سو سال پیچھے


بانسانوانہ بازار میں انارکلی کی طرف مڑنے والی سڑک، ایبک روڈ، سے چند قدم پہلے نمک منڈی میں ایک بابا جی سے حادثاتی ملاقات نے گردشِ ایام کو سو سال پیچھے کی طرف دھکیل دیا۔ بابا لبھا جی کے بارے بات پھر کسی دن، فی الوقت بات صرف اس ماحول، کلچر، فضا، خوشبو، خاموشی، رنگوں، انسانوں، نمک، مندر، دھوبی گھاٹ، گراؤنڈ، کوچوں، گلیوں، تاروں، کپڑوں، نالیوں، لائٹوں، پانی، اینٹوں، پتھروں اور دروازوں کی ہو گی جو اس محلے کے اندر اور باہر کے وقت میں برسوں کی حد فاصل کھینچے مسکرا رہے تھے۔

غمگین مسکراہٹ یا شاید کچھ اور۔ اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا۔ محلے سے باہر نکلیں تو بے غیرتی کی حد تک خستہ حال سڑک، بد بو دار گٹروں اور کھڈوں کی بہتات جہاں ہلکی سی بھی بارش ہو جائے تو انسان کو باندر بننے میں دیر نہیں لگتی۔ گاڑیوں کا اژدہام، اوپر سے ہارن دینے کا مقابلہ، دھوئیں کی مقدار البتہ اس قدر نہیں کہ سانس بند ہو جائے، فقط ناک، منہ، کان اور پھیپھڑوں میں کالی کالی خراشیں سی آتی ہیں۔ سانس چلتا رہتا ہے۔ آلودگی کی تمام اقسام دھمالیں ڈال رہی ہیں۔ لیکن جیسے ہی آپ اس ہاویہ نما بازار سے اندر محلے میں داخل ہوتے ہیں تو وقت کا پہیہ ریورس ہو جاتا ہے۔

یہ عصر کا وقت تھا۔ وہ سارا سٹریس جو دنیا کے سب سے آلودہ شہر کے سب سے آلودہ علاقے میں بائیک چلانے سے پیدا ہوا تھا ہر ہر قدم پہ وقت کا مقلد ٹھہرا کہ دونوں ریورس گیئر کے تابع تھے۔ پٹرول اور ڈیزل کی بُو کم ہوتے ہوتے ختم ہو گئی۔ گاڑیوں کا شور بچوں کے قہقہوں میں دب گیا۔ پرانی اینٹوں کی خستہ حال عمارتوں پہ جمی ہوئی کائی کی جمالیات کا موضوعی رویہ وقت کو روکنے کے لیے کافی تھا۔ جیسے ٹائم مشین میں بٹھا کر کہیں دور کسی اور شہر میں کسی اور دور میں کسی اور روپ میں بھیج دیا گیا ہو۔

میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ زبان گنگ۔ ہونقوں کی طرح دیکھے جا رہا تھا۔ یہاں ایک مندر تھا اور میں اسی مندر کی تلاش میں لیکن اندر کے سحر نے مندر کے خیال کو عنقا کر دیا۔ جیسے 1922 کا سال ہو، شام کا وقت ہو، عید کی چھٹیاں ہوں، محلے والے گھروں سے باہر نکل کے گلیوں میں کھڑے آتے جاتے لوگوں سے مل رہے ہوں، حال احوال پوچھ رہے ہوں، دیا نند بیٹنگ کر رہا ہو، مرتضی بالنگ کر رہا ہو، گلی کی نکڑ پہ روتے ہوئے بچے کی بہن اسے چپ کرا رہی ہو، گھروں میں پکنے والے کھانوں کی خوشبوئیں پورے محلے میں پھیل چکی ہوں، دروازے کی دہلیز پہ بیٹھی بوڑھی عورت ہر آنے جانے والے کو دعا دے رہی ہو، جھنڈیاں ہی جھنڈیاں لگی ہوئی ہوں، کرشن کی مورتی کی آرتی اتاری جا رہی ہو، اذان ہو رہی ہو، میں باہر نکلا ہوا ہوں اور دوستوں کا منتظر ہوں کہ آئیں تو مل کر محفل جمائیں۔

