خرافات خرد: فکر کی جدلیات

پاکستان کی موجودہ فکری صورتحال کا ایک طائرانہ جائزہ یہاں فکری مکالمے کا کم اور مجادلے و مناظرے کا منظر زیادہ پیش کرتا ہے۔ اس صورتحال کو تشکیل دینے میں کوئی ایک سوچ یا مکتبہ فکر کے لوگ شامل نہیں بلکہ مختلف مکاتب فکر کے سے وابستہ لوگوں کی استردادی سوچ ہے۔ چونکہ پاکستان کے لوگوں کا ذہنی مزاج یہاں کے ایک خاص سماجی و ذہنی ماحول میں تشکیل پایا ہے، اس لئے نظریاتی لیبلز سے اوپر اٹھ کر جائزہ لیں تو سب کی سوچ میں ایک مشترکہ استردادی ساخت کار فرما نظر آتی ہے۔
مطلب یہ کہ استرداد کے رویے کی وجہ سے مذہبی، لبرل، قوم پرست، سیکولر، ملحد و دیگر ایک ہی دائرے میں دوڑ رہے ہیں جس میں پتہ ہی نہیں چلتا ہے کہ آگے کون ہے اور پیچھے کون۔ اسی لئے ہماری سوچ یا تو دائروں میں گھومتی ہے یا ثنویت یا بائنری کے منطق میں پھنس جاتی ہے۔ نتیجتاً گنجلک انسانی و سماجی حقیقتوں کو سمجھنے کے لئے جدلیاتی سوچ پنپ نہیں پاتی ہے۔
اب سوشل میڈیا کی آمد سے سماج میں پیوست یہ غیر مرئی ذہن نکل کر سامنے آیا ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہو رہا ہے کہ دیکھنے اور تجزیہ کرنے والوں کو یہ جانچنے میں آسانی ہو رہی کہ کون کتنا گہرا اور اتھلا ہے۔ اب تک تو راقم اس غلط فہمی میں مبتلا تھا کہ یہ سب کچھ مذہب کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ لیکن اگر ہم مذہب چھوڑ بھی دیں تو سماجی ذہن کی ساخت اتنی مضبوط ہے کہ جو بھی فکر اس میں داخل ہوتی ہے، اس کا قالب اسی سوچ کے سانچے میں ڈھل کر نکلتا ہے۔
یہی وہ سوچ ہے جو لبرل سوچ کو بھی ایسے ہی غیر منطقی بنا رہی ہے جتنی کہ مذہبی سوچ کو راسخ بنا دیا ہے۔ اس کی کیا وجوہات ہیں؟ اس جواب کے متعدد جہات ہیں، مگر یہاں پر ہم صرف ایک جہت کی تلاش اور تجزیہ عصر حاضر کے مروج فکری رویوں کی روشنی میں کریں گے۔ گو کہ مضمون میں موضوعیت کا عنصر نظر آئے گا، مگر یہ اپنی شخصیت کو پروان چڑھانے کی بجائے دلیل کی خدمت میں پیش کیا گیا ہے۔
اس تجزیے کے دوران عام لوگوں کی بات نہیں ہوگی، بلکہ ان لوگوں کے متعلق بات کریں گے جو سوشل میڈیائی دور میں دیوار پر اپنے فکری نوشت لکھ رہے ہیں یعنی موجودہ دور کے دانشور یا ادیب کہلانے والے افراد۔ سوشل میڈیا کے عروج نے جہاں دانشوری کے شعبے سے وابستہ ہونے کے لئے نئے در وا کر دیے ہیں، وہاں سے دانشوروں کے اندرون کو کھوکھلا کر کے بیرون کو سجا دیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ وہ لوگ اپنے اندر وجود نہ رکھنے کے باوجود باہر فکر کے نام پر موجود ہوتے ہیں۔
اس نے ایک عجیب سے وجودی مخمصے کو جنم دیا ہے جس میں وجود کے بغیر بھی موجود ہوا جاسکتا ہے۔ میں نے اس معاملے پر کافی غور کیا، لیکن کچھ سرا نہیں مل رہا تھا۔ چونکہ راقم بذات خود بھی ایسی ہی صورتحال سے ایک طویل عرصے سے گزر رہا تھا۔ اس لئے اپنی وجودی صورتحال، فکری غربت اور رد عملی سوچ کو دیکھنے کے قابل نہیں تھا۔ اسی دوران دو ہزار پندرہ میں ایک ریسرچ فیلوشپ کے سلسلے میں کچھ وقت جرمنی میں گزارنا پڑا۔
میرے پروفیسر برلن کی ایک معروف یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے۔ ان کے گھر آنا جانا رہتا تھا۔ ویک اینڈ پہ گھر جانے سے پہلے کنفرم کرنا ہوتا تھا کہ آیا وہ گھر پہ موجود ہیں یا نہیں۔ اس سلسلے میں رابطے کا ذریعہ موبائل یا ای میل ہوتا تھا، کیونکہ موصوف پروفیسر موبائل نہیں رکھتے تھے۔ ایک دفعہ بات چیت کے دوران پاکستان میں مروج فکری بحث و مباحث پہ بات ہوئی۔ میری باتوں سے پروفیسر کو اندازہ ہو گیا کہ ساری بحث سماجی میڈیا پہ جنم لے رہی تھی۔ وہ اس بدلتے ہوئے سماجی میڈیا کے منظر نامے سے بخوبی واقف بھی تھے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں اب لوگ متعلقہ یا زیر بحث موضوع پر بنا تحقیق اور فکر کے بول اور لکھ رہے ہیں۔ اسی لئے فکر اور تحقیق سے وابستہ لوگ عمومی رائے رکھتے ہیں اور چیزوں کے متعلق ججمنٹل ہوتے ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ انھوں نے یا تو وہ ادراکی صلاحیتیں پیدا نہیں کی ہیں یا بھلا دیا جو کسی بھی سماج کو باریک بینی سے مطالعہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس بات چیت سے سمجھ آیا کہ سماج میں کیوں علم کم مناظرے اور استرداد زیادہ ہے۔
