یوٹیلٹی سٹورز کی تنظیم نو


وفاقی حکومت فی الوقت یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش بارے تذبذب کا شکار ہے۔ دراصل پچھلے کچھ ماہ سے سیکرٹری انڈسٹریز کے بار بار تبادلوں اور کچھ دیگر وجوہات کی وجہ سے یوٹیلٹی سٹورز بارے حکومتی فیصلہ کے لئے بہت کم وقت لیا گیا۔ یہ حکومت کی رائٹ سائزنگ بارے جاری حالیہ کیمپین بابت ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا تھا۔ خیر حکومت کی طرف سے اسے مؤخر کرنا فی الحال ایک صائب قدم ہے۔ شاید زیادہ لوگوں کو معلوم نہ ہو 2014 میں بھی حکومت یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو ختم کرنے جا رہی تھی لیکن اس وقت کے ایم ڈی خاقان مرتضیٰ ( موجودہ چیرمین ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس) نے یہ کہہ کر ادارہ بند ہونے سے بچایا کہ ہمیں سبسڈی کی ضرورت نہیں ہے اور ہم بطور ایک کمرشل ادارے کے اپنا وجود قائم رکھ سکتے ہیں۔

تاریخ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو پھر اسی دوراہے پہ لے آئی ہے۔ حکومت سے کسی سبسڈی یا گرانٹ کی امید محض خام خیالی ہوگی۔ بقا صرف اور صرف اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں ہے جو کہ فی الوقت مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن ہرگز نہیں۔ راقم کی نظر میں کچھ ایسے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں جس سے ادارہ بغیر سبسڈی اور حکومتی گرانٹ کے کامیابی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ کاروبار یا بزنس بارے مشہور نوبل انعام یافتہ معیشت دان ملٹن فریڈمین نے کیا خوب کہا کہ The rule of business of business is business۔

لیکن بدقسمتی سے ادارے میں اس گولڈن پرنسپل پر کبھی توجہ نہ جا سکی۔ پبلک سروس بشمول یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن میں پروٹوکول اور کروفر کی کوئی جگہ نہیں۔ یہ کاروبار ہے اسے کاروبار سمجھ کر کیا جائے۔ اس سنہری قول پر تمام ملازمین کو دل و جان سے عمل کرنا ہو گا۔ جو ماحول کسٹمر کو سٹورز پہ میسر آتا ہے ملازمین بشمول افسران محض اسی کے حقدار ہیں۔ یہ کاروبار کا عالمی تسلیم شدہ اصول ہے کہ بہتری اور منافع 80 فی صد موجودہ سسٹم کو بہتر بنانے پہ اپنی توانائیاں صرف کرنے سے آتا ہے اور بقیہ 20 فی صد نئی پراڈکٹس یا سروسز یا کسی نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے ممکن ہوتا ہے۔

اسی طرح سے اگر ہم پروکیورمنٹ یا خریداری کی بات کریں تو یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کبھی بھی اپنی چار ہزار سے زائد برانچز کا فائدہ نہیں لے سکا۔ سرکاری خریداری بارے پیپرا قوانین شفافیت اور مسابقت کے لئے متعارف کروائے گئے تھے لیکن ان کے نافذ العمل ہونے کے بعد یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی اشیاء کی خریداری کی لاگت بالمقابل پرائیویٹ سٹورز کے بڑھ گئی اور اس کی وجہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی تمام تر خریداری کا دستاویزی ہونا ہے جبکہ پرائیویٹ سٹورز کے معاملات اس بابت شفافیت سے عاری نظر آتے ہیں۔

پیپرا قوانین ایک حقیقت ہیں اور یہ سرکاری خریداری میں بہتری لانے کے لئے متعارف کرائے گئے ہیں۔ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو اپنے آپ کو ان کے ساتھ ڈھالنا ہو گا۔ اس کا ایک آسان حل یہ ہے کہ جب خریداری سنٹرل لیول پہ ہوتی ہے تو وہاں ظاہر ہے زیادہ سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے وہاں محض چند پارٹیاں بولی میں حصہ لیتی ہیں جو نہ صرف آپس میں پول کر کے کارٹل کی شکل اختیار کر لیتی ہیں بلکہ قیمت کے تعین کے معاملے میں بھی ڈکٹیٹ کرتی ہیں۔

