یورپ کی سیر کا پہلا پڑاؤ
جب اگست کا مہینہ شروع ہوا تو میں نے لکسمبرگ جانے کا پروگرام فائنل کر نا شروع کر دیا اور بلال کو بتا دیا کہ 15 اگست کے بعد کا ٹکٹ خرید لو۔ پہلے 28 اگست کی ٹکٹ خریدی گئی لیکن ترکش ائر لائن کی اس فلائٹ میں استنبول میں بیس گھنٹے کا ٹرانزٹ تھا جس کی وجہ سے یہ پروگرام کینسل کر کے دوبارہ 8 ستمبر کی ٹکٹ خریدی گئی جس میں استنبول میں صرف چار گھنٹے کا ٹرانزٹ تھا۔ فلائٹ کراچی سے تھی میرا اپنا پروگرام یہ تھا کہ میں بزنس ٹرین پر کراچی جاؤں گا۔ وہاں دو ایک دن رہ کر آگے چلا جاؤں گا لیکن بچہ پارٹی نے اسے نا منظور کر دیا۔ اب میں نے 6 ستمبر کی شام 5 بجے پی آئی اے کی فلائٹ سے کراچی جانا تھا اور وہاں پر شاید کے پاس ایک دن قیام کے بعد 8 ستمبر کو صبح 6 بجے لکسمبرگ کے لیے روانگی تھی اور استنبول میں 4 گھنٹے ٹرانزٹ کے بعد شام 5 بجے لکسمبرگ پہنچنا تھا۔
یہاں پر آپ سے یہ بات شیئر کرتا چلوں کہ جیسے جیسے بکنگ کی تاریخ اور سفر کرنے کی تاریخ کا گیپ بڑھتا جاتا ہے ٹکٹوں کی قیمت میں کمی ہوتی جاتی ہے۔ بلال مجھے بتا رہا تھا کہ اگر آپ 15 اگست کو جائیں تو ٹکٹ ساڑھے چار لاکھ کا ہے۔ 30 کو جائیں تو تین لاکھ کا ہے۔ اسی طرح سفر کی تاریخ آگے آگے جانے سے ٹکٹ کی قیمت میں خاصی کمی ہوتی جا رہی تھی۔ میں نے بلال سے کہا بھی کہ بس آگے بڑھتے جاؤ اور جب وہ لوگ ٹکٹ کے ساتھ دو چار سو یورو بھی دینے پر آ جائیں تو وہیں فائنل کر دینا۔
بہرحال اُس نے سنی ان سنی کرتے ہوئے 8 ستمبر کو صبح 6 بجے کراچی ائر پورٹ سے ترکش ائر لائن کی فلائٹ میں بذریعہ استنبول کی ایک سیٹ بک کروا دی۔ پروگرام کے مطابق 6 ستمبر کو بدر مجھے لاہور چھوڑنے جا رہا تھا۔ عشا کو اپنے کالج کا کوئی کام تھا وہ بھی ساتھ ہی تیار ہو گئی اور وسیم کو بلال نے ساتھ کر دیا کہ ایک ہی دن میں لاہور جانے اور واپس آنے کی وجہ سے بدر تھک جائے گا اور واپسی پر وسیم گاڑی ڈرائیو کر لے گا۔
صبح ٹھیک نو بجے جانے کا پروگرام فائنل ہوا۔ حسب معمول اور حسب عادت ہم صرف ایک گھنٹے کی تاخیر سے تقریباً دس بجے گھر سے نکلے بھاگم بھاگ لاہور پہنچے اور چلتے چلتے راستے میں ایک سینڈوچ اور ایک ڈرنک پکڑ لی۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اسے ڈھونڈنے میں تقریباً ایک گھنٹہ صرف ہو گیا۔ ساڑھے تین بجے کے قریب ائر پورٹ پہنچے پانچ بجے فلائٹ تھی۔ یہاں پہنچ کر فوراً ہی ہم لاؤنج میں جانے والے لوگوں کی صف میں شامل ہو گئے۔
