جمیلہ آپا


بڑے بزرگ کہا کرتے تھے زندگی کا چکر بڑا ہی عجیب ہوتا ہے انسان کو کہیں سے کہیں لے جاتا ہے۔ کل رات سڑک پر بے یار و مددگار عجیب و غریب حلیے میں جمیلہ آپا کو دیکھا تو اس بات کی سمجھ آئی کہ زندگی کا پہیہ اپنی تند و تیز رفتار میں کسی کو بھی کسی نہ کسی کی مانند بنا دیتا ہے۔ کسی کو ہیرے کی مانند تو کسی کو کوئلے کی راکھ کی مثل، میں بھی کیا زندگی کا فلسفہ جھاڑنے بیٹھ گئی۔

کئی سال پہلے کی بات ہے آپا جمیلہ ہمارے پڑوس میں ہی رہا کرتیں تھیں۔ پڑھی لکھی نہ تھیں مگر گھر داری کے سارے کام بخوبی جانتی تھیں بلکہ یوں کہیے کہ سارا گھر انہوں نے سنبھال رکھا تھا۔ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ اسی لیے سب کے لاڈ نخرے اٹھاتی تھیں۔ میں اتنا اس لیے جانتی تھی کہ ان کی بہن میری بچپن کی سہیلی تھی اور یوں ان کے گھر آنا جانا لگا رہتا تھا۔ میری سہیلی کے نو بہن بھائی تھے۔ جن میں چھ بھائی اور تین بہنیں اور جمیلہ آپا سب سے بڑی تھیں۔ یہی کوئی چودہ، پندرہ برس کی ہوں گئی۔ خود پڑھی لکھی نہ تھیں مگر سارا دن اپنے بہن بھائیوں کی تعلیم کی فکر اور ان کی مدد میں لگی رہتی تھیں۔

یہاں تک کہ چھوٹے بہن بھائی بیاہنے کے قابل ہو گئے مگر جمیلہ آپا کے لیے کوئی مناسب رشتہ نہ ملا اور وہ گھر بیٹھی بیٹھی کوئی چالیس کی ہو گئیں۔ والدہ تو ان کے بچپن میں ہی اللہ کو پیاری ہو گئی تھیں اور والد اپنی بڑی بیٹی کی پریشانی میں مبتلا اِنتقال کر گئے۔ چھوٹی بہنیں بھی اپنے گھر کی ہو گئیں۔ بھائیوں کی بھی شادیاں ہو گئیں اور بہوویں گھر آ گئیں۔ جمیلہ آپا نے بہو رانیوں کی خوب سیوا کی، یہاں تک کہ ان کے پاؤں زمین کو چھونے تک نہ پائے۔

ایک بار جمیلہ آپا بیمار ہو گئیں تو بڑی بہو کو کہنے لگیں کہ بیٹا: ”آج میری طبیعت کچھ اچھی نہیں لگ رہی تم اور چھوٹی بہوویں سب مل کر آج کام دیکھ لینا۔“

آپا کا اتنا کہنا ہی تھا کہ وہ بولی: ”ہم سے نہیں ہوتا کوئی کام، خود کر لو۔“

آپا چپ چاپ بیماری کی حالت میں کام کرنے لگ گئیں، جب شام ہوئی تو بہووں کو خیال آیا کہ ان کے شوہروں کے گھر آنے کا وقت ہو گیا ہے۔ تو آپا کے ہاتھوں سے کام پکڑ خود کرنے لگیں۔

اور شوہروں کے آنے پر کہنے لگیں : ”ہم تو سارا سارا دن کام کرتے ہیں۔ ہم سے تو اتنے کام نہیں ہوتے اور تمہاری آپا تو کاموں کو ہاتھ تک نہیں لگاتی ہم پر حکم چلاتی رہتی ہے سارا دن، اب تم لوگ ہمیں کوئی کام والی رکھ دو اور ان کا کوئی رشتہ ڈھونڈ کر شادی کرو، کب تک ان کو گھر بیٹھا کر رکھنے کا ارادہ ہے۔“