لوکل لیول پہ اختیارات کی منتقلی اچھی گورننس کی ضامن ہے لیکن شومئی قسمت یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن میں پچھلے دو عشروں میں تمام تر اختیارات ہیڈ آفس میں مرتکز ہو گئے ہیں ہیں۔ اب وقت آن پہنچا ہے کہ تمام تر آپریشنز اور پروکیورمنٹ کے معاملات زونل دفاتر کو منتقل کیے جائیں اور زونل افسر کی سیٹ کو آپ گریڈ کر کے وہاں جی ایم لیول کا افسر تعینات کیا جائے۔ اس بابت بھی شاید پیپرا قوانین آڑے آئیں کیونکہ یہ قوانین خریداری کی مختلف حصوں میں تقسیم پر ممانعت کرتے ہیں۔

لیکن اس کو کئی طرح سے قابل قبول بنایا جا سکتا ہے اور ایک ممکنہ حل زیادہ تر خریداری میں کنسائنمنٹ سسٹم پہ انحصار ہے جس کے فوائد بے شمار ہیں اس بابت تفصیلی ذکر آگے چل کے آئے گا۔ مقامی سطح پہ خریداری کا منتقل ہونا یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے لئے کامیابی کا تیر بہدف نسخہ ہے۔ جب مقامی یعنی زونل لیول پہ پروکیورمنٹ ہو گی تو کم سرمائے کی ضرورت کی وجہ سے درجنوں بلکہ سینکڑوں سپلائرز بولی میں شامل ہوں گے جس سے مقابلہ جاتی فضا میں اضافہ ہو گا۔ اور یہی پیپرا قوانین کی منشاء ہے کہ زیادہ سے زیادہ سپلائرز کو بولی دینے جانب راغب کیا جائے۔ یہی وہ نقطۂ آغاز ہو گا جس کا عشروں سے انتظار تھا۔ اس طرح سے نہ صرف یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن اپنے چار ہزار سے زائد سٹورز کی اہمیت منوا سکے گا بلکہ بوجہ مسابقت انتہائی کم قیمت پر اشیاء کی خریداری ممکن ہو سکے گی۔ اور اس پہ مستزاد وینڈرز یا سپلائرز کو ٹرانسپورٹیشن کی لاگت بھی کم آئے گی اور یہ بھی لامحالہ اشیاء کی قیمت میں کمی کا باعث ہو گی۔

ادارے میں مستقبل پہ نظر رکھنے کے لیے فورکاسٹنگ کا شعبہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف پیش آئندہ مارکیٹ کی حرکیات پہ نظر رکھے بلکہ بدلتے حالات میں پالیسی شفٹ میں بھی معاون ثابت ہو۔ اب اگر ہم یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے اخراجات کی جانب رخ کریں تو حالات بہت دگرگوں ہیں۔ محض تنخواہوں کے اخراجات کل خرچہ جات کے لگ بھگ 80 فیصد کو چھو رہے ہیں۔ اور ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ جن کی سروس 25 سال سے زائد ہے وہ کل تنخواہوں کا 20 تا 25 فی صد کے درمیان لے رہیں جبکہ وہ ٹوٹل ورک فورس کا لگ بھگ دس فیصد ہیں۔

انہیں اگر مناسب پیکج دے کر گولڈن ہینڈ شیک دیا جائے تو کچھ عرصے میں فنانس کے معاملات میں بہتری آ سکتی ہے۔ اسی طرح سے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہنی چاہیے۔ اور ملازمین کو پرفارمنس ایوارڈز مثلاً ہر کوارٹر کے بعد ہر زون سے بہترین کارکردگی کے حامل سٹورز سٹاف کو پروموشن دینے سے مقابلے کی فضا قائم کرنے میں آسانی ہو گی۔ راقم کی رائے میں جب تک ادارہ سانس لینے کے قابل نہیں ہوتا تب تک مزید سپر مارکیٹس یا میگا مالز کا قیام مؤخر رکھنا چاہیے۔

مضمون کی دم : یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو فی الفور کمرشل ادارے کے عکس میں اتارنا اور حکومت کو اس بابت مطمئن کرنا کہ ادارہ ایک وسیع نیٹ ورک رکھنے کی وجہ سے حکومت کی کسی نہ کسی سروس میں کردار ادا کرنے کے قابل ہے، یہ دو نکات ادارے کی بقاء کے ضامن ہو سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS