گلزار پاویل اور لائل پور کے دوسرے ادیب


حلقہ ارباب ذوق فیصل آباد کے الیکشن ہوئے اور ڈمی امیدوار جیت گیا، اصل امیدوار کے ہارنے کی وجہ ڈمی امیدوار کی مقبولیت قرار پائی۔ بادشاہ گر سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ ان دنوں حلقے کے اجلاس محفل ہوٹل میں منعقد ہوتے تھے۔ اس الیکشن کی تفصیلات بیان کرنا راقم افورڈ نہیں کرتا ہے۔ اس پاداش میں حلقہ راندۂ درگاہ ہو گیا۔ آخر تھری سٹار ہوٹل کے مینجر ملک بشارت نے پناہ دینے کی ہامی بھر لی۔ وہ علمی و ادبی شخصیت کا مالک تھا۔ کسی بھی موضوع پر بے تکان گفتگو کر سکتا تھا۔ اس کے علاوہ بیک وقت ایک ہی موضوع کی حمایت اور مخالفت میں دلائل دینے پر قادر تھا۔

ان دنوں وی سی آر خواص کی محفل میں اپنا بھرم کھونے کے بعد عوام میں ٹکے ٹوکری دیکھا جا رہا تھا۔ سینما گھر اجڑ رہے تھے اور ہر کیفے منی سینما گھر بن گیا تھا۔ پانچ روپے میں آپ چائے سمیت اڑھائی تین گھنٹے انڈین فلم سے لطف اندوز ہو سکتے تھے۔ زمانہ تھوڑا بدلا اور ڈش آ گئی۔ ڈش انٹینا کے سو سے زائد چینلز نے دل و جان میں کھلبلی مچا دی۔ تھری سٹار ہوٹل میں ڈش لگنے سے تفریح کا ذریعہ ہاتھ آ گیا۔ یہ شہر کے کسی ہوٹل میں لگنے والی پہلی ڈش تھی۔ صبح سے رات گئے تک فنون لطیفہ سے متعلق لوگ یہاں جمع رہتے تھے۔ شام کو وکلا اور پروفیسرز کے گروپس آتے تھے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک بار ایک گانے کے سین پر لا حول ولا قوۃ پڑھتے ہوئے ایک بزرگ وکیل نے پوچھا ”یہ انڈین ہے یا پاکستانی؟“ بتایا گیا کہ انڈین، بے ساختہ کہنے لگے ”اچھا، پھر دیکھتے ہیں۔ “

ملک بشارت کے لاہور جانے کے بعد میاں واصف نے ہوٹل ٹھیکے پر لے لیا۔ اس دوران میں کئی گرم و سرد موسم آئے اور گزر گئے۔ اجلاس جاری رہے۔ کبھی کبھی میاں واصف نالاں ہو کر حلقہ ارباب ذوق کا نوٹس بورڈ اتروا دیتا۔ مگر فضل حسین راہی کے کہنے پر دوبارہ آویزاں کر دیا جاتا۔ میاں واصف سے کسی نے عدم تعاون کی شکایت کی تو کہنے لگا ”جتنے پیسوں کی اجلاس میں چائے پی جاتی ہے۔ اس سے زیادہ بجلی کا خرچ آتا ہے۔ اس سے زیادہ اور تعاون کیا ہو گا اگر کسی اجلاس میں ادیب کم آئیں تو میں تعداد پوری کرنے کے لیے ہوٹل کے بیرے بٹھا دیتا ہوں“

تنقیدی اجلاسوں میں جانب داری، ادبی چشمک اور بے جا تحسین عام دیکھنے میں آتی تھی۔ سخت اختلافات اور تند و تیز جملوں کے باوجود اجلاس کے اختتام پر ادبا اکٹھے بیٹھ کر چائے پیتے اور قہقہے لگاتے تھے۔ کوئی اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ ان کے درمیان تھوڑی دیر پہلے سر پھٹول ہوتے ہوتے رہ گئی ہے۔ ان دنوں میں سیکریٹری تھا جب میں نے ڈاکٹر افضال احمد انور سے صدارت کی استدعا کی۔ انھوں نے کہا ”میں تو وہاں کبھی نہیں گیا اور مجھے پتا چلا ہے کہ وہاں لڑائی ہو جاتی ہے، میں صدارت نہیں کروں گا“ میری بار بار استدعا پر وہ مان گئے۔

