نواز شریف کی جامعہ نعیمیہ کی تقریر۔۔۔۔


 پاکستان کے وزیر اعظم نوازشریف نے جامعہ نعیمیہ میں جو تقریر کی وہ مجھے بہت اچھی لگی۔ نواز شریف کی یہ وہ واحد تقریر تھی جو مجھے پسند آئی۔ اس تقریر کے الفاظ بہت طاقتور تھے، بس دعا یہی ہے کہ کاش یہ صرف تقریر نہ ہو بلکہ اس کے پیچھے خلوص کا عنصر بھی موجود ہو، لیکن تقریر کے خلوص کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اس کی بہت سی وجوہات اور دلائل ہیں۔ یہ نواز شریف کی زندگی کی بہترین تقریر تھی جس میں واقعی ہی وہ کچھ لمحوں کے لئے پاکستانی انسانوں کے وزیر اعظم نظر آئے۔ انہوں نے کہا مذہبی علماء کو برداشت اور امن پھیلانا چاہیئے۔ ساتھ ہی ساتھ نواز شریف نے پاکستان کے اندر مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردوں کے ہاتھوں جو بیانیہ بنا ہوا ہے، اسے ختم کرنے کی بھی استدعا اور اپیل کی۔ وزیر اعظم کا ایسا بیان اپنی جگہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا جس طرح ظلم و جبر ہے، انسانوں کے درمیان نفرت اور تعصب کا زہر پھیلایا جارہا ہے، اس زہریلے بیانیہ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ دین کو ان لوگوں سے آزاد کرانا ہوگا جنہوں نے اپنے مزموم مقاصد کے لئے اسے یرغمال بنا رکھا ہے۔ نواز شریف نے زور دیکر کہا کہ دین کے نام پر جو فساد برپا کرنے کی روایت ہے وہ گہری ہوتی چلی جا رہی ہے، اب اس روایت کو ہر صورت ختم کرنا ہوگا۔

نوازشریف کی تقریر اچھی تھی، اسمارٹ تھی، انسان دوست الفاظ سے لبریز تھی، پورے پاکستان کے عوام اور سب انسانوں کے لئے تھی، لیکن اصل سوال یہ کہ کیا یہ صرف ایک تقریر تھی؟ اصل معاملہ یہ نہیں کہ صرف اچھے الفاظ استعمال کرکے داد وصول کی جائے اور پھر ہاتھ جھاڑ دیئے جائیں۔ حکومت، ریاست اور طاقتور اداروں سب کو معلوم ہے کہ دین کو کس طریقے سے یرغمال بنایا گیا ہے؟ سب جانتے ہیں کہ دہشت گردوں کے بیانیہ کا نقصان کیا ہو رہا ہے؟ سب جانتے ہیں کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کیسے پروان چڑھ رہی ہے؟ اصل مسئلہ یہ کہ ریاست اور حکومت کی پالیسی ان انتہا پسند عناصر کے خلاف کیا ہے؟ اور یہ پالیسی کتنی موثر ہے؟ یا یہ کہ ان انتہا پسند عناصر کے خلاف کوئی پالیسی ہے ہی نہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ نواز حکومت کو قائم ہوئے چار سال ہونے کو ہیں۔ ان چار برس میں صرف تقریریں ہی کی گئی، عملی اقدامات کا فقدان نظر آیا۔ صرف اچھے الفاظ استعمال کرنے سے انتہا پسندی اور دہشت گردی ختم نہیں ہوگی۔ریاست، حکومت اور طاقتور اداروں کو دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے بیانیئے کو بدلنے کے لئے اسٹکچرل تبدیلیاں کرنی ہوگی، کوششیں کرنی ہوگی، انقلابی اقدامات کرنا ہوں گے۔ لیکن ان چار برسوں میں دہشت گردوں کے بیانیئے کو بدلنے کے لئے کچھ نہیں کیا گیا، ٹھیک ہے فوجی آپریشن کئے گئے، لیکن صرف فوجی آپریشن کرنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ دہشت گردوں کو بیانیہ بدلنے کے لئے جڑوں میں گھسنا ہو گا۔ تعلیمی نظام کو انسانی پہلوؤں پر استوار کرنا ہوگا، سلیبس کو، تاریخ کو درست انداز میں دیکھنا ہوگا۔ مدرسہ ریفارمز کرنے ہوں گے، پاکستان کے آئین میں بنیادی تبدیلیاں لانی ہوگی، ایک نیا روشن خیال اور ترقی پسند ریاستی سوشل کنٹریکٹ تعمیر کرنا ہوگا۔ پاکستان کو سب انسانوں کا پاکستان بنایا ہوگا۔ اور بہت سی انقلابی اور حقیقی تبدیلیاں لانی ہو گی، اس پر حکومت میں جرات، بہادری اور کمٹمنٹ دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ جس کمٹمنٹ کا اظہار نیشنل ایکشن پلان میں کیا گیا تھا، وہ اظہار اب بھی کسی دراز میں قید ہے۔

