عورتوں کو اور کتنے حقوق چاہئیں؟

اتنی زبان چلائے گی تو مار ہی کھائے گی۔ بیٹیوں کا اتنا بولنا اچھا نہیں ہوتا۔ اگلے گھر بھی جانا ہوتا ہے۔ یہ انفرادی نہیں اجتماعی سوچ ہے پاکستانی سماج کی۔ لیکن کسی سال کا بھی عورت مارچ ہو۔ وہاں مردوں کے حقوق کا رونا شروع ہو جاتا ہے۔ بھئی آپ مرد مارچ کر لیں۔ کسی اور نے مارچ کا انتظام کیا۔ عورتیں آئیں بات کی۔ آپ اپنے پلے کارڈ اٹھائے چل پڑے۔ ملاحظہ فرمائے پاکستانی مردوں کے بڑے بڑے

Read more

پچیس ہڈیاں توڑنے والے جلاد پاکستانی باپ

دس سال کی عمر میں پچیس بار ہڈیاں ٹوٹ جائیں۔ سکول میں یہ بتانا پڑے کہ پین سے چوٹ لگ گئی تھی گر گئی تھی کیسا محسوس ہوتا ہے۔ ایک دس سال کی بچی کا ذہن کیا سوچتا ہے اس کے دل پہ گزرتی کیا ہے جب اس کی زندگی ایک ترقی یافتہ سماج میں رہتے ہوئے بھی ظلم کی اتھاہ گہرائیوں کو اس لیے چھو لیتی ہے کہ اس کے باپ کا تعلق ایک ایسے سماج سے ہے جو

Read more

سب ماں باپ عظیم نہیں ہوتے

انیقہ کی نندوں نے اس کے ہاتھ پکڑ رکھے تھے، ساس نے بازو، شوہر کے ہاتھ میں بیلٹ تھی جس سے وہ اس کی ٹانگوں پیٹ اور بازو پہ وار کر رہا تھا۔ سسر ہاتھوں اور لاتوں سے مار رہا تھا۔ یہ سب دیکھ کر میرے پاؤں تلے سے زمیں نکل گئی۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا کیونکہ ایسا کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔ میری بیٹی نے کبھی بتایا ہی نہیں تھا کہ جنید اس پہ تشدد کرتا ہے۔

Read more

زارا قتل کیس۔ کاش یہ آخری نوحہ ہوتا

زارا کا نوحہ اس لیے لکھا گیا کہ یہاں پہ سفاکیت بربریت کا ننگا ناچ حد سے زیادہ ہی بڑھ گیا تھا وگرنہ ہر دوسرے گھر میں کوئی نا کوئی زارا موجود ہے جو یا تو جذباتی طور پہ مر چکی ہے یا مرنے کے مراحل طے کر رہی ہے۔ کیا ہے یہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش وغیرہ کا عظیم خاندانی نظام جس میں خاندان تو مر جاتا ہے بس نظام سڑاند چھوڑنے کو بچا رہتا ہے۔ ایسے ہر گھر

Read more

ڈاکٹر بہو کو دفع کریں

تمہارا چہرہ لمبوترا سا ہے۔ پاؤں بہت بڑے ہیں مردوں جیسے۔ کھانا تو ماں نے سکھایا ہی نہیں ڈھنگ کا پکانا۔ روٹی گول کب بناؤ گی۔ تمہارے ماں باپ کے گھر ہوں گے یہ ایک وقت کا کھانا اگلے دن کھانے کے رواج۔ ہمارے ہاں بی بی تازہ سالن بنتا ہے روز۔ دماغ ُسن ہی رہتا ہے۔ یاد نہیں رہتا کچھ۔ بیٹی کو گھر داری سکھاؤ۔ تم نے یہ ڈگریاں لے کر کون سے تیر مار لیے ہیں جو اس

Read more

جنریشنل ٹراما، کبھی میں کبھی تم

مصطفی اور شرجینہ اس کے دو مرکزی کردار ہیں۔ مصطفی شرجینہ کے ساتھ خوش ہے زندگی ہنسی خوشی چل رہی ہے۔ لیکن اچانک سے نازک موڑ آتا ہے اور پتہ لگتا ہے کہ شرجینہ اور مصطفی صاحبِ اولاد ہونے والے ہیں۔ لیجیے صاحب پروگرام تو وڑ گیا نا۔ بہت سے لوگ یہ نہیں دیکھ پا رہے کہ دونوں کردار بہت ہی مختلف خاندانوں سے آئے ہیں۔ جہاں شرجینہ کو بیٹی ہوتے ہوئے بھی ماں باپ کا پیار ہمیشہ وافر ملا