اجلاس حسب معمول شروع ہوا اور تھوڑی دیر بعد دو سینئر ادبا میں اختلاف بڑھتے بڑھتے لڑائی کی شکل اختیار کر گیا۔ کوئی بھی گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا۔ اجلاس ختم کرنا پڑا اور میں سوچتا رہ گیا۔ یہ لڑائی بھی اسی اجلاس میں ہونا تھی۔ اگلے اجلاس میں مجلس عاملہ کے تعاون سے قرار داد منظور کر لی گئی اور دونوں سینیئر ادبا کے ایک ماہ اجلاس میں شرکت پر پابندی لگا دی۔ حلقے کی تاریخ میں پہلی بار ایسی پابندی عائد کی گئی تھی مگر ایک ماہ سے پہلے ہی دونوں ادیب دوبارہ اجلاس میں آ گئے اور آپس میں تعلقات بھی بحال ہو گئے۔ البتہ دونوں کی حمایت میں ایک دوسرے سے الجھنے والے تا دیر رنجیدہ خاطر رہے۔

اجلاس کی ترتیب میں ایک دوسرے سے موافقت رکھنے والے ادبا کی صدارت اور تخلیقات کو ملحوظ رکھا جاتا ہے مگر بعض اوقات دلچسپ صورت حال پیدا ہو جاتی۔ ان دنوں مقصود وفا سیکریٹری اور میں جوائنٹ سیکرٹری تھا۔ ریاض مجید کے ساتھ ایک شام عدیم ہاشمی کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ عدیم لاہور سے آئے اور وقت سے پہلے ہوٹل پہنچ گئے۔ نوٹس بورڈ پر اپنی صدارت کے ساتھ بحیثیت مہمان خصوصی ایک ناپسندیدہ شاعر کا نام پڑھ کر سخت غصے میں آ گئے اور ہوٹل کے مینجر میاں واصف سے کہنے لگے ”مقصود وفا کو بتا دینا کہ میں آیا تھا اور ریلوے سٹیشن جا رہا ہوں“ ان دنوں موبائل فون نہیں ہوتا تھا، میاں واصف نے مقصود وفا کو پی ٹی سی ایل فون پر صورت حال سے آگاہ کر دیا۔

مقصود وفا بھاگم بھاگ ریلوے سٹیشن پہنچا (آپ مقصود وفا کی بھاگم بھاگ کا خود اندازہ لگا سکتے ہیں) اور عدیم ہاشمی کو پکڑ لیا۔ بڑی مشکل سے منا کر جب ہوٹل واپس آ گئے تو مقصود وفا نے کہا ”عدیم صاحب! اگر لائل پور کے بجائے کوئی اور شہر ہوتا تو کسی نے آپ کو لینے سٹیشن پر نہیں جانا تھا“ عدیم ہاشمی مسکرائے اور بولے ”اگر کوئی اور شہر ہوتا تو میں نے ناراض ہو کر جانا بھی نہیں تھا۔“

عدیم ہاشمی

شہر کے سینما گھروں میں فلموں کی نمائش کم ہو کر آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی تھی۔ اس کی ایک وجہ سٹیج ڈرامے کی مقبولیت قرار دی جا سکتی ہے۔ ڈرامے کی بیرون شہر کاسٹ کا زیادہ تر قیام تھری سٹار ہوٹل میں ہوتا تھا۔ چند دن کے لیے ہوٹل نقرئی قہقہوں سے گونجنے لگتا تھا اور شعرا کی تخلیقات میں غیر معمولی اضافہ دینے میں آتا۔ کبھی کبھی ڈرامہ آرٹسٹ ہال میں آ کر بیٹھ جاتے تھے اور تنقیدی اجلاس کا دلچسپی سے نظارہ کرتے تھے۔ بعض اوقات مکالمہ بھی ہوتا تھا مگر نقرئی قہقہے سنہری لفظوں کی معنویت سے آگاہ نہیں تھے۔ یوں لفظ اپنی قدرو قیمت کھو دیتے اور قہقہے ہوٹل کی سیڑھیاں اُتر کر کسی گاڑی میں روانہ ہو جاتے۔