گیٹ پر دو لوگ کھڑے تھے۔ انہوں نے میرا پاسپورٹ اور ٹکٹ دیکھ کر آگے جانے کو کہا آگے سامان سکین ہو رہا تھا۔ میرے پاس ایک بڑا بیگ تھا جس میں میرے کپڑے تھے اور ایک ہینڈ کیری کے طور پر چھوٹا سا بیگ تھا اور وہ دونوں ہی ایک ٹرالی پر رکھے ہوئے تھے۔ یہاں پر دس پندرہ لوگ سامان چیک کروانے کے لیے کھڑے تھے۔ میں ابھی اُن لوگوں تک پہنچا ہی تھا کہ ایک فربہی مائل شخص میرے پاس آیا اور اس نے ٹرالی کی دستی پکڑتے ہوئے اس کا رخ موڑا اور ساتھ ہی بولا کہ انکل آپ اس طرف آ جائیں یہاں پر ایک اور سکین مشین تھی اُس نے میرے دونوں بیگ اٹھا کر سکینر پر رکھے۔
ایک چھوٹی سی ٹرے اٹھا کر اس میں کراس باڈی بیگ اور موبائل رکھنے کو کہا اور اس کو بھی باقی سامان کے ساتھ سکینر پر رکھنے کو کہا۔ اس کے بعد اس نے واک تھرو گیٹ کی طرف اشارہ کیا کہ یہاں سے گزر کر آگے چلے جائیں اور وہاں آپ سکین مشین سے اپنا سامان خود نیچے اتارنے کی زحمت نہ کریں میں کسی ڈیپارٹمنٹ کے بندے کو دیکھ کر آپ کی ٹرالی دے کر بھجواتا ہوں۔
واک تھرو گیٹ پر کھڑے ہوئے شخص نے بھی میری تلاشی لینے سے احتراز کیا اور مجھے ویسے ہی آگے جانے کا اشارہ کیا۔ میں اب سکین مشین کے دوسرے سرے پر پہنچ چکا تھا جہاں پر میرا سامان بھی سکین ہونے کے بعد آ چکا تھا۔ میں نے موبائل اور کراس باڈی بیگ اٹھا لیے۔ باقی سامان کے بارے میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ ایک لمبے سے قد کا دھان پان سا آدمی ایک ٹرالی لے کر وہاں آ گیا اس نے میرے دونوں بیگ اٹھا کر ٹرالی پر اچھے طریقے سے سیٹ کیے اور ساتھ ہی تسلی بھی کی کہ یہ راستے میں کہیں گر نہ جائیں اس کے بعد وہ اسی تیزی سے واپس مڑا۔ میں نے جیب سے اپنا پرس نکالنے اور اُسے سو دو سو روپے بطور ٹپ دے کر حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کی اپنی سی کوشش کی لیکن وہ جس تیزی سے اندر آیا تھا اسی تیزی سے ہی واپس باہر چلا گیا۔
گیٹ سے اندر داخل ہونے سے لے کر سامان کی کلیرنس تک پانچ منٹ سے بھی کم وقت لگا ہو گا اب میرے سامنے ایک بڑا سا حال تھا جس کے ایک طرف ایک شخص ایک ڈیسک کے سامنے کھڑا ہوا تھا وہ مجھ سے کافی دور تھا میں نے اشاروں کی زبان میں اس سے دریافت کیا کہ آؤں اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ میں جب اس کے پاس گیا تو اس نے اشارے سے مجھے ایک کھڑکی کی طرف جانے کو کہا۔ غالباً وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ میں گونگا ہوں میں نے اس سے دریافت کیا کہ تمہارا یہاں پر کیا کام ہے۔
وہ بولا کہ میں سامان ریپ کرتا ہوں میں نے کہا کہ چلو میرے دونوں بیگ ریپ کر دو۔ اتنی دیر میں باہر سے عشا کا فون آ گیا ابو وہ موٹا سا آدمی کون تھا جو بھاگ بھاگ کر آپ کی مدد کر رہا تھا۔ میں نے اُسے بتایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون تھا۔ وہ سامنے کھڑی سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ بولی ابو یہ ایک بڑا سا گروپ ہے جو اس فلائٹ پر جا رہا ہے۔ یہ لوگ اپنا کوئی نہ کوئی سامان آپ کے سامان میں رکھنے کی کوشش کریں گے لیکن خدا کے لیے آپ نے ان کا کوئی بھی سامان اپنے سامان کے ساتھ نہیں رکھنا۔ اُن سے خصوصی طور پر محتاط رہنا میں نے حسب ِ عادت لاپرواہی سے ہوں ہاں کر دی۔ اس کے بعد میں بورڈنگ کی کھڑکی پر چلا گیا وہاں پر ایک خاتون تشریف فرما تھی۔ اس نے مجھے سے پاسپورٹ اور ٹکٹ لے کر اپنے پاس رکھ لیے اور وہاں کھڑے ہوئے ملازم کو کہا کہ ان کا سامان اٹھا کر وزن کرنے والی مشین پر رکھ دو۔
وزن کرنے کے بعد اس نے مجھ سے پوچھا دونوں بیگ ہی سامان میں آگے بھجوا دوں مجھے اس بات کی کوئی خاص سمجھ نہیں آئی۔ میری عموماً عادت یہ ہے کہ ایسے مواقع پر میں ہمیشہ ہی اثبات میں سر ہلا دیا کرتا ہوں۔ چناں چہ میرے جواب کے ردِ عمل میں ملازم نے بیگوں کو گھسیٹ کر آگے بیلٹ پر رکھ دیا جو آہستہ آہستہ نا معلوم مقام کی طرف سفر کرنے لگے۔ اب مجھے سمجھ آئی کہ میرا ہینڈ کیری بھی جہاز میں بک ہو چکا تھا۔ جو بچوں نے بہت احتیاط سے تیار کیا تھا کہ ابو راستے میں کیا کیا استعمال کریں گے اُسے ہینڈ کیری کا حصہ بنا یا گیا تھا۔
بہرحال فکر کرنے کی کوئی خاص بات نہیں تھی یہ سارا ڈیڑھ گھنٹے کا سفر تھا کراچی پہنچ کر ہینڈ کیری پھر میرے ہینڈ میں آ جائے گا۔ لیکن اس سفر میں مجھے ایک بات کا تو بہت اچھی طرح اندازہ ہو چکا تھا کہ ہینڈ کیری تو میرے لیے سب سے بڑی مصیبت ہے۔ میں ہر وقت ذہن میں یہی بات دہراتا رہتا کہ میں نے ہینڈ کیری لینا ہے ہینڈ کیری ساتھ لینا ہے۔
پچھلے سال میں آسٹریلیا گیا لاہور سے میلبورن تقریباً 24 گھنٹے کا سفر تھا۔ 24 گھنٹے میں سے تقریباً 48 گھنٹے یہی گردان کرتا رہا کہ ہینڈ کیری کو میں نے خود ہی کیری کرنا ہے۔ ہینڈ کیری کی عدم موجودگی میں تو سب مسئلے ہی حل ہو چکے تھے۔ اب میں نے کراس باڈی کے ساتھ صرف اپنے آپ کو ہی کیری کرنا ہے۔ بلکہ کراس باڈی تو میری باڈی کا ایک حصہ ہے۔ اس کو تو میں نے گلے سے اتارنا ہی نہیں۔ مجھے یہ بندوبست کچھ ایسا اچھا لگا کہ میں نے اپنی کراچی سے لکسمبرگ تک کے سفر کے دوران بھی اسی طریقہ کار کو اختیار کیا اور میں بڑی بے فکری سے اس دوران مصروف مشاہدہ رہا۔
لاہور کی فلائٹ ٹھیک پانچ بجے اُڑی اور پونے ساتھ بجے کراچی پہنچ گئی۔ یہاں سے میں نے اپنے دونوں بیگوں کو لینا تھا میں بلٹ کے پاس کھڑے ہوئے اس پر حرکت کرنے والے سامان کو دیکھ رہا تھا جو کہیں بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ ویسے بھی سامان بڑی سست رفتاری سے آ رہا تھا۔ اکا دکا لوگ ہی سامان وصول کر رہے تھے۔ اکثریت ہماری ہی طرح منتظر کھڑی تھی۔ موبائل کی گھنٹی بجی شاہد کا فون تھا جو یقیناً مجھے لینے کے لیے ائر پورٹ پر کھڑا ہو گا۔
