آہ، مونال!
اسلام آباد میں رہنے والے کسی بھی شخص سے پوچھیے، وہ کون سی جگہ ہے جسے وہ اپنے دیگر شہروں اور ملکوں سے آنے والے مہمانوں کو بڑے فخر سے دکھاتے ہیں، جیب اجازت دے تو وہاں بھی کھانا کھلاتے ہیں۔
انٹرنیٹ کی وساطت سے، سیاحت سے متعلقہ ویب سائٹس اور بلاگ اور ایسے ذرائع سے مدد لیجیے، آپ کو ہر بار سرِفہرست یہی مونال نظر آئے گا۔
یہ سچ ہے کہ قدرے مہنگا ہونے کے سبب یہاں کھانا تناول کرنا یا کھلانا جیب پر اچھا خاصا بوجھ بن جاتا ہے لیکن ہم جیسوں کو سیر کرنے سے تو کوئی نہیں روکتا ناں!
منظر دن کا ہو اور مطلع صاف تو نظر دور راول جھیل تک جا پہنچتی ہے۔ فیصل مسجد بھی پوری آب و تاب سے آپ کی توجہ بار بار اپنی طرف کھینچتی رہتی ہے۔ سر سبز و شاداب پہاڑ، ان پر لپٹتی بل کھاتی سڑکیں، دامن میں بسا اک منظم شہر، اس کی سڑکوں کا نیٹ ورک، ان سڑکوں پر رواں دواں گاڑیاں، یہ سب کچھ عجب سا سماں باندھ دیتا ہے۔
شام ڈھلے تو ماحول کی سحر انگیزی اور بھی بڑھ جاتی ہے، شہر کی ٹمٹماتی روشنیاں پہاڑوں کے دامن میں تا حدِ نظر پھیل جاتی ہیں اور فضا میں خنکی اور ٹھنڈک کا احساس بھی بڑھ جاتا ہے۔
اگر آپ کے ہاں کوئی غیر ملکی مہمان آیا ہو اور آپ اسے پاکستان کی خوبصورتی سے متاثر کرنا چاہ رہے ہوں، سب سے آسان اور فوری طریقہ یہ ہے اسے رات کے وقت مونال لے جائیں، کھانا کھلائیں پھر آپ بے شک بھول جائیں، وہ اس شام کو اپنی زندگی کی حسین ترین شاموں میں سے ایک شام کے طور پر یاد رکھے گا۔
ایڈونچر کے شائق منچلوں نے تو ایک اور مشغلہ بھی ڈھونڈ رکھا ہے۔ موسم اچھا ہو تو وہ نیچے سے ہائیکنگ اور ٹریکنگ کرتے دو تین گھنٹوں میں اس تک جا پہنچتے ہیں، سستاتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں، واپس لوٹ جاتے ہیں اور بعد ازاں اسے اپنی زندگی کے یادگار ترین تجربوں میں شمار کرتے رہتے ہیں۔
اگر میں یہ کہوں کہ اسلام آباد تو چھوڑیے، ملک بھر میں اپنے محل وقوع کے اعتبار سے بین الاقوامی معیار کی واحد نہیں تو پہلی دو، چار تفریح گاہوں میں اس کا شمار ہوتا ہو گا تو بھی کچھ ایسا غلط نہ ہو گا۔
خبر ملی ہے کہ عدالت عظمٰی نے اسے بند کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے کہ اسلام آباد کے ماسٹر پلان کے مطابق یہ نیشنل پارک کا علاقہ ہے اور یہاں کسی قسم کی تعمیراتی اور معاشی سرگرمیاں نہیں ہو سکتی ہیں، اور یہ کہ مونال اور دیگر ریستورانوں کا یہاں بننا غلط تھا۔ پس جنگلی حیات اور ماحول کے تحفظ کے لیے انہیں فوری طور پر بند کر نے کا حکم دے دیا گیا ہے۔
اگر توہینِ عدالت کا ارتکاب نہ ہو تو دست بستہ عرض ہے دنیا بھر میں پہاڑوں کے اوپر، جھیلوں کے کنارے، جنگلوں کے بیچ، ضروری قواعد و ضوابط کے ساتھ سیاحوں کی دلچسپی کے لئے، تفریحی مقامات قائم کیے جاتے ہیں۔ البتہ ضروری حفاظتی اقدامات کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ جنگلی حیات اور ماحول کو نقصان نہ پہنچے۔ اس طور البتہ عوام پر تفریح اور سہولیات کے دروازے بند نہیں کیے جاتے بلکہ ان کی تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے، متعلقہ اداروں کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ اپنا اپنا کردار ادا کریں اور اس حوالے سے انہیں جوابدہ بھی کیا جاتا ہے۔