پاکستان میں سوشل میڈیا کے ابھار کے ساتھ مناظراتی تناؤ یقیناً اضافہ ہوا ہے مگر وہ عمل جسے نطشے تخلیقی ٹینشن یا تناؤ کہتا ہے پیدا نہیں ہوا۔ جس کی وجہ سے ہمارے سماج میں کوئی نیا فلسفیانہ نظریہ یا مکتبہ فکر کا ظہور نہیں ہوتا ہے۔ ہر طرف فکری مورچے ہیں جہاں سے ایک دوسرے پر گولے برسائے جاتے ہیں۔ اس وجہ سے سوچ ہمارے اذہان میں سڑ کر بیماری میں تبدیل ہو رہی ہے۔ پہلی جنگ عظیم میں مخالف افواج ایک دوسرے کے خلاف چار سال مورچوں میں بند رہیں۔
طویل عرصے تک کیچڑ میں رہنے کی وجہ سے ان کے پاؤں میں ایک بیماری پیدا ہوتی تھی جسے مورچے کی بیماری یعنی trenchfoot کہا جاتا تھا۔ اس کی وجہ سے پاؤں سڑ جاتے تھے۔ ٹانگ کو پاؤں کی سڑانڈ کو مزید پھیلنے سے بچانے کے لئے پاؤں کاٹ دیے جاتے تھے۔ ہمارے سماج میں ان راسخ العقیدہ مورچوں کی وجہ سے اذہان سر چکے ہیں۔ اسی لئے فکری طور پر ہم اپاہج ہو گئے ہیں۔ حیف کہ ہم اپنی سوچ کو بچانے کے لئے اس سڑے ہوئے ذہن کو کاٹ نہیں سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سیکولر ازم مذہبی ذہن کے لئے ان سوچا اور مذہب سیکولرز کے لئے ان سوچا ہو گیا ہے۔
کسی چیز کی تفہیم تک نہیں ہوگی جب ہم اس کا باریک بینی سے جائزہ نہ لیں۔ ایسے باریک بین تجزیے کے لئے ہمارے پاس نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی صبر۔ یہاں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ کسی چیز پہ لکھنے یا آج کل کے دور میں کسی موضوع پر بولنے سے پہلے کتنی ذہنی تیاری درکار ہوتی ہے۔ پی ایچ ڈی یا ریسرچ کی تربیت صرف ڈگری یا ہنر کا نام نہیں بلکہ اس تربیت کا نام ہے جو ہمیں اپنے ذہن کو منظم کرنے کے قابل بناتی ہے۔ یقیناً منظم ذہن غیر منظم ذہن سے بہتر اور منطقی ہوتا ہے۔
اگر ریسرچ ڈگری کے باوجود بندہ غیر منطقی رہے تو وہ بغیر تربیت والے بندہ سے بھی بدتر ہوجاتا ہے، کیونکہ اول ذکر علم کے زعم میں مبتلا ہوتا ہے جبکہ آخر الذکر لاعلم ہوتا ہے۔ پہلے والے نوع سے دوسرے قسم کا انسان میں علم کی رجوع کرنے اور اپنی لاعلمی سے آگاہ ہونے کا امکانات زیادہ ہوتے ہیں، کیونکہ اس کے پاس علم کا کوئی التباس نہیں ہوتا ہے۔ جن کو علم ہونے کا گمان ہوتا ہے وہ غیر منطقی ہونے کے ساتھ لاعلاج بھی ہوتے ہیں۔
غیر منطقی ذہن کی بنیادی وجہ ان علمی طریقہ کار، سوچنے کے انداز اور نظری تھیوریز سے لاعلمی ہے، جو کسی بھی موضوع یا تخلیقی یا فکری شے کو کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ ایک عمومی رجحان جو پاکستان میں پنپ رہا ہے وہ یہ ہے کہ اپنے کسی بھی دعوے کو بغیر کسی ہوم ورک کے اچھوتا دکھانا۔ یہ اس طرح سے کیا جاتا ہے کہ آپ ایسا بیان دے دیں جو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے یا ایسی حاوی فکر پہ بغیر اس کے مطالعے کی نقد کریں۔ یہ ایک طرح کا فکری پرینک ہوتا ہے۔
جتنا بڑا نظریہ یا شخصیت ہوگی اتنی ہے بڑی اس کی nuisance value ہوگی۔ گو تنقید بظاہر ٹھیک لگے گی، مگر اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے کوئی فکری زاویہ اور مواد نہیں ہو گا۔ یہ اس کلاسیکی فکری مباحث سے مختلف صورتحال ہے۔ ہم تنقید و مباحث کی مثال کو کارل مارکس سے اٹھاتے ہیں۔ اگر مارکس نے ہیگل پہ نقد کی تھی تو وہ ہیگل کے فلسفے کا گہرا مطالعہ کرنے بعد اس قابل ہوئے تھے۔ مارکس کا ہیگل پہ تنقید یہ تھی کہ وہ تاریخ کو بنانے میں افکار کی اہمیت پر اتنا زیادہ زور دیتا ہے کہ مادی حالات و محرکات کو یکسر نظر انداز کر دیتا ہے۔
حالانکہ کی یہ تبدیلی کے بنیادی عناصر ہیں۔ ہیگل کے فلسفے کے پیروکار مارکس کی مادیت کے نقطہ نظر سے ہیگل کی مثالیت پسندی پر نقد سے یقیناً متفق نہیں ہوں گے ، لیکن وہ تنقید کی معیار کو نہ صرف سراہے گے بلکہ سیکھیں گے بھی۔ یہ معیار اب ہمارے ہاں مفقود ہو چکا ہے۔ اب ہمارے دانشوروں کا مذہب پہ خامہ فرسائی کا معیار دیکھئے۔ جس طرح پاکستان میں نیا فرقہ یا مذہب قبول کرنے والا مذہب کے حوالے سے جوش سے پر اور عقل سے عاری ہوتا ہے، اسی طرح کے رویے کچھ نئے نویلے ملحد دانشور دکھا رہے ہیں۔
حال ہی میں ایک غروب ہوتے دانشور اور ابھرتے ہوئے ملحد نے لکھا کہ شیعیت میں آج کے دور میں مروج رسومات شیعہ مذہب کے تشکیل کے وقت نہیں تھے۔ ان کے ہم خیالوں نے واہ واہ کی اور مخالفین نے لعن طعن۔ آخر میں دونوں ٹھنڈے پڑ گئے۔ اس تازہ ملحد نے اتنا گوارا نہیں کیا کہ مذہب کی بشریات کو تھوڑا پڑھ لیں۔ بلکہ سیدھا اندھا بیان داغ دیا جس کی کوئی منطقی یا علمی بنیاد کے بغیر۔
علم بشریات و عمرانیات کے مطابق دنیا کا کوئی بھی مذہب ساکن نہیں رہتا ہے۔ وہ الوہی طاقت کی نسبت اپنے زمان اور مکان کے زیر اثر زیادہ تبدیل ہوتا رہتا ہے اور یوں بدلے ہوئے وقت اور مختلف ثقافت سے مطابقت پیدا کرتا ہے۔ اگر مختلف سماجوں میں شیعیت کے رسوم و رواج کو سمجھنا ہے تو ان کے سماجی تناظر میں سمجھنا ہو گا۔ اگر سماجی تناظر کو اٹھا دیں تو کچھ سمجھ نہیں آئے گا۔ ہم بلتستان، لکھنؤ اور جھنگ کی شیعی رسومات کو ان کے سماجی تناظر سے ہٹ کر نہیں سمجھ سکتے۔ ان صاحب کو پڑھ کر مجھے احساس ہوا کہ ہمیں مذہبی ملا کی طرح ملحد بھی اچھے نہیں ملے ہیں۔ ان موصوف کا طریقہ واردات یہ ہے کہ ایک آدھ ہفتے بعد پھر سے کچھ ایسی بات کہہ جو ہل چل مچا دے اور یوں منظر عام پہ رہے۔ اس کو فکری فلرٹنگ کہا جاسکتا ہے، تحقیقی رویہ ہرگز نہیں۔
ہماری قوم کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ لوگ اگر کسی کو پسند کرتے ہیں تو اسے خدا بنا دیتے ہیں اور ناپسندیدگی کی صورت میں شیطان۔ یہی رویہ مفکروں کے بارے میں پایا جاتا ہے۔ وہ یا تو کلی حقیقت کے مینارہ نور ہوتے ہیں یا کسی جھوٹے تصور کے پجاری یا شیطان کے ترجمان۔ چونکہ ڈاکٹر محمد اقبال پاکستان کی فکری تاریخ میں ایک بڑے نام ہیں، اس لئے ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ ان کی حیات اور افکار کو کیسا دیکھا اور سمجھا یا نا سمجھا جاتا ہے۔
آج کل اگر کوئی لکھاری اقبال کی کسی مشہور نظم شکوہ اور جواب شکوہ کے متعلق کچھ بیان کرے، تو فوراً کوئی دانشور اٹھ کر ردعمل کے طور پر فیصلہ سنا دے گا کہ اقبال نے اس کو انگریز شاعر جان ملٹن سے چرایا ہے۔ اس میں شاعر کے مطالعے کو اپنی سوچ میں جذب کرنے اور تخلیقی اظہار میں بدلنے کے سارے عمل کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کیونکہ اس کا ان کو بھی علم نہیں ہوتا ہے۔ یوں ایک کسی سوچ کی تخلیقی شخصیت پر اثرات کے گنجلگ نفسیات و بیان کرنے کی بجائے سبب اور مسبب کے سخت گیر سائنسی کلیے کہ طرح حتمی فیصلہ یا ججمنٹل بیان دیا جاتا پے۔
اس اپروچ میں شاعر کم اور فوٹو کاپی کی مشین زیادہ لگتا ہے۔ کارل یونگ ججمنٹل ذہن کو تفہیم میں ناکامی کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ اسی لئے ماسوائے چند مشتنیات کے اقبال کے متعلق زیادہ تر فیصلے علم اور علمی باریک بینی سے محروم ہوتے ہیں۔ اسی طرح کوئی ”لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری“ کی مشہور نظم کا اقتباس پیش کرے تو کوئی اٹھ کر دعویٰ کرے گا کہ یہ ایک انگریز شاعر سے چرائی گئی نظم ہے۔ ایسے لوگوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس نظم کو ماخوذ از لکھا گیا ہے یا نہیں۔
