روس یوکرین جنگ۔ اور کب تک اٹھے گا دل گیتی سے دھواں؟


چونکہ اس جنگ میں مرنے اور مارنے والے مسلمان نہیں لہذا اس پر بات کرنے کا ثواب نہیں ملنا۔ تقریباً 2 سال سے جاری یہ جنگ کم از کم ہمارے میڈیا میں صفحہ اول پر جگہ نا بنا سکی۔

فروری 2022 میں چھڑنے والی روس اور یوکرائن کی جنگ کئی پینترے بدل چکی ہے۔ کبھی روس کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے اور کبھی یوکرائن سبقت لے جاتا نظر آتا ہے۔ بیرونی مبصرین اندازہ لگانے سے قاصر ہیں کہ ان فریقین کا بریکنگ پوائنٹ کہاں ہو سکتا ہے، ان میں جنگ کو طول دینے کی کتنی استطاعت باقی ہے۔ یوکرائن کا روسی صوبے پر حملہ اس جنگ کو ایک دفعہ پھر شہ سرخیوں میں واپس لایا۔ عالمی سیاسی ماہرین کے درمیان بحث گرم ہے کہ یوکرین میں جنگ کیسے ختم کی جا سکتی ہے۔

خود روسی ارباب اختیار واضح اختلاف رائے رکھتے ہیں کہ جنگ کو کیسے نمٹایا جائے۔ اکثریت کی خواہش ہے کہ بس بہت ہو گیا۔ جنگ کو ابھی اور اسی وقت کسی مثبت نتیجے پر پہنچایا جائے ان کے لیے مثبت کا مطلب ہے فوری جنگ بندی۔ زیادہ تر روسی اشرافیہ موجودہ جنگی خطوط پر ہی جلد از جلد جنگ بندی کے حامی ہیں۔

لیکن ایک مختصر لیکن طاقتور حلقہ ان سے مختلف رائے رکھتا ہے ان کے خیال میں روس نے اس جنگ میں فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ اپنی سفارتی قوتوں کو بھی داؤ پر لگایا۔ فوری اور بلا شرط جنگ بندی روس کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔

یوکرین کی کرسک پر دراندازی نے روسی افواج کی کمزوریوں کو ظاہر کر دیا ہے۔ اور روس کی اس غلط فہمی کا ازالہ کر دیا ہے کہ کیف محض تین دنوں میں گر سکتا ہے۔ ایک طرف تو یہ تاثر مل رہا ہے کہ روس کی فوج کم پڑ رہی ہے کیونکہ محاذ جنگ وسعت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ جیسا کہ کرسک پر حملے نے جنگ کی فرنٹ لائن کو 600 میل سے بھی زیادہ توسیع دے دی۔ لیکن دوسری طرف ایک قیاس یہ بھی ہے کہ پیوٹن کی توجہ چھوٹے محاذ کھولنے کی بجائے یوکرین کی ریاست کے مکمل خاتمے پر ہے۔

راقم کے نزدیک روس یوکرین جنگ میں جنگ بندی کا ایک ممکنہ حل تو یہ ہو سکتا ہے کہ فریقین کو عارضی علاقائی انتظامات پر اتفاق کروایا جائے۔ یوکرین نے مسلسل اپنے تمام مقبوضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش پر زور دیا ہے، جب کہ روس ان علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور نتیجتاً جنگ طول پکڑ رہی ہے۔ نیٹو کے دیگر رکن ممالک کو کیف کو ترغیب دینی چاہیے کہ اپنی سرحدوں کا فوری تعین کریں۔ حالیہ جنگ کے دوران روس کے قبضے میں جو علاقے جا چکے ہیں ان سے عارضی ہی سہی لیکن دستبرداری اختیار کریں۔ کیونکہ فی الحال پورے یوکرین کی سالمیت کا سوال ہے۔ تقسیم کو برداشت کرنا پڑے گا لیکن اس سے یوکرائن کا بیشتر حصہ مزید حملوں اور جنگ سے محفوظ ہو جائے گا۔

دوسری حکمت عملی یہ اختیار کی جا سکتی ہے کہ یوکرین کو نیٹو رکنیت کے بغیر ہی حفاظتی ضمانت دی جائے کیونکہ سر دست یوکرین کے سیکورٹی خدشات جنگ کی مرکزی وجہ ہیں۔ فوری طور پر نیٹو کی رکنیت کے بغیر نیٹو یا دیگر بین الاقوامی اداروں کی طرف سے یوکرین کی حفاظت کی ضمانتیں پیش کر کے جنگ بندی کو ممکن بنایا جائے۔

ویسے آپس کی بات ہے کہ نا تو جنگ کرنے والوں نے یہ بلاگ پڑھنا ہے اور نا جنگ بندی کروانے والوں نے۔

Facebook Comments HS