Read more

رواداری مارچ کو رواداری کیوں نا ملی

معدومیت کی جانب مائل پنجابی جیالے بہت دلچسپ ہیں۔ بھٹو اور بی بی سے ان کی وابستگی قابلِ ستائش ہے لیکن پی پی کی سندھ پولیس کا لاٹھی چارج کسی طور بھی دفاع کے قابل نہیں تھا لیکن لوگ کرتے رہے۔ سازشی تھیوریز گھڑتے رہے نا جانے کس امید کے ساتھ۔ 2024 کی پی پی ایک نئی پیپلز پارٹی ہے۔ جہاں بلوچستان میں ماضی کے بدنامِ زمانہ سرفراز بگٹی اس کا سیاسی چہرہ ہیں وہاں سندھ میں مراد علی شاہ

Read more

شادی کے لیے صحیح آدمی

بولی ووڈ اور اب ہمارے پاکستانی ڈراموں نے یہ عام مغالطہ پیدا کر دیا ہے کہ شادی یا محبت اس آدمی سے ہوتی ہے جسے دیکھ کر دل میں ہلچل مچ جائے۔ سانسیں تیز تر ہوتی جائیں اور دھڑکنیں پاگل ہو جائیں۔ نو عمری کی حسن پرستیوں کے لیے تو یہ بات سچ مانی جا سکتی ہے لیکن بہت سی خواتین / بچیوں کو اس پھول چاکلیٹ والے عشق کے پیچھے جینا برباد کرتے دیکھتی ہوں تو کہنے پہ خود

Read more

پلوشہ… تیرا سوال تلوار ہے

ذاکر نائیک جب سے پاکستان پدھارے ہیں متنازع خبروں کے حوالے سے کافی زیرِ بحث آ رہے ہیں۔ حال ہی میں پلوشہ سے ان کی بحث سوشل میڈیا کی زینت بنی رہی۔ اس پہ بہت سے لوگوں نے بات کی۔ اچھی باتیں کی۔ لیکن میرے لیے جو خوش کن بات تھی کہ پدر سری معاشرہ اپنی تمام تر خباثتوں کے باوجود پاکستانی عورت سے پشتون عورت سے سوچنے کا حق نہیں چھین سکا۔ یقین جانیے دل کو اطمینان ہوا۔ اس

Read more

شادی۔ جلدی کریں یا صحیح بندے کا انتظار

شادی ٹھیک وقت پہ کرنی چاہیے یا ٹھیک انسان سے خواتین کے لیے یہ مسئلہ اچھا خاصا پیچیدہ بن جاتا ہے خاص کر آج کے زمانے میں وہ خواتین جو کچن چلانے کے لیے مرد کی طرف دیکھنے کی فکر سے آزاد ہیں۔ پرانے وقتوں میں ایک کماتا تھا تو دس جی کھاتے تھے۔ آج کے زمانے میں جہاں افراطِ زر میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے وہاں ایک کے کمانے سے گھر چلنے کی متھ خواب ہوتی دکھائی دے

Read more

چہرے کا پردہ۔ چوائس یا مجبوری

یہ بحث وطنِ عزیز میں پرانی ہوتی ہی نہیں۔ کچھ دن پہلے ہی ایک بظاہر پڑھے لکھے صاحب چیخ چیخ کر یہ ثابت کرنے پہ تلے تھے کہ چہرے کا پردہ کلچر ہے جی۔ پنجاب میں میاں بیوی کا چھترو چھتری ہونا بھی کلچر ہے۔ غیرت کے نام پہ قتل پورے پاکستان کا کلچر ہے بلکہ یہ کلچر اتنا کیوٹ ہے کہ ہم جہاں جاتے ہیں اپنا کلچر پوری دنیا میں ساتھ لے کر جاتے ہیں جس کی باقیات کو

Read more

پنجابی اربن کلاس اور عشقِ عمران

تحریکِ انصاف کے جلسوں میں اکثر آپ نے خواتین کی شمولیت بلکہ دل کھول کر شمولیت پہ تبصرے سنے ہوں گے۔ نواز شریف نے تو خیر اسے خواتین کا ناچ گانا ہی قرار دے دیا۔ یہ اور بات ہے کہ ہر سیاسی جماعت کے جلسوں میں میوزک سیاست کا ایک لازمی جز بن چکا ہے۔ یہ خواتین غالب اکثریت میں پنجاب سے تعلق رکھتی ہیں کہ ہمارے پشتون انصافی ابھی اتنے روشن خیال نہیں ہو سکے کہ عمران خان کے

