دیہی خاتون ایک جیتی جاگتی انسان
پاکستان کی آبادی کا نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے اور اکثریت دیہات میں زندگی بسر کر رہی ہے۔ خواتین شہری ہوں یا دیہی، صنفی عدم مساوات کا تو شکار ہیں ہی، لیکن دیہی خواتین کی زندگی جبرِ مسلسل کا دوسرا نام ہے۔ دیہی خواتین کام کے حوالے سے آج بھی دوہرے بوجھ کا شکار ہیں۔ دیہات میں رہنے والی خواتین کی مشقت کا پیمانہ کافی ہائی ہے۔ اُس کو بغیر کسی سہولت کے گھر کے ساتھ ساتھ باہر کی بھی مشقت کرنی ہے۔ دیہی خواتین کو انسان سمجھنا تھوڑا نہیں بلکہ بہت مشکل عمل ہے۔ گھر، باورچی خانہ، بچوں کی پرورش، مویشیوں کی دیکھ بھال سے لے کر زمینی کاموں کے چکر میں خود دیہی خاتون ایک گھن چکر بن جاتی ہے۔ کبھی آگ برساتے سورج کی تپش کے ساتھ یہ خواتین کئی کئی کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے پانی لاتی نظر آتی ہیں۔ پیٹ میں روٹی نہ ہو پاؤں میں چپل کی بھی خیر ہے، مگر سر پر بھاری پانی کا مٹکا اٹھا کر لانا عورت کی ذمے داریوں میں سے ایک ذمے داری ہے۔ کھیتی باڑی کرنا، گھر میں لکڑی پر کھانا بنانا، لکڑی نہ ہوتو وہ بھی عورت کو کئی کوسوں دور سے کاٹ کر لانا ہے۔ چاہے گرمی اور یا سردی، ان کو ہر موسم میں موسمی تبدیلیاں برداشت کرتے ہوئے کاموں کے بوجھ کو لے کر سارا دن گزارنا ہوتا ہے۔
صحت تو اُس کی کوئی معنی ہی نہیں رکھتی۔ کبھی کبھی بچے پیدا کرنے کی تعداد دس اور بارہ تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ دوران حمل آرام تو دور کی بات مناسب خوراک تک خواتین کو میسر نہیں ہوتی۔ نہ ہی اسپتال کی کوئی سہولت۔ اُس کے حصہ میں آتا ہے تو صرف کام، مشقت، ذہنی دباؤ، جسمانی تشدد۔ کتنی ہی خواتین دوران حمل یا پھر زچگی کے وقت زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں۔ جو بچوں کو مشکل سے جنم دے بھی دیں تو اکثر بچے غذائی قلت کا شکار ہوتے ہیں۔ اُن میں سے کئی انتقال بھی کر جاتے ہیں۔ جب تک عورت بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اُس وقت تک اُس کو بچے پیدا کرنے ہیں۔ بھلے اُسے کتنی ہی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے، بھلے لیڈی ڈاکٹر یہ بات سمجھا سمجھا کر ہار مان لیں کہ بھئی عورت میں صلاحیت تو ہے، مگر اُس میں جان اور طاقت نہیں کہ ایک صحت مند بچے کو جنم دینے کے بعد خود بھی صحت مند زندگی گزارے۔
صحت کے لاتعداد مسائل کے ساتھ ساتھ ہر دوسرے روز کبھی شوہر تو کبھی سسرالیوں کی جانب سے جسمانی تشدد کا بھی سامنا رہتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر عورت کو گالیاں دینا اور اُن پر تھپڑوں کی بارش کر دینا، اُن کی ذات کی تذلیل کرنا دیہی طرز زندگی کا حصہ ہے۔ بچے اپنی ماؤں کو روز ذلیل اور تشدد کا نشانہ بنتا دیکھ کر بڑے ہو جاتے ہیں۔ انتہائی غربت اور بنیادی ضروریات کے نہ ہونے کی ساری فرسٹریشن عورت پر نکلتی ہے، کیونکہ عورت سب سے کمزور ہدف ہے۔
مگر دیہی عورت اپنی فرسٹریشن کس پر نکالے؟ وہ اپنی صحت، مشقت کو لے کر اپنے اوپر ہونے والی ہر زیادتی پر سمجھوتہ کرتے کرتے ایک زند لاش بن جاتی ہے۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ زندہ لاش ہے۔ وہ جیتی جاگتی انسان ہے، اُس کو بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے، وہ بھی بیماریوں پر تڑپ سکتی ہے، وہ بھی عزت کی برابر کی حقدار ہے۔
خواتین کی صحت کے حوالے سے دیہات میں اسپتال کے ساتھ ساتھ صحت مراکز کی کمی سے بھی خواتین کو اپنی صحت کے حوالے بہت کم ہی معلومات ہیں۔ ان خواتین کو صحت کے حوالے سے آگاہی دینا، اپنی ذات کے حوالے سے ذہنی شعور کو بیدار کرنا ہو گا۔ حکومتی سطح پر ان مسائل پر کام کرنا اور اس کے حل کے لیے موثر اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ مردوں سے زیادہ کام کرنے والی دیہی خواتین ملکی ترقی میں بڑا حصہ ڈالتی نظر آتی ہیں، اس کے باوجود انہیں صحت، تشدد، ونی سمیت دیگر مسائل کا سامنا ہے۔ خواتین کے حوالے سے موجود قوانین پر عملدرآمد سے ہی دیہی خواتین کے مسائل میں کافی حد تک کمی آ سکتی ہے۔


