میں نے آئین بنتے دیکھا


کسی بھی ریاست ، حکومت ،سماج کی سیاسی ، سماجی ، انتظامی ، قانونی ، علمی و فکری سمیت معاشی ساکھ کی حیثیت اس ریاست میں موجود آئین و قانون کی حکمرانی سے جڑی ہوتی ہے ۔کیونکہ آج کے جدید ریاستی تصورات میں آئین و قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر عالمی سطح پر ریاستوں کی درجہ بندی کی جاتی ہے ۔ ایسی جدید ریاستیں عمومی طور پر افراد یا کسی گروہ کے مقابلے میں آئین و قانون یا اداروں کے تابع ہوتی ہیں اور تمام افراد کو ان ہی اداروں سمیت خود کو آئین و قانون کے تابع کرنا ہوتا ہے ۔آئین و قانون کی حکمرانی کسی بھی نظام کی ایک طرف کنجی اور دوسری طرف ریاست کی درست سمت کے تعین کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے ۔اسی کو بنیاد بنا کر نہ صرف ریاست اور حکومت کے معاملات کو درستگی کی طرف ڈالا جاسکتا ہے بلکہ اس ریاست میں موجود افراد اور بالخصوص کمزور افراد کے مفادات کو بھی تقویت یا طاقت فراہم کرنے کا عمل بھی آئین و قانون کی حکمرانی سے جڑا ہوتا ہے۔

پاکستان کی ریاست اور حکمرانی کے معاملات کا تاریخی اور آج کے حالات کا تجزیہ کیا جائے تو اس میں ایک بڑا بحران آئین و قانون کو پیچھے دھکیل کر طاقتور افراد یا گروہ کے مفادات، خواہشات کو بنیاد بنا کر ریاستی و حکومتی نظام کو چلانا ہے۔ اس میں محض اسٹبلیشمنٹ ہی نہیں یا بار بار کی فوجی مداخلتیں ہی نہیں بلکہ سیاسی قیادت اور ان کی اپنا حکمرانی کا کمزور نظام بھی آئین و قانون کی حکمرانی سے ہٹ کر اپنی قومی تصویر کو پیش کرتا ہے ۔سیاست ہو یا جمہوریت، عدالتی یا انتظامی نوعیت پر مبنی بیوروکریسی کا نظام یا اسٹیبلشمنٹ سب سے آئین و قانون کی حکمرانی کو یقینی نہ بنانے کے حوالے سے بے شمار غلطیاں ہوئی ہیں اور ہم سب بطور ریاست ان غلطیوں کی بڑی بھاری قیمت کمزور سیاسی ،جمہوری اور آئینی و قانونی حکمرانی کے نظام کے طور پر ادا کر رہے ہیں ۔اس میں کوئی ایک فریق نہیں بلکہ سب ہی ذمہ دار ہیں اور بڑی ذمہ داری ان ہی قوتوں پر عائد ہوتی ہے جو حقیقی فیصلہ ساز ہیں ۔

پاکستانی صحافت کا ایک بڑا معتبر نام الطاف حسن قریشی کا ہے ۔ 1960سے ان کی ادارت میں نکلنے والا ملک کا معروف ڈائجسٹ جو ’’ اردو ڈائجسٹ ‘‘ کے نام سے مشہور ہے ان کی صحافتی ساکھ کو نمایاں کرتا ہے ۔چھ سے سات دہائیوں پر مشتمل الطاف حسن قریشی کا صحافت کا سفر جاری ہے اور اس بزرگی میں بھی ان کا علمی و فکری سفر ختم نہیں ہوا بلکہ وہ آج بھی اپنی لگن، شوق اور جستجو کی بنیاد پر تواتر کے ساتھ لکھ رہے ہیں جس پر وہ واقعی داد کے مستحق ہیں ۔ وہ روزمرہ کے سیاسی معاملات میں الجھنے کی بجائے کئی برسوں سے فکری کاموں سے جڑے ہیں اور اپنی سیاسی ،سماجی ، آئینی ، قانونی اور صحافی یاداشتوں پر مشتمل اپنے فکری بیانیے کو اپنے کالموں اور مختلف نوعیت کی تواتر سے آنے والی اہم کتابوں کی بنیاد پر ترتیب دے رہے ہیں ۔ اس کام میں ان کو اپنے پوتے افنان حسن قریشی کی بھرپور معاونت حاصل ہے ۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل افیرز (پائنا) یعنی ایک معروف تھنک ٹینک کی سربراہی بھی الطاف حسن قریشی کے پاس ہے ۔الطاف حسن قریشی کی حیثیت اس وقت قومی صحافت میں ایک بڑے انسائیکلو پیڈیا کی ہے جو خود کئی دہائیوں پر مشتمل ہماری سیاسی ،صحافتی ، آئینی اور قانونی تاریخ کے ایک بڑے کردار کے طور پر سب کچھ جانتے ہیں اور بہت کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا ہے۔

