صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 19 : اندیشۂ انکار
” اسی واسطے مرد اپنے باپ اور اپنی ماں کو چھوڑے گا اور اپنی بیوی کے ساتھ جا ملے گا اور وہ دونوں ایک جسم ہوں گے۔ یہ بھید بڑا ہے مگر میں مسیح اور کلیسیا کے بارے میں کہتا ہوں۔“ افسیوں 5 : 31۔ 32
حیدرآباد سندھ صدیوں سے مختلف تہذیبوں، سلطنتوں، اور حکمرانوں کا مرکز رہا ہے، جس کے نتیجے میں یہ شہر ایسی تاریخی عمارتوں سے بھرا پڑا ہے جو فنِ تعمیر کے عظیم نمونے ہیں۔ ایک زمانے میں حیدرآباد کے سنگ تراش مشہور تھے جو سلاوٹ کہلاتے تھے۔ بر صغیر کی بہتیری تاریخی عمارتوں کے ڈیزائن میں سلاوٹ سنگ تراشوں کا ہاتھ ہے۔ اب بھی حیدرآباد میں ایک محلہ ہے جو سلاوٹ پاڑہ کہلاتا ہے۔
مریم کو تاریخی عمارتیں دیکھنے کا خبط تھا لہٰذا وہ اور دانی ایل پورے شہر میں ویسپا پر مارے مارے پھرتے تھے۔ اتوار کو چرچ کی سروس دو پہر تک ختم ہوجاتی تھی جس کے بعد دانی ایل مریم کو اپنی اسکوٹر پر بٹھا کر کبھی پکّے قلعے کی سیر کراتا، کبھی موکھی ہاؤس میوزیم لے جاتا اور کبھی سڑک کے کنارے دہی بڑے والے کے ٹھیلے کے پاس اسکوٹر پارک کر کے وہیں کھڑے ہو کر دونوں دہی بڑے کھاتے۔ اگرچہ انگوٹھی کی ڈبیہ دانی ایل کی پتلون کی جیب میں رہتی تھی مگر جب وہ مریم کے ساتھ ہوتا تو اسے شاذونادر ہی انگوٹھی کا خیال آتا۔ کئی بار ایسے مواقع آئے کہ وہ دونوں تنہا تھے مگر جب وہ جیب میں ہاتھ ڈال کر انگوٹھی کو ٹٹولتا تو رہ رہ کر اس کے دماغ میں سوالات اٹھتے اور وہ خود ہی ان کے جواب دے دیتا۔ کیا مریم کو اس سے واقعی محبت ہو گئی تھی اور اگر ہو گئی تھی تو کیا یہ شادی والی محبت تھی یا دوستی والی؟ مگر اس کا فیصلہ تو صرف مریم کو شادی کی پیش کش کر کے ہی ہو سکتا تھا۔ لیکن اگر اس نے انکار کر دیا تو کیا ہو گا؟ ممکن ہے کہ وہ مریم کی رفاقت سے بھی محروم ہو جائے۔ لیکن یہ بھی تو ہو سکتا تھا کہ وہ ہاں کہہ دے۔ بہرحال جب وہ مریم کے ساتھ ہوتا تو مستقل اس کے دماغ میں یہی کھچڑی پکتی رہتی تھی۔
تلک چاڑھی پر سینٹ فلپس چرچ انکل شاہد کا فیملی چرچ تھا۔ وہ شروع سے وہیں جاتے تھے مگر مریم اب ہر اتوار کو دانی ایل کے ساتھ پادری پال کے کینٹونمنٹ چرچ آتی تھی اور چرچ کی صفائی میں اس کی مدد کرتی تھی۔ وہ تمام نشستوں کی پشت پر بنے ہوئے خانوں میں رکھی ہوئی بائبل اور حمدیہ گیتوں کی کتاب چیک کرتے کہ وہ سیدھی رکھی ہوئی ہیں اور ان کے ٹائیٹل کوَر سامنے ہی ہیں۔ پادری پال ان دونوں کی دوستی کو دل چسپی سے دیکھ رہے تھے۔ کبھی ان کی بھنویں اٹھ جاتیں اور کبھی وہ زیر لب مسکرا دیتے۔ اس روز وہ اپنا کام ختم کر کے نکلے تو ہال سے گزرتے ہوئے ان کی نظر مریم اور دانی ایل پر پڑی جو تمام نشستوں کو گیلی تولیہ سے پونچھ رہے تھے تاکہ اگلے ہفتے وہ صاف ملیں۔
”بھئی تم لوگ کافی وقت دے رہے ہو۔ ایسا کرو کہ ایک ٹیم اور بنا لو جو سروس سے پہلے یہ کام کر دیا کرے،“ انہوں نے وہیں رُک کر کہا۔
”آپ فکر نہ کریں فادر، یہ اتنا بڑا کام نہیں ہے،“ دانی ایل نے جواب دیا۔
”خیر، جیسی تمہاری مرضی۔ میں نے تو اس چرچ کو تمہارے حوالے کر دیا ہے۔ خدا حافظ،“ پادری پال نے نکلتے ہوئے دروازہ بند کر دیا۔
