ادب اور امن
آئے دن مختلف موضوعات کو زیر غور لایا جا تا ہے، تفکرات قلمبند کیے جاتے ہیں، تبصرے ہوتے رہتے ہیں اور لوگوں کی نظروں سے بھی گزرتے ہیں۔ لیکن آج جو موضوع زیر قلم ہے وہ ہے ”ادب اور امن“ یہ ایسے شائستہ اور اطمینان بخش الفاظ ہیں کہ انہیں سن کر دل کو خوشی اور دماغ کو سکون میسر ہوتا ہے۔ سکون اور خوشی دو ایسے کیفیات ہیں جو امید افزا ہونے کے ساتھ ساتھ حوصلہ افزا بھی ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ زندگی میں اگر امید اور حوصلہ شامل حال ہوں تو کامیاب اور با مقصد زندگی گزارنا اتنا مشکل نہیں ہوتا۔ جب معاشرے کے لوگ پر امید اور پر حوصلہ زندگی گزارنے کے عادی ہوتے ہیں تو ایسے معاشرے ترقی کی منازل بھی آسانی کے ساتھ طے کرتے ہیں۔
آج کل پوری دنیا اور خصوصاً مملکت خداداد پاکستان میں ادب اور امن کا فقدان ہے۔ جن معاشروں اور ممالک میں ادب اور امن نہیں ہوتا ایسے معاشرے مختلف مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ ادب نام ہے شائستگی اور تہذیب کا ، اور ادب نام ہے کسی بھی زبان کے نظم و نثر کے اصول و قواعد کا ۔ دونوں صورتوں میں یہ انسانی حیات کی بقا اور شادمانی کے لیے بے حد ضروری ہیں، اصول و ضوابط چاہے زبان کے ہوں یا معاشرتی زندگی کے، ان کی پاسداری میں اطمینان اور ان کی پامالی میں انتشار لازمی بات ہے۔ یہی سبب ہے کہ جب بہتر زندگی گزارنے کی بات آجاتی ہے تو مہذب معاشروں کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ مثالیں اس لیے دی جاتی ہیں تاکہ دوسرے لوگ اپنی اپنی اصلاح کریں اور آنے والی نسلوں کے لیے مثال بنیں، اور اچھے الفاظ میں یاد کیے جا سکیں۔ ذہن میں رہے کہ یاد یا تو اچھے الفاظ سے کرتے ہیں یا برے الفاظ سے۔ مگر یہ بات تو طے ہے کہ اچھے یا برے الفاظ بنانے والے ہم خود اور ہمارے کردار ہیں۔ ہمارے آخری رسولﷺ اور صحابہ کرام کی حیات طیبہ ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ انہوں نے رواداری اور تہذیب و شائستگی کا مظاہرہ کیا اور دنیا والوں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین کی۔ اس سلسلے میں دنیا والوں کو احسان مند ہونا چاہیے کہ انہوں نے ان سے زندگی گزارنے کے گر اور اچھے اچھے طریقے سیکھے۔
دوسری طرف امن کے معنی آرام، سکون اور اطمینان کے ہیں۔ یہ ایسے احساسات اور کیفیات ہیں کہ ان کے بغیر زندگی انتشار اور پریشانی کا شکار ہو گی۔ زندگی میں اگر اطمینان نہ ہو، تو کوئی بھی انسان چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، مرد ہو یا عورت پر امید زندگی نہیں گزار سکتا۔ زندگی اگر پر امید اور پرسکون نہ ہو تو انسان طرح طرح کے غلط راستے اختیار کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ چونکہ وہ امید اور سکون ڈھونڈنے کی غرض سے غلط راستے اختیار کر تا ہے، اس لیے وہ مزید تذبذب اور پریشانی کا شکار ہو تا ہے۔ نتیجے کے طور پر وہ کئی نادیدہ اور ناکردہ گناہوں سے الجھ جاتا ہے۔ اس طرح معاشرہ ایسے ضرر رساں انسانوں سے بھر جاتا ہے اور جو بے ضرر ہیں وہ ہر آن ڈرتے رہتے ہیں۔
اب وقت ہی ایسا آیا ہے کہ ہم پاکستان میں ایسا معاشرہ اور ایسا ماحول پیدا کریں کہ وطن عزیز کے تمام باسی اطمینان اور سکون سے زندگی بسر کر سکیں، انسانیت کی قدر کرسکیں، رواداری کا راستہ اختیار کرسکیں۔ تاکہ دوسری اقوام ہمارے اچھے رویے اور اچھے کردار دیکھ کر متاثر ہو سکیں اور ہمارے ساتھ دوستانہ تعلقات بحال کرنے کے لیے مائل ہو سکیں۔ یہ ہم پر منحصر ہے، یہ ہمارے رویوں پر منحصر ہے اور یہ ہمارے افکار پر منحصر ہے۔ ریاست مدینہ کا مثالی معاشرہ ہمارے سامنے ہے۔ آخری رسول کے امتی کی حیثیت سے وہ تمام اصول اپنانا ہمارے لئے ضروری ہیں جو مدینے کی اسلامی ریاست میں آپ نے بنائے تھے۔ جب ہم ایسا کریں گے تو عنقریب ہم بھی تہذیب یافتہ اور ترقی یافتہ اقوام کی صف میں شامل ہوں گے اور تہذیب و شائستگی میں کامل ہوں گے۔