ابھی ادھر سے کرپان سنگھ اور اجے آئیں گے۔ یہ سب خیال تھا۔ میں اکیلا تھا۔ خیالات کو جھٹکنا اتنا آسان نہیں تھا۔ قدم بوجھل ہو گئے۔ پاؤں اٹھائے اٹھتے نہیں تھے۔ دیر تک ایک ہی جگہ پہ کھڑا ٹکٹکی باندھے دیواروں کو دیکھتا رہا، تنگ و تاریک گلیوں میں سورج کی مدھم روشنی کو دیکھتا رہا، اور چلتا رہا۔ قدرت نے ہر انسان کے اندر ایک نیچرل ٹائم کلاک فکس کیا ہے جو اسے وقت کا احساس دلاتا رہتا ہے۔ موبائل سے ٹائم دیکھے بغیر بھی اکثر اوقات تین تین اور پانچ پانچ گھنٹوں کے وقفے سے درست وقت کا انداز کیا جا سکتا ہے۔

ہمارا یہ ٹائم کلاک ہمیں ہر وقت چوکنا رکھتا ہے کہ ہم کس صدی، کس سال، کس ماہ، کس دن اور کس گھنٹے میں جی رہے ہیں۔ یہ احساس وقت ہی ہے جو زندگی کے سکیچ میں رنگ بھرتا ہے اور یہ احساس وقت ہی ہے جو اس سکیچ سے رنگ اڑاتا ہے۔ میرے اس اندرونی ٹائم کلاک کی جیسے بیٹری نکال دی گئی ہو۔ شام ہو رہی تھی۔ اندھیرا بڑھ رہا تھا۔ میں دھوبی گھاٹ کے سامنے کھڑا تھا۔ ایک تنگ گلی سے گزرتا ہوا یہاں تک آیا تھا۔ گلی میں ابھی بھی عورتیں اور لڑکیاں کھڑی تھیں۔

زرد رنگ۔ گھروں کے دروازے کھلے تھے۔ پردے سرکے ہوئے تھے۔ بچے آ جا رہے تھے۔ باہر نمک کی منڈی تھی۔ سامنے دھوبی گھاٹ تھا۔ ایک شخص نے ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی اور وہ شاید کمبل دھو رہا تھا۔ میں نے موبائل نکال کے تصویر لی۔ وہ میری طرف متوجہ ہوا۔ وہ جیسے ہی بولا ٹائم کلاک کی بیٹری چارج ہو گئی۔ احساس وقت کا ادراک ہوا تو متخیلہ نے جس پینٹنگ میں وقت کے رنگوں کی قوس قزح بنائی تھی وہ سب اڑنچھو۔

” کیا کر رہے ہیں آپ یہاں“
اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔ میں نے ملائمت سے کہا:
” میں تصویر لے سکتا ہوں؟“
” نہیں“

اس کے نہیں سے پہلے میں تصویریں لے چکا تھا۔ یہ تمام گھر دہلی سے ہجرت کر کے آئے ہوئے لوگوں کے تھے۔ سب کے سب اردو سپیکنگ۔ سب کے سب دھوبی۔ لاہور کا سب سے پرانا دھوبی گھاٹ۔ لانڈری کی صنعت میں ترقی نے اس کلچر کو ختم کر دیا ہے۔ اب یقیناً ان دھوبیوں کی موجودہ نسلیں اس دھوبی گھاٹ کو ذریعہ معاش نہیں بنائے ہوئے لیکن اس کی باقیات میں میں موجود کشش کا ہالہ ابھی بھی اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ واپسی کی راہ لی۔