” آج کہاں چلنے کا پروگرام ہے؟“ دانی ایل نے پوچھا۔
”آج ہم گھر چلتے ہیں۔ میں تمہیں چائے پلاؤں گی،“ مریم نے جواب دیا۔
”تو پھر تھوڑی دیر یہیں بیٹھ کر سستا لیتے ہیں، پھر چلیں گے۔“
دانی ایل نے آخری بینچ صاف کرنے کے بعد مریم کے ہاتھ سے تولیہ لیا اور پانی کی بالٹی اٹھا کر اسے اسٹور میں رکھنے کے لیے چلا گیا۔ مریم ایک نشست پر بیٹھ کر سوچ میں ڈوب گئی۔ اس کے دل میں دانی ایل کے لیے جو کیفیت تھی وہ اسے خود نہیں سمجھ پائی تھی۔ اس کی معصومیت اور سادگی نے مریم کے دل کو بار بار چھوا تھا۔ وہ اس کے خلوص، محبت اور دیانت داری کی قدر کرتی تھی، جو ہر ملاقات میں واضح ہوتی تھی۔ دانی ایل کی آنکھوں میں ایک خاص معصومیت تھی جو مریم کو ہمیشہ اس کی طرف متوجہ کرتی تھی۔ اس کے ساتھ گزارا ہوا ہر لمحہ مریم کے دل میں نقش ہو جاتا تھا۔
” کس سوچ میں پڑ گئیں؟“ مریم نے سر اٹھا کر دیکھا تو دانی ایل سامنے کھڑا تھا۔ وہ اس کے برابر آ کر بیٹھ گیا۔
” کچھ نہیں، بس یوں ہی!“
” میں نے تو آج تمہیں رانی باغ دکھانے کا پروگرام بنایا تھا۔ تم نے کہا تھا کہ تم نے کبھی رانی باغ نہیں دیکھا۔“
”پھر کسی دن چلیں گے۔ “
”اب میں نے تو باقاعدہ ریسرچ شروع کردی ہے کہ تمہیں کیا کیا دکھایا جائے۔ میں اجنبیوں سے حیدرآباد کی تاریخی عمارتوں کے متعلق پوچھتا پھرتا ہوں۔ “
” یہ تمہاری محبت ہے۔ میں خود کو بڑی خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ تم سے دوستی ہو گئی۔“
” خوش قسمتی تو میری ہے،“ دانی ایل نے سرگوشی میں کہا۔
مریم محسوس کر رہی تھی کہ اچانک دانی ایل کچھ گھبرایا ہوا لگنے لگا۔ بار بار اس کا ہاتھ پتلون کی جیب میں جاتا اور نکل آتا۔
”تُم ٹھیک تو ہو نا دانی ایل؟“ مریم نے اپنی ہتھیلی دانی ایل کی پیشانی پر رکھ دی۔ غالباً وہ دیکھنا چاہ رہی تھی کہ کہیں اسے بخار تو نہیں ہے۔
”دراصل، میں تمہیں ایک تحفہ دینا چاہتا ہوں،“ دانی ایل نے ایک پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنے اضطراب کو مسکراہٹ میں چھپانا چاہ رہا ہے۔
”تو اس میں گھبرانے کی کیا بات ہے؟“ مریم کا قہقہہ پورے ہال میں گونجا۔
دانی ایل نے اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی ڈبیہ نکال کر کھولی اور مریم کے سامنے کردی۔ انگوٹھی میں جڑے تین ہیرے ہال کی روشنی میں جگمگا رہے تھے۔
”او مائی گاڈ، او مائی گاڈ!“ مریم نے تقریباً چیختے ہوئے کہا۔
اس نے انگوٹھی ڈبیہ سے نکال کر الٹ پُلٹ کر دیکھی۔ دانی ایل نے اطمینان کا سانس لیا اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔
”دانی ایل، تمہیں شاید نہیں معلوم کہ کسی لڑکی کو تحفے میں انگوٹھی دینے کا کیا مطلب ہوتا ہے،“ مریم نے مسکرا کر کہا۔
”مجھے معلوم ہے،“ دانی ایل نے جواب دیا۔
”کیا میں سمجھوں کہ تم مجھے شادی کی پیش کش کر رہے ہو؟“
”تم بالکل ٹھیک سمجھو گی،“ دانی ایل کی خود اعتمادی واپس آ گئی تھی۔
”او مائی گاڈ۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیا کہوں۔“
”بس تم ہاں کہہ دو۔“
”دانی ایل، یقین کرو کہ مجھے تمہاری دوستی پر فخر ہے اور تم نے مجھے جو محبت دی ہے اس کے لیے میں تمہاری شکر گزار ہوں،“ مریم نے انگوٹھی ڈبیہ میں رکھتے ہوئے کہا۔
