پنجابی اربن کلاس اور عشقِ عمران
تحریکِ انصاف کے جلسوں میں اکثر آپ نے خواتین کی شمولیت بلکہ دل کھول کر شمولیت پہ تبصرے سنے ہوں گے۔ نواز شریف نے تو خیر اسے خواتین کا ناچ گانا ہی قرار دے دیا۔ یہ اور بات ہے کہ ہر سیاسی جماعت کے جلسوں میں میوزک سیاست کا ایک لازمی جز بن چکا ہے۔ یہ خواتین غالب اکثریت میں پنجاب سے تعلق رکھتی ہیں کہ ہمارے پشتون انصافی ابھی اتنے روشن خیال نہیں ہو سکے کہ عمران خان کے جلسے میں ”اج میرا نچن نو جی کردا اے“ (آج میرا ناچنے کو دل کرتا ہے) پہ اپنے گھر کی بیبیوں کے ٹھمکے لگوا سکیں۔
پنجابی خواتین بلکہ اربن سنٹرل پنجاب میں عمران خان خواتین کا کرش ایک دن میں نہیں بنا۔ ہمارے ماضی کے اینگری ینگ مین نواز شریف کا امیج بھی بڑی محنت سے بنایا گیا تھا۔ جلسے جلوسوں میں مکے لہرا لہرا کر پی پی کو للکارا کرتے تھے۔ اور مدِ مقابل تھا کون۔ ایک نہتی لڑکی۔ بی بی شہید کو ہرانا نواز شریف کے لیے پنجاب میں بہت ہی آسان ثابت ہوا۔ بی بی کے شوہر کو کرپٹ ترین تو پینٹ کیا ہی گیا۔ ساتھ ہی ساتھ عوام کو یہ باور بھی کروایا گیا کہ یہ بلوچ بالکل بھی ہینڈسم نہیں ہے۔
وقت کے ساتھ نواز شریف کے گرد پھونکا صور فنا ہونے لگا۔ پاکستانی سیاست پنجاب میں بہت تیزی سے رنگ بدل رہی تھی اور اسی وقت 2011 میں لاہور میں نمودار ہوتا ہے پنجاب کا مسیحا۔ مردانہ وجاہت کا نمونہ۔ انگریزی بولنے اور مغرب کو قریب سے جاننے والا عمران خان۔ عمران خان کے جلسے دن بدن بڑے ہوتے گئے یا بڑے دکھنے لگے۔ 2011 سے 14 تک عمران خان پختونخوا میں بڑی تیزی سے قدم جماتا چلا گیا لیکن پنجاب، جرنیلوں کا میدان پنجاب دینے کا فیصلہ عمران کے حق میں نہیں ہوا تھا۔ الیکشن کے بعد نون لیگ پنجاب تو لے گئی لیکن حکومت میں بھی اپوزیشن بن گئی۔ عمران خان کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ ٹی وی سکرینز پہ عمران خان چھایا ہوا تھا۔ عمران خان کی ذاتی زندگی کے المیے قوم کے لیے قربانیاں بن گئے۔ حامد میر عمران خان کے ساتھ گھنٹے گھنٹے کے شو کرنے لگا تو دیکھنے والے بھانپ گئے تھے کہ جب آئے گا عمران۔ ۔ ۔
صنم جاوید اور اس قبیل کی کئی پنجابی بظاہر پڑھی لکھی خواتین نے سکرین پہ دیکھا ہی عمران خان کو۔ زرداری تو خیر میڈیا ڈارلنگ کبھی بن ہی نا سکا۔ نواز شریف کا پیسہ بھی بے اثر ہونے لگا۔ عمران خان کا شوکت خانم دنیا کا عظیم ترین کینسر ہسپتال بن گیا۔ قوم کے لیے اپنے بیوی بچے تج دینے والا عمران خان خواتین کے نزدیک مظلوم بن گیا۔ عمران خان کے علاوہ کوئی چوائس ہی نہیں اور بندہ تو ہینڈسم ہے نا جیسی کئی لن ترانیاں آخر پنجاب عمران خان کی جھولی میں ڈالنے میں کامیاب رہیں لیکن یہ مانیں کہ نواز شریف کی طرح ساڈی گل ہو گئی اے پہائی کا راگ الاپتا گھر نہیں بیٹھ گیا بلکہ طوفانی انتخابی جلسے کیے۔