آپا یہ سب سن کر چپ کی چپ کی رہ گئیں کہ جن کی وہ خدمت کرتے نہیں تھکتی تھیں۔ وہی اب ان کو ان کے بھائیوں کے آگے ذلیل اور انھیں باتیں سنانے لگ گئیں ہیں۔ وہ بے چاری اپنے دکھوں کو اپنے اندر ہی لیے وقت گزارنے لگیں۔ بھائیوں کو بھی اب بڑی بہن بوجھ لگنے لگی۔

ایک دن رشتے والی کو گھر بلا کہنے لگے : ”ہماری آپا کے لیے کوئی رشتہ لے آؤ جو پیسے کہو گئی ہم تمہیں دیں گے۔“

رشتے والی کہنے لگی: ”ارے بچو! چھوٹی عمر کی تو ہے نہیں تمہاری آپا، میرے سے بھی کوئی دو چار سال بڑی ہی نکلے گی۔ اتنی بڑی عمر والیوں کے رشتے کروانا کوئی آسان کام ہے؟ بھئی بڑا ہی مشکل کام ہے۔ پیسے میں ڈبل لوں گی پہلے ہی بتا رہی ہوں میں تم لوگوں کو ۔“

جمیلہ آپا کا بھائی بولا: ”ہاں ہاں چچی ہمیں تمہاری ساری شرطیں منظور ہیں تم بس کوئی رشتہ دکھاؤ ہم فوراً نکاح کر کے رخصت کر دیں گے۔“

رشتے والی بولی: ”چلو ایک رشتہ ہے میں بات کرتی ہوں ان سے، اگر وہ مانتے ہیں تو کر دیتے ہیں پھر، بس تھوڑی بڑی عمر کا ہے۔ بیوی پہلی اس کی مر گئی ہے۔ بچوں کی شادیاں ہو گئی ہیں۔ بس ایک خود ہی گھر میں اکیلا رہتا ہے۔ تو اس کے بچوں کو اس کی دوسری شادی کروانی ہے تاکہ کوئی اس کی دیکھ بھال کر سکے۔“

آپا کی بھابھیاں فوراً بولی: ”ہاں ہاں چچی تم کرو بات ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔“

بھائیوں کو اب صرف اپنی بیویاں ہی نظر آ رہیں تھیں بہن اور اس کا پیار جس نے چھوٹوں چھوٹوں کو ماں جیسا پیار دیا اپنی ساری زندگی ان پر قربان کر دی وہی بہن ان کی نظروں میں چبھنے لگی۔

چند ہی دنوں میں آپا کا نکاح ہو گیا اور رخصتی ہو گئی۔ شوہر بھی ادھیڑ عمر اور غصے والا نکلا۔ مگر اپنی قسمت سمجھ آپا جمیلہ شادی شدہ زندگی گزارنے لگیں۔ چند ہی دن بعد آپا جمیلہ کا شوہر ان کو ہر چھوٹی چھوٹی بات پر طعنے اور گالیاں دینے لگ گیا۔ وہ بوڑھا غصے کا بہت ہی تیز تھا یہاں تک ہنڈیا میں نمک کم ہونے پر بھی اپنی بیوی کو گالی دے دی اور تھپڑ مار دیا۔ یہ سب اب روز کا معمول بن گیا تھا۔ ایک دن آپا جمیلہ کے گھر سے ان کو ان کے بھائی ملنے آئے تو بوڑھے نے ان کو بھی گھر سے یہ کہہ کر نکال دیا کہ اب وہ اس کی بیوی ہے اب اس کا کسی سے تعلق نہیں ہے لہٰذا اب اس سے کوئی ملنے نہ آئے۔ جمیلہ آپا کی اب شادی شدہ زندگی اپنے گھر سے بھی زیادہ بدتر ہو گئی۔

اب صرف آپا صبر کر کے گزارہ ہی کر سکتی تھیں اور یہی صبر کرتے کرتے کوئی پانچ چھ ماہ کا وقت گزرا کہ ایک دن بوڑھے نے غصے میں آ کر آپا جمیلہ کو بہت مارا اور ان کو طلاق دے دی۔ آپا روتی ہوئی اپنے بھائیوں کے گھر پہنچیں۔ دروازہ کھٹکھٹایا تو بھائی باہر آیا آپا کو دیکھ ان کو گھر کے اندر لے کر ہی جانے والا تھا کہ اس کی بیوی اور باقی بھابھیاں بھی جمیلہ آپا کی رونے کی آواز سن دروازے پر جمع ہو گئیں۔ جب معلوم ہوا کہ آپا کو طلاق ہو گئی ہے۔

