مہاجرین معنی مشکل

شوق آوارگی انسان کو زندگی کے نئے تجربات اور احساسات سے روشناس کراتی ہے جس کو پانا ہر فرد کی خواہش ہوتی ہے۔ یہ احساسات و تجربات جہاں آپ کو زندگی کی نئی منزلوں کی خوشیاں بخشتی ہیں تو وہی چند لمحات ایسے بھی عطا کرتی ہے جو آپ کی زندگی میں اس قدر گہرے نقوش رقم کر دیتی ہیں وہ آپ کی زندگی کا لازمی جُز بن جاتے ہیں جن سے پیچھا چھڑانا ایسے جیسے موت سے پیچھا چڑھانا، اسی لیے افغان کتھا کے دو اقساط کے بعد نہ لکھنے کا تہیہ کرنے کے باوجود آج دوبارہ اپنی قلم کو لکھنے پر مجبور کر رہا۔
افغان کتھا کے دونوں اقساط میں مہاجرین کے حوالے سے چند سطور قلمبند کی تھیں جہاں ان کے ساتھ غیر مساویانہ سلوک روا رکھا گیا تھا۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی اور ہماری شوق آوارگی ہمیں اس بار ایک ایسے علاقے لے آئی جو کہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ علاقہ قدرتی وسائل اور انسانی مسائل سے مالا مال ہے مگر المیہ یہ ہے کہ باقی خطوں کی طرح یہاں بھی مسائل مقامی لوگوں کو اور وسائل بیرونی قوتوں کو وراثت میں ملیں ہوئی ہیں۔ بغاوت ہندوستان سے قبل یہ خطہ بہت اہمیت کا حامل رہا ہے جس پر بڑی بڑی طاقتوں نے حکمرانی کرنے کی کوشش کی مگر مقامی لوگوں نے ان کا مقابلہ کیا اور ان کے دانت کھٹے کیے۔
مگر تقسیم ہندوستان کے بعد اور خاص کر 1970 کے بعد یہ خطہ اپنی علیحدہ حیثیت کو وقت کے ساتھ کھوتا چلا گیا یہاں تک کہ یہاں تدبر و تفکر نے بھی اس خطے سے کنارہ کشی کر لی۔ خطے کی تاریخ کے حوالے سے مستند کتابوں میں لالا ہتو رام کی تصنیف ”تاریخ بلوچستان“ کا تذکرہ لازمی طور پر کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد بہت ساری تصانیف فرامین اور احکامات کی فرمانبرداری کے سلسلے میں لکھی گئی ہیں بقول شاعر ”سر اٹھانے کی نہ جرات کرے کوئی بھی یہاں، وقت کا آج بھی فرمان ہے پہلے کی طرح“ ۔
اس خطے میں فرامین کے نفاذ کے لیے مقامی محنت کشوں کی خدمات لی جاتی رہی ہیں تاکہ مقامی لوگوں کو برسر روزگار مہیا کیا جا سکے اور غربت کا خاتمہ ہو سکے۔ اسی تناظر اور نظریے کی بدولت اس ریاست کے باسی اس تگ و دو میں مصروف ہیں کہ ان کی وجہ سے اس مملکت پہ بات نہ آئے اسی لیے وہ اس ریاست کو ہی خیر باد کہہ کر نکل رہے ہیں تاکہ مہاجر بن کے کسی دوسری ریاست میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اس ریاست کے زوال میں اپنا کلیدی کردار ادا کر سکیں کیونکہ جس ریاست سے ان کا تعلق ہے وہاں بہت عروج ہے۔ جہاں اس ریاست کے باسی کسی دوسری ریاست میں مہاجر بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں وہی ایک دوسری ریاست کے باسی اس ریاست میں مہاجرین کا درجہ حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
