جھوٹ کا جادو!
جھوٹ میں ایک جادو ہوتا ہے جو انسان کی سچ ماننے کی صلاحیت کو مدھم کر دیتا ہے، جبکہ سچ اکثر کڑوا اور ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ جھوٹ شائستگی اور دلکش انداز میں پیش آتا ہے، جبکہ سچائی کی پیشکش سادہ اور بورنگ ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا نے جھوٹ اور سچ کی جنگ کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے، جہاں جھوٹ کی کشش سچ کی سادگی پر غالب آتی ہے۔
حال ہی میں لندن میں فسادات ایک جعلی خبر کے پھیلنے سے شروع ہوئے، جس نے شہریوں میں شدید اضطراب پیدا کیا۔ خبر کے مطابق، تین ننھی بچیوں کا قاتل ایک اسائلم لینے والا مسلمان تھا۔ اس جھوٹی اطلاع نے عوامی جذبات بھڑکا دیے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہنگامے پھوٹ پڑے۔ فسادات کے دوران دکانیں لوٹی گئیں، گاڑیوں کو آگ لگائی گئی، اور سڑکوں پر پرتشدد مظاہرے ہوئے۔ ان فسادات نے شہر کو شدید نقصان پہنچایا، کاروبار بند ہو گئے، اور عوامی املاک کو بھاری نقصان ہوا، جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔ یہ واقعہ جھوٹے معلومات کی خطرناک تاثیر کی واضح مثال ہے۔
جعلی خبروں نے دنیا بھر میں بڑے نقصانات پہنچائے، جو سیاسی عدم استحکام، سماجی کشیدگی، اور عوامی امن و امان کی صورتحال بگاڑنے کا باعث بنیں۔ مثال کے طور پر ، جھوٹی خبروں نے فسادات، مظاہرے، اور تشویش کو جنم دیا، جس سے املاک کو نقصان پہنچا اور کئی افراد کی جانیں گئیں۔ اس کے تدارک کے لیے مختلف ممالک نے قوانین وضع کیے، جیسے فیک نیوز کی روک تھام، آن لائن پلیٹ فارم پر نگرانی، اور جھوٹی معلومات کے پھیلاؤ پر سخت سزائیں۔ ان اقدامات کا مقصد جعلی خبروں کی روک تھام اور ان کے منفی اثرات کو کم کرنا ہے۔
پاکستان میں بھی جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے فریڈرک نومان فاونڈیشن فار فریڈم (ایف این ایف) کی جانب سے لاہور کے شیرٹن ہوٹل میں منعقدہ دو روزہ سیمینار نے نوجوان صحافیوں کو اہم مواقع فراہم کیے۔ اس کانفرنس میں فیک نیوز کی شناخت اور اس سے بچاؤ کی تکنیکوں پر تفصیل سے آگاہی دی گئی، جس نے صحافیوں کو جعلی خبروں کے اثرات کو سمجھنے اور ان سے موثر طریقے سے نمٹنے کا موقع دیا۔ مزید برآں، رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی، جس نے صحافیوں کو معلومات تک رسائی کے حقوق اور قانونی پہلوؤں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ اس سیمینار نے صحافیوں کی مہارتوں کو بہتر بنانے اور جعلی خبروں کے پھیلاؤ کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت بڑھائی۔
میں نے بھی فریڈرک نومان فاونڈیشن فار فریڈم (ایف این ایف) کے زیر اہتمام جعلی خبروں کی روک تھام پر ہونے والی دو روزہ کانفرنس میں شرکت کی۔ یہ میری زندگی کا پہلا سیمینار تھا جس میں میں نے شرکت کی اور یہ میرے لیے ایک قیمتی تجربہ ثابت ہوا۔ اس سیمینار میں 30 سے زائد صحافیوں، طلبا اور سماجی کارکنان نے شرکت کی۔ سب سے زیادہ متاثر کن بات مجھے یہ لگی کہ دوسرے شہروں سے بھی لوگوں نے اس سیمینار میں بھرپور طریقے سے شرکت کی۔ پروگرام کے پہلے دن مجھے لوگوں کو اپنے اور اپنی صلاحیتوں کے بارے میں بتانے کا موقع ملا اور کچھ نئے دوست بھی ملے۔ پروگرام کی ترتیب اور نوجوان صحافیوں کو فراہم کی گئی رہنمائی دونوں ہی شاندار تھے۔
فریڈرک نومان فاونڈیشن فار فریڈم کے ہیڈ آف پر گرامز محمد انور نے اس بات پر زور دیا کہ صحافی معلومات تک رسائی کے قوانین استعمال کر کے اپنی تحقیقاتی صحافت کو فروغ دے سکتے ہیں۔
ایف این ایف کے پر گرام مینیجر سید رضا علی نے بتایا کہ صحافت جمہوریت کا چوتھا ستون ہے اور معلومات تک رسائی کے قوانین کے استعمال سے عوامی مفادات کے حوالے سے معلومات منظرعام پر لا سکتے ہیں۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے رضا علی کہا کہ معلومات تک رسائی کے حق کی ضمانت آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 اے میں دی گئی ہے اور ملک میں معلومات تک رسائی کے 5 قوانین موجود ہیں جو کہ اس حق کو استعمال کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکام شفافیت اور معلومات تک رسائی کا قانون 2013 کے تحت 14 دنوں کے اندر معلومات فراہم کرنے کے پابند ہیں، اگر سرکاری ادارے متعلقہ دنوں میں معلومات فراہم نا کریں تو شہری پنجاب انفارمیشن کمیشن کو شکایات درج کروا سکتے۔ پنجاب انفارمیشن کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے جو کہ معلومات تک رسائی کی درخواستوں کو نمٹانے کا اختیار رکھتا ہے۔ معلومات تک رسائی کے استعمال سے نا صرف اداروں میں شفافیت آئے گی بلکہ جوابدہی کو بھی فروغ ملے گا۔
ہیومین رائٹس ایکٹوسٹ عبید الرحمن نے پیشہ ورانہ اخلاقیات کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے جعلی خبروں کا مقابلہ کرنے کے لیے صحافیوں کو تنقیدی سوچ پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
علی رضا، اور عبید الرحمان نے فیک نیوز کی پہچان اور اس کے نقصانات کے بارے میں مفصل اور موثر انداز میں آگاہ کیا، جس نے میری سمجھ بوجھ کو نئی جہت دی۔
اس سیمینار کے دو دن اتنی جلدی گزر گئے کہ پتہ ہی نہیں چلا، اس سیمینار کو کامیاب بنانے کے لئے سب نے بہت محنت کی اور خاص طور پر میں عبید الرحمان صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گی جنہوں نے اپنی شرارتوں اور مزاحیہ باتوں سے نوجوانوں کو مشغول رکھا۔
سیمینار کے اختتام پر رکن پنجاب اسمبلی مسلم لیگ (ن) کی رہنما عظمیٰ کاردار صاحبہ کو دعوت دی گئی۔ اس سیمینار میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معلومات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، صحافی اس کے ذریعے غلط خبر کو روک سکتے ہیں اور اس کے استعمال سے نظام میں شفافیت آئے گی۔ اس کے بعد عظمیٰ کاردار نے نوجوانوں میں سرٹیفیکیٹ تقسیم کیے، پھر سب نے تصویریں بنوائیں اور یوں یہ دو روزہ سیمینار اپنے اختتام کو پہنچا۔
اس سیمینار نے مجھے یہ سکھایا کہ ایسے پروگرامز کا انعقاد کیوں ضروری ہے، خاص طور پر نوجوان صحافیوں کے لیے جو میڈیا کے جدید چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ جھوٹی معلومات کی روک تھام اور صحیح معلومات کی ترویج کے لیے ایسے سیمینار میں شریک ہونا صحافیوں کی مہارتوں میں اضافہ کرتا ہے اور انہیں معلومات کی سچائی کو یقینی بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اس سیمینار میں جن پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی میں پہلے ان سے واقف نہیں تھی۔ میں دیگر صحافیوں کو بھی ایسے سیمینار میں شرکت کرنے کی ترغیب دینا چاہوں گی تاکہ وہ اپنے پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنا سکیں اور فیک نیوز کے اثرات کو کم کر سکیں۔


