نااہل قیادتیں اورگھائل سیاسی اقدار
سیاست میں حسن اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جماعتوں کی قیادتیں خلوص، تہذیب اور درد کی دولت سے مالا مال ہوں۔ بے شک سیاست کو عد ل وانصاف کابہتر وسیلہ بھی بنایا جاسکتاہے بشرطیکہ یہ مقدس پیشہ سینوں میں دل اور آنکھ میں آب رکھنے والوں کے سپرد ہوں۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں اس مقدس پیشے کا عصر رواں میں اس حد تک ستیاناس کردیا ہے کہ الامان والحفیظ کے علاوہ اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ یارلوگوں نے یہاں سیاست کوفنون ِ غلیظہ کے خانے میں لا کھڑا کیا ہے کہ اب منافقت، خود غرضی اور لوٹ مار جیسے قبیح الفاظ اس کے مترادفات میں شامل ہونے لگے ہیں۔ جو لوگ یہاں مذہب کے لبادے میں قومی خدمت کے نام پراس اسٹیج پر نمودارہوئے، انہوں نے سب سے بڑھ کر مذہبی اقدار کو گھائل کردیاہے بلکہ اب اس کا جنازہ نکالنے تک ایکٹنگ کرتے رہینگے۔ پھراسی مذہب کے وسیع وعریض میدان میں بعض دینی خدمتگاروں نے جہاد کا انتخاب کرکے اس فلور کو استعمال کیا، جن کے نتائج بھی ہمارے سامنے ہیں۔ ہاں جن مہربانوں نے قومیت کے محدود کنویں سے اپنی قوم کے غرباء اور پسماندہ لوگوں کا کندھا استعمال کرکے باہرآکر اسلام آباد جیسے پرتعیش بلادپر نظر یں جمادیئے، ان کی یاداشتیں یہاں تک جواب دینے لگے ہیں کہ اسی کنویں کے مخلوق کیساتھ ساتھ کنویں کانام تک بھول گئے ہیں۔ دین اور مخصوص قوم سے بالاتر ہوکر کچھ لوگوں نے مطلق انسانیت کی فلاح کے لئے یوں اپنی خدمات پیش کیں کہ اب دیارِ غیر کے بینک بھی ان کے سرمایوں سے برکات حاصل کررہے ہیں، علیٰ ہٰذہ القیاس۔
سیاست کے میدان کا شہسوار ہوکر ایک سیاستدان کو تہذیب اور شائستگی اپنانا حد درجہ ناگزیر سمجھا جاتا ہے لیکن بدنصیبی سے اخلاقی اقدار کی پامالیوں میں ہمارے سیاست دان کسی سے کم نہیں۔ سوشل میڈیا پر ہم اگر جائیں تو یہ بات مزید عیاں ہوجاتی ہے کہ یہ عالی دماغ کس حدتک اپنے مریدوں سے اپنے سیاسی حریفوں کی جگ ہنسائی کا کام لے رہے ہیں۔ قیادتیں اگربرداشت اور اعلیٰ ظرف ہوں تو ان کے مقلدین اور معتقدین کو اس طرح کی غلاظتیں اچھالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اب تو یہ جانتے ہیں کہ لاکھو ں کے اجتماعات میں جب ان کے معزز قائدین اپنے حریفوں پر یہود وہنود کا ہرکارہ، منافق اور چور جیسا حکم لگانے کے باوجود معزز رہتے ہیں تو ہم فیس بک والوں کے بے شرمی سے کونسا آسمان کرے گا؟ تاریخ کا ادنیٰ طالبعلم ہونے کے ناطے مجھے یہاں تقسیم ہند کے وقت کے ان سیاستدانوں کے اعلیٰ ظرف پر رشک آتاہے جنہوں نے ہمہ وقت سیاسی اقدار کی لاج رکھی، لیکن
’’پھراس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی ‘‘
شورش کاشمیری اپنی کتاب میں مولانا آزاد مرحوم کی وسیع الظرفی اور برداشت کے بارے میں رقمطراز ہیں کہ کسی نے ان کے سامنے چودھری خلیق الزمان کا ذکر چھیڑا تو فرمایا ’’ کسی کی غلطیاں یاد نہ کیا کرو، ہمیشہ اس کی خوبیاں سامنے رکھو، چودھری صاحب سیاست کی بھول چوک ہیں ‘‘۔ کسی نے بیان کیا کہ لاہور موچی دروازے میں کل لیگ کا جلسہ عام تھا، لیاقت علی خاں نے خطاب کیا اور آپ کو ننگی گالیاں دیں۔ فرمایا آپ کا خیال ہے انہیں ڈھکی ہوئی گالیاں دینی چاہیے تھیں، آخر سیاست کی اس برہمی میں جب فضاء میں چاروں طرف نیزے تنے ہوں تو آپ ان سے کیا توقع رکھتے ہیں؟ ایک دفعہ فرمایا کہ میں نے لوگوں کے عیب چننے کے بجائے ہمیشہ ان کی خوبیاں تلاش کی ہیں۔ جو لذت حسن تلاش کرنے میں ہے وہ کسی اور چیز میں نہیں، محاسن کی ڈھونڈ ہی سے آدمی اپنے محاسن کو بڑھا اور چمکا سکتاہے‘‘۔