بڑا ذہن بڑے فکر نہ صرف سیکھتا ہے بلکہ اپنی فہم کو لوگوں تک پہنچاتا بھی ہے۔ اسی لئے اس فکر کی زمین پر ترجمے اور خیالات کا اظہار کیا جاتا ہیں۔ اگر فیض احمد فیض اپنے کلیات ”نسخہ ہائے وفا“ کی پہلی نظم ”حسینہ خیال سے“ رابرٹ براوننگ سے ماخوذ کرتا ہے تو ادبی سرقے کا مرتکب نہیں ہوتا ہے بلکہ ایک بڑے تخلیقی ذہن کے تخلیقی عمل میں شامل ہو کر اپنے آپ میں نکھار پیدا کرتا ہے۔ مگر اس سارے تخلیقی جھمیلوں کو سمجھنے کے لئے سہل پسند استردادی ذہن کے پاس فرصت کہاں ہوتی ہے۔
اس لئے پاکستانی فیس بکی دانشوروں کے لئے آسان راستہ ادبی سرقے کا الزام عائد کرنا ہے۔ اگر اقبال کے شاہین کا ذکر ہو گا تو کہا جائے گا کہ اس کو فلاں علاقے کے فلاں زبان کے شاعر سے اٹھایا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے شاہین کا ادب میں ذکر پہلی اور آخری بار ہوا تھا۔ اس سے کوئی غرض نہیں کہ شاہین کن معنوں اور استعارے کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ خودی یا مرد مومن پہ بات کرو تو کہا جائے گا کہ جرمن فلسفی نطشے سے اٹھایا گیا ہے۔
بے شک اس خیال کے لئے اقبال نے کہیں نہ کہیں سے تحریک لی ہوگی مگر کسی مصنف کی تخلیقات یا تصنیفات کی معنیات میں اس کا کیا مقام اور معنی ہے، اس کا ناقد کو بھی علم نہیں ہوتا ہے۔ یہ فکری سہل پسندی کی ایک مثال ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ دعویٰ نکلتا ہے کہ اقبال سوچ ہی نہیں سکتا تھا۔ وہ ایک اپاہج تھا، جس کے پاس صرف دوسروں بیساکھیاں تھیں۔
آج کل چالیس سیکنڈ کے ریل کے دور میں ایسی چھوٹے جھوٹے مختصر فلسفی آ گئے ہیں کہ جو چالیس سیکنڈ میں دعویٰ کرتے ہیں کہ اقبال فلسفی نہیں تھے۔ اب اس منہاج کے پیچھے کون سے دلائل کار فرما ہیں، کچھ نہیں پتہ چلتا۔ اگر علی عباس جلالپوری نے پچاس ساٹھ سال قبل یہ دعویٰ کیا کہ اقبال فلسفی نہیں متکلم تھے تو اس کو ثابت کرنے کے لئے بشیر ڈار کے ساتھ تحریری مکالمے یا بحث کو اپنی کتاب ”اقبال اور علم کلام“ کی صورت میں پیش کیا۔
مجھ سمیت بہت سے طالب علموں کے لئے اس کتاب میں بہت سی نئے افکار سے واسطہ پڑا۔ یہ قرات کی سائنس کا نارمل کلیہ ہے کہ آپ جلالپوری کی اس کتاب کو پڑھ کہ آپ ان سے مکمل اتفاق کریں گے یا اختلاف یا جزوی طور پر بعض چیزوں کو قبول کریں گے۔ اب اس بحث کو سمجھنے کے لئے اس فکری تاریخ سے واقف ہونا لازمی ہے جس پہ مختلف مفکرین نے لکھا ہے۔ اس فکری بحث کو سمجھنے کہ لئے آپ کو چند سوالوں میں ذہن میں رکھ کر افکار کی تاریخ کا مطالعہ کرنا ہو گا۔
وہ سوال یہ ہیں : وہ کیا چیز ہے جو ایک مفکر کو فلسفی بناتی ہے؟ کیا مذہبی انسان یا مفکر فلسفی نہیں ہو سکتا ہے؟ اگر نہیں کو تھامس اکوینس اور سینٹ آگسٹائن کیوں فلسفیوں میں شمار کیے جاتے ہی؟ کیا روسو، کانٹ، ہیگل، والٹیئر اور کیرکگارڈ غیر مذہبی تھے؟ کیوں فلسفے کی تاریخ میں زیادہ تر فلسفی مذہبی رہے ہیں؟ اگر ملحد ہونے سے بندہ فلسفی بنتا ہے، تو جدید ملحدی ریاستوں مثلاً سوویت یونین، کیوبا، البانیہ اور شمالی کوریا میں اتنے فلسفی کیوں ملتے ہیں؟ ان سوالوں کے جواب کی تلاش آپ کو انجانے فکری سرچشموں کی طرف لے جائے گی اور یوں آپ ایک وسیع تاریخی تناظر اور وسیع فکری پس منظر میں اپنے سوالوں کو رکھ کر سوچنے کے قابل بن جائیں گے۔