مندر کا راستہ پوچھا۔ چند قدم آگے کا بتایا گیا۔ یہاں ایک گراؤنڈ ٹھا جہاں لڑکے کرکٹ کھیل رہے تھے۔ بائیں طرف مڑا ساتھ مسجد تھی۔ یہی مندر ہوا کرتا تھا۔ یہ سارا علاقہ مندر کا تھا۔ 1992 میں بابری مسجد کو شہید کیا گیا تو یہاں کے مسلمانوں نے بدلے میں مندر کو شہید کر دیا۔ سامنے کھڑکی میں ایک آدمی کھڑا تھا۔ اس سے مندر کا پوچھا۔

” یہی مندر تھا۔ اب یہ مسجد ہے“
” کیا میں مندر دیکھ سکتا ہوں؟“

اس نے اوپر بلایا تو میں تنگ اور خستہ حال سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر چلا گیا۔ یہاں ان کی فیملیاں رہائش پذیر تھیں۔ یہ جگہ اوقاف کی ہے۔ ان صاحب کا نام سلمان حسین تھا۔ وہ مجھے اپنے ساتھ اوپر لے گئے۔ میں مندر کے بارے میں پوچھتا رہا۔ جب مندر گرایا گیا تو اس وقت یہ ابھی لڑکے تھے۔ یہیں پہ رہائش پذیر۔ مندر کا اوپر والا حصہ سلامت بچا تھا۔ یہاں چونکہ سارے مسلمان رہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اس حصے کو مت گراؤ اتنے زیادہ ملبے کو ٹھکانے لگانا مشکل ہو جائے گا۔

ایک بڑا سا مینار نما حصہ ابھی بھی سلامت کھڑا ہے۔ ہندوؤں کی مذہبی علامتیں وغیرہ مٹا دی گئیں۔ اشلوک وغیرہ مٹا دیے گئے۔ بڑا سا ”الجبّارُ“ لکھ دیا گیا۔ کیا یہ جبر کی داستان کی علامت ہے؟ میں نے خود سے سوال کیا۔ سلمان حسین نے چائے کی آفر کی۔ وہ انتہائی خلیق اور ملنسار آدمی ثابت ہوا۔ میں نے مندر کے اس باقی ماندہ حصے کی تصویریں لیں۔ وہ مجھے نیچے تک چھوڑ کے آیا۔ ”مسجد میں نماز ہوتی ہے؟“ میں نے اس سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ وہابیوں کی مسجد ہے نمازی وغیرہ کوئی نہیں آتے یہاں۔

یہاں ایک کھڑکی تھی۔ یہ پتہ نہیں کیسے بچ گئی تھی۔ میں نے وہاں کھڑے ہو کے ایک تصویر بنوائی۔ اگر تقسیم نہ ہوتی تو آج شاید یہاں کچھ اور ہوتا۔ کوئی اور لوگ ہوتے۔ یہی سوچتے سوچتے نیچے اتر آیا۔ سرائے رتن چند کا نام ابھی بھی سرائے رتن چند ہی ہے۔ شاید بدل دیں۔ یا شاید بدل دیا ہو مجھے اس بارے معلوم نہیں۔ باہر کی طرف چل دیا۔ وہ کیفیت جو پچھلے کچھ وقت سے طاری تھی ٹریفک کے شور میں مدغم ہو گئی۔ ایک ایک قدم ایک ایک سال کے فاصلے پہ تھا۔ سو سال آگے آیا تو تین چار لوڈر رکشے، کئی ریڑھیاں، چنگچیوں کا شور، کچھ نئی نکور کاریں اور پرانے ماڈل کی موٹر سائیکل اپنی اپنی شامت اعمال پہ رو رہے تھے۔ سڑک پہ پیدل چلنے والے بھی پھنسے ہوئے تھے۔ پاں پاں پاں پاں۔ میرے منہ سے ایک غلیظ ترین گالی نکلی اور کلچ چھوڑ کے ریس دے دی۔

Facebook Comments HS