فوراً بولا بھا جی سامان نہیں ملا آپ کو ویسے آپ اپنے سامان کو پہچانتے ہیں اگر نہیں پہچانتے تو پھر بھی فکر کی کوئی بات نہیں۔ اب یہاں کھڑے رہیں جب آخری بیگ باقی بچ جائے تو وہ آپ کا ہی ہو گا۔ وہ اٹھا کر باہر چلے آنا میں نے اُسے بتایا کہ میرے دو بیگ ہیں کہنے لگا کہ پھر بھی کوئی فکر نہیں۔ آخر پر دو بیگ بچ جائیں گے۔ وہ میرے اپنے سامان کو نہ پہچاننے کے سلسلے میں اس قدر پر اعتماد تھا کہ اس نے مجھ سے ایک بار بھی یہ دریافت کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ میں بیگ کو پہچانتا بھی ہوں کہ نہیں۔
اسی دوران مائرہ کی کال آ گئی ابو آپ کو سامان ابھی نہیں ملا میں نے اُسے بتایا کہ نہیں۔ دریافت کیا آپ کو پتہ ہے کہ آپ کے بیگوں کے ساتھ پہچان کے لیے کس رنگ کی ٹاکی باندھی گئی ہے میں نے کہا کہ مجھے بہت اچھے طریقے سے یاد ہے کالے رنگ کی ہے۔ اوہ میرے خدایا میں نے آپ کو اتنی بار بتایا ہے کہ یہ وہی گلابی رنگ کی ٹاکی ہے جو پچھلے سال آسٹریلیا جاتے وقت آپ کے بیگوں کے ساتھ باندھی گئی تھی۔ میں نے ذرا تراشی سے کہا تمہیں کہا تو تھا کہ اسی ٹاکی کا ایک ربن سا بنا کر میرے ہاتھ پر بھی باندھ دو تاکہ مجھے پہچاننے میں آسانی رہے۔ لیکن تم لوگ بھی تو میری یاد داشت کو پورا پورا امتحان لیتے ہو۔
بولی اچھا اب غصہ مت ہوں کراس باڈی بیگ کے ایک طرف سب سے چھوٹی زپ ہے اس کو کھولیں اس میں بیگوں کی دو چھوٹی چھوٹی چابیاں اُسی کپڑے کے ٹکڑے سے باندھی گئی ہیں اس کو نکال کر دیکھ لیں۔ اتنی دیر میں مجھے سامنے سے اپنے بیگ آتے ہوئے نظر آ گئے میں نے مائرہ کو بتایا کہ میرا سامان پہنچ چکا ہے۔ میں نے بیگ اٹھا کر ٹرالی پر رکھے اور باہر آ گیا جہاں شاہد میرا منتظر کھڑا تھا۔ اس نے سامان ڈگی میں رکھا اور تقریباً ایک گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد اس کے گھر پہنچ گئے۔ حالاں کہ مجھے بتایا گیا تھا کہ شاہد کا گھر ائر پورٹ کے ساتھ ہی ہے میں نے اس سے دریافت کیا تو بولا کہ کراچی کی زبان میں آپ کو ملنے والی اطلاع بالکل درست ہے۔
یہاں پر ایک بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ جس شخص نے لاہور ائر پورٹ پر سامان اٹھانے کے معاملے میں میری مدد کی تھی وہ مجھے کہیں بھی نظر نہیں آیا۔ لاہور لاؤنج میں کراچی ائر پورٹ پر جہاز میں یا سامان وصول کرتے وقت میں نے ارادی طور پر اُسے ڈھونڈنے کی کوشش کی وہ کہیں پر بھی نہیں تھا۔ ماحول اور حالات نے ہمیں اس قدر شکی بنا دیا ہے کہ ہم یہ بات ماننے کے لیے قطعاً تیار نہیں ہیں کہ کوئی شخص بے لوث ہو کر بغیر کسی بھی مطلب اور غرض کے آپ کے کام آ سکتا ہے۔ حالاں کہ بوریوالا سے لاہور کے درمیان پانچ گھنٹوں کے دوران میں بدر اور عشا کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتا رہا کہ آپ لوگ اگر فون کو صحیح استعمال کریں تو آپ کے بہت سے کام ٹیلی فون پر ہی ہو جاتے ہیں۔ آپ کو اس گئے گزرے دور میں بھی بہت سے لوگ مل جائیں گے جنہیں دوسروں کے کام آ کر خوشی ہوتی ہے۔
