پنڈی جو اک شہر ہے (5)


قصائی گلی میں ایک چوبارے کی گلوکاراؤں کا پسندیدہ گیت، جلتے ہیں ارمان میرا دل روتا ہے، تھا جو میں نے اس گلی سے چوری چھپے گزرتے ہوئے کئی بار سنا۔ میڈم نور جہاں نے یہ گیت فلم انار کلی کے لیے گایا تھا۔ کہتے ہیں انور کمال پاشا اور ان کے والد حکیم احمد شجاع جب میڈم کے پاس انہیں اس فلم میں ہیروئن کے طور پر سائن کرنے گئے تو انہوں نے بات اس طرح شروع کی۔ میڈم آپ کو پتہ ہے کہ انڈیا میں انار کلی کے نام سے کامیاب فلم بنی ہے۔ میڈم بولیں جی ہاں۔ بینا رائے اس کی ہیروئن تھیں۔ حکیم صاحب بولے اپنی فلم میں ہم آپ کو ہیروئین لینا چاہتے ہیں۔ میڈم نے ترنت پنجابی میں کہا۔

اینج آکھو ناں تسی پرانی انارکلی بنانا چاہندے او۔ (تو یہ کہیں ناں کہ آپ پرانی انار کلی بنانا چاہتے ہیں ) ۔

میڈم کے ذکر سے یاد آیا کہ مریڑ کے پل سے ذرا ادھر واقع سنگیت سینما ان کی ملکیت بیان ہوتا تھا۔ میں دسویں جماعت میں تھا جب ایک شام اس سینما میں لاہور سے بڑے بڑے اداکاروں نے آ کر ڈیرہ ڈالا اور اگلے دن ٹرکوں کے چھجوں میں کھڑے ہو کر ایک جلوس کی شکل میں مری روڈ پر نکلے۔ ان کے چاہنے والوں کا شوقِ دیدار ناقابلِ بیان تھا۔ کیا سڑک کنارے، کیا گھروں کی چھتیں، تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ یہ دراصل ایک احتجاج تھا جو سینٹرل بورڈ کے لاہور سے اسلام آباد منتقل ہونے پہ کیا جا رہا تھا۔

ایک بات جو حیران کن تھی وہ یہ کہ تمام اداکار اس سے کہیں زیادہ پر کشش تھے جتنے وہ سکرین پر دکھتے تھے۔ ان میں الیاس کاشمیری، یوسف خان اور اسد بخاری تو بہت ہی پیارے تھے۔ اس تحریک کی قیادت ریاض شاہد نے کی تھی۔ اربابِ اختیار نے اس جرات کی پاداش میں ان کی اس فلم کو مسخ بھی کیا اور نام بھی بدل دیا جو ہمارے قومی مسئلہ پر بنائی گئی اکلوتی اور فنی اعتبار سے نہایت بلند فلم تھی۔ واپس کر دے مجھ کو میرے خوابوں کی تعبیر، ’اے میرے کشمیر۔ اس فلم کا نام امن تھا جسے یہ امن بنا دیا گیا۔

اس اکٹھ کے کچھ عرصہ بعد سنگیت سینما پہ اپنے وقت کی بڑی فلم ہیر رانجھا لگی تھی۔ میرے نزدیک یہ فلم پاکستان میں ہی نہیں بلکہ انڈو پاکستان کی فلموں میں کلاسیک کا درجہ رکھتی ہے۔ اس میں کیا شبہ ہے کہ اس کی ہدایت کاری، نغمات، موسیقی، عکس بندی وغیرہ کے ذمہ داروں میں ہر کوئی اپنے میدان کا شمشاد قد تھا۔

پنڈی کا مشہور زنانہ بازار، موتی بازار ہمارے گھر اور سکول کے درمیان میں پڑتا تھا۔ لڑکپن میں اس کے اندر سے گزر کر آنے جانے کو دل بہت مچلتا تھا لیکن خلقتِ شہر کی فسانہ طرازی کے ڈر سے اس خواہش کو خلش بنائے بغیر چارہ نہیں تھا۔ تنگ مگر سیدھی گلیاں جو مختلف سڑکوں پہ جا کے ختم ہوتی تھیں خواتین کے بناؤ سنگھار کی لا تعداد دکانوں سے سجی یہ ایسی جلوہ گاہیں تھیں کہ جن سے جگر تھام کے گزرنا پڑتا تھا۔

ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کے درمیانی عرصے میں ہم دوست جیب خرچ میں سے پیسے بچا بچا کر جن فلموں کو دیکھا کرتے تھے ان کا انتخاب جس کاسٹ کی بنیاد پر کیا جاتا تھا اس میں مزاحیہ اداکاروں کا بھی خیال رکھا جاتا تھا۔ پنجابی فلموں میں رنگیلا یا منور ظریف کا ہونا مزیدار اضافہ سمجھا جاتا تھا۔ منور ظریف اپنے فی البدیہ جملوں کی وجہ سے مشہور تھے اور رنگیلا اپنی اوٹ پٹانگ حرکتوں کی بدولت۔ اسی دور میں رنگیلا نے فلمسازی کا آغاز کیا اور اوپر تلے چار سپر ہٹ فلمیں دے کر انڈسٹری کے بڑے ناموں میں شمار ہونے لگے۔

رنگیلا کی فلموں کی موسیقی بڑی دلکش ہوا کرتی تھی۔ ان کی دوسری فلم رنگیلا کے ایک گیت نے تو بس دھوم مچا دی۔ بول تھے۔ وے سب توں سوہنیا۔

یہ فلم کا اکلوتا پنجابی گیت تھا۔ اسے تصور خانم نے گایا اور شاید یہ ان کا پہلا فلمی گیت تھا۔ وہ آنے والے سالوں میں کافی کامیاب گلوکارہ رہیں جس کا اصل راز ان کی آواز سے زیادہ ان کا حسن اور ایک ادائے خاص تھی۔ گاتے ہوئے وقفے وقفے سے ناک کا ایک کونہ سکیڑنے کی ادا جس پہ بلا تفریقِ عمر مردوں کے جگر میں اک ٹیس اٹھتی تھی اور دل میں درد ہوتا تھا۔

اس فلم میں نووارد موسیقار نذیر علی کا بھی یہی اکلوتا گیت تھا۔ اس کے بعد وہ ایسے نامور ہوئے کہ پنجابی فلمی دنیا پہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ راج کیا۔

اسی طرح وارث لدھیانوی کا بھی اس فلم میں یہی بس ایک گیت تھا۔ وہ وارث لدھیانوی جنہوں نے کرتار سنگھ کے لیے ۔ دیساں دا راجہ۔ کی استھائی کے ساتھ ایسا گیت لکھا تھا جو پنجابی یا اس سے ملتی جلتی زبانوں کی تمام بستیوں میں ہمیشہ ہمیش کے لیے فوک گیت بن گیا۔

۔ یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔
جاری ہے۔

Facebook Comments HS