مارکیٹ سے گاہک غائب یا حکمت عملی کمزور؟


sajid mehmood chohan

مارکیٹ میں مندی، کسٹمر نہ ہونا، سیاسی حالات، تہوار یا موسم کی وجہ سے کاروبار میں کمی جیسے جملے اکثر سنتے ہیں۔ کاروباری افراد اور سیلز مین اکثر یہی بہانے بناتے ہیں کہ آج کل بازار میں کوئی چہل پہل نہیں ہے یا کسٹمر نہیں مل رہا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مارکیٹ کبھی بھی مکمل طور پر ڈاؤن نہیں ہوتی۔ اصل مسئلہ ہمیشہ مارکیٹ یا کسٹمر کی کمی نہیں ہوتا، بلکہ یہ ناقص حکمت عملی ہوتی ہے جو کاروبار کو متاثر کرتی ہے۔

1۔ مارکیٹ کی حقیقت اور کسٹمر کی ضروریات:

مارکیٹ کا دار و مدار ہمیشہ کسٹمر کی ضروریات پر ہوتا ہے، اور یہ ضروریات کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ ہر دور میں، ہر ملک اور ہر معیشت میں لوگوں کو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بازار میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ فروخت ہوتا رہتا ہے، چاہے وہ روزمرہ کے استعمال کی چیزیں ہوں یا جدید ترین ٹیکنالوجی۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب کاروبار یا سیلز مین کسٹمر کی ضروریات کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں
یا اپنے ذاتی فائدے کے لئے گاہک کو غلط پروڈکٹ فروخت کرتے ہیں۔

مثال: ایک سیلز مین ایک ایسے شخص کو ہزار روپے والی پروڈکٹ بیچ دیتا ہے جس کی مالی حیثیت صرف سو روپے کی ہے۔ اس طرح کی سیلز وقتی طور پر فائدہ تو دیتی ہے، مگر لمبے عرصے میں اس سے کسٹمر کا اعتماد ختم ہوتا ہے اور وہ واپس آ کر شکایت کرتا ہے یا آئندہ اس کاروبار سے دور رہتا ہے۔ رئیل اسٹیٹ میں سیلز مین اپنے ٹارگٹ پورے کرنے یا منافع خوری کے چکر میں ماہانہ دس ہزار قسط دینے والے شخص کو 20 ہزار والی فائل یا پلاٹ دے دیتا ہو جھوٹے لالچ دے کر یا اس چیز کو بتائے بغیر کہ اگر آپ یہ رقم ادا نہ کر سکے تو کمپنی آپ کے ساتھ کیا کرے گی، کیونکہ پاکستان کا سسٹم مشتری ہوشیار باش پر مبنی ہے نہ کہ نقص بیان کرنے والے ماڈل پر ۔ جس سے کسٹمر کا زیادہ دیر تک پروڈکٹ کی اقساط دینا ممکن نہیں ہوتا اور پھر سیل واپسی ہوتی ہے اور کثیر تعداد میں ہوتی ہے۔

2۔ سیلز میں جھوٹے لالچ اور اس کے نتائج:

سیلز میں جو سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے، وہ ہے جھوٹے لالچ دے کر سیلز کرنا۔ اکثر سیلز مین زیادہ کمیشن یا فوری فائدے کے لئے کسٹمر کو مہنگی یا غیر ضروری چیزیں فروخت کر دیتے ہیں۔ لیکن جب کسٹمر کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے، تو وہ واپس آتا ہے اور اس پروڈکٹ یا برانڈ کو مستقبل میں نظرانداز کرتا ہے۔

نتیجہ:
۔ کسٹمر واپس آتا ہے اور پروڈکٹ کی واپسی یا شکایت کرتا ہے۔
۔ کمپنی کی ساکھ خراب ہوتی ہے۔
۔ نئی سیلز متاثر ہوتی ہے کیونکہ پرانی غلطیاں سامنے آتی ہیں۔
۔ برانڈ پر اعتماد کم ہو جاتا ہے۔

3۔ سیلز مین کی ذمہ داری اور Incompetency:

سیلز مین کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے کسٹمر کے ساتھ ایماندار ہو اور اس کی ضرورت کے مطابق پروڈکٹ فروخت کرے۔ اگر سیلز مین صرف اپنے کمیشن یا فائدے کی فکر میں کسٹمر کو غیر ضروری چیزیں بیچتا ہے، تو وہ نہ صرف کسٹمر بلکہ اپنے کاروبار اور کمپنی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ جب برانڈ کا کوئی نیا سیلز پلان لانچ ہوتا ہے اور پچھلی غلط سیلز کی وجہ سے کسٹمر کی شکایات یا واپسی کی صورت حال پیدا ہوتی ہے، تو یہ سیلز مین کی ناکامی کی نشانی ہوتی ہے۔

فوجی دستے کی مثال:

یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے فوجی دستہ ایک پل سے گزرتا ہے اور اپنی پریڈ روک کر نارمل واک کرتا ہے تاکہ پل محفوظ رہے۔ اگر تمام فوجی بیک وقت پریڈ کے انداز میں گزریں تو پل گرنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اسی طرح، اگر کاروبار میں بیک وقت بہت زیادہ پروڈکٹس کی واپسی یا کمپلینٹس آ جائیں تو برانڈ کو برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

4۔ کوالٹی کنٹرول اور طویل مدتی حکمت عملی:

پروڈکشن کوالٹی منیجمنٹ کے اصول کے مطابق، اگر پروڈکٹ کی کوالٹی کو پروڈکشن کے دوران درست کر لیا جائے تو خرچ کم ہوتا ہے، جبکہ مارکیٹ میں پروڈکٹ پہنچنے کے بعد اس کی خرابی کو درست کرنا زیادہ مہنگا ہوتا ہے۔

ایک ڈالر کی خرابی بمقابلہ سو ڈالر کی خرابی:

یہ اصول سیلز کے لئے بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر سیلز مین ابتداء میں کسٹمر کی ضرورت کے مطابق سیلز کرتا ہے، تو کسٹمر کا اعتماد قائم رہتا ہے اور برانڈ مضبوط ہوتا ہے۔ لیکن اگر پروڈکٹ کو بیچنے میں غلطی کی جائے اور بعد میں کسٹمر واپس آ کر شکایت کرے، تو اس کو درست کرنے میں کاروبار کو زیادہ لاگت آتی ہے اور برانڈ کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

5۔ مارکیٹ ہمیشہ چلتی رہتی ہے:

یہ کہنا کہ ”مارکیٹ میں مندی ہے“ یا ”کسٹمر نہیں ہے“ ایک غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مارکیٹ ہمیشہ موجود ہوتی ہے، لیکن سیلز کے طریقے اور حکمت عملی کو کسٹمر کی موجودہ ضروریات کے مطابق ڈھالنا ہوتا ہے۔

مواقع کی تلاش:
انفلیشن، سیاسی حالات، یا تہواروں کے باوجود کسٹمر کی ضروریات موجود ہوتی ہیں۔
سیلز مین کو ان ضروریات کو پہچاننا اور ان کے مطابق اپنا سیلز پلان تیار کرنا ہوتا ہے۔

۔ مشکل حالات میں بھی مارکیٹ میں نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں، جنہیں سمجھنے اور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

6۔ ناقابل تسخیر برانڈز کیسے بنتے ہیں؟

کوئی بھی برانڈ یا پروڈکٹ تب تک کامیاب رہتا ہے جب تک کہ وہ اپنے کسٹمر کے اعتماد کو برقرار رکھتا ہے۔ سیلز مین کا کردار برانڈ کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر سیلز ٹیم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے کام کرے اور ایمانداری سے سیلز کرے، تو برانڈ مضبوط ہوتا ہے اور کاروبار میں ترقی ہوتی ہے۔ لیکن اگر سیلز میں صرف فوری فائدے کو ترجیح دی جائے اور کسٹمر کی طویل مدتی ضروریات کو نظر انداز کیا جائے، تو برانڈ کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور یہ مارکیٹ میں اپنا مقام کھو سکتا ہے۔

خلاصہ:

مارکیٹ کبھی ڈاؤن نہیں ہوتی، بلکہ سیلز مین کی حکمت عملی اور اس کی کسٹمر کے ساتھ ایمانداری اسے کامیاب یا ناکام بناتی ہے۔ مارکیٹ میں ہمیشہ مواقع ہوتے ہیں، بس انہیں پہچاننے اور ان کے مطابق اپنی سیلز حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ سیلز کا مقصد صرف ایک پروڈکٹ بیچنا نہیں، بلکہ کسٹمر کے اعتماد کو جیتنا ہے، اور یہی اعتماد برانڈ کی طویل مدتی کامیابی کا ضامن ہوتا ہے۔ ایک حقیقی کیس اسٹڈی جس میں ناقص سیلز حکمت عملی کی وجہ سے ایک برانڈ کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا:

کیس اسٹڈی: نوکیا (Nokia) ۔ مارکیٹ میں زوال

پس منظر:
نوکیا ایک وقت میں دنیا کی سب سے بڑی موبائل فون بنانے والی کمپنی تھی، جس کا موبائل فون مارکیٹ میں 49.4 % شیئر تھا ( 2007 میں ) ۔ یہ کمپنی صارفین میں اعتماد، مضبوط برانڈ اور شاندار سیلز نیٹ ورک کے لئے جانی جاتی تھی۔ تاہم، چند سالوں میں نوکیا کا مارکیٹ شیئر 2013 تک 3 % سے بھی کم ہو گیا، اور بالآخر نوکیا کو فون بزنس Microsoft کو فروخت کرنا پڑا۔

مسئلہ:
نوکیا کے زوال کی ایک بڑی وجہ ناقص سیلز حکمت عملی اور پروڈکٹ منیجمنٹ تھا۔ کمپنی نے مارکیٹ کے جدید تقاضوں، خاص طور پر اسمارٹ فونز اور سافٹ ویئر کے میدان میں ہو رہی ترقی کو نظر انداز کیا۔ کمپنی کے سیلز اور پروڈکٹ منیجرز نے اپنی سیلز حکمت عملی میں کئی سنگین غلطیاں کیں:

1۔ اسمارٹ فون کی مارکیٹ میں تبدیلی کو نظر انداز کرنا:

نوکیا نے سافٹ ویئر کی اہمیت کو کم سمجھا اور وقت پر اینڈرائیڈ یا iOS جیسی جدید موبائل سافٹ ویئر ٹیکنالوجی کو اپنانے میں ناکام رہی۔ سیلز ٹیم اور منیجرز نے مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کو صحیح طور پر نہیں سمجھا اور پرانی پروڈکٹس کو ہی بڑھانے کی کوشش کی۔

2۔ مہنگی اور غیر ضروری پروڈکٹس کی فروخت:

نوکیا کے سیلز منیجرز نے اپنے صارفین کو مہنگی اور وقت سے پیچھے رہ جانے والی پروڈکٹس پر زور دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صارفین کی توقعات پوری نہیں ہوئیں اور وہ دوسرے برانڈز جیسے سام سنگ اور ایپل کی طرف جانے لگے۔

3۔ کسٹمر کے تجربات کو نظر انداز کرنا:

نوکیا نے کسٹمر کے فیڈ بیک پر توجہ نہیں دی، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں آنے والی نئی تبدیلیوں سے بروقت ہم آہنگی نہیں ہو سکی۔

نتائج:

مارکیٹ شیئر میں بھاری کمی: 2007 میں 49.4 % مارکیٹ شیئر سے 2013 میں نوکیا کا مارکیٹ شیئر 3 % سے بھی کم ہو گیا۔

نقصان: 2012 میں، نوکیا کو $ 1.4 بلین کا نقصان ہوا۔

۔ برانڈ کی فروخت: 2013 میں، نوکیا کو اپنا موبائل فون بزنس Microsoft کو تقریباً $ 7 بلین میں فروخت کرنا پڑا، جبکہ چند سال پہلے تک نوکیا کی مارکیٹ ویلیو اربوں ڈالرز تھی۔

اس کیس سے سیکھنے والے اسباق:

مارکیٹ کے جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔
صارفین کی ضروریات کو سمجھنا اور انہیں وقت پر درست پروڈکٹس فراہم کرنا ضروری ہے۔
۔ ایک غلط حکمت عملی برانڈ کو مکمل تباہی کی طرف لے جا سکتی ہے۔

نوکیا کا کیس اس بات کی ایک بڑی مثال ہے کہ کیسے ناقص سیلز اور پروڈکٹ حکمت عملی ایک بڑے برانڈ کو بھی تباہی کی طرف لے جا سکتی ہے۔