وہ بادشاہ نہیں بادشاہ گر ہے!


رنگ و عکس کا جادو گر ”پابلو پکاسو“ شہر ملاگا سپین میں ایک آ رٹ کے اسٓتاد کے گھر پیدا ہونے والا ایک بہت مشہور مصور تھا۔ جسے دور جدید کا سب سے بڑا مصور، جو تجریدی مصوری کا موجد کہا جاتا ہے جو بچپن سے ہی مختلف فن پارے بناتے ہوئے جوان ہوا۔ اور اس ہی کی بنائی ہوئی فاختہ عرصہ تک امن پسندی کی علامت رہی اور کلاسیکی اسلوب میں حقیقت نگاری اور تجریدی مصوری میں اپنا نام اور مقام بنایا ایک وقت جب وہ بام عروج پر پہنچ چکا تھا اور اس کی پینٹنگز اور مصوری پوری دنیا میں کروڑوں اور اربوں روپے میں بک رہی تھیں اور وہ شہرت کی بلندیوں کو چھو چکا تھا۔

کہتے ہیں ایک دن جب وہ سڑک پر چل رہا تھا تو ایک عورت کی نظر ”پابلو پکاسو“ پر پڑی اور اتفاق سے اس نے اسے پہچان لیا۔ وہ بھاگ کر اس کے پاس آئی اور کہنے لگی، ”جناب، میں آپ کی بہت بڑی مداح ہوں۔ مجھے آپ کی پینٹنگز بہت پسند ہیں۔ کیا آپ میرے لیے بھی پینٹنگ بنا سکتے ہیں؟“

پکاسو مسکرایا اور بولا، ”میں یہاں خالی ہاتھ آیا ہوں۔ میرے پاس کوئی اوزار نہیں ہے۔ میں پھر کبھی تمہارے لیے پینٹنگ بناؤں گا۔ لیکن وہ عورت اب ضد کر رہی تھی اس نے کہا“ مجھے ابھی ایک پینٹنگ بنا کر دو مجھے نہیں معلوم کہ ہم دو بار پھر کب ملیں گے؟ ”پکاسو نے ایک لمحے کچھ سوچا اور پھر اپنی جیب سے کاغذ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا نکالا اور اپنے قلم سے کاغذ پر کچھ کھینچنے لگا۔ تقریباً دس منٹ میں پکاسو نے کاغذ پر ایک پینٹنگ بنائی، اسے عورت کے حوالے کیا اور کہا،“ یہ پینٹنگ لے لو تمہیں اس کے لیے ایک ملین ڈالر آسانی سے مل سکتے ہیں بہت عورت حیران ہوئی۔

اس نے اپنے آپ سے کہا، ”اس پکاسو نے جلدی سے یہ قابل عمل پینٹنگ صرف 10 منٹ میں بنائی، اور یہ مجھے بتاتا ہے کہ یہ ایک ملین ڈالر کی پینٹنگ ہے۔“ لیکن ایک لفظ کہے بغیر اس نے پینٹنگ اٹھائی اور خاموشی سے گھر آ گئی۔ اس کا خیال تھا کہ پکاسو اسے بے وقوف بنا رہا ہے۔ دوسرے روز وہ بازار گئی اور پکاسو کی بنائی ہوئی پینٹنگز کی قیمت دریافت کی۔ جب اسے پتہ چلا کہ پینٹنگ ایک ملین ڈالر تک حاصل کر سکتی ہے، تو اس کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی وہ دوبارہ پکاسو کے پاس بھاگی آئی اور کہنے لگی، ”جناب، آپ ٹھیک کہتے ہیں، اس تصویر کی قیمت تقریباً ایک ملین ڈالر ہے۔ پکاسو مسکرایا اور بولا،“ میں یہ بات پہلے ہی بتا چکا ہوں ”۔

عورت نے کہا، ”جناب، کیا آپ مجھے اپنا شاگرد بنائیں گے؟ مجھے پینٹ کرنا سکھائیں، میرا مطلب ہے کہ جس طرح آپ نے تو صرف دس منٹ میں ہی ایک ملین ڈالر کی پینٹنگ بنائی ہے، میں 10 گھنٹے میں اچھی پینٹنگ بنا سکتی ہوں، اگر 10 منٹ میں نہیں“ اس طرح تم مجھے تیار کرو۔ ”

پکاسو مسکرایا اور بولا، ”یہ پینٹنگ جو میں نے 10 منٹ میں بنائی ہے اسے سیکھنے میں مجھے *تیس سال* لگے، میں نے اپنی زندگی کے تیس قیمتی سال اس کام میں گزارے ہیں۔ عورت نے چونک کر پکاسو ”کو دیکھا یقیناً پکاسو درست بات کہہ رہا تھا کسی بھی کام کے عروج کے پیچھے ایک طویل محنت اور جدوجہد درکار ہوتی ہے جو اس کے فن، علم اور اس کی بات کی معراج ہوتی ہے۔ پکاسو کے اس واقعہ کے حوالے سے میرے ایک بہت ہی حساس نثر نگار اور پیارے دوست قاضی محمد عارف صاحب جو ایک استاد بھی ہیں اور اکثر مختلف طبقات کے معاشرتی مسائل اجاگر کرتے ہیں اور ان طبقات کو درپیش انسانی، معاشرتی، اور سماجی مشکلات اور ناہمواریوں کی نشاندہی بھی کرتے رہتے ہیں وہ اپنی اس تحریر میں اساتذہ کرام کے بارے میں کہتے ہیں کہ

