہے۔ دوسرے لوگوں کے درمیان میں بیٹھ کر بھی وہ درحقیقت تنہا ہی ہوتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ایک شخص جس کو پریشانیاں گھیر چکی تھی اور سکون کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھا رہا تھا اور بالآخر ایک بزرگ کے پاس پہنچا اور اپنی پریشانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ”میں سکون چاہتا ہوں“ ۔ تو بزرگ نے اس شخص کو بڑا خوبصورت اور جامع جواب دیا۔ بزرگ نے اس شخص سے کہا کہ ”میں سکون چاہتا ہوں“ میں سے ”میں“ اور ”چاہتا ہوں“ نکال دے تو آپ کے پاس صرف ”سکون“ رہ جائے گا۔

اس وقت دنیا میں جو چیز سب سے زیادہ ناپید ہے وہ دلی سکون ہے۔ دنیا میں ہر جگہ ہر شخص کے پاس سب کچھ ہے لیکن جس چیز کی کمی کا سامنا سب لوگوں کو ہیں وہ سکون ہے۔ بینک بیلنس، اعلیٰ پائے کے پہناوے، انواع اقسام کے کھانے، بڑے بڑے عالی شان بنگلے، لان میں کھڑی پانچ چھ قسم کی گاڑیاں، آج اسلام آباد تو کل پیرس اور پرسوں نیویارک میں لیکن ان سب کے باوجود دل کا سکون ناپید۔

” میں سکون چاہتا ہوں“ میں ”میں“ تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ معاشرے میں قابل قدر ہونے کے لئے انسان کو سب سے پہلے اپنے ”میں“ میں سے نکلنا ہو گا۔ ”میں“ سے نہ نکلنے والا انسان دنیا میں تنہا رہ جاتا ہے یہ چیز انسان کو انسانوں سے دور کر دیتی ہے۔ آج انسان صرف اپنے آپ کا ہو کر رہ گیا ہے۔ مالی منفعت کے بغیر ایک قدم اٹھانا بھی گوارا نہیں کرتا۔ ایک پیسہ کے لئے جھوٹ، دھوکہ، رشوت اور نہ جانے کیا کیا کر گزرتا ہے۔ آج انسان صرف مال کمانے میں ہی لگا ہوا ہے اور نتیجے کے طور پر وہ انسان جیسے عظیم دوستوں کو گنوا رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان حاصل کرنا ہی مال حاصل کرنے کا ہی ذریعہ ہے۔ مال و زر کی اندھی محبت نے ہمیں انسانیت سے دور کر کے اپنے نفس کا غلام بنا رکھا ہے۔

ٹھیک ہی کہا گیا ہے کہ زندگی کی وہ گھڑی کتنی بے رحم ہوتی ہے جب کوئی ضرورت مند آپ کے در پر آئے اور بے مراد لوٹ جائے۔ انسانوں کی جائز ضرورتیں پوری کرنا ہی عظیم عبادت ہے اور اللہ کی رضا کا سبب بھی۔ ذاتی مفاد اور مالی منفعت کی بجائے کبھی تو بقائے انسان کے لئے بھی کچھ کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے آپ کی بجائے دوسروں کے بارے میں فکر مند ہونا چاہیے ان کے دکھ درد ضروریات کے بارے میں فکر مند ہونا چاہیے اور یہ چیزیں انسانوں کو حقیقی سکون دیتی ہے بقول ایک شاعر کے :

تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں

تاریخ گواہ ہے کہ جو لوگ دوسروں کے لئے جیتے ہیں ان کو تاریخ ہمیشہ کے لئے یاد رکھتی ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ عظیم ہستیاں جو اس دنیا میں دوسروں کے کام آئیں، دوسروں کے لئے جئے آج بھی لوگ ان کا نام بڑے احترام سے لیتے ہیں اور تاریخ نے ان کا نام ہمیشہ کے لئے محفوظ کر رکھا ہے اور جو لوگ اس دنیا سے تو بہت کچھ لے گئے، پیسہ کمایا، حکمران رہے، جائیدادیں بنائی، محلات بنائے، بینک بیلنس بنائے اور ملکوں کو فتح کیا لیکن انسانیت کو کچھ نہ دے سکے آج ان کا نام و نشان تک نہیں۔

Facebook Comments HS