میں نے اس دوران انہیں اپنے بہت سے واقعات سنائے کہ کس طرح میڈیکل کالج کے ایک پروفیسر نے محض میرے ٹیلی فون پر نہ صرف جویریہ کو ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج میں داخل کروایا بلکہ اس کی سالانہ فیس بھی دو لاکھ کی کمی کروائی۔ پھر انہی پروفیسر صاحب نے ہمارے ایک ٹیچر اسلم صاحب کی بیٹی کو جس نے بائیو کیمسٹری میں ایم فل کیا ہوا تھا۔ اس میڈیکل کالج میں ڈیمانسٹیٹر تعینات کیا جہاں وہ خود پرنسپل تھے پھر جب بلال اور فضریٰ نے پی ایم ڈی سی کا امتحان پاس کر لیا تو میں خالص پینڈو سٹائل میں انہیں نوکری دلوانے کے لیے لاہور لے گیا۔
اُن دنوں وہ لاہور میں موجود گورنمنٹ کے ایک معروف میڈیکل کالج میں وائس پرنسپل تھے میں نے انہیں بتایا کہ لاہور آ رہا ہوں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ فرمانے لگے کہ بلا جھجک چلے آؤ۔ اُن دنوں مائرہ بھی اسی کالج میں ایم بی بی ایس سیکنڈ ائر کی طالبہ تھی ہم نے اُسے بھی کہا کہ وہاں پہنچ جائے۔ وہ میری پروفیسر صاحب سے پہلی اور اب تک کی آخری ملاقات تھی۔ بہت خوش اخلاقی سے ملے چائے اور دیگر لوازمات پیش کرنے کے بعد وجہ آمد دریافت کی میں نے بتایا کہ بچوں نے ایم بی بی ایس کر لیا ہے نوکری درکار ہے۔ فرمانے لگے آپ صرف ایک مہینہ لیٹ ہو گئے ہیں۔
پچھلے ماہ ہی ہم نے کچھ لوگوں کو اپنے میڈیکل کالج میں تعینات کیا ہے اگر مجھے پتہ ہوتا تو پھر تو کوئی بات ہی نہیں تھی۔ لیکن اب آپ ان لوگوں کی سی وی مجھے دیتے جائیں میں کچھ نہ کچھ کروں گا۔ آپ مائرہ اور بلال سے فون کر کے پتہ کر لیں کہ ہمارے ساتھ ان کا حسن سلوک کس قسم کا تھا۔ کہاں میڈیکل کالج کا پرنسپل اور کہاں ایک غریب سکول ماسٹر جو اس کے کسی بھی کام نہیں آ سکتا اور پندرہ بیس دنوں کے بعد ہی انہیں ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج والوں کی طرف سے ٹیلی فون پر بلاوے کی کال آ گئی۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اس وقت تک اُن کی حکومت کے بنیادی صحت مرکز میں بطور میڈیکل افسر تعیناتی ہو چکی تھی۔ اس کے ساتھ ہی اور بہت سے ایسے ہی واقعات سنائے اُن واقعات کی تفصیل کے لیے پورا کالم درکار ہے۔
زندگی رہی تو ضرور لکھوں گا لیکن میری وہ ساری تقریر ہی بے اثر رہی بدر اور عشا اسی وقت ہی اس بھلے مانس کے حسن سلوک کو کسی دوسرے زاویے سے دیکھ رہے تھے اور بار بار مجھے متنبہ بھی کر رہے تھے۔ لیکن میں آج بھی اپنے اس نظریے پر قائم ہوں کہ دنیا میں وطن ِ عزیز سمیت آج بھی بھلے لوگ موجود ہیں۔ جو فی سبیل اللہ خلق ِ خدا کے کام کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں۔