Read more

آدھے منٹ کا مزہ اور مہینوں کا عذاب

سوچیے آخر کون پاگل ہو سکتا ہے جو آدھے منٹ کے مزے کے لیے مہینوں کا عذاب گلے ڈال لے۔ پاکستانی مرد۔ جی ہاں۔ حماقت اور خود غرضی کی انتہا کو پہنچی یہ مخلوق ساری دنیا میں ناپید بھی ہو گئی تو وطنِ عزیز میں پھلتی پھولتی رہے گی۔ وجہ؟ پاکستانی عورت کی کم علمی۔ کلینک شروع کیا تو اکثر ایسی بیبیاں آ جاتی جو رازداری سے اکیلے میں ڈاکٹر سے بات کرنے کی خواہاں ہوتیں۔ مسئلہ کیا ہوتا۔ جی

Read more

کیا ایشین مائیں ٹاکسک ہیں

بدقسمتی سے اس سوال کا جواب ہاں یا نہیں کی بجائے ہے زیادہ تر۔ جی ہاں زیادہ تر پاکستانی، بھارتی، بنگالی مائیں اپنے اولادوں کی زندگیاں جہنم بنانے میں کمال مہارت رکھتی ہیں۔ یہ کہنے کا خیال مجھے ایک حالیہ دکھائے جانے والے ڈرامے ”کبھی میں کبھی تم“ کو دیکھ کر آیا۔ دو بھائی ان کی بیویاں، ایک بیٹی، باپ سب کی زندگی جہنم بنا رکھی ہے صرف ایک عورت نے جس کا خیال ہے کہ طاقت کا مرکز اس

Read more

مدثر نارو کی جبری گمشدگی: مریم نواز کی آزمائش

20 اگست 2024 کو مدثر نارو کو لاپتہ ہوئے چھ سال مکمل ہو گئے۔ سچل کو باپ کو دیکھے چھ سال ہو گئے۔ سچل چھ ماہ کا تھا جب سوچنے اور بولنے والے اس کے باپ صحافی مدثر نارو کو جبری لاپتہ کیا گیا تھا۔ اہلیہ اور سچل کے ساتھ گھر سے باہر تفریح کے لیے جانے والا بد قسمت مدثر لاعلم تھا کہ سچل کے ساتھ اس کا آخری دن تھا۔ اس سال مدثر کے لیے ہونے والے مظاہرے

Read more

ڈاکٹر مومیتا کیس۔ پاکستانی سماج کا المیہ

مرد نا بڑی پیاری چیز ہے۔ آپ اس کی ایک سنو نا، وہ دس سنے گا۔ دو ٹکے کی عورت۔ سارے مرد ایک جیسے نہیں ہوتے۔ یہ اور اس سے ملتے جلتے جملے آپ نے اکثر سنے ہوں گے۔ #NotAllMen جیسے ٹرینڈ بھی کوئی پرانی بات نہیں ہیں۔ بھارت میں ایک ڈاکٹر کے ساتھ ہوا واقعہ سامنے آیا تو پاکستان کے بھی کئی ایسے واقعات یاد آ گئے۔ سرجری کی ہاؤس جاب میں اکثر سینئر پی جی آرز رات کے

Read more

آزادی کے ستتر سال۔ اتنا سناٹا کیوں ہے

وطنِ عزیز کی سالگرہ ہے۔ ایسے موقع پر بنتا تو جشن ہے لیکن میرا جی چاہتا ہے کہ نوحہ لکھوں۔ شاید ہم وطن مجھے قنوطیت پسند سمجھیں لیکن عمر کے بے شمار سال مسیحائی سے وابستہ رہنے کے بعد جو مایوسی کی فضا حالیہ کچھ عرصے میں محسوس کی ہے وہ ناقابلِ بیان ہے۔ پاکستان سے زندہ بھاگ کا نعرہ تواتر سے سننے کے بعد بھی کبھی اچھا نہیں لگا کہ دلِ ناداں نے جینے کے ساتھ مرنے کا تصور

Read more

ارشد ندیم: وہ آؤٹ آف سلیبس تھا

کروڑوں پاکستانیوں کی طرح میں بھی ارشد ندیم کی جیت کی دعائیں کر رہی تھی۔ امید کا دامن ہاتھ سے چھوٹ چھوٹ جاتا تھا کہ پچیس کروڑ امیدوں کا بوجھ ایک اکیلے ارشد پہ انہی سوچوں میں غلطاں جب ارشد ندیم نے بانوے سے بھی اوپر نیزہ پھینکا تو آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اگلے دو دن جب بھی ارشد کی وہ فوٹیج دیکھی نمی کو اترنے سے نہیں روک پائی۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ارشد سے پہلے زیادہ