”لاؤ، میں تمہیں پہنا دوں،“ دانی ایل نے اس کے ہاتھ سے ڈبیہ لیتے ہوئے کہا۔
”دانی ایل، کیا تم مجھے سوچنے کا حق نہیں دینا چاہتے؟“ مریم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ دانی ایل کو ایک جھٹکا سا محسوس ہوا۔
”تمہیں سوچنے کا حق نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے دینا پڑے گا خواہ مجھے کتنی ہی مایوسی کیوں نہ ہو۔“
”کیوں؟ مایوسی کی کون سی بات ہے؟ میں نے انکار تو نہیں کیا۔“
”تم مجھے امید و بیم کی کیفیت میں چھوڑ رہی ہو۔“
”یقین کرو کہ تم جس جذباتی دباؤ سے گزرو گے اسی سے میں بھی گزروں گی۔“
”تو پھر میں کتنا انتظار کروں؟“ دانی ایل نے بڑی مایوسی سے کہا۔
”مجھے کم از کم ایک ہفتہ تو دو۔“
”ٹھیک ہے، تو اگلے ہفتے ہم پھر یہیں ملیں گے۔“
”مہلت دینے کا بے حد شکریہ۔“
”اچھا تو کم از کم مجھے یہ انگوٹھی پہن کر تو دکھا دو،“ دانی ایل نے انگوٹھی کی ڈبیہ مریم کو دیتے ہوئے کہا۔
”نہیں دانی ایل، یہ تم مجھے وقت پر ہی دینا۔“
”اچھا تو کم از کم تم میری خاطر اسے رکھ ہی لو۔ اگر تمہارا فیصلہ میرے حق میں نہ آئے تو واپس کر دینا۔“
”چلو میں رکھے لیتی ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ تم مجھ سے اپنی بات منوا کر ہی چھوڑو گے،“ مریم نے انگوٹھی کی ڈبیہ اپنے پرس میں رکھتے ہوئے کہا۔
”شکریہ، مجھے پوری امید ہے کہ یہ انگوٹھی تمہاری انگلی کی ہی زینت بنے گی،“ دانی ایل نے کہا۔ مریم مسکرا کر رہ گئی۔
واپسی کا راستہ خاموشی سے گزرا۔ دانی ایل کو احساس ہوا کہ مریم کا ہاتھ اس کے کندھے پر ہونے کے بجائے پورا بازو اس کی کمر کو چھو رہا تھا۔ وہ خیالات میں گم تھا کہ اس کی اسکوٹر مریم کے گھر کے دروازے پر تھی۔ اسے سخت جھنجھلاہٹ ہوئی کہ راستہ اتنی تیزی سے گزر گیا۔
”تم اندر آ جاؤ۔ چائے پی کر جانا،“ مریم نے اترتے وقت کہا۔
”پھر کسی وقت۔ ابھی تو ہم دونوں کو اپنے جذبات کے اُبال کو ذرا مدھم کرنے پر کچھ وقت صرف کرنا ہو گا۔“
”تم ٹھیک کہتے ہو،“ مریم نے اس کے ہینڈل پر رکھے ہوئے ہاتھ کو دبایا اور مسکرا کر دروازے پر پڑے پردے کو ہٹا کر گھر میں داخل ہو گئی۔ دانی ایل نے اسکوٹر کو اسٹارٹ کیا اور موڑ کر واپس ہو لیا۔
سامنے سڑک سنسان تھی اور اس کے دماغ میں ایک فلم چل رہی تھی جس میں وہ اور مریم ہنی مون کے لیے ہنزہ میں تھے۔ کئی سال پہلے وہ اکیلا ہنزہ گیا تھا اور تب ہی اس نے سوچا تھا کہ اگلی بار وہ وہاں تنہا نہیں آئے گا بلکہ شادی کے بعد ہنی مون پراس کی بیوی اس کے ساتھ ہوگی۔ اس وقت تک اس کی ملاقات مریم سے نہیں ہوئی تھی اور اس کی رفیقۂ حیات کی واضح شکل اس کے تصور میں نہیں تھی یا ممکن ہے کہ وہ مریم ہی رہی ہو۔ وہ خیالات میں گم تھا اور اس کے لبوں پر مسکراہٹ تھی کہ اچانک اسے دھچکا سا لگا، ”اگر مریم نے انکار کر دیا تو؟“ اس کا بقیہ دن اسی ادھیڑ بُن میں گزر گیا کہ وہ مریم کے انکار کی صورت میں اس کا رویہ کیا ہو گا۔ حالاں کہ وہ رات کو بستر پر لیٹنے کے بعد چند منٹ میں ہی گہری نیند سو جاتا تھا مگر اس رات وہی فلم اس کے دماغ میں چلتی رہی۔ ہر کروٹ کے ساتھ ایک نیا سین سامنے آتا رہا۔
کبھی اقرار کی لذت نے جگائے رکھا
کبھی اندیشۂ انکار نے سونے نہ دیا
سلیمؔ

