فاصلہ کم نہ ہوا


 

سارنگ نے سکول جانا شروع کر دیا تھا۔ سکول جانا دیکھا دیکھی تھا۔ وہ بغیر کسی منصوبہ بندی اور مقصد کے سکول جانا شروع ہوا تھا کیونکہ سکول تو فارغ لوگوں کا کام تھا جبکہ سارنگ حصول مردانگی کے بعد بہت مصروف ہو چکا تھا۔ اس کے سکول جانے میں شوق سے زیادہ مجبوری کا عنصر پنہاں تھا۔

سارنگ خان کام کا بہت شوقین تھا اور بڑے بڑے کاموں کو چیلنج سمجھ کر کرتا تھا۔ اپنی نو عمری میں ہی سارے کاموں کے شوق پال لیے تھے جیسے کہ وہ پیدا بھی انھی کاموں کے لیے ہوا تھا۔ جانوروں سے لے کر کھیتوں تک ہر کام کرتا تھا۔ کھیتوں میں کھاد پانی بہت ہی شوق سے کرتا۔ پڑھائی بس سکول کی حد تک تھی۔ کبھی بھی گھر آ کر پڑھائی نہیں کی۔ سکول میں اسے کافی اچھے دوست ملے تھے جن کے ساتھ جذباتی لگاؤ تھا۔ اعجاز عرف چڑو ہم جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ اچھا اور مخلص دوست بھی تھا۔

ایک دفعہ سکول سے چھٹی ہوئی۔ سردیوں کے دن تھے اور چھٹی تین بجے ہوا کرتی تھی۔ سکول سے نکلے تو راستے میں کچھ ہی فاصلے پر گنے کے کھیت تھے۔ ضرورتاً اور شرارتا گنے توڑ لیے اور ٹھیکیدار کے ہاتھوں پکڑے گئے۔ ٹھیکیدار نے ایک گنے کے بدلے میں ان کے بستے رکھوا لیے اور والدین اور اساتذہ سے مار پٹوانے کی دھمکیاں دی۔ شریک مجرم زار و قطار رو رہے تھے اور منت سماجت کر رہے تھے مگر سارنگ خان مطمئن تھا۔ اس اطمینان کی سمجھ آج تک نہ آئی۔

اب جب سارنگ خان ماضی پر نظر دوڑتا ہے تو مسکرا دیتا ہے کہ کتابوں سے بھرے بستے کی قیمت ایک گنا ہوا کرتی تھی۔ شاید گنا پھر بھی قیمتی تھا اسی لیے دھمکیاں حساب برابر کرنے کے لیے ملی تھی۔ اگلے دن سب کو سزا ملی سارنگ کے سوا۔ سزا نہ ملنے کا عقدہ بعد میں کھلا کہ یہ سارا اعجاز چڑو کا تھا۔ جو گزشتہ شام اپنی امی کو لے کر ٹھیکیدار کے پاس گیا تھا اور سارنگ کی سفارش کی تھی۔ بستہ اور کتاب کی محبت شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گئی تھی اور چڑو کی قدرومنزلت پہلے سے بھی بڑھ گئی۔

سارنگ نے سکول جانا چھوڑ دیا۔ وہ دو ہفتے سکول نہیں گیا تھا۔ ایک صبح جب سارنگ اپنے کاموں مشغول تھا تو اچانک استاد صاحب ادھر آ بھٹکے۔ انھوں نے سارنگ کو بلایا اور سکول چلنے کا بولا۔ سارنگ کی ہمت اتنی بڑھ چکی تھی کہ والد کی موجودگی میں منفی میں جواب دیا جو کہ گناہ کبیرہ سمجھا جاتا تھا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کے گھر والوں کی دلچسپی اس کی تعلیم حاصل کرنے میں نہیں تھی بلکہ گھر کے کاموں میں تھی مگر استاد صاحب نے کان سے پکڑا ایک تھپڑ رسید کیا اور سائیکل پر بیٹھا کر سکول لے گئے۔ اس کے بعد سارنگ نے سکول سے کبھی چھٹی نہیں کی تھی۔ یہ واقعی ایک تھپڑ کا کمال تھا جس نے سارنگ کو تعلیم سے جوڑے رکھا۔ آج سارنگ اپنے اس استاد کو بہت دعائیں دیتا ہے اللہ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔

سکول میں باقاعدگی آنا شروع ہو گئی تھی۔ پڑھائی اور دوستی دونوں کی دل لگی میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا اور سارنگ کے یہ دونوں رشتے نکھر رہے تھے مگر پتا نہیں کس کی نظر لگ گئی اور سارنگ کے اپنے گاؤں میں سکول بن گیا اور کلاسز کا اجراء بھی ہو گیا۔ اس گاؤں کے تمام طالب علم نئے نویلے سکول کو آباد کرنے کے ادھر چلے گئے۔ طالب علم بہت خوش تھے کہ نئے سکول میں جائیں جو کہ عین گاؤں میں واقع ہے اور دس کلومیٹر کا فاصلہ بھی طے نہیں کرنا پڑے گا مگر سارنگ افسردہ تھا پتا نہیں اسے کیوں اپنا گاؤں اپنا نہیں لگتا تھا۔ پتا نہیں کیوں وہ اپنے گاؤں کے بچوں سے دوستی نہیں کرتا تھا؟ ان سوالوں کے صحیح جواب تو سارنگ ہی دے سکتا ہے مگر لگتا ہے کہ سارنگ شروع ہی سے بہت سیانا اور سگھڑ اور دانا قسم کا لڑکا تھا۔ اسے فاصلہ پسند تھا چاہے سکول کا یا رشتوں میں۔ جو انسان فاصلے مٹا دیتا ہے وہ انسان کبھی بڑا آدمی نہیں بن سکتا۔ بڑا آدمی بننے کے لیے انسان کو بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔ سارنگ کا سکول کا فاصلہ تو کم نہ ہوا کیونکہ سارنگ کا گھر دو سکولوں کے عین وسط میں واقع تھا مگر دوستی میں ایسی دراڑ پڑی جو کبھی بھری نہ جا سکی بلکہ گہری ہوتی گئی۔

پہلی دوسری جماعت کے ٹاٹ نشینوں سے جدا ہونا ایسے ہی تھا جیسے انڈیا پاکستان کی تقسیم۔ سنتے تھے کہ تقسیم کے وقت مہاجرین نے بے پناہ قربانیاں دیں۔ گھر اور عزت کی محبت میں گھر اور عزتیں قربان کی۔ اپنے ہم عصروں سے جدائی کی ہزیمت اٹھانی پڑی تھی۔ جن کو اپنے ہاتھوں سے پالا پوسا تھا انھی ہاتھوں سے ان کو قتل کیا اور جشن بھی منائے۔ سچ جانے بغیر ہی سچ کے چمپئن بن گئے اور اپنی راحت کے حصول کی خاطر دوسروں کی زندگیوں کو جہنم بنا دیا گیا۔

بالکل اسی طرح سارنگ کی زندگی بھی جنم بنا دی گئی تھی اور اس پر ستم بالائے ستم یہ کہ اسے تو سکول میں آنے کے بعد کوئی ایک دوست بھی چڑو یا مہدی جیسا نہیں ملا تھا۔ اس کو لگتا تھا کہ جیسے اس کا جسم کاٹا گیا تھا۔ وہ روز چڑو اور مہدی سے ملنے کی امید لگاتا اور روز ہی یہ امید بر نہ اتی۔ اس وقت استاد محترم اپنا پیغام رقعہ کی صورت میں کیا کرتے تھے۔ سارنگ اس کوشش میں لگ گیا کہ کب استاد رقعہ لکھے اور سارنگ کو دے تاکہ رقعہ کے بہانے سارنگ اپنے دوستوں سے ملاقات کر سکے۔ سارنگ اس رقعے کے انتظار میں پانچویں پاس کر گیا مگر رقعہ پہچانے کا موقع نہ ملا۔ دوستی کی آگ ٹھنڈی پڑنے کے ساتھ ساتھ یہ ایک اہم دور محبت بھی فاصلے کو مزید وسعت دیتے ہوئے اپنے اختتام کو پہنچا۔

Facebook Comments HS