پاکستان کی سطح پر ڈاکٹر محمد اقبال کے فکری ماخذوں کو اس وسیع تناظر میں ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم نے سمجھانے کی ایک عمدہ کوشش اپنی کتاب ”فکر اقبال“ میں کی۔ ہم ڈاکٹر عبد الحکیم کے اخذ کردہ بعض نتائج و آرا سے اختلاف تو کر سکتے ہیں، لیکن جس چیز کو سراہیں گے وہ ان کی ریسرچ میں کی ہوئی محنت اور وسعت مطالعے کے ساتھ ان کی نظریات کا باریک بینی سے تجزیہ ہے۔ سراہنے کی یہ صلاحیت صرف ان لوگوں میں ہوتی ہے جو تحقیق اور تحریر و فکر کے باریک گوشوں سے واقف ہوں۔ یہ فکری خوبی اپنے آپ کو فکری شعبے میں سخت تربیت اور اپنے آپ کی سخت فکری ڈسیپلن لاگو کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔
دوران طالب علمی میں مجھے خاص طور پر یہ ڈر لگا رہتا تھا کہ اگر میں دوسروں کو زیادہ پڑھوں تو میری اوریجنل فکر کرپٹ ہو جائے گی۔ اسی لئے مجھ میں ہر ایک مفکر اور اس کی کہی ہوئی بات کو مسترد کرنے میلان غالب ہو گیا تھا۔ اسی استردادی رویے کی وجہ سے میں علامہ اقبال کو ایک جعلی مفکر سمجھتا تھا کیونکہ میرے نزدیک اس کا اپنا کچھ نہیں تھا۔
لندن میں تعلیم کے دوران میرے فلسفے کے استاد نے مجھے ڈاکٹر محمد اقبال پہ مضمون لکھنے کو کہا۔ میں نے کہا کہ مجھے اس کے اندر کچھ نظر نہیں آتا ہے اور جو ہے وہ سارا ادھار لیا ہوا ہے۔ اس پر میرے ججمنٹل رویے کو بھانپتے ہوئے میرے استاد نے کہا کہ میں تحقیق سے پہلے ہی نتیجے پر پہنچا ہوں جو کہ میرے سیکھنے کے عمل میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ انھوں نے مجھے آئندہ دو سالوں میں میری توجہ افکار کی تاریخ کا مطالعہ پر مرتکز کرنے کا مشورہ دیا تاکہ افکار کی تاریخ کے ساتھ افکار کی تشکیل کی عمرانیات سمجھ سمجھ میں آ سکے۔ اب جا کے اندازہ ہوتا ہے کہ میرے استاد نے اصل میں مجھے اس ذہنی بیماری سے نکالنے کا نسخہ بتایا تھا۔ اس بات پہ میں اب بھی ان کا تہہ دل سے ممنون ہوں۔
لندن میں فلسفے کی تعلیم سے پہلے میں نے ادب کو پڑھا خاص کر انگریزی ادب کو پڑھا۔ انگریزی ادب کے مطالعے کے دوران مجھے ٹی ایس ایلیٹ کی شاعری نے بے حد متاثر کیا۔ مگر ساتھ ہی بہت زیادہ شش و پنج میں بھی مبتلا کر دیا، کیونکہ اس کی نظم ”دی ویسٹ لینڈ“ میں ہومر سے سے کر جدید دور کے مغرب ادب کے نا صرف ریفرنسز تھے بلکہ پورے پورے اشعار کو مستعار لیا گیا تھا۔ کنفیوژن کی یہ کیفیت کچھ سالوں تک رہی۔ اس کنفیوژن کی حالت میں میں نے لندن میں فلسفے کی تعلیم شروع کی۔
میرے ایک پروفیسر نے فلسفے کی ابتدائی کلاسوں میں یہ بتایا کہ فلسفیانہ طور پر سوچنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لئے فلسفے کے طالب علم کو ادبی تنقید لازمی پڑھنی چاہیے۔ مجھے اس وقت ان کی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی اور اس بات کو نوٹ کرنے کے بعد بھول ہی گیا۔ فلسفے کی پڑھائی کے دوران مجھے Herold Bloom ہیرالڈ بلوم کی کتاب
The Anxiety of Influence: A Theory of Poetry
”اثرات کی تشویش: شاعری کا تصور“
پڑھنے کا موقعہ ملا۔ کتاب کیا تھی میرے لئے بائبل ثابت ہوئی۔ جوں جوں پڑھتا گیا، توں توں مجھ پر فکری سرچشموں اور اشعار اور افکار کی تشکیل کے متعلق میرے سوالات کے جوابات کی تلاش کے لئے راستے کھلتے چلے گئے۔ کچھ دنوں میں اس کتاب کو ختم کرنے کے بعد میں اس نتیجے پہ پہنچا کہ کوئی بھی عظیم فکر خلا میں تشکیل نہیں پاتی ہے۔ یہ اپنے وقت اور گئے وقتوں میں سوچے گئے افکار کے ساتھ تفاعل کے نتیجے میں وجود میں آتی ہے۔
اس دن سے میرے دیکھنے اور سوچنے کے انداز میں زمین آسمان کا فرق آ گیا۔ ایسا لگا کہ میں ایک اندھیرے سیارے کو چھوڑ کر مکمل طور پر ایک مختلف سیارے پر پہنچ گیا ہوں جہاں سینکڑوں چاند اور سورج ہیں، جو اس سیارے کو منور کر رہے ہیں۔ ہمارا ذہن اپنی ہی خول میں بند رہتے ہوئے اپنے آپ کو منور نہیں کر سکتا۔ جتنی روشنیاں باہر ہمارے دماغ کے اندر آئیں گی، اتنا ہی روشن ہمارا دماغ ہو گا اور اتنے ہی ہمارے ذہنی آفاق وسیع ہوں گے ۔