مونال کا وہاں بننا کسی ماسٹر پلان کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے اور شاید اجازت ملنے کا عمل بھی کچھ ایسا شفاف نہ ہو۔ تحقیق کیجیے اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ لوگوں کو سزاوار بھی ٹھہرائیے۔ جہاں کسی غیر قانونی عمل کے شواہد ملیں وہاں ملکیت اور انتظامیہ بھی تبدیل کی جا سکتی ہے۔ لیکن اب جب مونال دو دہائیوں سے شہر کی زندگی اور خوبصورتی کا ایک لازمی جُز بن چکا ہے تو بادل نخواستہ اسے قبول کر لیا جائے اور بہتری کے اقدامات تجویز کیے جائیں۔ ماہرین کی مدد سے جنگلی حیات اور ماحول کے تحفظ کے لیے ایک ضابطہ اخلاق مرتب کیا جائے اور اس پر سختی سے عمل کروایا جائے۔ مزید تعمیرات اور خاص طور پر کسی بھی قسم کی رہائشی تعمیرات کو ختم کر دیا جائے اور آئندہ اس پر پابندی عائد کر دی جائے۔ جو ریستوران البتہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد قائم ہوئے ہیں اور متعلقہ شرائط پر عمل کر رہے ہیں انہیں کاروبار کی اجازت دے دینی چاہیے اور غیر قانونی ریستورانوں کی حوصلہ شکنی کی جائے، اور اس نوعیت کے دیگر اقدامات۔
یار لوگوں کو یاد ہو گا کہ کبھی شہر میں بچوں اور بڑوں کی تفریح اور تعلیم کے لیے ایک مرغزار نامی چڑیا گھر بھی ہوا کرتا تھا۔ اس کے انتظامی معاملات بہت بگڑ گئے تو عدالتِ عالیہ نے اسے بند کروا دیا تھا۔ ناکردہ گناہوں کی سزا گویا اسلام آباد کے رہائشیوں اور یہاں آنے والے سیاحوں کو ملی۔
اگر عدم کارکردگی اور عوامی اطمینان کی بنیاد پر ادارے بند کرنے کی دلیل کو مان لیا جائے تو عوام میں جا کر پوچھ پڑتال کر لیجیے آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ تو کیا عدالتوں کو بھی تالے لگا دیے جائیں؟
مسئلے کو مار نہیں دیا جاتا، اسے حل کیا جاتا ہے۔
مونال کے حوالے سے عدالتِ عظمی میں کارروائی جاری ہے۔ مہنگے اور نامور وکلا کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ منصفین بھی مسلسل چبھتے ہوئے اور برمحل سوالات کر رہے ہیں اور متعلقہ اداروں اور افراد کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ اگر اس فورم پر کسی کی نمائندگی نہیں ہے تو ان شہریوں کی جو سمجھتے ہیں کہ شہروں میں پُرفضا اور تفریحی مقامات کے لیے ایسی سہولیات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
اب راقم نے قلم کا سہارا تو لیا ہے مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنے!
نیف ڈیک سینما، کورڈ مارکیٹ اور مرغزار کے بعد ، مونال بھی اب بھولی بسری یاد بننے کو ہے۔
سو بھاری دل کے ساتھ، مونال، خدا حافظ!