شوق آوارگی میں ہم جس خطے پہنچے ہوئے تھے وہاں لگ بھگ پچاس سالوں سے مہاجرین کی آباد کاری کا کام جاری رہا ہے۔ جہاں مختلف تہذیبوں کے لوگ مقیم ہیں اور ہر تہذیب اپنی خوبصورتی کی مثال آپ ہے۔ انہیں تہذیبوں کی مرہون منت ہماری مہمان نوازی وہاں کے ایک مقامی فرد گل خان بھائی نے کی جو کہ احساس و خلوص کا ایسا امتزاج تھا جس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔ مہمان نوازی کے بعد قہوہ پہ ان سے علاقے کے متعلق بات چیت ہونے لگی تو انہوں خطے کے احوال کے ساتھ ساتھ اپنی روداد سے بھی ہمیں بخشا۔
اپنے وطن کو خیر باد کہے اور اس ریاست میں آباد ہوئے انہیں چالیس سال ہو گئے تھے اور اس دورانیے میں انھوں نے بہت سارے اتار چڑھاؤ دیکھے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ ان کی شادی یہیں ہوئی اور یہیں ان کی آٹھ اولاد نے پرورش پائی۔ گل خان بھائی نے ایک آہ بھری آواز میں کہا کہ اپنے وطن کو چھوڑ کے آنا اور دیار غیر میں آباد ہونا آسان نہیں مگر جب بات آپ کی زندگی اور موت کی ہو تو زہر کا گھونٹ بھی پینا پڑتا ہے۔
گل خان بھائی نے کہا کہ جب وہ اپنا وطن چھوڑ کے یہاں آیا تو اس خطے میں بھی ایک اندرونی جنگ تھی جو آج تک جاری ہے اور نا جانے کب تک جاری رہے گی؟ یہاں کی جنگ اپنی جگہ مگر ہم اپنی بقا کی جنگ لڑ کے یہاں آئے ہوئے تھے اسی لیے ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہ تھی کہ جہاں ہم رہیں گے وہاں زندگی کی بنیادی ضروریات ہوں گی یا نہیں؟ مگر اتنا اطمینان تھا کہ زندہ رہیں گے۔ چالیس سال قبل جب میں یہاں آیا تھا تب سے لے کر اب تک زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔
ہمارے یہاں پینے کا پانی نہیں ہمیں میلوں دور جا کے لانا پڑتا ہے، یہاں پہ سرکاری و غیرسرکاری صحت کی سہولیات کا کوئی بھی بندوبست نہیں، زندگی گزارنے کے لیے روزگار کے مواقع نہیں اور تعلیم کا کوئی بھی نظام موجود نہیں جس کا نقصان یہ ہوا کہ ہماری نسلیں منشیات میں مبتلا ہو گئی اور ہم اپنی نظروں کے سامنے اپنے مستقبل کے ساتھ ساتھ ان کے زندگی کو بھی تاریکی میں اترتے دیکھ رہے ہیں۔ ان سب کے باوجود بھی ہم یہاں مقیم رہے اور اپنی نئی پود کو اس امید کے ساتھ اس دنیا میں لائے کہ کہ شاید ان کا ہی کچھ مداوا ہو مگر ہمارا نصیب دیکھیں کہ پچھلے برس ایک فرمان جاری ہوتا ہے جس میں مہاجرین کی بے دخلی کا حکم نازل ہوا تھا جس نے ہماری زندگی کو ایک مرتبہ پھر سے چالیس سال پیچھے دھکیل دیا جس کی شدت اس بار اتنی خوفناک ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ ہم اس دہری تلوار کے درمیان ہیں جہاں کسی بھی طرف ہلنے پہ موت واقع ہے۔
ہم یہاں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور دوسری جانب بہت سارے فلاحی ادارے سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہم سے بار بار پوچھتے ہیں کہ مہاجرین کو کن مسائل کا سامنا ہے اور وہ کیا چاہتے ہیں؟ یہ تمام باتیں بار ہا کہی گئی ہیں مگر ان کا کوئی مداوا نہیں مگر ایک امید کے ساتھ اس سوال کے جواب میں دل و دماغ سے صرف ایک ہی جملہ نکلتا ہے کہ ”مہاجرین معنی مشکل اور ہم اس مشکل کا مداوا چاہتے ہیں“ ۔

