بلوچستان: وفاقی نا انصافی کا شکار


بلوچستان حساس ترین صوبہ بنتا جا رہا ہے۔ ملک کا غریب ترین، سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا، سب سے کم ترقی یافتہ، ایک ایسا خطہ جہاں صحت کی سہولیات کا فقدان ہو، سب سے کم شرح خواندگی، سب سے زیادہ بھوک کے شکار لوگوں کا مسکن، ملک میں سب سے زیادہ بے روزگاری کی زمین، اور بے پناہ قدرتی وسائل کا گھر ہونے، اہم ترین اسٹریٹجک اہمیت کا حامل، ملک کو وافر گیس اور کوئلہ فراہم کرنے والا صوبہ، اور سی پیک کی شہ رگ ہونے کے باوجود یہ صوبہ غیر ملکی منصوبوں، قرضوں اور گرانٹس میں اپنے حصے کے حصول میں علاقائی اور مالی عدم مساوات کی صورت میں وفاقی نا انصافی کا شکار ہے۔ ملک میں قرضے، گرانٹس اور منصوبے کس فارمولے کے مطابق تقسیم کیے جاتے ہیں، اس کا کوئی معیاری اور مناسب طریقہ کار نہیں جو سب کو مطمئن کر سکے۔

محفوظ علی خان (بلوچستان کے سابق سیکریٹری خزانہ) کے مطابق ملک کے کل قرضوں میں بلوچستان کا حصہ 2.3 فیصد سالانہ ہے۔ وفاقی بجٹ کے 2018۔ 19 کے اعداد و شمار میں، بیرونی وسائل سے قرضے اور گرانٹس دونوں کا مشترکہ رقم 319.52 بلین روپے تھے جس میں بلوچستان کا حصہ 9.23 بلین یا 2.28 % روپے تھا۔ محفوظ علی خان لکھتے ہیں کہ سال 2017۔ 18 کے دوران پاکستان کو PSDP کے لیے 333,977.877 ملین روپے بیرونی فنانسنگ کے طور پر ملے۔ اس میں سے بلوچستان کا حصہ 5,587.850 ملین روپے یا 1.6 % تھا۔ اس کے علاوہ 2010 سے 2018 تک پاکستان کو 1642.1 بلین روپے کی غیر ملکی امداد ملی جس میں بلوچستان کا حصہ صرف 24.9 بلین روپے یا کل رقم کا 1.52 فیصد تھا۔ اس کے علاوہ 2023۔ 24 کے وفاقی بجٹ میں غیر ملکی امداد، قرضے اور گرانٹس تقریباً 17.6 بلین امریکی ڈالر تھے جبکہ بجٹ سپورٹ کے لیے بلوچستان کا حصہ 17.5 ملین ڈالر تھا۔ مذکورہ قرض پاکستانی روپے میں دیا جاتا ہے جبکہ اس کی وصولی وقت کے ڈالر کی شرح کے مطابق لی جاتی ہے۔ جو کہ صوبے کا بہت بڑا مالی نقصان ہے۔ کیوں کہ قرض یا گرانٹ کی وصولی کے وقت ڈالر کی شرح میں اتار چڑھاؤ اور اضافہ ہوتا ہے۔

محفوظ علی خان مزید لکھتے ہیں کہ وفاقی حکومت کی طرف سے لیے گئے قرضوں کی واپس وصولی کا بوجھ تمام صوبوں کے لیے مساوی ہے اور بلوچستان کو بھی دوسری صوبوں کی طرح بوجھ اٹھانا پڑتا ہے کیوں کہ بلوچستان کا حصہ کم ہونے کے باوجود دوسرے صوبے کے برابر یکساں طور پر بوجھ برداشت کرتا ہے۔ کیا بلوچستان کبھی کسی صوبے کے برابر آ سکتا ہے؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آبادی، رقبہ، غربت یا ضرورت کی بنیاد پر یہ تقسیم کس معیار پر ہے؟

میں نے 2020 میں اپنے انگریزی کالم ”Desperate Balochistan“ میں لکھا تھا کہ 2020 میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مد میں بلوچستان کا حصہ 3.08 فیصد تھا۔ غریب ترین اور کم ترقی یافتہ صوبہ ہونے کے باوجود بلوچستان کا حصہ اب بھی غیر تسلی بخش ہے۔ بی آئی ایس پی کی تقسیم کا فارمولا نہ تو غربت اور نہ ہی پسماندگی پر مبنی ہے۔ افسوسناک صورتحال یہاں نہیں رکتی۔ 2017 میں وزیر اعظم نواز شریف نے یوتھ لون سکیم کا اعلان کیا جس میں بلوچستان کا حصہ 2 فیصد جبکہ پنجاب کا حصہ 75 فیصد تھا۔ وہ فارمولہ بھی نہ تو آبادی اور نہ ہی غربت پر مبنی تھا۔

پاکستان کے قیام سے ہی بلوچستان کے ساتھ نا انصافی کا آغاز ہوا۔ مثال کے طور پر، 1970 تک بلوچستان کو گیس کا کوئی سرچارج نہیں ملا، باوجود اس کے کہ اس نے ملک کے توانائی کے شعبے میں گیس کا بڑا حصہ ڈالا ہے۔ مزید برآں، آرٹیکل 172 ( 3 ) کے مطابق 18 ویں ترمیم کے بعد جس میں کہا گیا ہے کہ ”معدنی تیل اور قدرتی گیس صوبے کے اندر یا اس سے ملحقہ علاقائی پانی مشترکہ طور پر اور یکساں طور پر اس صوبے اور وفاقی حکومت دونوں کا یکساں حصہ ہو گا۔“ اس آرٹیکل کے مطابق بلوچستان میں پیدا ہونے والے وسائل میں پچاس فیصد حصہ ملنا ہے لیکن پچاس فیصد حصہ ملنے کا خواب، خواب ہی بن کر رہ گیا ہے۔

سی پیک جس کی شہ رگ بلوچستان ہے اس میں صوبے کو ایک بار پھر نظر انداز کیا گیا ہے جہاں اس کا حصہ 5 فیصد کے لگ بھگ رہا ہے۔ مثال کے طور پر سی پیک میں گرڈ سٹیشنوں کے 13 مجوزہ منصوبے ہیں جن میں کوئی بھی بلوچستان میں نہیں ہے۔ مجموعی طور پر بلوچستان میں صرف ایک خصوصی اقتصادی زون قائم کیا جائے گا جبکہ 500 کلو واٹس کی دو ٹرانسمیشن لائنوں میں بلوچستان کا حصہ صفر ہے۔ شاہراہوں کے منصوبوں میں بلوچستان کو قابل قبول حصہ نہیں دیا گیا جس کا وہ حقدار تھا۔

اگرچہ صوبائی حکومتیں صوبے کے واجب الادا حصہ پر سمجھوتہ کر کے ذمہ دار رہی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومتیں بھی ذمہ دار رہی ہیں۔ ایک وفاقی اکائی اور کثیر القومی معاشرے میں وفاقیت کو مضبوط کرنے کے لیے علاقائی اور مالی مساوات ضروری ہیں۔ اگر برابری ممکن نہیں لیکن کم از کم غربت اور اپنے وسائل کے مطابق اس کا حصہ اور صوبے کی پسماندگی پر غور کیا جائے۔ بلوچستان کے حالات کی حساسیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ معاشی اور علاقائی نا انصافی کو روکا جائے اور اسے انصاف میں تبدیل کیا جائے۔

 

Facebook Comments HS