انقلاب آ گیا!
ایک طرف تو پاکستانی عوام مہنگائی اور پریشانیوں کا رونا روتے نہیں تھکتے، جس قوم کے لئے ایک وقت کا کھانا کھانا بھی مشکل ہو، تو دوسری طرف بارش کی تباہ کاریوں کی وجہ سے کہیں سڑکوں پر پانی کھڑا ہے تو کہیں گھر ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں، کہیں بجلی غائب تو کہیں پانی غائب ہے وہیں کپڑے ہوں یا کسی برانڈ کی سیل، کوئی نیا ہوٹل ہو یا نیا شاپنگ مال یہی لوگ سب کچھ بُھلا کر ایسے ٹوٹ پڑتے ہیں جیسے سب کچھ مفت بٹ رہا ہو۔
ایسے ہی کچھ تبصرے کچھ دن پہلے پاکستان کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک کے سوشل میڈیا کی بھی زینت بنے۔ کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر کے ایک بہت بڑے مال کے اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں اور ایک شاپنگ مال کے اندر جانے کی کوشش میں ہلکان سینکڑوں لوگوں کا ہجوم اور سٹور کے اندر توڑ پھوڑ اور افراتفری کے مناظر دیکھنے کو ملے۔
اب اس کا کریڈٹ اچھی مارکیٹنگ کو جاتا ہے یا مہنگائی سے تنگ آ کر سستے سامان کی خواہش کو۔ سوشل میڈیا پر مختلف پوسٹس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کراچی کے ایک شاپنگ مال میں جس کا نام ’ڈریم بازار‘ سٹور تھا، اب تھا کا لفظ میں نے یہاں کیوں استعمال کیا ہے یہ آپ کو آگے کی تحریر پڑھ کر معلوم ہو جائے گا، خیر جمعے کے روز جب اس سٹور کا افتتاح ہونے جا رہا تھا تو بہت زیادہ رش کی وجہ سے ہنگامہ آرائی کی صورتحال پیدا ہو گئی۔
یہ اگست کا عام دن نہیں تھا بلکہ مون سون کے دوران سمندری طوفان، موسلادھار اور گرج چمک کے ساتھ بارش کے متعدد الرٹس بھی کراچی کے شہریوں کے پیش نظر تھے اس کے باوجود سینکڑوں لوگ سستی شاپنگ کی آس یا لالچ میں وہاں جا پہنچے۔
اس شاپنگ مال کے افتتاح سے قبل ہی سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر ڈریم بازار کی جانب سے یہ دعوے کیے جا رہے تھے کہ ان کے ہاں 50 روپے سے ایک ہزار روپے میں برانڈڈ کپڑے دستیاب ہوں گے۔
غالباً یہی وجہ بنی ہو گی کہ مہنگائی کے ستائے لوگوں نے سستی شاپنگ کے لیے قسمت آزمائی کا سوچا لیکن کم وقت میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ وہاں پہنچ گئے اور یوں وہ صورتحال پیدا ہوئی جس کے وڈیو کلپس سوشل اور لوکل میڈیا پر وائرل ہوئے۔
اس ’بے قابو ہجوم‘ کے ہاتھوں بگڑتی ساری صورتحال کو سنبھالنے کے لیے پولیس وہاں پہنچی اور یوں اس ہنگامہ آرائی پر قابو پایا گیا۔
اس ساری صورت حال کے بعد ڈریم بازار کو افتتاح کے ساتھ ہی اپنا سٹور بند کرنا پڑا جس کے بعد انھوں نے اپنے فیس بک پیج پر کراچی کے شہریوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ’ڈریم بازار کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے کچھ دن درکار ہیں۔ جلد واپس آئیں گے۔ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میں نے تھا کا لفظ کیوں استعمال کیا تھا۔
اس ساری صورتحال کو دیکھ کر صارفین نے سوشل میڈیا پر پاکستانی عوام کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ کراچی میں بارش اور طوفان کی پیش گوئی کے دوران حد سے بڑھے شاپنگ کے شوق کو دیوانگی قرار دیا گیا۔