ٹی ایس ایلیٹ کا کہنا ہے کہ کوئی بھی شاعر، آرٹسٹ اور آرٹ کے پاس اکیلے میں مکمل معنی موجود نہیں ہوتی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کسی بھی ادبی روایت اور فکر کی تشکیل تب ہی ممکن ہوتی ہے جب اس کی ہڈیوں میں ماضی اور حال کا سارا ادب بولتا ہو۔ دوسرے الفاظ میں شاعر ماضی اور حال کے ادب سے واقف ہو۔ ایلیٹ تاریخی شعور سے آگاہی کے لئے ادیب کا ادب کے لازمانی عنصر کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کا ادراک بھی لازمی قرار دیتا ہے، کیونکہ یہی چیز ہی ادیب کو ادب کے زمان اور مکان میں اپنا مقام تلاش کرنے کے اہل بناتی ہے۔
مندرجہ بالا سطروں میں ہیرالڈ بلوم کی ذکر کردہ جیسی کتابوں کی افادیت یہ ہوتی ہے کہ یہ علم کے مختلف شعبوں کی کنجیاں کھولتی میں مدد دیتی ہیں۔ یہ خصوصیت اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کیونکہ وہ اس قبیل کے مفکر اپنی فکر کو کسی ایک شعبے میں مقید کرنے کی بجائے ایک فکری معاملے کو کثیر علمی یا ڈسپلنز کی مدد سے دیکھتے اور پرکھتے ہیں۔ بلوم کے افکار سے کچھ سیکھتے ہوئے اب ہم ڈاکٹر محمد اقبال میں موجود ان متفرق فکری سرچشموں کو ان چھ کلیوں جسے بلوم
Six revisionary ratios
کہتا ہے سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلوم کی اس درجہ بندی میں میں پہلے درجہ وہ ہوتا ہے جب شاعر اپنے پیشرو شاعروں سے روگردانی یا انحراف کرتا ہے۔ اس عمل میں وہ متن کی اپنے ذہنی افق کے ذریعے قرات کرتا ہے۔ یہ اسے اس اہل بناتی ہے کہ وہ اس نقطے سے آگے خود چل سکے جہاں پر پچھلے شعراء آ کے رک گئے تھے۔ اس عمل کو بلوم clinamen کہتا ہے۔ اس سے اگلے درجے میں لفظ وہی ہوتے ہیں جو پچھلے شاعروں میں مستعمل تھے، مگر شاعر اس میں اپنے معنی انڈیل دیتا ہے۔
یہ وہ ٹکڑے ہوتے ہیں جن سے شاعر ایک نئے کل کو ترتیب دیتا ہے۔ اس کو بلوم tessera کہتا ہے۔ ہو سکتا ہے ڈاکٹر اقبال نے جان ملٹن کی نظم کا پلاٹ یا خیال اٹھایا ہو، مگر معنی و مکالمہ اپنے ہی مذہبی و سماجی تناظر میں پیدا کر دیے ہیں۔ اسی طرح دانتے کی مشہور نظم ”جہنم“ کو دسویں صدی میں گزرے عربی زبان کے معروف دہریہ شاعر ابوالعلا المعری سے ماخوذ سمجھا جاتا ہے، لیکن اس طویل نظم میں دانتے نے مسیحی معنی انڈیل دیے ہیں۔
تیسرے درجے میں شاعر اپنے آپ کی نفی کے لئے اپنا قد کاٹھ کو کاٹ دیتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو اپنے اندر سے بیدخل کر دیتا ہے۔ اسی بے دخلی میں اس میں موجود سابقہ شعرا بھی بیدخل ہو جاتے ہیں۔ یوں ایک خلا پیدا ہوتا ہے جو نئی سوچ کی ترکیب و ترتیب کے لئے جگہ پیدا کرتا ہے۔ اس عمل کو بلوم kenosis کا نام دیتا ہے۔ اس لفظ کو بلوم نے سینٹ جونز سے مستعار لیا ہے، جہاں ولی جونز اپنی الوہی حیثیت کو مٹا کر اپنے آپ کو انسان کے طور پر پیش کرتا ہے۔
تخلیقی طور پر اپنے آپ کو خالی کرنے کا یہ عمل ہمیں اقبال میں بھی واضح طور پر نظر آتا ہے جس کہ وجہ سے اقبال اپنی نظم ”بال جبریل“ میں جبریل اور ابلیس کے درمیان مکالمہ کروانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ ورنہ کہاں جبریل اور ابلیس ایک دوسرے کے ساتھ بات کر سکتے تھے۔ یہی تو تخلیقیت کا کمال ہے کہ جو نہیں ہو سکتا اس کو کر کے دکھاتی ہے۔ اگر اقبال اپنے آپ کو فرشتہ بنا کر خدائی کے مقدس ہالے میں رہتا، تو شیطان کبھی اقبال کی شاعری میں جگہ نہیں بنا پاتا۔
ہیرالڈ بلوم کے چوتھے کلیے کی رو سے کسی بھی شاعر میں سابقہ ادیبوں یا شاعروں کے اثرات مکمل طور پہ محو نہیں ہو جاتے ہیں، کیونکہ وہ اس میں نہ انفرادی طور پر موجود ہوتے ہیں اور نہ ہی الوہی طور پر۔ یہ عمومی طور پر روایت میں موجود ہوتے ہیں۔ اسی لئے یہ اثرات ایک شیطان کے طرح متن میں وجود رکھتے ہیں۔ اس لئے شاعر ان کو مکمل بیدخل نہیں کر سکتا۔ اس عمل کو بلوم daemonization کا نام دیتا ہے۔ اس سے اگلے مرحلے میں شاعر اپنی شناخت بنا لیتا ہے۔ اس کو askesis کہا جاتا ہے۔
آخری سلسلے میں وہ ساری آوازیں اور شعرا جو مر گئے تھے موجودہ شاعر میں دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں۔ اس دوران شاعر عمداً ان کو بولنے دیتا ہے، مگر ان کو زبان اپنی عطا کرتا ہے۔ اسی لئے اگر اسلام کے متعلق اقبال کی لے حجازی بھی ہوتی ہے تو اس کا نغمہ ہندی ہی رہتا ہے۔ اقبال میں ہمیں مارکس، لینن، رومی، گوئٹے، ابلیس اور فرشتے سب بولتے نظر آتے ہیں۔ لیکن وہ اقبال کی زبان بول رہے ہوتے ہیں۔ یہی چیز ہمیں ایلیٹ میں بھی نظر آتی ہے جہاں ہمیں ہومر، شیکسپئر، جان ڈن اور مغربی ادب کے دوسرے شعراء بات کرتے نظر آتے ہیں۔
مگر اس سب کے باوجود ہم یہ کہتے ہیں کہ ایلیٹ کی شاعری و خیالات اپنے ہی ہیں۔ اس عمل کو apophrades کہا جاتا ہے۔ اقبال کی شاعری میں موجود سارے کردار اپنے اصلی تاریخی کردار اور خیالات کی ہو بہو کاپی نہیں ہوتے ہیں، بلکہ ان کی شاعرانہ قوت متخیلہ اور فکر کے ایندھن میں نئے صورتوں میں ڈھل کر معنی کی نئی دنیا پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ یہاں پہ اضداد کا ملاپ ہے استرداد نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال اسلام میں صوفیوں کی مخالفت کرتا ہے مگر وہی پر ہی رومی کو پیر رومی قرار دیتا ہے۔
کارل مارکس پیغمبر نہ ہوتے ہوئے بھی اقبال کے ہاں مقدس کتاب بغل میں لئے کھڑا نظر آتا ہے۔ اسی طرح لینن جیسا کٹر ملحد بال جبریل میں خدا کے حضور میں دعا کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔ خدا کی موت کا اعلان کرنے والا نطشے اقبال کے قلم سے حکیم نطشے قرار دیا جاتا ہے۔ اقبال نے نطشے کی فکری عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے یہاں تک کہا دیا:
خدنگِ سینہَ گردوں ہے اس کا فکرِ بلند
کمند اس کا تخیل ہے مہر و مہ کے لیے
نطشے کا فکری تیر سورج اور چاند کو چیرنے والا ہے۔ ایسی عظمت کو پہچانے کے لئے علم چاہیے نہ کہ استردادی ذہن۔ اقبال جن شعراء اور فلسفیوں کا ذکر کرتا ہے یہ وہ لوگ تھے جو پہلے ہی وفات پا چکے تھے، مگر اقبال کا کمال یہ ہے کہ وہ ان سب میں اپنی زبان پھونک کر نہ صرف ان کو زندہ کرتا ہے، بلکہ اپنے سماجی و مذہبی تناظر میں مردہ لفظوں میں نئے معنی بھی پیدا کرتا ہے۔
مندرجہ بالا طویل تجزیے کا مقصد ہمارے ملک کے نئے دانشوروں میں تخلیق اور فکر کے پیچیدہ معموں کو آسان جوابات دے کر حل کرنے کا سہل پسندی رجحان کو دکھانا تھا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کے پیچھے کوئی علمی تحقیق اور فکری محنت نہیں ہوتی ہے۔ یہ صرف کھوکھلے دعوے ہوتے ہیں جن کے اندر تلاش کرنے کے لیے کچھ نہیں ہوتا ہے۔ یہ رجحانات دو چیزوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اول: علمی جستجو اور تحقیق کی موت۔ اسی وجہ سے سماج میں افراد اپنی زندگی کسی نظریہ حیات کی بجائے دعوؤں، رائے عامہ اور تاثرات پر گزارتے ہیں۔ دوم یہ کہ ہمارے دانشوروں نے علمی فکری باریک بینی سے سوچنے اور دیکھنے کی صلاحیت کھو دی ہے۔ اسی لئے وہ بھی اپنی وجود غایت کو مفروضوں اور استرداد پر مبنی رویے سے ثابت کرتے ہیں۔ علم کے نام پہ رائے اور تناظر کے نام پہ حالات حاضرہ اور واقعاتی ردعمل دیتے ہیں۔
اب دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسے سماج میں فکری مکالمہ ممکن ہے؟ نہیں۔ وہ اس لئے کہ اگر آپ ایسے دانشوروں سے بحث کریں گے جو رائے عامہ پر اپنی علم کی بنیاد رکھتے ہوں، تو وہ چیزوں کو وسیع تناظر میں دیکھ نہیں پاتے ہیں۔ ان کا نقطہ نظر واقعاتی ہوتا ہے، ورنہ وہ ہر چھوٹے واقعات میں گم نہیں رہتے۔