الطاف حسن قریشی کا تازہ شاہکار ان کی نئی تصنیف ’’ میں نے آئین بنتے دیکھا ‘‘ جلد اول ہے ۔ اس کتاب کو ترتیب دینے میں ملک کے ایک معروف قانونی استاد اور پنجاب یونیورسٹی لا کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر امان ﷲ شریک مصنف کے طور پر موجود ہیں ۔ڈاکٹر امان ﷲ خود بھی پاکستان کی آئینی اور سیاسی تاریخ کے طالب علم اور استاد کی حیثیت رکھتے ہیں اور باہر سے ڈاکٹریٹ کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر پڑھنے اور پڑھانے کا تجربہ رکھتے ہیں۔وہ بھارت کی ساؤتھ ایشیا یونیورسٹی نیو دلی میں بھی پڑھاتے رہے ہیں ۔الطاف حسن قریشی نے عملی طور پر اپنی یہ آئینی و قانونی داستان یا دستاویزات کو بہت ہی عام فہم اور دلچسپ پیرائے میں قلم بند کر کے اپنا مقدمہ پیش کیا ہے ۔یہ ان ہی کا کمال ہے کہ انہوں نے آئین ،قانون اور سیاست کے مشکل مسائل پر جہاں نصف صدی سے زیادہ وقت سے لکھ رہے ہیں وہیں بہت ہی سادہ انداز میں اپنا مقدمہ دلیل اور منطق کی بنیاد پر پیش کر کے پڑھنے والوں کی فکری راہنمائی کرتے ہیں۔الطاف حسن قریشی و ڈاکٹر امان ﷲ کی یہ مشترکہ تصنیف قیام پاکستان تک سیاسی اور آئینی جدوجہد کی جیتی جاگتی تصویر ہے ۔ اس کتاب کو ہمارے دوست قلم فاؤنڈیشن کے سربراہ علامہ عبدالستار عاصم نے شائع کیا ہے ۔