شاکر غوری چھوٹے قد کا دل چسپ انسان تھا۔ دوست احباب چھیڑ چھاڑ کرتے اور وہ خوش دلی سے برداشت کرتا تھا۔ وہ غصے میں آتا تو مسلسل سگریٹ پیتا رہتا مگر خاموش رہتا۔ وہ چھوٹے قد کا تھا مگر اُس کے بھائی نارمل تھے۔ ایک دن میں نے پوچھا ”آپ کے بھائی بھی چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں؟“ بولا ”نہیں، وہ دانش ور نہیں ہیں“ وہ عینک لگاتا تھا جو اُس کے چہرے پر خاصی مضحکہ خیز لگتی تھی۔ ایک بار ایک شاعر نے کہا ”شاکر صاحب! عینک لگا کر آپ بالکل بندر معلوم ہوتے ہیں۔“ وہ بے ساختہ بولا ”صاحب! بہت مجبوری ہے اگر میں عینک اتار دوں تو آپ مجھے بندر نظر آتے ہیں۔ “ (یہ مکالمہ شہزاد احمد اور صوفی تبسم کے مابین بھی سننے میں آیا ہے)۔ وہ حلقہ ارباب ذوق کی رونق تھا۔

فضل حسین راہی دو بار ایم پی اے منتخب ہوئے۔ وہ درویش صفت انسان تھے۔ پہلی بار آزاد امیدوار کی حیثیت سے اسمبلی میں پہنچے اور پھر پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔ بھٹو سے محبت کرتے تھے۔ انھوں نے پنجاب اسمبلی میں صدر ضیا الحق کو فوجی یونیفارم میں تقریر کرنے پر شدید احتجاج کیا تھا اور گرفتار ہو گئے۔ جب وہ فیصل آباد میں ہوتے تو ہر اجلاس میں باقاعدگی سے شریک ہوتے تھے۔ وہ عملی سیاست سے کنارہ کشی کے بعد مستقل طور پر تھری ہوٹل میں بیٹھ گئے۔ وہ دوستوں کے مابین وجہ دوستی تھے۔ ڈیڑھ مرلے کے گھر سے دو بار ایم پی اے منتخب ہوئے اور اسی ڈیڑھ مرلے کے گھر سے سفر آخرت پر روانہ ہو گئے۔ اپنی موت سے پہلے وہ حلقہ ارباب ذوق کے بلا مقابلہ سیکریٹری منتخب ہونے کے خواہش مند تھے۔ جانے کیوں کچھ ادبا نے اُن کی اس خواہش کو پورا نہیں ہونے دیا۔

گلزار نے گورکی کا ناول ماں پڑھا اور پاویل کو اپنے نام کا حصہ بنا لیا۔ گلزار پاویل سارا دن شہر کے مختلف علاقوں میں چائے خانوں پر طبقاتی نظام کے خاتمے کے لیے لیکچر دیتا تھا۔ اسے مختلف کتابوں کے اقتباسات ازبر تھے۔ جنھیں وہ موقع بہ موقع سناتا رہتا تھا۔ وہ آسانی اور روانی سے اظہارِ کر سکتا تھا۔ کبھی کبھی ایک اقتباس دوسرے اقتباس سے مکس ہو جاتا تھا۔ یوں اقتباس اینگلو انڈین بن جاتا تھا۔ وہ اپنے نظریات میں بے حد پختہ تھا۔ دوست کہتے ہیں کہ ایک ذاکر کے بار بار حسین بادشاہ کے جواب میں گلزار پاویل نے یزید کامریڈ زندہ باد کا نعرہ لگا دیا تھا۔ فیصل آباد سے ایک قومی اخبار کا اجرا ہوا تو اس نے اسے جوائن کر لیا۔ ایک ناگہانی حادثے نے اسے ہم سے چھین لیا۔

Gulzar Pavel

صبح سے شام تک ادبا یہاں بیٹھے رہتے تھے۔ سال کے سارے موسموں میں تھری سٹار آباد رہتا تھا۔ رات کو نشست چھت پر ہوتی تھی۔ گرمیوں میں کھلی فضا کا لطف اٹھایا جاتا۔ یہاں خاص سگریٹ کی عام سہولت حاصل تھی۔ چھت سے گھنٹا گھر کا نظارہ کیا جا سکتا تھا۔ صبح سے رات گئے تک ویلے بیٹھنے والے کاروبار زندگی کے بجائے کائنات کے اسرار و رموز کو سمجھنے کی سعی کرتے تھے۔ زمانے کی تیز رفتار ترقی کا گزشتہ سے موازنہ کرتے تھے مگر خود ترقی کے خواہاں نہ تھے یا انھیں اس کا احساس ہی نہ تھا۔

عمل سے محروم حکمت و دانائی مصیبت بن جاتی ہے۔ ہم سب اس مصیبت کو سر پر اٹھائے وقت کے دھارے میں بہتے جا رہے تھے۔ وقت گزرنے کا احساس بھی نہ ہوتا تھا۔ نشہ سا طاری رہتا تھا، فراموش واقعے کی صورت زندگی گزر رہی تھی۔ ساری دنیا کی خبر تھی صرف اپنی طرف توجہ مبذول نہیں ہوتی تھی۔ روزانہ نشستوں نے کئی قابل لوگوں کو ضائع کر دیا۔ ضائع ہونے سے بچ جانے والوں میں مینجر اور ہوٹل کے بیرے شامل ہیں۔ روز کوئی نیا موضوع ہمارا منتظر ہوتا اور ہم اپنے اپنے فکری حصار میں رہ کر گفتگو کرتے رہتے۔ اپنی نشست سے جو دکھائی دیتا اسی پر قانع تھے۔ کبھی ذہن میں خیال ہی نہ آتا کہ نشست بدل کر کہیں اور بیٹھ جائیں، وہاں سے زندگی کا نظارہ کریں۔

یاد آیا بہت سے احباب کی نشستیں مختص تھیں۔ ( جیسے پاک ٹی ہاؤس میں انتظار حسین اور زاہد ڈار کی نشستیں ) وہ روزانہ ایک ہی جگہ پر آ کر بیٹھتے تھے اگر پہلے سے کوئی شخص بیٹھا ہوتا تو نشست کنندہ کو دیکھ کر فوراً اُٹھ جاتا تھا۔ کئی لوگ چلے گئے ہیں اور وہ کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ ان کی نشستیں خالی ہو گئی ہیں۔ آس لدھیانوی، ڈاکٹر امداد حسین امداد، رشید مصباح، مقبول اختر، طالب جالندھری، فضل حسین راہی، گلزار پاویل، شاکر غوری، میاں ہدایت، اشفاق بخاری، پروفیسر عارف رضا، واصل ہاشمی، احمد شہباز خاور، اقبال اختر، قاری اکبر صاحب، چودھری صفدر ایڈووکیٹ، ملک اکرام محی الدین، سمیت بہت سے احباب یاد آ رہے ہیں۔

مختلف ادوار میں مختلف لوگ روزانہ کی بنیاد پر جمع ہوتے تھے۔ کوئی عرصے کے لیے غائب ہو جاتا تو پتا بھی نہ چلتا تھا کہ کوئی نہیں آتا ہے۔ وہ آتا تو اسے کچھ بھی بدلا ہوا محسوس نہ ہوتا، کبھی گماں نہ ہوتا کہ وہ کتنا عرصہ غائب رہا ہے۔ مستقبل بیٹھنے والے بھی اُس کی آمد کا نوٹس نہ لیتے تھے۔ اگر چہ شہر تیزی سے بدل رہا تھا لیکن ہوٹل کے اندر زندگی ٹھہری ہوئی تھی۔ یہاں بیٹھنے والے کسی تبدیلی کو خاطر میں لائے بغیر اپنی دنیا میں مگن تھے۔

رشید مصباح

حلقے کے الیکشن ہوتے تو ہوٹل میں گہما گہمی بڑھ جاتی۔ ادیبوں کی آمد سے عید کا سماں ہوتا۔ حلقے کے مزاج سے مطابقت نہ رکھنے والے مشاعرے کے شعرا سے ملاقات ہوتی تو ایسا لگتا کہ جیسے انھیں پہلے بھی کہیں دیکھا ہوا ہے۔ پاکستانی سیاست کی طرح حلقے کی سیاست بھی تماش بینوں میں گھری ہوئی تھی۔ فکری و نظریاتی اختلافات کے بجائے ذاتی رنج کھل کر سامنے آتے تھے اور اس رنج میں احساس و مروت، مہر و اخلاص اور اخلاق و کردار اپنے معانی کھو دیتے تھے۔ ویسے انسان رنج سے خوگر ہو جائے تو غالب امکان یہی ہے کہ رنج مٹ جاتا ہے۔

ایک دن چھت پر بیٹھے تھے کہ زلزلہ آ گیا۔ سب نے اونچی آواز میں کلمہ پڑھنا شروع کر دیا۔ میں زلزلے سے خوف زدہ اور کلمہ طیبہ کے ورد سے حیرت زدہ ترقی پسند دوستوں کی شکلیں تکتا رہا۔ مجھے ایک ترقی پسند دوست رشید مصباح کا سامعین کو متاثر کرنے کے لیے بولا جانے والا یہ جملہ یاد آ گیا ”خدا کی قسم میں اللہ کو نہیں مانتا ہوں“

ڈش پر عموماً فلمیں، خبریں اور سپورٹس سے متعلق چینل دیکھے جاتے تھے۔ سی این اور بی بی سی خاص اہمیت رکھتے تھے انھی دنوں پی ٹی وی سے ناتا ٹوٹا جو آج تک بحال نہیں ہو سکا ہے۔ پی ٹی وی بچپن کا دوست ہے جو جوانی کے نئے چینلز کی وجہ سے خوشگوار یاد تک محدود ہو گیا ہے۔ ڈش کے فیوض و برکات کی وجہ سے ہم محبت کے فرنچ سٹائل سے متعارف ہوئے ورنہ ہماری فلموں نے ہمیں دو پھولوں کے قریب آنے سے زیادہ کچھ نہ بتایا تھا۔

بیرون ملک سے عموماً سردیوں میں افتخار نسیم، مسعود قمر، افضال نوید، سلیم آذر اور دیگر حلقے کو رونق بخشتے تھے۔ افتخار نسیم کی متنازع موضوعات پر مبنی تخلیقات سے حاضرین متاثر کم اور متفکر زیادہ ہوتے تھے۔ مسعود قمر کو شعری نشستوں سے زیادہ حلقے کے الیکشن سے زیادہ دل چسپی ہوتی تھی۔

حلقہ کے اجلاسوں میں بیرون شہر سے ادبا بھی شریک ہوتے تھے۔ احمد فراز، انتظار حسین، پروفیسر رضی عابدی، شہزاد احمد، نجیب احمد، احسان اکبر، ظفر اقبال، عامر فراز، حسین مجروح سمیت کئی معروف ادبا نے تھری سٹار ہوٹل کو رونق بخشی ہے۔ اسے لاہور کا پاک ٹی ہاؤس گردانا جاتا تھا۔ جہاں ہر وقت بیرون شہر سے آنے والے ادبا کو مقامی ادبا سے ملاقات کا یقین ہوتا تھا۔ کم و بیش تیس سال اجلاس کے انعقاد کے بعد بوجہ حلقہ ارباب ذوق فیصل آباد کے اجلاس پریس کلب فیصل آباد میں منتقل ہو گئے ہیں مگر تھری سٹار ہوٹل اب بھی ہماری دھڑکنوں میں سنائی دیتا ہے۔

Facebook Comments HS