ایک کہنے لگی: ”یہ تو طلاق کا دھبہ لگا آئی۔ لوگ ہم پر ہی لعن طعن کریں گے۔ ہم تو بھئی شریف لوگ ہیں۔ یہ ہمارے گھر بھی خراب کرے گی۔“

آخر بھائیوں نے اپنی بیویوں کے کہنے پر آپا کو گھر سے نکال کر دروازہ بند کر دیا۔ بھوکی پیاسی آپا شوہر کے گھر سے جیسے تیسے بھائیوں کے گھر پہنچی تھیں کہ وہاں سے بھی نکال دی گئیں۔ آخر چلتی چلاتی ایک بہن کے گھر پہنچیں دروازہ کھٹکھٹایا بہن نے آپا کو دیکھا تو اندر لے گئی اور سارا ماجرا سن کر آپا کو کھانا کھلا کر سلا دیا۔

یہ بات جب صبح اس کے شوہر کو پتہ چلی تو دونوں میاں بیوی کی ان بن شروع ہو گئی۔

آپا کا بہنوئی اپنی بیوی سے کہنے لگا: ”آپا خود تو اپنا گھر برباد کر آئی ہے۔ اب ہمارا سکون خراب کرے گی۔ بھائیوں نے تو پاس رکھا نہیں اور ہمارے سر مار دیا۔“

آپا کے کانوں میں یہ سب آوازیں گئیں تو کمرے سے باہر آئیں بہنوئی نے آپا کو دیکھا اور دفتر کے لیے نکل گیا۔

بہن دیکھ کر کہنے لگی: ”آپا اب ہم تمہیں کیسے رکھ سکتے ہیں میرا شوہر مجھے باتیں سناتا ہے۔ “

جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں طلاق کسی گالی سے کم تصور نہیں کی جاتی، آپا کو ذہنی طور پر بہت بڑا جھٹکا لگ چکا تھا اب بہن بڑی آپا کو اپنے شوہر کے ڈر سے خیراتی ادارے لے گئی اور وہاں داخل کروا آئی۔

آپا کی زندگی شروع سے کٹھن تو تھی ہی، مگر شادی کے بعد سے ان کی زندگی اور کٹھن ہو گئی تھی جیسے تیسے وقت تو گزرا مگر اب اپنوں نے جو دغا کی اس کا صدمہ وہ برداشت نہیں کر سکیں۔ جس سے ذہنی توازن برقرار نہ رہ سکا۔ زندگی نے کوئی ستم نہ چھوڑا اور ادارے میں بھی تشدد ہوتا رہا۔ آخر ایک انسان کتنا ظلم برداشت کر سکتا ہے۔ اس ادارے سے بھی آپا نے رہائی تو پا لی مگر پھر ان کا مقدر ان کو سڑکوں پر لے آیا وہی آپا جو صفائی کا خیال رکھتی تھیں۔ اب گندے اور پھٹے لباس میں گندگی کے ڈھیروں میں ایک ہی جملہ پکارتی نظر آتی ہیں۔ ”غیروں سے کیا گلا جب اپنے ہی دغا باز نکلے“ اور پاگلوں کی طرح سڑکوں پر بغیر دوپٹے کے گھومتی دکھائی دیتی ہیں۔

کل ہی میں نے انھیں دیکھا، میں حیرانی کے عالم میں تھی کہ ایک عورت رحم کھا کر ان کو دوپٹہ دینے کی غرض سے ان کی طرف لپکی۔ اس کے خاوند نے بڑے ہی طنزیہ انداز میں بولا: ”یہ عورتیں اپنے گھر والوں کی عزت خراب کر کے بھاگی ہوتیں ہیں انھیں دوپٹوں کی کوئی ضرورت نہیں۔“

زندگی انسان کو کہاں سے کہاں لا کھڑا کر دیتی ہے۔