عمران خان جھوٹے یا پھر علی امین گنڈا پور سچے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے لاپتہ ہونے کا معاملہ کیا ہے،
9 ستمبر 2024 کی تاریخ مطالعہ پاکستان تو نہیں مطالعہ سیاسیات کا حصہ ضرور بن چکی ہے۔ یہ ایک ایسا انوکھا دن ہے کہ جس میں پاکستان کا سب سے ہاٹ لسٹ صوبہ اپنے وزیراعلی سے کئی گھنٹوں تک پراسرار طریقے سے محروم ہوتا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جن کا نام علی امین گنڈاپور ہوتا ہے اس کے پرسنل سٹاف سے لے کر سیکورٹی سٹاف کے موبائل فونز بند ہو جاتے ہیں، کوئی رابطہ نہیں ہوتا۔ وزیر اعلیٰ کے ترجمان بھی کہتے ہیں میرا کوئی رابطہ نہیں ہو رہا، صوبائی حکومت کے وزراء کہتے ہیں ہمیں نہیں معلوم ہمارا وزیراعلیٰ کہاں ہے، وزیر اعلیٰ کی پارٹی تحریک انصاف کے مرکزی رہنما بتاتے ہیں صبح سیکیورٹی اداروں سے کوئی میٹنگ تھی وہاں گئے ہیں لیکن پھر کچھ پتہ نہیں۔
وزیر اعلی ٰ علی امین گنڈا پور کے بھائی فیصل امین کہتے ہیں رابطے کی کوشش میں ہوں، پھر کہیں رات گئے خبر آتی ہے جو فیصل امین ہی دیتے ہیں کہ وزیر اعلی ٰ کی اسلام آباد میں صوبے کے لا ءاینڈ آرڈر سے متعلق اجلاس میں مصروفیت تھی جس جگہ تھے وہاں جیمرز لگے تھے اس لیے رابطہ نہیں ہوا۔ اس دوران بہت سے صحافی یہ کہتے رہے کہ وزیر خیر پختونخوا کو حراست میں لیا گیا ہے لیکن کسی نے یہ نہیں بتایا کہ کس نے انھیں گرفتار کیا ہے، سب کہ سب بس اپنی دکان کا سودا بیچ رہے تھے۔
اصل کہانی تب شروع ہوتی ہے جب 10 ستمبر کی صبح کی روشن کرنیں اڈیالہ جیل راولپنڈی پہنچتی ہیں، میڈیا کے نمائندوں سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ملاقات ہوتی ہے۔ سوال جواب کی نشست کا وقت آتا جس میں بہت سے سوالات کیے جاتے ہیں۔ لیکن ایک لاپتہ کہیں یا مرضی سے میٹنگ میں بیٹھے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے متعلق سوال ہوتا ہے۔ جس پر عمران خان الزام دھرتے اور دعوی ٰ کرتے ہوئے کہتے ہیں وزیر اعلی ٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کو اسٹیبلشمنٹ نے حراست میں لیا تھا، ادارے ایک صوبے کے وزیراعلٰی کو اٹھا کر نفرتیں بڑھا رہے ہیں، لیکن علی امین بہادر بندہ ہے اور میں اس کے ساتھ ہوں، علی امین قوم کے جذبات کی ترجمانی کرر ہے ہیں
یہ تو تھی ایک سائیڈ کی کہانی اب 11 ستمبر کی شب پر آتے ہیں جب وزیر اعلیٰ گھنٹوں کے بعد پشاور میں وکلاء سے خطاب کرنے کے لیے سامنے آتے ہیں۔ اپنی تقریر کرتے ہیں، قانون و آئین کی پاسداری کا درس دیتے ہیں، لیکن آخری میں وہ اپنے ہر دل عزیز قائد عمران خان کو جھوٹا بھی بنا جاتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اپنی تقریر کے آخری حصہ میں کہتے ہیں کہ میں 2 دونوں سے اہم میٹنگز میں مصروف تھا جس کی وجہ سے اپنے ساتھیوں سے رابطہ نہیں ہوا، بہت سے باتیں بھی نا کر سکا۔ گنڈا پور نے تقریر میں ریاستی اداروں کے اصلاح کا ذکر کرتے ہوئے ایک مبہم سی بھی بات کی کہ میرے سینے میں بہت سے باتیں محفوظ ہے، جو میں نے اپنے لیڈر عمران خان، بیوی، بچوں کو بھی نہیں بتایا ہے۔ لیکن میرے اس ظرف کو میری کمزوری نا سمجھا جائے۔
اب آپ کو اتنی ساری کہانی سنانے کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ علی امین گنڈاپور کے ساتھ کیا ہوا اور عمران خان نے کیا کہا، مدعا عالیہ یہ ہے کہ وزیر اعلی ٰ کے لاپتہ ہونے کے معاملے میں دنیا بھر میں پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن اب پریشانی یہ ہے بات مانے تو کسی کی مانے، عمران خان کی جو ریاستی اداروں پر حراست میں لینے کا الزام لگا رہے ہیں یا پھر علی امین گنڈا پور کی جو کہتے ہیں وہ میٹنگز میں تھے۔ دونوں میں سے ایک سچا اور جھوٹا تو ضرور ہے۔
سارے معاملے پاکستان دنیا کی نظر بہت حد تک متاثر ہو چکا ہے، دشمن ملک بھارت کی میڈیا پر کچھ الگ کہانیاں بیان ہو رہی ہیں۔ ہیومین رائٹس کے عالمی ادارے پاکستان کے جمہوری نظام پر سوالات کھڑے کر رہے ہیں، اب خود سوچے کہ یہ واقعہ اتنا سادہ سا ہے کہ آپ مذاق سمجھ کے ٹال دیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ دہشتگردی سے متاثرہ صوبے کے وزیر اعلیٰ کا لاپتہ ہونا معمولی بات نہیں اور پھر ریاستی اداروں کی جانب سے ہاؤس اریسٹ کرنے کا الزام لگنا اس سے بھی زیادہ خطرناک بات ہے۔ علی امین آج تو چپ رہ جائیں لیکن شاید تاریخ انھیں چپ رہنے نا دے۔ یا تاریخ خود ہی ایسے موڑ کر آ جائے کہ سب کچھ آٹو میٹک انداز میں سامنے آنے لگے، انسانی تاریخ یہی بتاتی ہے۔ اب بھی ہمارے پاس وقت ہے کہ ہم حدود کا تعین کر لیں کیونکہ آگے کا راستہ نہیں، کھائی ہے، جس میں سب گریں گے۔