اٹھارہ کے الیکشن سے پہلے ہونے والے عمران خان کے جلسوں کا ریکارڈ دیکھیں تو آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ بالکل یہی حکمتِ عملی ہمیں عدم اعتماد کے بعد دیکھنے کو ملی۔ عمران خان نے ایک سال کے اندر عوامی رابطے کی حد ہی کر دی۔ پنجاب کے ہر ضلع کے نوجوان کو یقین ہو گیا کہ بس صرف عمران خان ہی ہمارا ہے۔ نون لیگ اس سارے عمل میں خواتین کے سامنے کوئی بت تراشنے میں ناکام رہی۔ حمزہ کو مریم کی طرف سے بڑے طریقے سے سائیڈ لائن کر دیا گیا۔ شہباز شریف تو خیر کبھی بھی نون لیگ کے ووٹر کو اپیل نہیں کر سکے اور کئی بار کا وزیرِ اعظم نواز شریف لاپتہ تھا۔
اب آ جائیں پنجاب کی اربن کلاس کی لڑکیوں اور خواتین پہ۔ فلک جاوید، طیبہ راجہ، خدیجہ شاہ یہ سب کون تھیں۔ یہ عام گھروں سے تعلق رکھنے والی بظاہر پڑھی لکھی لڑکیاں تھیں۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے مشرف کے دور میں سکون اور اس کے بعد آنے والا سیاسی عدم استحکام دیکھا تھا۔ کئی کے گھرانے براہِ راست شریف خاندان کے عتاب کا نشانہ بن چکے تھے۔ ان خواتین کو بنگلہ دیش، میانمار، انڈونیشیا، فلپائن کی سیاسی تاریخ تو خیر پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ سونے پہ سہاگا انہیں پاکستان کی سیاسی تاریخ سے بھی کوئی خاص جان پہچان نا تھی۔ ان کے لیے دنیا کی تاریخ کا مظلوم ترین لیڈر عمران خان بن گیا۔ حالانکہ مرشد نے فرمایا تھا کہ میں تو دعا کرتا تھا عدم اعتماد آئے۔ لیکن یہ اربن کلاس یہ مان ہی نہیں سکی کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے کچھ بھی لیا ہے۔
تاریخ کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ جب آرگینک لیڈرز بننے کا عمل روک دیا جاتا ہے تو خود رو گھاس پھونس سے ہی گزارا کرنا پڑتا ہے۔ فرحت ہاشمی، نعمان علی خان، یوتھ کلب کی پرستار اس نوجوان نسل کو عمران خان میں ریاستِ مدینہ کا معمار نظر آ گیا اور نکل پڑی یہ قوم آٹھ فروری کو انقلاب لانے۔ میں نے تین دہائیوں سے نون لیگ کو ووٹ کرنے والے بزرگوں کو بھی اس الیکشن میں عمرانی امیدواروں کو ووٹ ڈالتے دیکھا کہ جی بچے کہتے ہیں اسی کو ووٹ دینا ہے۔ ڈٹ کے کھڑا ہے اب عمران نیا بنے گا پاکستان۔ فیصل آباد میں تو نون لیگ تاریخ ہی بن گئی۔ لاہور میں بھی زور زبردستی سے من پہ ملنے والی کالک کو چھپایا گیا۔
اس نسل کو آپ لاکھ پروجیکٹ عمران کی تباہ کاریاں بتائیں۔ توشہ خانہ اور عدت کیس بنائیں۔ اگلے پندرہ سال یہ تو نہیں ہلنے والی۔ اور مزید جو نوجوان اس ووٹنگ لسٹ میں داخل ہوتا جا رہا ہے سب عمرانی ووٹر ہیں۔ نون لیگ کو الیکشن سے پہلے زرداری کے الفاظ یاد کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ پنجاب میں اتنا پرو نواز ووٹ نہیں جتنا اینٹی نواز ہے۔ اور یہ سارا ووٹ پی پی کے ساتھ کھڑے ہونے جوگا تو رہ نہیں گیا اور عمران خان کی جھولی میں آن گرا۔ آج پاکستانی سیاست کا سب سے طاقتور کھلاڑی عمران خان ہے۔ اس نے نصف صدی کی ہر سیاسی متھ کو چکنا چور کر دیا ہے۔ برداشت کریں کیونکہ یہ فصل پروان بڑے وقت میں چڑھی ہے۔ اتنی جلدی تو کاٹی نہیں جائے گی۔

