زرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
شاہد علی پنڈی بھٹیاں کے گاؤں بہار والا کا رہائشی ہے، کچے راستے پر روزانہ پانچ کلو میٹر پیدل چل کر مرکزی شاہراہ لاہور سرگودھا سڑک پر پہنچ کر بذریعہ عوامی بس شہر پہنچا ہے وہاں سے مزید تین کلو میٹر پیدل سفر کر کے کالج پہنچتا تھا اور کالج سے واپسی پر بھی سخت موسم کو جھیلتا ہوا واپس گھر جاتا۔ ذہنی توازن ٹھیک نہ ہونے کے ناتا شاہد کے والد فیملی کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے تھے جس وجہ سے شاہد کی والدہ کو کھیتی باڑی سمیت دیگر کام کاج بھی کرنے پڑتے مگر قسمت کی ستم ظریفی کہ اسی کام کاج کے دوران ان کا ہاتھ جانوروں کا چارہ کاٹتے ہوئے ٹوکہ میں آ کر کٹ گیا۔
اس سب کے باوجود شاہد نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی پڑھائی پوری محنت کے ساتھ جاری رہی۔ جب میں شاہد علی سے ملا تو مجھے محسوس ہو کہ اس نوجوان کو ان محرومیوں پر بھی فخر ہے۔ شاہد گورنمنٹ ڈگری کالج پنڈی بھٹیاں میں زیر تعلیم تھا اور کالج کا یہ حشر ہے کہ وہاں آڈیٹوریم تک نہیں، کلاس رومز میں تو کجا لائبریری میں بھی ایئرکنڈیشنڈ نہیں ہے۔ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف کی بھی کمی ہے، شہر سے کافی باہر ہونے کے باوجود کالج کے پاس اپنی کوئی سواری بھی نہیں۔
مگر ان تمام تر کسمپرسیوں کے باوجود اس سرکاری کالج کی واحد خوش قسمتی کہ اس کے سربراہ اور ٹیچرز انتہائی محنتی اور دیانتدار لوگ ہے۔ کالج کے پورے سٹاف کا یہ ماننا ہے کہ ان میں یہ لگن کالج کے سابق پرنسپل پروفیسر اسد سلیم شیخ صاحب لگا کر گئے ہیں۔ اس عظیم بیڑے کے کپتان کالج کے موجودہ پرنسپل پروفیسر عنایت بھٹی صاحب ”صوفی صاحب“ کے نام سے جانے چاہتے ہیں اور یقین مانے وہ واقعی ”صوفی با صفا“ ہیں۔ کالج کے وائس پرنسپل پروفیسر رائے ریاض صاحب بھی اتنے عظیم انسان ہیں کہ اس تفریق کے دور میں بھی قومی زبان اردو کا علم بلند کیے معاشرے میں یکجہتی کو پروان چڑھا رہے ہیں۔
شاہد علی کی واحد خوش قسمتی کہ اسے اپنی محنت کا رنگ لانے کے لئے انہیں اساتذہ کی رہنمائی میسر تھی۔ بڑی خاموشی سے کی جانے والی شاہد کی محنت، اس کی والدہ کی لگن اور گورنمنٹ کالج پنڈی بھٹیاں کے اساتذہ کی محنت یوں رنگ لائی کہ شاہد علی نے گجرانوالہ بورڈ کے سالانہ رزلٹ 2024 میں پوری ڈویژن میں پہلی پوزیشن لی۔ گجرانوالہ بورڈ کے ساتھ کام کرنے والے درجنوں کالجز میں ڈگری کالج پنڈی بھٹیاں پوزیشن لینے والے اداروں میں واحد سرکاری کالج ہے۔
گوجرانوالہ جیسی بڑی ڈویژن کی چھوٹی سی آخری پسماندہ تحصیل کے اس پسماندہ سرکاری کالج کے عظیم اساتذہ اور طلبا نے اتنی خاموشی سے محنت کی کہ اب کامیابی نے شور مچا دیا۔ اور یہ شور چیخ چیخ کر کہ رہا ہے کہ ”ذرہ نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی“ اور یہ بھی کہ اگر انسان ٹھان لے تو بھی وسائل کی کمی، غربت، والدین کی سماجی حیثیت، پسماندہ ادارہ کچھ بھی رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ اور اگر میرے ملک کے اساتذہ اپنے پیشہ کو پیامبری پیشہ مان کر رسول اللہ کے نقش قدم پر چل پڑے تو وہ دریا کے کنارے سے تعلق رکھنے والے مسائل میں گھرے شاہد علی کو فتح کی پہلی سیڑھی پر کھڑا کروا سکتے ہیں۔
تعلیم نہ صرف بنیادی انسانی حق ہے بلکہ حکومت کا اولین فرض بھی ہے کہ وہ ریاست کے تمام شہریوں کو بنا کسی تفریق کے گھر کی دہلیز پر تعلیم کے برابر مواقع دے۔ تعلیم اتنا بڑا فرض ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے آخری نبی کو بھی توحید سمیت دیگر تمام فرائض سے قبل ”اقراء“ کا حکم دیا۔ کیا حکومت یہ ذمہ داری نبھا رہی ہے؟ کیا تعلیم کسی بھی حکومت یا رہنما کی اولین ترجیع ہے؟ میرے جیسوں کا خواب تو یہ ہے کہ بیرونی ممالک کے طلبا تعلیم حاصل کرنے پاکستان آئے مگر حقیقت یہ کہ ہمارے اپنے صاحبان اقتدار تعلیم کے لیے اپنے بچوں کو بیرون ممالک بھیجنا فرض سمجھتے ہیں۔
کیا ہمیں اپنے اساتذہ کو معاشی و معاشرتی طور پر اپ گریڈ نہیں کرنا چاہیے؟ کیا ہمیں اساتذہ کا معیار زندگی بہتر نہیں کرنا چاہیے۔ کیا ہمیں اساتذہ کی زندگی کو پرکشش نہیں بنا چاہیے۔ کیا ہمیں اساتذہ کو بہتر رزلٹ پر انعامات نہیں دینے چاہیں۔ کیا اساتذہ کو گھروں کی ضرورت نہیں ہے، کیا اساتذہ سڑک پر رہیں گے۔ ستم ظریفی یہ کہ کچھ محکموں کے کلرک صاحبان تک کو سرکاری رہائش ملتی ہے، فوج میں سب سے کم رینک کے فوجی کو بھی کوارٹر ملتا ہے مگر سرکاری سکولوں کے سربراہان تک کو رہائش نہیں ملتی۔
میرا ماننا ہے کہ جب تک آپ ”معلم“ کو افضل نہیں بنائے گے تب تک معاشرہ سکون نہیں حاصل کر سکتا۔ پنجاب کے بھی کئی سکولوں میں آج بھی بچے زمین پر بیٹھ کر کھلے آسمان کے نیچے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ صاف پانی تک میسر نہیں ہے۔ پرائمری سکولوں میں محافظ اور مالی و خاکروب کی آسامیاں ہی نہیں ہیں، بچے پہلے خود سکول کی صفائی کرتے ہیں پھر کلاس ہوتی ہے۔ جناب ہمیں سکولوں میں دودھ پلانے جیسے تماشے متعارف کروا کر کرپشن کے راستے کھولنے کی بجائے حقیقت میں تعلیمی ایمرجنسی لگانے کی ضرورت ہے، کوئی خود مختار اور قابل کمیشن بنائے وہ تمام اداروں سے تجاویز لے، خود اداروں کو وزٹ کرے، جس سے تعلیمی اداروں کی ضروریات کا ادراک ہو اور پھر اداروں کو سہولیات دینے کی ضرورت ہے۔ اساتذہ کی خالی آسامیوں پر فل فور بھرتیاں کرے۔ اداروں کر ٹرانسپورٹ دے، اگر آپ واقعی بچوں کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو تمام بچوں کے بنک اکاؤنٹس کھولے اور بذریعہ بنک ماہانہ وظیفہ مقرر کرے جو طلبا کی کارکردگی و حاضری کے ساتھ منسلک ہو۔
تعلیمی اداروں میں سہولیات کے اضافہ کے ساتھ تعلیمی اوقات بھی بڑھائیں۔ ٹیوشن کلچر کو ختم کریں، سپورٹس سمیت غیر نصابی سرگرمیوں کو ہر طالب علم کے لیے لازم قرار دیں۔ ہر ادارے میں تعمیری سوسائٹیز بنائیں، ہر بچے کے لئے کسی ایک سوسائٹی کا ممبر ہونا لازم قرار دے۔ کہتے ہیں کہ اگر ایک بندہ اپنی تنخواہ سے زیادہ کام کرے تو اللہ پاک ایک وقت ضرور لاتا ہے کہ وہ شخص کام سے زیادہ تنخواہ لینے والا بن جاتا ہے۔ اساتذہ کرام کو بھی چاہیں کہ ملک میں تعلیمی بہتری کے لیے تن من کی بازی لگا دے، اور اگر استاد ٹھان لے تو وہ کئی شاہد بنا دیتا ہے۔


