قطر میں تین دن۔ سفر نامہ


16 اگست کو دوحہ فضائی اڈے پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ قطر دنیا کے چند ان ممالک میں سے ہے جو پاکستانیوں کو بغیر فیس کے ویزا آن ارایول فراہم کرتا ہے اور وہ بھی انتہائی عزت و احترام کے ساتھ۔ قطری احکام نے صرف ہماری ہوٹل ریزرویشن کنفرم ہونے پر ہم سے معلوم کیا کہ ہماری واپسی کی ٹکٹ کب کی ہے جب ہم نے تیسرے دن کا بتایا تو انہوں نے ہمیں پانچ دن کا ویزا جاری کرتے ہوئے ویلکم ٹو قطر کہا۔ ائرپورٹ سے باہر نکلے تو دو طرح کے پاکستانی ملے پہلا وہ جس نے ہمیں اجنبی جانتے ہوئے ہم سے سات کلومیٹر کا ایک سو ریال کرایہ طلب فرمایا اور دوسرے لاہور کے محمد عظیم صاحب جنہوں نے صرف اس وجہ سے ہمیں مفت ہمارے ہوٹل ڈراپ کیا کیونکہ ہم بھی لاہور سے تھے۔

قطر جانے سے پہلے ہمارے ذہن میں صرف ”قطری خط“ کے مندرجات نقش تھے مگر وہاں جا کر معلوم ہوا کہ ”ویسے خطوط“ انہیں نے صرف ہم جیسے ممالک لے لئے رکھے ہوئے ہیں اور اپنے ملک کو وہ لاء اینڈ آرڈر، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق کے تحفظ، کاروبار کے یکساں مواقع، عظیم میوزیم، بہترین کتب خانوں، آزاد خیالی، کمال کی ٹریفک مینجمنٹ، قابل رشک انفراسٹرکچر، سستی بجلی، تیز رفتار انٹرنیٹ جیسی تمام خوبیوں سے چلاتے ہیں۔ عظیم قومیں اپنا ماضی نہیں بھولتی اس وقت سچ لگا جب نیشنل میوزیم آف قطر میں ریت کے ٹیلوں میں زندگی کی تلاش میں در بدر ہونے سے آج کے قطر تک کا سارا سفر بچشم خود دیکھا۔

چند سالوں کی ریاست نے کیا کیا ہو گا کہ حماس کا رہنما اسماعیل ہنیہ کئی سالوں تک قطر میں مقیم رہتا ہے مگر اسرائیل اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا اور طالبان و امریکہ کو بھی پوری دنیا میں قطر سے محفوظ جگہ مذاکر ات کے لیے نہیں ملتی۔ گرمی میں تپتا قطر فیفا کا ورلڈ کپ کروا لیتا ہے اور ہر طرح کا بہترین موسم رکھنے والے میرے ملک میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم بھی آنا پسند نہیں کرتی۔ ٹریفک کنٹرول کا اندازہ لگائے کہ ہمارے ایک میزبان کو اسی رات ایک بجے خالی روڈ پر ”نو پارکنگ“ میں صرف دس منٹ گاڑی پارک کرنے پر بھی جرمانہ ہوا۔

وہاں زیبراکراسنگ کے علاوہ سڑک کراس کرنے پر پیدل سفر کرنے والوں کو بھی جرمانہ کیا جاتا ہے۔ ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی پر تین ہزار ریال جرمانہ ہے جو پاکستانی تقریباً اڑھائی لاکھ سے زیادہ بنتا ہے شاید یہ ہی وجہ ہے کہ میں نے لال سگنل پر کسی گاڑی کا بمپر بھی لائن کو ٹچ کرتے نہیں دیکھا۔ مساجد ایسی خوبصورت اور صاف ستھری کہ کافر کا بھی نماز پڑھنے کو دل کرے، صف پر ہر نمازی کے لیے الگ ٹشو پیپر تک موجود، ہوٹل کے کمرے میں بھی قرآن مجید اور جائے نماز موجود تھی مگر ہوٹل میں تقریباً پانچ کلب بھی موجود تھے تاہم کنٹرول ایسا کہ کلب کی آواز آپ کے کمرے میں نہیں آ سکتی اور آپ کی عبادات کا اشارہ کلب تک نہیں جا سکتا۔

ساحل سمند پر واقع میوزیم آف اسلامک آرٹ اور اس سے ملحقہ لائبریری اپنی مثال آپ ہے، آغاز اسلام سے آج تک کے پوری دنیا میں موجود اسلامک آرٹ کو جس خوبصورتی سے ڈسپلے کیا گیا ہے یقیناً وہ ایک قابل رشک عمل ہے۔ لائبریری کے استقبالیہ پر چند کتب ایک ٹرے میں بڑی ترتیب سے رکھی ہیں اور ٹرے کے اوپر لکھا ہے ”فری بکس“ یعنی وہاں سے اپنی مرضی سے آپ کتب بطور تحفہ اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ معاشرہ میں کتب بینی کی اس سے اچھی کوشش کیا ہو سکتی ہے۔

پورے شہر میں عمارتوں کا دو تین رنگوں کے علاوہ کوئی رنگ نہ ہے جو شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے۔ اپنے دوست کاشف عمران اور آصف صاحب کی وی ایٹ سپیشل ایڈیشن میں بیٹھ کر اندازہ ہوا کہ گاڑی کے اندر کتنا ہی گند کیوں نہ ہو جائے سڑک پر کچھ بھی پھینکنے کی ہمت لوگوں میں نہیں۔ قطر کا حماد ہوائی اڈہ بھی اپنے اندر پورا شہر سمائے ہوئے ہے، چارجر سے لے کر موبائل اور ویل چئیر سے لے کر کار تک ہر چیز آپ خرید سکتے ہیں، ہوائی اڈے کے اندر ٹرین چلتی ہے، بیک وقت درجنوں پروازیں اور ہزاروں لوگ بغیر کسی پریشانی اور سکون سے ڈیل ہو رہے ہیں۔

چارچنگ پوئینٹس، مسجد وغیرہ مسافر کی ضرورت کا سارا سامان موجود ہے۔ ہمارے ایک پرانے دوست سید قاسم صاحب وہاں ایک فائیو سٹار ہوٹل کے مینجر آپریشن ہیں میں نے انہیں درخواست کی کہ آپ یہاں پاکستانیوں کو نوکریاں دے تو فرمانے لگے کہ کیا کریں ہمارے لوگوں کو مادری زبان کے علاوہ کوئی زبان تک نہیں آتی اور ان کی ڈیمانڈ ہوتی کہ انہیں جنرل مینجر رکھ لے جبکہ باقی ملکوں سے آنے والے لوگ پانچ چھ زبانیں جاننے کے باوجود ریسپشنسٹ اور لوئر لیول پر نوکری کرنے کو تیار ہوتے ہیں جس پر میں نے از راہ تفنن کہا کہ ہمارے صاحبان اقتدار نے تو چار پانچ زبانیں سمجھنے کا دعویٰ کرنے والے شخص کو آج کل ملک کا وزیراعظم بنا رکھا ہے، اب ہمیں خود اور ہماری حکومتوں کو روایتی تعلیم سے ہٹ کر لوگوں کو ہنر مند بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

قطر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو پاکستان ایمبیسی سے بھی بہت شکوے ہیں۔ ہمارے فارن آفس اور ایمبیسیز کو خیال کرنا چاہیں اور بیرون ملک پاکستانیوں کو اپنے بچوں کی طرح فسیلیٹیٹ اور وہاں کاروبار میں ایڈجسٹ کرنا چاہیں۔ ہمارے دوسرے دوست حافظ ثاقب صاحب نے ایک شاپنگ مال کے وزٹ میں ہمیں ایک ایسی مشین سے متعارف کروایا جو پارکنگ ایریاز کے قریب نصب تھی اور آپ کو آپ کی گاڑی چند سیکنڈ میں لوکیٹ کر کے بمعہ تصویر دیتی ہے، آئی ٹی کا ایسا استعمال یقیناً حیران کن تھا کیونکہ ہمارے ہاں تو انسان گم ہو جائے یا اٹھا لیے جائے تو سالوں سال نہیں ملتے۔ ہمیں چاہیں کہ ہم قطر سے ”قطری خط“ امپورٹ کرنے کی بجائے آئی، ٹی، علم اور ترقی کا راز امپورٹ کریں امید ہے ایسا کرنے سے ہمیں قطری خطوط کی ضرورت نہیں رہے گی۔

Facebook Comments HS