گورنمنٹ کالج کا ڈریس کوڈ اور ہمارا دوغلا پن
کیا آپ کو مسکان خان یاد ہے؟
جی وہی کرناٹک کی مسکان خان جس نے برقع پہن کر ہندو انتہا پسندوں کے سامنے ”اللہ اکبر“ کا نعرہ بلند کیا تھا۔
مسکان کے کالج نے ڈریس کوڈ جاری کیا تھا۔ اس ڈریس کوڈ کے مطابق لڑکیاں برقع اور نقاب پہن کر کالج نہیں آ سکتی تھیں۔ لیکن مسکان نے اس اصول کو چیلنج کیا۔ وہ بے باک لڑکی ناصرف برقع پہن کر کالج گئی بلکہ ہندو انتہا پسندوں کو للکار کر اللہ اکبر کا نعرہ بھی بلند کیا۔
یہ غالباً سال، دو سال پہلے کی بات ہے۔ مسکان کو پاکستان کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر سپورٹ کیا تھا۔
ہمارا موقف یہ تھا کہ کالج کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی شخص کی مذہبی، قومی یا ذاتی آزادی کی راہ میں حائل ہو۔ ہم نے یہ بھی قبول کیا تھا کہ مسکان خان کو اس بات کی آزادی ہونی چاہیے کہ وہ کس لباس میں کالج جاتی ہے۔
کچھ دن میں معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا اور ہم بھی مسکان کو بھول کر اپنی دنیا داری میں مصروف ہو گئے۔ میں بھی مسکان کو بھول سا گیا تھا۔ پھر کچھ واقعات ایسے رونما ہوئے کہ مسکان کی یاد تازہ ہو گئی۔
کچھ دن پہلے لاہور کے گورنمنٹ کالج نے بھی اپنا ڈریس کوڈ جاری کیا ہے۔ اس ڈریس کوڈ کے نفاذ کے بعد لڑکے اور لڑکیاں جینس پینٹ اور ٹی شرٹ پہن کر یونیورسٹی نہیں آ سکیں گے۔ اس کے علاوہ لڑکیوں کو یہ بھی ”حکم“ ملا ہے کہ وہ دوپٹے کے ساتھ ”modest“ اور ”decent“ لباس پہن کر یونیورسٹی آئیں۔
یہ خبر جیسے ہی میڈیا پر آئی تو پاکستان کے لوگ (مرد) خوشی سے پھولے نہ سما سکے۔ مجھے لگا تھا ان کا موقف وہی ہو گا جو مسکان خان کے کیس میں تھا لیکن نہیں۔ ہمارے مردوں (م کے اوپر زبر ہے پیش نہیں) نے گورنمنٹ کالج کے اس دقیانوسی فیصلے کا خوب خیر مقدم کیا۔ اس دوغلے پن کے بارے میں کچھ دوستوں سے استفسار کیا تو معلوم ہوا یہ وہ لوگ ہیں جو ہندوستان کو سیکولر اور پاکستان کو اسلامی ریاست کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
فرانس میں برقعے پر پابندی لگ جائے تو ہم ذاتی آزادی کے ورد الاپنے لگ جاتے ہیں لیکن اپنے ملک میں لباس کی آزادی سلب ہو جائے تو ہمارے منہ کو تالا لگ جاتا ہے۔ تُرکی کے سکولوں میں بچیوں کے سروں سے سکارف کھینچ لیے جائیں تو ہمیں انسان کی آزادی ختم ہوتی نظر آتی ہے لیکن لاہور کے کالجوں میں زبردستی نقاب پہنایا جائے تو یہ ہمیں اسلام کی فتح نظر آتی ہے۔
ایسا کیوں ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان میں تمام مذاہب کو آزادی ملے، کوئی بابری مسجد نہ گرے، کسی مسکان کے سر سے دوپٹہ نہ ہٹے، گوشت کھانے پر کسی کو لٹکا کر مارا نہ جائے لیکن پاکستان میں ہم اپنے مذہبی اور ثقافتی اقدار کو سب لوگوں پر تھوپنا چاہتے ہیں۔
ہمیں مسکان کے سر سے زبردستی نقاب اتارنا غلط لگتا ہے تو ہم زبردستی نقاب پہنانے کو کیوں غلط نہیں سمجھتے؟ اگر کالج کے پاس نقاب ہٹانے کا حق نہیں تو اس کے پاس جینس ہٹانے کا حق کیوں ہے؟
یونیورسٹی میں پڑھنے والے بچے نہیں ہوتے، ان کو علم ہے کہ کیا پہننا ہے اور کیا نہیں۔ ہم کیوں اپنے نوجوانوں کو پنپنے نہیں دیتے، پھلنے پھولنے نہیں دیتے، اپنے فیصلے خود کرنے نہیں دیتے؟ اگر ہم اتنی چھوٹی سی بات کو لے کر ان پر اعتماد نہیں کر سکتے تو کیا ہم کل کو ملک ان کے حوالے کر سکتے ہیں؟
وہ جوان جو آئینی طور پر ووٹ دینے کا حق رکھتا ہے، شادی کرنے کا حق رکھتا ہے۔ یہ کیسی احمقانہ بات ہے کہ اس کے پاس اپنی مرضی کا لباس پہننے کا حق نہ ہو؟ وہ گورنمنٹ کالج جو اب تک ”diversity“ کو سیلیبریٹ کرنے کی باتیں کرتا تھا اب وہ کند چھرا لے کر اسی تنوع کی شہ رگ کو کیوں کاٹ رہا ہے؟