اخلاقی پستیوں کے علاوہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس بدقسمت دیس میں کرپشن، بدعنوانی اور اقرباء پروری جیسے قبیح دھندوں کو سیاست سے اس طرح نتھی کردیا گیا ہے کہ گویا اس کے بغیر اب ہماری سیاست مکمل ہوگی اورنہ ہی سیاست دانوں کا سکہ چل سکتاہے۔ قومی خزانے کو دونوں ہاتھ سے لوٹنے، اپنوں کو نوازنے اور غریبوں کا استحصال کرنے میں ہر ایک نے اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالنے کی خوب کوشش کی ہے۔ تاریخ کے ایک ادنیٰ طالبعلم کوبھی معلوم ہے کہ ماضی قریب میں پاکستانی قوم کی جو حق تلفیاں ان سیاسی لارڈز نے کیں اور بیرون ملک اثاثے جس بے دردی کے ساتھ بڑھائے، اپنی مثال آپ ہے۔ بلوچستان آبادی کے لحاظ سے ملک کی ایک چھوٹی اکائی ہے اور پسماندگی کے حوالے سے بھی سب سے زیادہ مشہور ہے، ہم مان جائینگے کہ وفاق نے بھی اسے پسماندہ رہنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن دل کی بات کہی جائے تورہی سہی کسر یہاں کے منتخب نمائندوں نے پوری کردی ہے۔
ایسے مہرباں سیاستدان بھی دیکھنے کوملتے ہیں جوتحصیل علم کے دوران پیزاروجامہ خریدنے سے بھی عاجز تھے، آج دومرتبہ وزارت کی باریاں لے کر کروڑوں نہیں بلکہ اربوں کے مالک بن گئے ہیں۔ ہمارے نیب جیسے ادارے ہر لحاظ سے اگربالاتر ہوجائیں تومجھے یقین ہے کہ ایک سابق سیکرٹری کی طرح ان وزراء اور ایم پی ایزکی رہائش گاہوں کے الماریوں سے بھی کروڑوں کے حساب سے مسروقہ رقم اگلوا سکیں گے۔ اب جب ایک پسماندہ ترین صوبے کو پسماندگی اور غربت سے نجات دلانے کا بیڑا اٹھانے والے خود گھر کی چراغ کی مانند گھر کو آگ کو راکھ بنانے پر تلے ہوئے ہوتے ہیں تو اسلام آباد جیسے پرائے گھر کے مالکان سے کیا شکوہ؟ ڈیوڈ کیمرون برطانیہ کے وزیراعظم رہے جن کو پچھلے سال بریگزٹ ایشو پر عوام کو ڈلیور نہ کرنے پر اخلاقاً مستعفی ہونا پڑا۔ ان کا اسلام سے تعلق تھا اور نہ ہی ہم جیسے اسلامی قلعے کے مکین تھے، لیکن ان کے اخلاقی کمال اور قومی خزانے سے متعلق دیانت سے متعلق خبریں پڑھ کرسر ایک مرتبہ کی بجائے تین مرتبہ شرم سے جھک جاتا ہے۔ برطانیہ جیسے ملک کا وزیراعظم رہنے کے باوجود اپنی بیوی کے لئے بانوے ماڈل کی سیکنڈ ہینڈ گاڑی بھی خرید تا ہے( جس کی قیمت پاکستانی روپے کے حساب چار لاکھ پڑتے ہیں) اور ٹین ڈاوننگ اسٹریٹ سے ہنستے ہنستے کرائے کے مکان میں بھی فاتحانہ انداز میں شفٹ ہوتے ہیں۔
جو بائیڈن سابق امریکی صدر اوبامہ کے نائب صدرتھے، شاید آپ سوچ رہے ہوں گے کہ امریکہ جیسی ریاست کانائب صدر بن کر جوبائیڈن کے گھر میں اقتدار کی چڑیا روزانہ سونے کے انڈے دے رہے ہوں گے۔ لیکن معاملہ ہماری سوچ سے سراسر مختلف تھا، پچھلے سال اس نائب صدر کا بیٹا ایک طویل بیمار ی میں مبتلا ہوگیاتھا۔ اس کے علاج پر جو بائیڈن کا اتنا خرچہ ہوا کہ بالآخر اس نے اپنا اکلوتا مکان فروخت کرنے کا اعلان کردیا۔ صدر اوباما کو اس کا علم ہوا تو اپنے نائب کو مکان بیچنے سے منع کیا اور بیٹے کے علاج کے لئے اپنے پاس سے قرضہ دیا۔ آپ موازنہ کیجیے، کہاں امریکہ جیسی ریاست کا نائب صدر جو اپنے جگر گوشے کے علاج کے اخراجات بھی برداشت کرنے سے عاجز ہیں اور نوبت اپنے واحد مکان کی فروخت تک پہنچتا ہے اور کہاں ہمارا اسلامی قلعہ، جہاں ایم پی اے صاحب کا پی ایس، منسٹرصاحب کا ڈرائیور اورچودہ گریڈ کا اسٹینو گرافر کا بھی بیٹے کی علاج کے لئے ذاتی مکان نہیں بیچتا، کیونکہ سرکاری خزانے کا پھر مقصد کیا۔ برطانوی اور امریکی وزارائے اعظم اور صدور کا حوالہ دے مطلب ہرگز یہ نہیں کہ گویا وہ ہر حوالے سے قابل مدح اور ہم قابل ذم ہیں۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ کیا ہم اخلاقی اقدار، شفافیت، دیانت، اخلاص اور قوم کے درد سے لاتعلق ہوکر صرف عقائد، صوم اور نوافل ہی پر گزارا کریں گے؟
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں


