طبلہ نواز
نبیل کے لئے ماضی کی وہ بہشت اب ایک دوزخ بن گئی تھی۔ وہ ہمیشہ سوچا کرتا تھا کہ ریٹائر ہو جانے کے بعد وہ موسیقی کے شوق کی طرف پوری توجہ دے گا۔ طبلہ، اس کی روح، اس کا جنون۔ اور وہ پانچ سال تک اس کی ہر تال میں محو رہا۔ ریاضت، مشق، اور نبیل۔ چھوٹا طبلہ ’دایاں‘ اور بڑا طبلہ ’بایاں‘ ، ان پہ نبیل کی ہتھیلیاں اور انگلیاں اس طرح ٹکراتی تھیں جیسے کسی کمپیوٹر پروگرام نے ان کی حرکات و سکنات کو مکمل طور پہ اپنے قابو میں کیا ہوا تھا۔ وہ انگلیوں کی پوروں اور ہتھیلی کے مختلف زاویوں اور طریقہ کار سے بجانے پر کئی طرح کی آوازیں پیدا کر سکتا تھا۔
’دایاں‘ ، ’بایاں‘ ، نبیل ایک ہی وجود کا حصے معلوم ہوتے تھے۔
راگ درباری پہ اس نے عبور حاصل کر لیا تھا اور سوتے جاگتے، خواب و خیال میں، خلوت یا محفل میں، وہ اس کی تالوں میں کھویا رہتا۔ زندگی نے کتنا حسیں موڑ لے لیا تھا!
اکثر وہ دوستوں کی محفل میں ان کے اصرار پہ کچھ نہ کچھ طبلہ پر سناتا تھا۔ اس کی تال موسیقی کے دلدادہ افراد کو جھومنے پر مجبور کر دیتی تھی۔
لیکن ایک دن، ایک اجنبی عورت نے اس محفل میں نبیل کے دوست کی فرمائش پہ ایک لوک گیت گایا۔ نبیل نے گیت کو کیا سنا، اس نے نبیل کے ذہن کو جھنجھنا کر رکھ دیا۔ پوری رات اس نے جاگتے سوتے گزار دی۔ اس گیت نے اس کے انگ انگ کو بے چین کر دیا تھا۔ سارا دن وہ صوفے پہ بیٹھا ہوا اس گیت کے بارے میں سوچتا رہا۔ ”کیوں اس نے میرے تن من میں آگ لگا دی ہے؟“
مغرب کا وقت ہونے کو تھا۔ نبیل بالکونی میں شفق کی سرخی کو دیکھنے کے لئے بیٹھ گیا۔ پھر اچانک، اچانک وہ مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ جیسے اس کو گمشدہ خزانے کا سراغ مل گیا تھا۔
”یہ تو وہی گیت ہے جو میرے گاؤں میں کلثوم اکثر مغرب کے بعد گایا کرتی تھی، جیسے وہ رات کی چاندنی کو خوش آمدید کہہ رہی ہو۔“ اس کے بول نبیل کی روح میں سرایت کر جاتے اور اس کا دل سکون کے سمندر میں تیرنے لگ جاتا تھا۔ اب اسی گیت نے اس کو ماضی کی دنیا میں دھکیل دیا تھا۔ اس کا گاؤں، جنت نظیر گاؤں، اس کے سادہ لوح لوگ، زیتون کے ہرے بھرے درخت، پہاڑی کی ڈھلان پہ بکریوں کا ریوڑ، اور اس کا گھر، وہ کچی گلی جس پہ اس کا گھر تھا، موسم کی پہلی بارش سے مٹی کی خوشبو۔ اس کے تحت الشعور نے گاؤں کو ماضی کی دنیا سے نکال کر اس کی آنکھوں کے سامنے بچھا دیا تھا، ایک جیتا جاگتا گاؤں، ایک ہنستا مسکراتا گاؤں۔ اس کو بچپن کے دوست بری طرح یاد آنے لگے۔
