77سال کا نوحہ


پیارا پاکستان پَون صدی سے زائد کا ہو چکا ہے۔ ہم نے تقسیم سے لے کر آج تک کیا کھویا کیا پایا ہے اِس کے متعلق جاننے کے لئے زیادہ دماغ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارا حال ساری دنیا کے سامنے ہے۔ ہمارے پیارے پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ بنا پہلے جبکہ اِس کے مقاصد بعد میں طے کیے گئے تھے۔ اِن طے کردہ مقاصد کی مہندی کا رنگ آج تک اُترنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ قیام سے لے کر آج تک اعداد و شمار انتہائی حیران کن ہیں۔ تب سے اَب تک سانپ کی طرح پھن پھیلائے ہر چیز پر قابض ایلیٹ کلاس نے ہمیں تنگ و تاریخ گلی میں دھکیل دیا ہے۔ یہ کلاس تمام حیوانی اور انسانی سطح کی جبلی لذتوں سے بہرہ مند اور بڑھ چڑھ کر زندگی کا رَس نچوڑ رہی ہے جبکہ پاک دامنی کے سب اسباق عام آدمی کے لئے رکھ چھوڑے ہیں۔ عوام غریب اور کمزور ہے۔ وہ اِس طاقتور کلاس کی چالوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اِن کا مقابلہ کرنا تو دور کی بات ہے درمیانہ طبقہ راہ نجات کے لئے ذہنی طور پر شدت پسند ہوتا جا رہا ہے جس سے نہ صرف ترقی کے امکان کم ہوتے جا رہے ہیں بلکہ روزانہ کی بنیاد پر جو خبریں مل رہی ہیں اُن سے یہ ڈر پیدا ہوتا جا رہا ہے کہ کہیں رہا سہا تہذیبی ڈھانچہ مذہبی جنونیوں کے ہاتھ لگ گیا تو ہم پتھر کے دور میں چلے جائیں گے۔
آزادی کی رات سے لے کر اکتوبر 1958 ء کی رات تک کل ملا کر 11 سال کا عرصہ بنتا ہے اِس عرصہ میں چار گورنر جنرل اور سات وزرائے اعظم عہدوں سے جبکہ کچھ تو دنیا سے گئے۔ تب ایوب خان کا باقاعدہ ظہور ہوا انہوں نے جو خطبہ پڑھا کہ ملک دن دگنی اور رات چگنی ترقی کرے گا، میں کئی سال سے دیکھ رہا ہوں کہ اِس ملک میں اقتدار حاصل کرنے کے لئے سنگ دلانہ کوششیں جاری ہیں۔ وطن پرست، دیانت دار، محنتی، معصوم عوام سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یہ سیاست دان اسلام کے نام پر عوام کو دھوکہ کے سوا کچھ نہیں دے رہے ہیں۔ اب اِس ملک پر اللہ کا فضل ہو گیا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ یہ ملک ترقی کرے گا اور خدا نے چاہا تو اِس کا نقشہ بدل جائے گا۔ ملک میں بی ڈی ممبران کے چناؤ میں جو کچھ ہوا وہ الگ سے پوری تاریخ ہے۔ اِس کے بعد دوسرے آمر نے چناؤ کا اعلان کر دیا مگر جب دیکھا کہ چناؤ سے تو فیصلہ عوام کا ہو گا تب انہوں نے فوج کے اعلیٰ افسر موجودہ تحریک انصاف کے اسد عمر اور مسلم لیگ نواز کے زبیر کے والد گرامی کو چناؤ کے نتائج اپنی مرضی کے مطابق بنانے کے لئے سپیشل طور پر مقرر کیا۔ انہوں نے الیکشن کے نتائج پر اثر انداز ہونے کے لئے کروڑوں روپیہ اکٹھا کیا جس میں اس وقت کے صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کی حمایت لی گئی پھر جو الیکشن کے نتائج سامنے آئے وہ ملک ٹوٹنے پر منتج ہوئے اِس الیکشن میں ان پر سیاستدانوں میں پیسہ بانٹنے کا الزام تھا۔
اُس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے دسمبر 1971 میں اُس کو برطرف کر کے نظر بند کر دیا مگر اُس کے چند دن بعد جب مرد مومن، مرد حق نے ذوالفقار علی بھٹو کو تخت سے تختہ پر کر دیا تو انہوں نے میجر جنرل غلام عمر کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انٹر نیشنل افیئرز کا چیئرمین بنا دیا۔ اِس کے بعد پارلیمنٹ اپنا وقار بحال کرنے میں ناکام رہی ہے جس میں سب برابر کے حصہ دار ہیں۔ ہم آج کل یہ بات سن رہے ہیں کہ ایک سابق فوجی افسر کو تحویل میں لیا گیا ہے اب ملک ترقی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑتا ہوا آگے نکل جائے گا۔ ہم شہریوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ کیا ہمارا نظام انصاف اِس قابل ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرسکے گا۔ دوسری جانب پنجاب کے ایک بڑے کالج میں، جو انگریز سرکار کی باقیات میں سے ہے، بچوں اور بچیوں کے لباس بارے فضیحتہ ہو رہا ہے کہ کون سا لباس پہنا جائے گا اور کون سا نہیں پہنا جائے گا۔ اب غور طلب بات یہ ہے کہ جہاں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی جیسے ادارے میں رجعت پسندی، تنگ نظری، سائنس سے دوری اِس قدر بڑھ گئی ہے تو پھر باقی ہم اور ہمارا معاشرہ کہاں کھڑا ہے۔ اِس کے لئے دنیا میں جاری کردہ اعداد و شمار ملاحظہ فرمائے جا سکتے ہیں جس سے آنکھوں کی بینائی بھی تیز ہو گی اور سوچ کا در بھی کھلے گا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک ترقی کرے، ہم شہریوں کو مساوی مواقع مہیا ہوں تو پھر ایک بات پر عمل کرنا ہو گا۔ ریاست کو اُس دستاویز کے مطابق ملک چلانا ہو گا جس کو آئین کہا جاتا ہے۔ اُس کا بار بار مذاق اُڑا کر دیکھ لیا جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
ہر مشکل انسان کو منزل پانے کا موقع دیتی ہے۔ اب عام سماج کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ عام سماج نے چھوٹے درجے کی نوکری کے عوض چالیس سال تک نعرے لگا دیے۔ اب سماج کے پاس نہ تو نوکری ہے اور ہی روٹی روزی کمانے کا مستقل ذریعہ۔ سمجھ سے باہر ہے کہ یہ بات زمام کار رکھنے والوں کو کیوں سمجھ نہیں آ رہی۔ نوجوان طبقہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا ضامن ہوتا ہے جبکہ ہمارا نوجوان طبقہ بے یارو مدد گار لائن میں کھڑا ہے کہ کب ہماری باری آئے اور ہم یہاں سے جائیں۔ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ طاقت عوام کو جوڑنے سے بڑھتی ہے اُن کو خلاف کرنے سے نہیں، کوئی بھی فیصلہ چناؤ سے ہونا چاہیے۔ دباؤ سے نہیں کیونکہ آج تک جو بھی ہوا ہے وہ چناؤ سے نہیں بلکہ دباؤ سے ہوا ہے۔ اب ایک بار ایک فیصلہ چناؤ سے کر کے دیکھ لینا چاہیے۔ اِس میں وقت تو درکار ہو گا مگر اِس کے نتیجے میں جو ہو گا وہ حقیقی ترقی کی جانب پہلا قدم ہو گا۔

Facebook Comments HS