وجاہت مسعود سے ایک سوال
وجاہت مسعود جارج آرویل کی طرح نہ تو جانوروں کا باڑا (Animal Form) لکھ کر اشاروں میں بات کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی پیش گوئیاں کر کے 1984 لکھتے ہیں بلکہ منٹو کی طرح کھلا سچ لکھتے ہیں اور اشارہ بھی کریں تو ساری دنیا کو وہ اشارہ، اشارہ نہیں؛ ایک واضح اعلان لگتا ہے۔ ”معلق محل سے آتی صدائیں“ اس کی مثال ہے۔ منٹو کا ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ کا استعارہ لے کر اپنے ”مجرم خیال“ ہونے کا اعتراف کر لیا۔ یہ افسانوی بنت میں لکھا گیا مضمون (ہم سب) میں چھپا تو ویب سائٹ کے نام پر غور کیا۔ یہ نام کیوں چنا گیا؟ کیسے چنا گیا؟ کیا پیش نظر تھا؟ وغیرہ وغیرہ
عرض ہے کہ؛ نہ تو ’ہم‘ ، ’ہم‘ ہیں۔ بس بکری کی طرح : میں، میں، میں کرتے ہیں اور بکری کی طرح کٹتے، مرتے ہیں۔
اور ’سب‘ کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ کسی پرچم کے سایہ تلے سب ہونا، ایک خواب نظر اتا ہے۔ البتہ ایک ڈنڈے تلے سب ایک نظر آتے ہیں۔
بکری کا دھڑ ”بگ برادر“ قصائی کے سامنے ہے ؛ ٹوکا چلتا ہے اور مشرقی مغربی دو بڑے ٹکڑے کرنے کے بعد، سندھی، پختون، پنجابی کے ٹکڑے بنا ڈالتا ہے۔ اگلے ٹوکے سے دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث کے ٹکڑے کاٹ رہا ہوتا ہے اور کافر کافر کی چربی پلاسٹک کے نیلے بڑے کنستر میں ڈال رہا ہے کہ اس کا تیل نکال کر بیچا جا سکے۔
پھر ٹوکا چلتا ہے تو سیاسی متشدد ٹکڑے کاٹ ڈالتا ہے۔ ایک ٹکڑا پھسل کر قصائی کے منہ کو جا لگتا ہے۔ اس کی گستاخی پر اس کی ٹکڑے سازی شروع ہو جاتی ہے۔ انتظار کرتے گاہک اسی ٹکڑے کی حقیقی آزادی کو پسند کر کے، اس کی طرف لپکتے ہیں۔ قصائی اس پر کپڑا ڈال دیتا ہے۔ مگر وہ ٹکڑا پھڑپھڑاتا رہتا ہے۔
اس کا ٹوکا چلتا جا رہا ہے اور اب ڈیپارٹمنٹ کے ٹکڑے تیار ہو رہے ہیں؛ عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ، پارلیمنٹ وغیرہ۔ پھر ٹوکا معاشی ٹکڑے کرتا ہے اور بائیس خاندان جنم لیتے ہیں اور بائیس کروڑ بھوک سے بلکتے پیٹ؛ سماجی ٹکڑے ایلیٹ کلاس، مڈل کلاس وغیرہ کرتا جا رہا ہے۔ اب اہل علم کی باری ہے اور اسے ٹکڑے کر کے، لبرل آزاد خیال ٹکڑا نیلے کین میں ڈال دیا کہ اس کی ضرورت نہیں۔ اس ٹکڑے کا جرم یہ ہے کہ یہ سب ٹکڑوں کو جوڑ کر ہم بنا سکتا ہے اور قصائی کی ساری محنت رائیگاں جا سکتی ہے۔ اور ہم خیال ”دانش ور“ ٹکڑے اوپر کنڈے پر لٹکا دیے جاتے ہیں۔ کہ سب ان کو دیکھیں، ان کو پڑھیں اور ان کی سنیں۔
ٹوکا چلتا رہتا ہے اور ٹکڑے بنتے رہتے ہیں۔ بس ایک ریڑھ کی ہڈی مع اعضائے معلقات بچا لی جاتی ہے اور اوپر کنڈے پر لٹکا دی جاتی ہے تاکہ گاہک سمجھ جائیں کہ بکرے کا گوشت ہے اور بہت اعلیٰ ہے۔
اس ٹکڑے ٹکڑے لوتھڑے کو ’ہم سب‘ کہنا کہاں کا انصاف ہے؟ وجاہت مسعود جواب دیں؟
نہیں، نہیں! ’ہم سب‘ کو محض نام سمجھنا انصاف نہیں بلکہ یہ ایک وژن ہے!
یہ ایک خواہش ہے! یہ ایک متوازن سیاسی اور سماجی معاشرے کی قائم کرنے کی خواہش ہے! یہ ایک امید ہے! یہ مغرب کی confrontational thinking کی جگہ parallel thinking کو رائج کرنے کی دعوت ہے جس میں ہم سب ایک ہوتے ہیں۔ سب مل کر سوچتے ہیں، مل کر عمل کرتے ہیں اور مل کر زندگی کی رعنائیوں کو انجوائے کرتے ہیں۔ یہاں کمرہ نمبر 101 میں ٹارچر سے برین واش نہیں کیا جاتا بلکہ وہاں بیٹھا intellectual اپنی زبان، اپنی قلم اور اپنے رویے سے ’میں‘ کو ’ہم‘ میں تبدیل کر رہا ہوتا ہے اور ہم سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے اور سب کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔ وجاہت مسعود کے رکھے نام ’ہم سب‘ میں کتنا عمدہ وژن ہے!



خوش آمدید