نبیل نے جذبات میں آ کر فوراً اپنی بیٹی کو فون کیا۔ ”میں اپنے گاؤں جانا چاہتا ہوں، وہ میرا گاؤں۔ تم ائر ٹکٹ کا بندوبست کر دو ، جلد از جلد۔“
دوسری طرف کچھ لمحے خاموشی رہی۔ بیٹی نے آہستہ سے جواب دیا۔ ”بابا، آپ کو پتا ہے کہ وہ گاؤں اب اسرائیل میں ہے۔ اب اس مکان پہ کسی اور کا قبضہ ہے۔ اب وہاں جانے کے لئے اسرائیل کا ویزا لینا پڑے گا۔“
نبیل کو ایک جھٹکا لگا، اس کو یاد آ گیا کس طرح اس کے گاؤں پہ 1948 میں صیہونی آبادکاروں نے حملہ کیا تھا، کس طرح اس کے گھر والے اور دوسرے لوگ اپنی جان بچانے کے لئے بھاگے تھے، اور کچھ لوگ ان دہشتگردوں کے ہاتھوں ہلاک بھی ہو گئے تھے۔
”لیکن میں اپنے گاؤں کو دیکھنے تو جا سکتا ہوں۔ “ نبیل نے زور سے کہا۔
چند دنوں کے بعد نبیل ایک اسرائیلی کونسلر کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔
”تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے کہ تم اس گاؤں میں رہتے تھے؟“ اس یورپی نسل کے جوان کونسلر نے اکتائی ہوئی نظروں سے نبیل کو دیکھا۔
”ثبوت تو کوئی نہیں، میں تو دس سال کا بچہ تھا۔ ہم تو جان بچانے کے لئے بغیر کسی ساز و سامان اور بغیر کسی کاغذات کے وہاں سے نکلے تھے۔ “ پھر وہ کچھ سوچ کر اعتماد سے بولا۔ ”ثبوت یہ ہے کہ میں اس گاؤں کے جغرافیے کو اچھی طرح بیان کر سکتا ہوں، ہر گلی اور موڑ سے آشنا ہوں۔ “
کونسلر ہنسنے لگ گیا۔ ”یہ تو کوئی بھی پڑھ کر بیان کر سکتا ہے۔ اس بنیاد پہ اسرائیل میں داخلے کا ویزا نہیں مل سکتا۔“
”لیکن یہ تو میرا اپنا گاؤں ہے، میرا اپنا گاؤں، مجھے وہاں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ہم تو وہاں کئی سو سالوں سے آباد تھے۔ اور تم، تم، جس کا اس زمین سے کوئی تعلق نہیں، مجھے وہاں جانے سے روک رہے ہو!“ نبیل کے اندر کی آگ دھواں بن کر منہ سے باہر نکل رہی تھی۔ ”میں وہاں مستقل نہیں جا رہا، محض چند دنوں کے لئے جانا چاہتا ہوں اپنے آبائی گاؤں میں، اپنے ملک میں۔ “
نبیل کی بیٹی نے زبردستی اسے اٹھایا اور باہر لے آئی۔ ”ان پتھروں سے سر ٹکرانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ “
”میرا گاؤں، میرا گھر۔ مجھے وہاں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کوئی بھی نہیں۔ “ نبیل چیخ رہا تھا۔ ”میں اپنے گاؤں والوں کو طبلے کے ساتھ لوک گیت سنانا چاہتا ہوں۔ مجھے جانے دو ، جانے دو ! “
’دایاں‘ اور ’بایاں‘ ہمیشہ کے لئے نبیل کی لمس سے محروم ہو گئے۔ عمر کے بقیہ سال اس نے پر نم آنکھوں سے وہی لوک گیت جس نے اس کی رواں دواں زندگی میں بھونچال پیدا کر دیا تھا، گاتے ہوئے گزار دیے۔