Read more

فیملی وی لاگنگ اور عفان قیصر: یا منافقت تیرا ہی آسرا

سوچتی ہوں عورت جاتی کے ساتھ حسد کی کوئی تو حد ہوتی ہی ہو گی جہاں پہنچ کر عفان قیصر جیسوں کا کیڑا ختم ہو جائے۔ لیکن یہ تو بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ موصوف کا تازہ ترین مسئلہ ہے کہ اقرا کنول اور ان کی بہنیں سسٹرولوجی یوٹیوب چینل سے کروڑوں چھاپ رہی ہیں اور میں ویلا ہی بیٹھا ہوں۔ بھئی آپ کی شہابیہ اخلاقیات اتنی ہی بلند ہیں تو بیگم کو بھی ٹوپی والا برقعہ چڑھائیں اور گھر

Read more

پاکستانی تیراک جہاں آرا نبی: کیچڑ میں کھلا کنول

ہر چار سال بعد پاکستان کا نام ڈوب ڈوب جاتا ہے جب اولمپکس میں ہم شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ امسال بھی یہی تماشا جاری ہے۔ کوئی ساتھ جانے والے سیاست دانوں پہ جملہ بازی میں منہمک ہے تو کوئی ُ پہائی شکر کرو ہالے ڈبیا نہیں ُ جیسی جگتیں لگانے میں مصروف ہے۔ 25 کروڑ آبادی کا یہ ایشیائی ٹائیگر زوال کی ان اتھاہ گہرائیوں کو کیونکر پہنچا سوچنا تو بنتا ہے۔ روٹی کپڑے مکان کی لاحاصل دوڑ

Read more

ہنی ٹریپ۔ خلیل الرحمٰن قمر کے بعد ڈاکٹر فیصل قیصرانی۔ کیا سچ کیا فسانہ؟

”معاشرہ برے مرد کی وجہ سے نہیں بری عورت کی وجہ سے تباہ ہوتا ہے“ جیسے شہرہ آفاق جملوں کے خالق خلیل الرحمٰن قمر کے مبینہ اغوا کی خبریں چلیں تو ہر نئے موڑ پہ کہانی رخ بدلنے لگی۔ کچھ لوگ لبرل لوگوں پر جو وطن عزیز میں بمشکل ہزار بارہ سو ہوں گے تنقید کرنے لگے کہ خدارا یہ وکٹم بلیمنگ نا کیجیے۔ جیسے بچپن میں امائیں کاکوں کو الو بناتی ہیں کہ بیٹا پھر تم میں، اور ان

Read more

تتلیاں یا شیرنیاں۔چودہ سو سال میں کتنے حقوق ملے

درد کی شدت ایک وقت کے بعد محسوس کرنے کی صلاحیت کو مردہ کر دیتی ہے۔ جیسے قید خانے میں رہنے والا اپنی ذلت کو حتمی تسلیم کر لیتا ہے اسی طرح ایک پاکستانی بیوی بھی یہ جان لیتی ہے کہ وہ، اس کا خاندان اور اس کی سات پشتیں بے غیرت اور نا اہل ہیں۔ خاوند صاحب چونکہ جدی پشتی رئیس ہوتے ہیں (خیالوں میں ) ۔ اس لیے ان خیالات کا پرچار ہر دوسرے دن ضرور ہوتا ہے۔

Read more

دہشت گرد شہزادہ۔ 1973 کا آئین مسکراتا ہے

راجہ انور کی تصنیف کردہ ”دہشت گرد شہزادہ“ پڑھنا شروع کی تو کہیں کہیں یقین ہی نا آیا کہ پی پی پی جن بتوں کو سر پہ اٹھائے پھرتی ہے وہ کبھی اس قدر کھوکھلے بھی تھے۔ یہ کتاب بنیادی طور پہ ذوالفقار علی بھٹو کے صاحبزادے میر مرتضیٰ بھٹو کے کابل میں گزرے شب و روز کا احاطہ کرتی ہے۔ پاکستانی لیفٹ کے نوجوان کیسے بھٹو کے دکھائے خوابوں کے اندھے تعاقب میں مرتضیٰ کے ُچنے تابوتوں میں اترتے

Read more

اگلے جنم موہے پیدا نا کیجیو: الوداع ثانی زہرا

نور مقدم، مختاراں مائی، سارا انعام کی فہرست میں ایک اور اضافہ۔ اور قدرِ مشترک وہی جی ہاں اپنے ہی جنم دینے والوں کے بے حسی۔ مجازی خدا سے کیا شکوہ جب اپنے پیدا کرنے والے پالنے والے ہی منہ موڑ لیں۔ صرف یہی سوچ کر کہ کیا کہے گا زمانہ۔ زمانے کا تو کام ہے کہتا رہے گا لیکن والدین کی بے حسی بیس سال کی ماں کو بھی پھندا لینے پہ مجبور کر دیتی ہے۔ جی ہاں ٹھیک

Read more