کیا یہ نیشنل ایکشن پلان تھا کہ اب بھی خطبوں میں، ٹی وی کیمروں کے سامنے لوگ دوسرے انسانوں کو قتل کرنے کے فتوے جاری کرتے ہیں۔ صحافی لوگوں کو قتل و غارت پر اکساتا ہے؟ فلاں گستاخ ہے، فلاں غدار ہے، فلاں کافر ہے۔ یہی کچھ بہت سے لوگ ٹی وی اور خطبوں میں کہہ رہے ہیں؟ کیا اس حوالے سے کوئی پالیسی بنائی گئی ہے؟ ہر بات پر یہ کہنا کہ فلاں کو پھانسی پر لٹکا دو، وہ تو کافر ہے، وہ سیکولر لابی ہے، فلاں لبرل لابی ہے، یہ انسانیت پرست ہیں، یہ مسلمان نہیں، انہیں مار دو۔ یہ سب کچھ ہورہا ہے، اس بیانیئے کے خلاف عملی اقدامات کیا اس زمین پر نظر آرہے ہیں؟ حکومت اور ریاست کو اس حوالے سے موثر اقدامات ضرورت ہے۔ لیکن ان چار برسوں میں حکومت ہمیشہ غیر موثر ہی نظر آئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ چاروں اطراف گھٹن ہے،غداری، کفر کے نعرے ہیں۔ کیا ایسے ماحول میں نواز شریف کا یہ بیان سود مند ثابت ہوگا؟

پاکستان کو اس وقت روشن خیال، ترقی پسند اور پرامن نئے بیانیئے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس نئے بیانیئے کے لئے ایک پالیسی کی بھی ضرورت ہے، پالیسی بنایا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن ڈر اور خوف کی وجہ سے ہر مرتبہ کمپرومائز کر لیا جاتا ہے۔ بہت اچھی اور شاندار بات ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم نے آج ایک نئے بیانیئے کی بات کی۔ لیکن ان سے گزارش ہے کہ اب وہ عملی اقدامات اٹھائیں۔ وزیر اعظم کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف ایک روشن خیال اور ترقی پسند بیانیئے کی بات کرنا ایک اچھا اقدام ہے۔ جس کی ہم سب پاکستانی سپورٹ کرتے ہیں۔ اس معاملے میں ہم سب پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ ہیں۔ اب صرف تقریر کی نہیں عمل کی ضروت ہے۔ ایک دوسرے کو کافر، غدار اور پتہ نہیں کیا کیا کہنے کی روایت جاری ہے۔ اس روایت کو مٹانا ہوگا۔ کیوں اس ملک میں ہر انسان کو اپنے ایمان کا ثبوت دینا پڑ رہا ہے؟ بیچارے عوام مر رہے ہیں، کبھی وہ لاہور میں خود کش حملے میں مارے جاتے ہیں، کبھی پشاور میں، کبھی کوئٹہ میں، کبھی کراچی میں تو کبھی سہون میں، یہ معصوم انسانوں کی زندگی کا سوال ہے، اس لئے بات صرف تقریر تک محدود ہو کر نہیں رہنی چاہیئے۔ قومی بیانیئے اور قومی ایکشن پلان پر پیش رفت کا بھی مظاہرہ کرنا چاہیئے۔

Facebook Comments HS