دوسرا ایسا شخص جس کو باریک بینی کا ادراک نہ ہو، وہ آپ کی بات سمجھ نہ آنے پر آپ سے مکالمہ نہیں بلکہ فتوی صادر کرے گا۔ ہمارے سماج میں ستم ظریفی یہ ہے کہ فتویٰ بازی کی فیکٹری اب مولویوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی لبرلز کے ہاتھوں میں بھی آ گئی ہے۔ یقین نہ آئے تو اپنے تحریر کو اقبال کی شاعری اور فکر کے اقتباسات سے مزین کر کے دیکھ لیں۔ پھر دیکھیں آپ پہ کیا کیا لیبلز لگائے جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ اقبال کی فکر کو چاہتے ہوئے بھی اس خوف سے اقبال کا حوالہ نہیں دیتے کہ کہیں ان کو لبرل حلقے مذہبی انتہا پسند قرار نہ دیں۔
پاکستانی لبرلز اپنی لبرل سوچ کی حدود کو پار کرنے سے اس حد تک خوف زدہ ہیں کہ لبرل سرحد کے اس پار ان کو دقیانوسی کا وطن نظر آتا ہے۔ ان کو اندازہ نہیں کہ سرحد ایسی جگہ نہیں ہے جہاں پہ سب کچھ ختم ہوجاتا ہے بلکہ وہ نقطہ ہے جہاں پہ ایک نئی چیز شروع ہوتی ہے۔ مگر شعور میں پیوست یہ خوف پاکستانی لبرلز کی سوچ کو اپاہج بنا رہی ہے۔
چلو لبرلز کے کہنے کو مانتے ہیں کہ مذہبی لوگوں میں کوئی بڑی فکر نمودار نہیں ہوئی، مگر جو لبرلز اور دہریے مذہب کو چھوڑ چکے ہیں وہ بھی کوئی بڑی فکر دینے میں ناکام رہے ہیں۔ پاکستانی لبرل و دہریہ جب فکری ترقی کرتا ہے کو یا تو بنیاد پرست وی اے نائپال سے شادی رچاتے ہیں یا طارق فتح بن جاتے ہیں۔ اب تو سوشل میڈیا کے ظہور کے بعد پاکستان بھی کثیر تعداد میں لبرل اور ملحدی زید حامد، اوریا، ساحل عدیم وغیرہ پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر ہمارے لبرلز سے کچھ نہیں ہوتا ہے، تو کم از کم ہیرالڈ بلوم کا شاشے پیک تو دے دیں۔ اگر یہ بھی ممکن نہیں تو بلوم سے کم از کم اتنا تو سیکھیں کہ ایک بڑا ذہن کس طرح مختلف و متضاد چیزوں کو مسترد کرنے کی بجائے اپنے تخلیقی و فکری ذہن سے گزار کر ایک خوبصورت اور بامعنی فکری کل میں پروتا ہے۔ ان کی کتاب
Where Shall Wisdom be Found?
میں بلوم بائبل، حضرت ایوب، وحدانی پیغمبروں، افلاطون، ہومر، سرونٹیس، شیکشپئر، نطشے، بیکن، جانسن، گوئٹے، ایمرسن، سینٹ تھامس، سینٹ اگسٹائن اور ادب سے لئے گئے مختلف کرداروں سے شہد کی مکھی کی طرح دانش کشید کر ہمیں پیش کرتا ہے۔ ایک ہم ہیں کہ دانش کے سرچشموں کو مسترد کیے جا رہے ہیں، کیونکہ ہمارے دائرے سے باہر یا تو کفر ہے یا مذہب۔ ان دونوں سے باہر ہمارے لئے کوئی چیز وجود نہیں رکھتی ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ ہمیں دانش سے زیادہ اپنے عقیدے اور نظریے سے محبت ہے۔ یوں جو بھی ہم جیسے نہیں سوچتے وہ سب مسترد ہو جاتے ہیں۔ سب نغمے، سب حسین اور سب رنگ مسترد۔
اگر آپ میدان خالی چھوڑ دیں گے تو کوئی اور قبضہ کر لے گا۔ اقبال کو پاکستانی لبرلز نے چھوڑ دیا تو مولویوں نے اپنا لیا۔ اب مولوی کہتے ہیں اقبال ہمارا ہے اور لبرلز ان سے متفق ہیں۔ بہت جلد پاکستانی لبرلز فیض کی نظم ”ہم دیکھیں گے“ کی قرآنی زبان و استعاروں کی موجودگی کی بنا پر فیض کو مذہبی قرار دے کر اپنانے سے انکار کر دیں گے۔ تو فیض کی شاعری اور فکر بھی کسی اور مکتبہ فکر کے ہاتھ آ جائے گی۔ مسترد کرنے کا یہ رجحان بالآخر اپنی ہی تنسیخ پہ منتج ہو گا۔ استرداد کا رویہ راسخ العقیدگی کی علامت ہے۔ راسخ العقیدگی کا کوئی عقیدہ نہیں ہوتا ہے۔ پاکستان میں کوئی بھی تصور یا نظریہ و عقیدہ کسی بھی وقت کسی میں بھی راسخ ہو سکتا ہے۔ ہمارا موجودہ فکری بنجر پن اس راسخ العقیدگی کا مکمل استعارہ ہے۔


بہت ہی عمدہ اور زخیم تحریر ، اور تویل اتنی کہ ہماری فکری صلاحیتیں اس قابل نہیں کی ہم اس پر کوئی رائے قائم کرسکیں ، بقول آپ شہد کی مکھی کی طرح کہاں کہاں سے شہد کا چھتہ بھر دیا ہے ،اب ہم اس شہد کی مٹھاس سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں ،مگر شہد کی مکھی کو شہد کی مٹھاس میں یکتائی لانے میں کن کن منزلوں سے گزرنا پڑا ہوگا اس کا ہمیں بلکل ادراک نہیں ۔