ایک *استاد* کو 40 منٹ کے لیکچر کے لیے ادا کی گئی تنخواہ، اوپر کی کہانی کے بارے میں بہت کچھ کہتی ہے۔ استاد کے ایک ایک جملے کے پیچھے اس کی کئی سالوں کی محنت اور جدوجہد ہوتی ہے ”۔ معاشرہ یہ سمجھتا ہے کہ“ استاد نے بولنا ہی تو ہے! بولنے پر تو بس اتنا ہی ملتا ہے! یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آج دنیا میں جتنے لوگ باوقار عہدوں پر فائز ہیں وہ کسی نہ کسی استاد کی وجہ سے یہاں تک پہنچے ہیں۔ اگر آپ بھی *استاد کی* تنخواہ کو مفت سمجھتے ہیں تو ایک وقت میں 40 منٹ کا موثر اور بامعنی لیکچر دیں۔ آپ کو فوری طور پر احساس ہو جائے گا کہ آپ کتنے قابل ہیں؟ اور یہ کس قدر مشکل کام ہوتا ہے تعلیم دینے کے لیے بھی ایک طویل اور انتھک محنت درکار ہوتی ہے اور استاد کی آدھی زندگی اس جدوجہد میں گزر جاتی ہے۔

میں ان کی بات سے اتفاق کرتا ہوں استاد علم کا سرچشمہ ہوتا ہے اور قوموں کی ترقی میں اساتذہ کا کردار بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے تعمیر انسانیت اور علمی ارتقاء میں استاد کی خدمات سے انکار ممکن نہیں ہے۔ زندگی کے تمام پیشے پیشہ تدریس سے ہی جنم لیتے ہیں اسی لیے اساتذہ معمار قوم کہلاتے ہیں قوموں اور انسانوں کی شخصیت سازی میں ہراول دستے کے طور جانے جاتے ہیں۔ میرے محترم استاد شاہ محمد صاحب فرماتے تھے کہ قابل، لائق اور ذہین و فطین شاگردوں کی سوچ و فکر اور شخصیت پر اپنے استاد کی گہری چھاپ ہوتی ہے اچھے طالب علموں کی بہت سی عادات زندگی کے رویے بول چال اور روزمرہ کی زبان کے الفاظ و محاورے تک ان اساتذہ سے ملتے ہیں جنہوں نے انہیں پڑھایا اور ان کی کردار سازی کی ہے۔

معاشرے میں والدین کے بعد سب سے قابل احترام رتبہ استاد کا ہوتا ہے۔ لیکن آج ہمارے معاشرے میں سترویں اور اٹھارہویں گریڈ کا استاد بھی ایک پٹواری اور کلرک جیسی زندگی بسر نہیں کر پاتا ہے جبکہ معاشرے میں سب سے زیادہ احترام اور عزت کا حقدار وہی ہوتا ہے ایک انسان تو کیا ہے پوری قوم بھی ان کی خدمات کا معاوضہ ادا نہیں کر سکتی اور ان کے معاوضہ کا کوئی تعین بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے اساتذہ میں سب سے زیادہ متاثر سرکاری سکولز کے اساتذہ اور فی لیکچر لینے والے سرکاری اور پرائیویٹ اساتذہ شامل ہیں پچھلے پندرہ سالوں میں مہنگائی کم و بیش چالیس گنا بڑھ چکی ہے آفرین ہے ان اساتذہ پر جو حقیر سے معاوضے پر بھی مشعل علم بلند کیے ہوئے ہیں اور درس و تدریس کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ادویات اور علاج کتنا مہنگا ہو چکا مگر میڈیکل الاونس آج بھی بنیادی تنخواہ کا پندرہ فیصد ہی ہے پیٹرول کی قیمت اور کرائے کس قدر بڑھ چکے مگر ان کا کنوینس الاونس پچھلے پندرہ سال سے وہی ہے اور وہ بھی تعطیلات میں نہیں ملتا۔ ان لوگوں کی خاموش زبانوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے ان کو احترام و عزت کے ساتھ ساتھ معقول معاوضے کی بھی ضرورت ہے اس لیے ان کا معاوضہ بڑھا کر حال اور مہنگائی کے تقاضوں کے مطابق مقرر کیا جانا چاہیے تاکہ ان کے اپنے بچے بھی تعلیم حاصل کرنے کے قابل ہو سکیں اور یہ اپنے فرائض باآسانی ادا کر سکیں۔

یاد رہے معلم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے کیونکہ تمام اخلاقی، تمدنی اور مذہبی کلید اس کے ہاتھ میں ہے اور قوم کی ہر طرح کی ترقی کا سرچشمہ اس کی محنت ہے بقول سکندر اعظم ”اس کے والدین اسے آسمانوں سے زمین پر لے آئے ہیں جبکہ استاد اس کو زمین سے آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچاتا ہے بطلیموس کہتا ہے“ استاد سے ایک گھنٹہ گفتگو دس برس مطالعے سے مفید ہے ”ہمارے اساتذہ کو بھی سوچنا ہو گا کہ کیا ان کے فن میں“ پکاسو ”جیسی محنت، لگن اور جدوجہد شامل ہے جس سے وہ آئندہ نسلوں کو سنوارنے کا یہ فرض عبادت سمجھ کر انجام دیں گے؟ کیونکہ اگر اساتذہ کی تعلیمات میں کہیں نقص رہ جائے اور کوئی عنصر خلاف شرافت و انسانیت آ جائے تب معاشرہ بدعنوانی، رشوت خوری، بدامنی، اور کرپشن جیسی اخلاقی و سماجی برائیوں کی منہ بولتی تصویر بن جاتا ہے۔

جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک
ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل جاتے ہیں

Facebook Comments HS