کتاب کا انتساب مصنف کی امید کے ایک بڑے پہلو کو اجاگر کرتا ہے جس میں انہوں نے اپنی اس تصنیف کو اپنی نئی نسل کے نام کیا ہے اور ان کے بقول یہ نسل قانون کی حکمرانی کا بول بالا کرنے میں سنجیدہ نظر آتی ہے ۔25 ابواب پر مشتمل یہ کتاب واقعی ایک تاریخی دستاویز ہے اور جو بھی علم و فکر اور تحقیق کے طالب علم ہیں ان کے لیے یہ کتاب بڑی اہم دستاویز ہے ۔ کتاب کے اہم ابواب میں ابتدائی قانونی ڈھانچہ و خود ساختہ تنازعات، حکمرانی سے غلامی ، سر سید کی تعلیمی ،گول میز کانفرنس سے آئین 1935کی تدوین، جنگ، قرار داد لاہور، علیحدہ وطن کا قومی مطالبہ، قائد اعظم کا 11اگست کو اہم خطاب، محمد علی جناح کے دستوری تصورات جیسے اہم موضوعات شامل ہیں ۔الطاف حسن قریشی نے اپنا اہم مقدمہ تقسیم ہند پر سیاسی معاہدہ ،آئینی تصورات سے پہلی آگاہی ،پاکستان کی طرف ہجرت،جہاد کشمیر کا قضیہ، اسلامی دستور سے وابستگی کی پہلی آزمائش،قدرت کی عجب کرم فرمائی ، چشم کشا تقریر، رب کریم کی عنایات بے پایاں، آئین شناسی کی ایک اور آزمائش، دستور شناسی کا وسیع دائرہ پر پیش کیا ہے جو پڑھنے کے لائق ہے ۔بقول ڈاکٹر امان ﷲ کے اردو میں یہ پہلی کتاب ہے ۔جس میں آئین و قانون کے مشکل اور خشک مضامین اس طرح بیان کیے گئے ہیں کہ وہ اپنے اندر بلا کی دلچسپی کے ساتھ ساتھ معاشرے کی نشوونما کے لیے گہری معنویت اپنے دامن میں لیے ہیں اس میں ان مسلم تحریکوں کا بھی تفصیل سے ذکر ہے جن کی بدولت برطانوی عہد میں آئینی اصلاحات کا سلسلہ شروع ہو کر قیام پاکستان پر منتج ہوا ۔کوشش کی گئی ہے کہ آئین و قانون کی شقوں کا حوالہ دینے اور ان کی تعبیر و تشریح کرنے میں کوئی سقم نہ رہ جائے یا ان کے بقول آئین کی روح تک پہنچے کا عمل جس قدر مستحکم ہوگا، اسی قدر آئین کی بالادستی کا منظرنامہ حسین اور خوب تر ہوتا جائے گا اور یہ عمل ہماری ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔

الطاف حسن قریشی کی عمر 93 برس ہے اور اس عمر میں علمی و فکری کام کو جاری رکھنا اور کتابیں ترتیب دینا ان ہی کا کمال ہے ۔اس سے قبل ان کی دو اور اہم کتابیں ’’ جنگ ستمبر کی یادیں‘‘ اور ’’ مشرقی پاکستان ، ایک ٹوٹا ہوا تارا‘‘ نے علمی و فکری حلقوں میں کافی شہرت پائی ۔ اس کتاب میں اصل توجہ قیام پاکستان کی کہانی کے گرد گھومتی ہے اور مصنف کا اپنا سیاسی ، سماجی اور مذہبی شعور کیسے پیدا ہوا اور کیسے ان کے سیاسی اور جمہوری افکار آگے بڑھے۔الطاف حسن قریشی اس کتاب کے دوسرے حصے یا جلد میں قیام پاکستان کے بعد کی کہانی کو پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور دعا ہے ﷲ تعالیٰ ان کو صحت دے اور وہ اس کتاب کی دوسری جلد بھی ہمارے سامنے پیش کرسکیں ۔اصل میں ہمیں دیانت داری سے اس تجزیہ کی ضرورت ہے کہ پاکستان کیونکر ایک سیاسی،جمہوری، آئینی اور قانونی ریاست کے طور پر اپنی ساکھ قائم نہیں کر سکا اور ایسا نہ ہونے میں ایسے کونسے سیاسی اور غیر سیاسی یا سیاسی اور غیر سیاسی قوتوں کا کیا کردار تھا یا ہے۔ 1973کے آئین میں ترامیم کی بنیاد پر کیسے ریاستی اور جمہوری ریاست کو کمزور کیا گیا اور اس کو کمزور کرنے کے کون کون کردار تھے ۔ اسی طرح یہ تجزیہ بھی سامنے آنا چاہیے کہ ہمارا موجودہ حالات میں سیاسی ،جمہوری ، آئینی ،قانونی مستقبل کیا ہے ۔یہ جو ہم ایک کمزور جمہوری ، آئینی اور قانون کی حکمرانی کے نظام سے گزر رہے ہیں یا جو ہائبرڈ جمہوری ماڈل ہیں ان کے مقابلے میں حقیقی جمہوریت کے سفر کو اختیار کر کے اپنی بطور ریاست جدید سیاسی اور جمہوری ساکھ کیسے قائم کرسکے گا ۔مسئلہ محض اسٹیبلشمنٹ ہی نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی ،عدلیہ اور میڈیا سب نے جمہوری عمل کو کمزور کیا ہے ، اس پر قومی ترجیحات کا تعین ہونا چاہیے۔

Facebook Comments HS