آزمائشِ قلب در دنیائے فتن


اس پُرآشوب زمانے میں، جہاں دلوں کے آئینے پر نفس کی کثافتیں چھائی ہوئی ہیں اور فکری توازن بگڑ چکا ہے، ایک ایسے فردِ نایاب کا وجود گویا کسی نایاب لعل و گوہر سے کم نہیں، جو عقل کی باتوں کو دل کی گہرائیوں میں پرکھتا ہو۔ جس کی ہر سانس محبت اور اخلاص کی مشک بار خوشبو سے معطر ہو اور جو نفرت، حسد اور عداوت کے آتشیں شعلوں سے خود کو محفوظ رکھنے کی سعی میں مصروف رہتا ہو۔ ایسے صاحبِ قلب کا اس دارِ فانی کی آزمائش گاہ میں قدم رکھنا، جہاں ذہنی ہم آہنگی کا فقدان ہو، ایک کرب انگیز اذیت کے مترادف ہے۔

فطرتِ انسان کی یہ نہایت پیچیدہ رمز ہے کہ جہاں دل اور دماغ کی ہم آہنگی نہ ہو، وہاں روح کو وہ زخم لگتے ہیں جنھیں ظاہری چشم سے دیکھنا ممکن نہیں۔ ایک ایسے فردِ حساس کا، جو محبت و مودت کی زبان کے سوا کچھ نہ سمجھتا ہو، ایک بے حس معاشرے میں زندگی گزارنا، گویا تپتی دوپہر کی جھلستی ہوئی دھوپ میں کسی سایہ کی جستجو کے مانند ہے۔ جب دل کی نرمی اور محبت کے الاؤ ان برف زدہ اذہان سے ٹکراتے ہیں جو دنیا کی عداوتوں، کینہ پروری اور دوغلے پن میں ملبوس ہوں تو دل کا آئینہ پارہ پارہ ہو جاتا ہے۔

اہلِ دل کے لیے یہ دنیا ایک خارزار ہے، جہاں ہر قدم پر غموں کے کانٹے بکھرے ہوئے ہیں۔ زندگی کے اس پرپیچ راستے پر جب دل کی صدا کو عقل کی سمع سے ہم آہنگی نصیب نہ ہو تو وہ ذہنی اذیتیں جنم لیتی ہیں جن کا بیان کسی زباں کی قید میں ممکن نہیں۔ محبت اور اخلاص کے لعل و گوہر کی جستجو میں نکلنے والا یہ مسافر، جب دلوں کے بیابانوں میں حسد و کینہ کی آندھیوں سے ٹکراتا ہے تو اس کے قلب کا چراغ مدھم ہو جاتا ہے۔

یہ دور، جہاں ظاہری چمک دمک نے باطن کی لطافت کو دھندلا دیا ہے، ایک صاحبِ قلب کے لیے ناہموار پہاڑی راستے کی مانند ہے، جہاں ہر قدم پر پتھروں کی چوٹیں دل کو زخمی کرتی ہیں۔ ایسے شخص کا وجود، جو ہر بات کو دل سے تولتا ہو، اس پرفتن ماحول میں، ایک نایاب گل کی مانند ہے جو اپنی خوشبو تو بکھیرتا ہے، مگر ہر لمحہ خاروں کی چبھن سہتا رہتا ہے۔ یہ انسان اپنی روح کی دھڑکنوں میں محبت اور امن کی شمع روشن کرتا ہے، مگر ہر لمحہ اسے اس تلخ حقیقت کا سامنا رہتا ہے کہ اس دنیا میں دل کی صدا کو اکثر دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

دل کی سچائی اور محبت کے انمول جذبات کو اس دنیائے فانی میں پروان چڑھانا، ایک ایسا کٹھن مرحلہ ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ جس طرح ایک عقاب مخالف ہواؤں کے رُخ پر پرواز کرتا ہے، اسی طرح یہ صاحبِ قلب بھی معاشرتی رواجوں کے بہاؤ کے برخلاف چلنے کی سعی کرتا ہے۔ اس کی زندگی ایک ایسی ناؤ کی مانند ہے جو طوفانوں کے بیچ ہچکولے کھاتی ہوئی ساحلِ مراد کی تلاش میں سرگرداں رہتی ہے۔

یہ محبت و الفت کا پیامبر اپنی ذات کی ان گہرائیوں میں پناہ لیتا ہے، جہاں منافقت اور حسد کے عفریت نہیں پہنچ سکتے۔ اس کی روح کی لطافت اور دل کی سچائی اسے ان آزمائشوں میں بھی پختہ و مستحکم بناتی ہے، جہاں ہر طرف سے اسے مصائب و آلام کے تیر آتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے، جہاں وہ خود کو اس دنیا کی ظلمتوں سے دور رکھتا ہے اور اپنے دل کے آئینے کو صاف و شفاف رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

یوں، اس صاحبِ قلب کی داستان اس پُرآشوب دور میں محبت، سچائی اور اخلاص کی فتح کی داستان ہے، جو ہر تاریکی کے پردے کو چاک کر کے مینارہ نور بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

 

Facebook Comments HS