آج میں ایک ایسے سنگین مسئلے پر بات کرنے جا رہا ہوں جو ہمارے ملک کی ترقی اور عوامی زندگی پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ یہ مسئلہ ہے ”پاکستان میں بڑھتا ہوا توانائی بحران“ ۔ توانائی کی کمی وہ چیلنج ہے جس کا ہم برسوں سے سامنا کر رہے ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہمارے پاس کوئی موثر حکمت عملی موجود نہیں۔

توانائی کا بحران ہمارے ملک کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کر رہا ہے۔ سب سے پہلے، ہمیں بجلی کی ترسیل کے نظام کی بوسیدگی اور حکومتی عدم توجہی کو دیکھنا ہو گا۔ ہمارے ملک کا بجلی پیدا کرنے والا انفراسٹرکچر نہایت فرسودہ اور ناکارہ ہو چکا ہے۔ لائن لاسز، غیر قانونی کنکشن اور بجلی کی چوری جیسے عوامل اس بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ حکومتیں آتی ہیں، منصوبے پیش کرتی ہیں، مگر عملاً کچھ ہوتا نظر نہیں آتا۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک ہم بجلی کی غیر علانیہ لوڈشیڈنگ کا سامنا کرتے رہیں گے؟ کیا یہ وہی ملک ہے جس کے لیے ہم نے قربانیاں دیں؟

توانائی کی قلت کا اثر ہماری معیشت پر بھی براہ راست پڑ رہا ہے۔ صنعتیں، جو کہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا ستون ہوتی ہیں، پاکستان میں بجلی کی کمی کے باعث تباہ ہو رہی ہیں۔ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، پیداوار کم ہو رہی ہے، بہت سے سرمایہ کار اس ملک سے صرف اسی وجہ سے چلے گئے کیونکہ حکومت نے اس مسلے پر ان کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں، ہماری معیشت کیسے ترقی کرے گی؟ ہمارا برآمدی نظام، جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے، مزید مشکلات میں گھِر رہا ہے۔ کیا یہ اس قوم کا مستقبل ہے جس نے کبھی ترقی کی جانب بڑھنے کا خواب دیکھا تھا؟

توانائی کے اس بحران کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ پاکستان اب بھی تیل، گیس اور کوئلے جیسے فوسل فیولز پر انحصار کر رہا ہے۔ سچ کہا ہے کسی نے دنیا چاند پر پہنچ گئی اور ہم آج بھی ادھر مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ یہ مہنگے اور غیر مستقل ذرائع ہیں جو نہ صرف ہماری معیشت پر بوجھ ڈالتے ہیں بلکہ ماحول کو بھی آلودہ کرتے ہیں۔ دنیا بھر کے ممالک قابل تجدید توانائی کے ذرائع، جیسے شمسی اور ہوائی توانائی، کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں، لیکن افسوس کہ پاکستان میں ابھی تک ان ذرائع کا مناسب استعمال نہیں ہو رہا۔ شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہمارے ملک میں بے پناہ ہے، لیکن ان مواقع کو استعمال نہ کرنا ایک المیہ ہے۔

توانائی کا بحران صرف معیشت تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس نے عوامی زندگی کو بھی متاثر کیا ہے۔ بجلی کی مسلسل بندش نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ طلبہ اپنے امتحانات کی تیاری کرنے سے قاصر ہیں، گھریلو خواتین کو کھانا پکانے میں مشکلات کا سامنا ہے، اور کاروباری افراد اپنے کاروبار کو چلانے میں مشکلات محسوس کر رہے ہیں۔ کیا یہ ہمارا حق نہیں کہ ہمیں زندگی کی بنیادی ضروریات میسر ہوں؟ کیا یہ وہ پاکستان ہے جس کا خواب ہمارے آبا و اجداد نے دیکھا تھا؟

اس بحران کی سب سے بڑی ذمہ داری حکومتوں پر عائد ہوتی ہے، جنہوں نے سالہا سال سے اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے نظرانداز کیا۔ غیر سنجیدہ پالیسی سازی، بدعنوانی، اور توانائی کے شعبے میں عدم توجہ نے ہمیں اس حال تک پہنچا دیا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک اس کے پاس مستحکم اور موثر توانائی کا نظام نہ ہو۔

لیکن یہاں ہمیں خود سے بھی سوال کرنا ہو گا: کیا ہم بطور قوم اپنے حصے کا کردار ادا کر رہے ہیں؟ کیا ہم بجلی کے غیر ضروری استعمال کو روک رہے ہیں؟ کیا ہم توانائی کے بچت کے اصولوں پر عمل کر رہے ہیں؟ اگر ہم اپنی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے، تو حکومتیں بھی کچھ نہیں کر پائیں گی۔

توانائی بحران کا حل ممکن ہے، لیکن اس کے لیے سنجیدہ اقدامات اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ہمیں قابل تجدید توانائی ذرائع، جیسے شمسی اور ہوائی توانائی، پر سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ نئے ڈیمز تعمیر کرنے اور پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر فوری عمل درآمد کرنا ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، بجلی کی ترسیل میں ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے تکنیکی بہتری لانی ہوگی۔ کیونکہ توانائی کا بحران پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے آج اس مسئلے کو حل نہ کیا تو کل ہمارے پاس سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں بچے گا۔ ہمیں مل کر اس بحران سے نمٹنا ہو گا تاکہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