بیلا کیانی نامی صارف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا،
’کراچی میں آج نئے شاپنگ مال کی اوپننگ ہوئی تو اتنے لوگ آئے کہ ٹریفک ہی جام ہو گئی۔ ”کاش یہ اپنے حق کے لیے نکلتے“ ۔
انھوں نے مزید لکھا کہ ’عوام اپنی مدد آپ کے تحت باہر کیوں نہیں نکلتے جیسے بنگلہ دیشی بغیر کسی لیڈر کے نکلے تھے۔ خدا کے لیے جاگ جائیں۔ ‘
ایک صارف نے دل جلے انداز میں لکھا کہ کراچی کو عبداللہ شاہ غازی پر اتنا بھروسا ہے کہ ڈریم شاپنگ مال کے افتتاح پر گلشن میں سڑکیں بلاک کر رکھی ہیں ”آہا طوفان بڑا مزیدار“ جبکہ ایکس پر ایک اور صارف نے شاپنگ کے ’جنون‘ پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’پاکستان میں یہ والا طوفان کبھی نہیں رکنا‘
یہ تو ہو گئی ایک مال کی مثال کہ کس طرح لوگ سستی چیزیں خریدنے کے چکر میں کتنے پرجوش نظر آئے مگر جب بات ہو مہنگائی کی اور اپنے حقوق کی تو اس کے لیے نکلنے کو تیار نہیں ہوتا۔ اس وقت قوم کے حالات اس کی ترجیحات کے سبب ہیں۔
جب کسی سیاسی پارٹی کی جانب سے فلاں جگہ احتجاج کی کال دی جاتی ہے کہ آپ آئیں اپنی نسلوں کی خاطر تو یہی لوگ مہنگائی پہ ٹسوے بہا کر کہیں گے کہ آپ مہنگائی کم کرا لو میں تو شریک نہیں ہو سکتا ۔ کیا اس طرح مہنگائی کم ہو جائے گی؟ آج تک اس ملک کے لئے کسی نے کچھ نہیں کیا تو ہمارے باہر نکلنے سے کیا ہو جائے گا؟ بس اس طرح کے سوالات ہی ہماری قوم کے منہ سے نکلیں گے۔ واضح رہے یہ بہت بے ضرر سے مہنگائی کے خلاف احتجاج پہ جواب ہوتا ہے اور ریاست سے انسانی حقوق مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
کسی بھی سننے اور دیکھنے والوں کے لیے، یہ بہت ہی حیران کن بات تھی کہ کراچی میں آندھی طوفان تھا، شدید بارشوں کی پیش گوئیاں تھیں اور گلستانِ جوہر میں ایک بڑے سٹور کی افتتاحی تقریب میں بلا مبالغہ ہزاروں ’عام‘ بندہ فیملیز کے ساتھ پہنچ گیا یہاں تک کہ رش کے سبب مال بند کرنا پڑا۔
سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہوئیں تو پہلے پہل عوام کا جم غفیر دیکھ کر یہی لگا جیسے کراچی کے لوگ اپنے حقوق اور مطالبات منوانے کے لئے انقلاب لے آئے ہیں مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔
انقلاب لانے والی قومیں تو سری لنکا اور بنگلا دیش جیسی ہوتی ہیں، جو بغیر کسی لیڈر کے اپنے حقوق کی خطر پورے سسٹم سے لڑ پڑتے ہیں۔ کتنے ہی نوجوان اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے لیکن اپنے ارادوں سے پیچھے نہیں ہٹے اور آخرکار سالوں سے راج کرنے والی بنگلا دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اور وہ اپنے ہی ملک سے فرار ہو گئی۔
یہی فرق ہے ہماری اور دوسری قوموں میں کہ ہم صرف سستی سیل سے شاپنگ کرنے کو ترجیح دیں گے مگر جہاں بات اپنے حقوق کی ہوگی وہاں بھیگی بلی بن کر گھروں میں بیٹھ جائیں گے اور جب غربت سے تنگ آ جاتے ہیں تو خودکشیاں کر کے حرام موت بھی پاتے ہیں اور عمر بھر کے لئے اپنے خاندان والوں کو روتا بلکتا بھی چھوڑ جاتے ہیں۔ انقلاب لانے کے لئے اس کرپشن زدہ گندے سسٹم سے اپنے حقوق چھیننے کے لئے جگرا چاہیے جو فی الحال ہماری قوم کے پاس نہیں ہے۔