کیا ڈائیورسٹی کا مطلب صرف پٹھانوں، بلوچوں، پنجابیوں، سندھیوں اور کشمیریوں کا ایک ساتھ رہنا ہے؟ ہم فہم کی، لباس کی، عقل کی، علم کی اور ایکسپریشن کی ڈائیورسٹی کو کب قبول کریں گے؟
ہمیں یہ کون آ کر سمجھائے گا کہ modest اور decent لباس کیا ہوتا ہے؟ کیونکہ جو لباس لاہور میں ڈیسنٹ ہے وہ لباس پشاور میں فحش شمار ہوتا ہے اور جو لباس پشاور میں ڈیسنٹ ہے اسے کابل میں پہننے پر سزائیں ملتی ہیں۔
ہم کیسے پندرہ ہزار طلبہ سے توقع رکھ سکتے ہیں کہ ان کے نزدیک decent اور vulgar کا وہی مطلب ہو جو ہماری بوسیدہ لغت میں صدیوں سے لکھا ہے؟ جی سی یونیورسٹی اس پردے کی آڑ میں اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے جسے اکیسویں صدی کے باشعور نوجوان کبھی قبول نہیں کریں گے۔
گورنمنٹ کالج کے طلبہ کو اپنی مرضی کا لباس پہننے کا اتنا ہی حق ہے جتنا مہاتما گاندھی کالج کی مسکان خان کو تھا۔ زبردستی نقاب اتارنے والے اور زبردستی نقاب پہنانے والے دونوں انتہا پسند ہیں کیونکہ مسئلہ لباس کا نہیں ہے، مسئلہ زبردستی کا ہے۔



شخصی آزادی اور مذہبی آزادی میں ایک بڑا فرق ہے۔
مسکان خان نے نقاب اپنی مذہبی آزادی کے لئے پہنا تھا نا کہ انفرادی حیثیت میں۔
کیا سکھوں کو اسی ادارے میں کھیس، کرپان، ککے کی اجازت ہے یا نہیں۔ متعدد ایئرلائن میں کرپان رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی کہ اسے اسلحے کے طور پر لیا جاتا ہے اور سکھ اس کو خود سے الگ کرنا برا سمجھتے ہیں۔
دوسری بات یہ بھی ہے کہ یہ ہدایت ایک خاتون وائس چانسلر نے جاری کی ہیں جو یورپ کی پڑھی لکھی ہیں۔
سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا یہ مشکل صرف لڑکوں کے لئے ہے یا لڑکیوں کے لئے۔ تو سب کے لئے ہے۔
بالفرض ہم ڈریس کوڈ ختم کردیتے ہیں تو کیا لڑکے شارٹس پہن کر اور لڑکیاں نائٹی یا نہانے کے کپڑے پہن کر آسکیں گی؟
کیا آپ کے علم میں ہے کہ آپ سڑک پر بھی ایسے کپڑے پہن کر نہیں گھوم سکتے جس سے دوسروں کے لئے مسائل پیدا ہوں۔ جامعہ کے وائس چانسلر کے پاس مختلف اختیارات ہوتے ہیں اور وہ اس کی رو سے ایسی ہدایات جاری کرسکتے ہیں۔
اب آپ خود کو لے لیں۔
نام سے آپ ایک مسلمان لگتے ہیں۔ مجھے آپ کے لمبے بالوں سے جو شاید رنگ لگاکر سرخ کئے گئے ہیں کوئی اعتراض نہیں۔ مگر ایسے مسلمان مرد حضرات پر سخت لعنت بھیجی گئی ہے جو عورتوں سے مشابہت اختیار کریں چاہے وہ ہیجڑا بن کر ہو یا اس طرح بال بڑھا کر کہ پیچھے سے کوئی اندازہ ہی نہ لگاسکے کہ سامنے والا ہی ہے یا شی۔ لیکن یہ اپ کا اختیار ہے۔ اور یہی انفرادی آزادی ہے۔
لیکن آپ کی انفرادی آزادی کسی کے لئے مشکلات کا اگر سبب کھڑی کردے تو قانون اور قواعد کی ضرورت پیدا
ہوجاتی ہے۔
میڈیکل کالجز میں زیرتربیت طالب علموں کو کہا جاتا ہے کہ ہر وقت لیب کوٹ پہن کر رہیں چاہے مریض نہ بھی دیکھ رہے ہوں یا لیب میں ہوں۔ اب اس لیب کوٹ کے نیچے طالب علم نے کیا پہن رکھا ہے اس سے کیا فرق پڑا ؟
متعدد یورپی ممالک کی جامعات میں ڈریس کوڈ کا نفاذ ہے اور یہ کوئی نیا انوکھا کام نہیں ہوا ہے۔
مسکان خان کے معاملے میں بھی لوگوں نے جذباتی ہوکر فیصلے لئے۔ وہاں مسئلہ دہشت گردی تھا۔ جس کی وجہ سے چہرہ ڈھانپنے یا چھپانے پر پابندی تھی۔
کیا کبھی امریکہ یا یورپ جانے والوں سے پوچھا ہے کہ ان کی تصویر کیسے کھینچی جاتی ہے؟ اس وقت کیوں شور نہیں مچاتے۔
چہرے کو مکمل چھپانے کا اسلام سے تعلق نہیں ۔ کوئی اس طرح کا پردہ کرنا چاہے تو اس کی ممانعت بھی نہیں مگر اس کا اسلام سے تعلق نہیں ہے۔
مسکان خان نے جو انتہائی قدم اٹھایا وہ اس کا اپنا فیصلہ تھا۔